(آیت 55){ وَيَوْمَتَقُوْمُالسَّاعَةُ …:} قیامت کے دن مجرم لوگ قسمیں کھائیں گے کہ وہ ایک گھڑی کے سوا نہیں ٹھہرے، یعنی دنیا میں ان کی زندگی ایک گھڑی سے زیادہ نہیں تھی۔ انھیں اتنا وقت ہی نہیں ملا کہ وہ اپنے رب کو پہچانتے یا اپنے پیغمبروں کی باتوں پر عمل کرتے۔ اس سے ان کا مقصد یہ ہوگا کہ اتنے تھوڑے وقت میں ہم پر حجت قائم نہیں ہوئی، اس لیے ہم معذور ہیں۔ (ابن کثیر) یعنی جس طرح یہ لوگ دنیا میں حق کو پہچانتے تھے اور جانتے بوجھتے ہوئے اسے چھوڑ کر باطل کی طرف جاتے اور باطل کے سچا ہونے پر قسمیں اٹھاتے تھے، اسی طرح آخرت میں بھی یہ جانتے ہوئے کہ وہ دنیا میں اتنی مدت رہے ہیں کہ اگر جاننا یا ماننا چاہتے تو یہ کام کر سکتے تھے۔ (فاطر: ۳۷) جھوٹی قسمیں کھائیں گے کہ وہ دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ رہے ہی نہیں اور سمجھ رہے ہوں گے کہ دنیا کی طرح یہاں بھی قسموں کی وجہ سے ہمارا جھوٹ چل جائے گا۔ دیکھیے سورۂ مجادلہ (۱۸)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
55-1ساعت کے معنی ہیں گھڑی، لمحہ، مراد قیامت ہے، اس کو ساعت اس لئے کہا گیا کہ اس واقعہ کو جب اللہ چاہے گا، ایک گھڑی میں ہوجائے گا۔ یا اس لئے کہ یہ اس گھڑی میں ہوگی جو دنیا کی آخری گھڑی ہوگی۔ 55-2دنیا میں یا قبروں میں یہ اپنی عادت کے مطابق جھوٹی قسم کھائیں گے اس لیے کہ دنیا میں وہ جتنا عرصہ رہے ہوں گے ان کے علم میں ہی ہوگا اور اگر مراد قبر کی زندگی ہے تو ان کا حلف جہالت پر ہوگا کیونکہ وہ قبر کی مدت نہیں جانتے ہوں گے۔ بعض کہتے کہ آخرت کے شدائد اور ہولناک احوال کے مقابلے میں دنیا کی زندگی انھیں گھڑی کی طرح ہی لگے گی۔ 55-3اَفَکَالرَّجُلُ کے معنی ہیں۔ سچ سے پھر گیا، مطلب ہوگا، اسی پھرنے کے مثل وہ دنیا میں پھرتے رہے یا بہکے رہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
55۔ اور جس دن قیامت قائم ہو گی تو مجرم لوگ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ: ”ہم تو ایک گھڑی [61] سے زیادہ نہیں ٹھہرے تھے“ اسی طرح وہ (دنیا میں بھی) غلط اندازے لگایا کرتے تھے
[61] کافروں کے اندازے دنیا میں بھی غلط اور آخرت میں بھی غلط ہوں گے :۔
یہ مدت دنیا کی بھی ہو سکتی ہے اور عالم برزخ کی بھی اور دونوں کی بھی۔ اگرچہ مجرموں کو قبر میں بھی عذاب ہوتا ہے مگر یہ عذاب اخروی عذاب کے مقابلہ میں اتنا ہلکا ہوتا ہے کہ مجرم لوگ اس عذاب قبر کو بھی راحت کی گھڑیاں ہی تصور کریں گے۔ قیامت میں اپنا انجام اور اپنے لئے عذاب دیکھ کر قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم محض ایک گھڑی دنیا میں رہے تھے کیا اچھا ہوتا کہ اتنا تھوڑا سا وقت ہم اللہ کی فرمانبرداری میں گزار لیتے اور یہ برا دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔ وہاں تو ان کا یہ اندازہ ہو گا اور دنیا میں وہ ایسے اندازے لگاتے ہیں اور ایسے کام کرتے ہیں جیسے انھیں اس دنیا میں ہمیشہ کے لئے رہنا ہے۔ اللہ سے بھی غافل ہیں اور اپنی موت سے بھی۔ دنیا میں بھی ان کے اندازے غلط اور سراسر باطل تھے۔ آخرت میں بھی غلط ہی اندازے لگائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
واپسی ناممکن ہو گی ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ’ کفار دنیا اور آخرت کے کاموں سے بالکل جاہل ہیں۔ دنیا میں ان کی جہالت تو یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ اوروں کو شریک کرتے رہے اور اخرت میں یہ جہالت کریں گے کہ قسمیں کھا کر کہیں گے کہ ہم دنیا میں صرف ایک ساعت ہی رہے ‘۔ اس سے ان کامقصد یہ ہو گا کہ اتنے تھوڑے سے وقت میں ہم پر کوئی حجت قائم نہیں ہوئی۔ ہمیں معذور سمجھا جائے۔ اسی لیے فرمایا کہ ’ یہ جیسے یہاں بہکی بہکی باتیں کررے ہیں دنیا میں یہ بہکے ہوئے ہی رہے ‘۔ فرماتا ہے کہ ’ علماء کرام جس طرح ان کے اس کہنے پر دنیا میں انہیں دلائل دے کر قائل معقول کرتے رہے آخرت میں بھی ان سے کہیں گے کہ تم جھوٹی قسمیں کھا رہے ہو ‘۔ تم کتاب اللہ یعنی کتاب اعمال میں اپنی پیدائش سے لے کر جی اٹھنے تک ٹھہرے رہے لیکن تم بےعلم اور نرے جاہل لوگ ہو۔ پس قیامت کے دن ظالموں کو اپنے کرتوت سے معذرت کرنا محض بےسود رہے گا۔ اور دنیا کی طرف لوٹائے نہ جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاِنْيَّسْـتَعْتِبُوْافَمَاهُمْمِّنَالْمُعْتَـبِيْنَ»۱؎ ۱؎[41-فصلت:24] یعنی ’ اگر وہ دنیا کی طرف لوٹنا چاہیں تو لوٹ نہیں سکتے ‘۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔