ترجمہ و تفسیر — سورۃ الروم (30) — آیت 7

یَعۡلَمُوۡنَ ظَاہِرًا مِّنَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚۖ وَ ہُمۡ عَنِ الۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴿۷﴾
وہ دنیا کی زندگی کے کچھ ظاہر کو جانتے ہیں اور وہ آخرت سے، وہی غافل ہیں۔ En
یہ تو دنیا کی ظاہری زندگی کو جانتے ہیں۔ اور آخرت (کی طرف) سے غافل ہیں
En
وه تو (صرف) دنیوی زندگی کے ﻇاہر کو (ہی) جانتے ہیں اور آخرت سے تو بالکل ہی بےخبر ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 7) ➊ { يَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا …: ظَاهِرًا } پر تنوین تقلیل و تحقیر کے لیے ہے، یعنی وہ دنیا کی زندگی کے بس ظاہر کو جانتے ہیں، وہ بھی تھوڑا سا۔ ان کا علم یہیں تک محدود ہے۔ ان کی ساری تگ و دو دنیا میں کھانے پینے، پہننے اور ہر قسم کی لذتوں اور آسائش و آرائش کے زیادہ سے زیادہ حصول کے لیے ہے۔ وہ دنیا کی زندگی کے باطن، یعنی اس کی اصل حقیقت کی طرف توجہ نہیں کرتے کہ یہ چند روزہ ہے اور امتحان گاہ ہے۔ رہی آخرت، تو وہ اس سے بالکل ہی غافل ہیں، یعنی انھیں اس کی فکر ہی نہیں کہ وہاں اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے پیش ہونا ہے۔
➋ یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اکثر لوگ دنیا کی زندگی کے ظاہر کے کچھ حصے کو جانتے ہیں، جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ کفار حیران کن ایجادات کر چکے ہیں، مثلاً بری، بحری اور فضائی سواریاں، تیل، گیس، ہوا اور پانی سے چلنے والی بے شمار قسم کی مشینیں، بجلی اور ایٹم وغیرہ، تو یہ سب کچھ تھوڑا سا کیسے ہوا؟ جواب اس کا یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی دنیوی ترقی جس طرح آج کے مقابلے میں بالکل معمولی ہے، اسی طرح ہر آنے والے دن کے مقابلے میں موجودہ ترقی بالکل معمولی ہے، مگر کافر صرف اسی ترقی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، آخرت کے امور کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔
➌ کفار کے دنیا کے ظاہر کا کچھ علم رکھنے اور آخرت سے یکسر غافل ہونے کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ انھوں نے حساب اور علم ہندسہ میں اتنا کمال حاصل کیا کہ انھوں نے کیلکولیٹر اور کمپیوٹر ایجاد کر لیے، جن کے ذریعے سے وہ بڑی سے بڑی اور چھوٹی سے چھوٹی رقموں کا بالکل صحیح حساب لگا لیتے ہیں، مگر آخرت کے معاملات سے اس قدر بے خبر ہیں کہ ان میں سے بعض پیدا کرنے والے ہی کے منکر ہیں۔ جب کہ جاہل سے جاہل شخص بھی جانتا ہے کہ کوئی چیز بنانے والے کے بغیر نہیں بنتی۔ پھر بعض اعلیٰ درجے کی مخلوق ہو کر پتھروں کو پوج رہے ہیں اور بعض ایک رب ماننے کے بجائے تین رب مانتے ہیں، مسیح خدا، مریم خدا اور روح القدس خدا، جو ایک جمع ایک، جمع ایک کے نتیجے میں تین خدا بنتے ہیں، مگر ان کا اصرار ہے کہ یہاں ایک جمع ایک، جمع ایک تین نہیں بنتے بلکہ ایک خدا بنتا ہے۔ بتائیے اس سے بڑھ کر جہالت کیا ہو سکتی ہے، کبھی ایک، ایک اور ایک بھی ایک ہو سکتے ہیں؟ پھر ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ ہم توحید فی التثّلیث کو اس لیے مانتے ہیں کہ یہ عقل سے اونچی بات ہے، حالانکہ یہ بھی ان کی جہالت ہے۔ کوئی شخص دو جمع دو کا نتیجہ پانچ نکالے تو یہ عقل سے اونچی بات نہیں ہو گی، بلکہ صریح عقل کے خلاف ہو گی۔ یہی حال تین خداؤں کے ایک خدا ہونے کا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

7-1یعنی اکثر لوگوں کو دنیاوی معاملات کا خوب علم ہے۔ چناچہ وہ ان میں تو اپنی چابک دستی اور مہارت فن کا مظاہرہ کرتے ہیں جن کا فائدہ عارضی اور چند روزہ ہے لیکن آخرت کے معاملات سے یہ غافل ہیں جن کا نفع مستقل اور پائیدار ہے۔ یعنی دنیا کے امور کو خوب پہچانتے اور دین سے بیخبر ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ وہ صرف دنیا کی زندگی کا ظاہری پہلو ہی جانتے ہیں اور آخرت سے وہ بالکل [3] غافل ہیں۔
[3] اس کے دو مطلب ہیں۔ ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس آیت کا یہی مطلب ہے کہ ظاہر میں لوگوں کی نظر صرف ظاہری اسباب پر ہوتی ہے۔ اور انھیں اسباب کو دیکھ کر وہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں مگر اس کائنات میں ظاہری اسباب کے علاوہ بے شمار باطنی اسباب بھی موجود ہیں۔ جنہیں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ اور ہر کام کا انجام تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ بسا اوقات ظاہری اسباب کے بالکل الٹ نتیجہ برآمد ہوتا ہے اور یہ ایسی بات ہے جو عام لوگوں کے علم میں نہیں آسکتی۔ اور اگر اس آیت کو عام معنوں پر محمول کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ عام لوگوں کی نظر بس دنیا کے مال و اسباب پر ہی ہوتی ہے اور اسی پر وہ فریفتہ و مفتون ہوتے ہیں۔ وہ اس انجام سے قطعاً غافل ہوتے ہیں کہ انھیں مر کر اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے جہاں ان کے اعمال کا محاسبہ بھی ہو گا پھر اس کے مطابق انھیں سزا بھی ملنے والی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔