ترجمہ و تفسیر — سورۃ الروم (30) — آیت 54

اَللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ ضُؔعۡفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنۡۢ بَعۡدِ ضُؔعۡفٍ قُوَّۃً ثُمَّ جَعَلَ مِنۡۢ بَعۡدِ قُوَّۃٍ ضُؔعۡفًا وَّ شَیۡبَۃً ؕ یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ۚ وَ ہُوَ الۡعَلِیۡمُ الۡقَدِیۡرُ ﴿۵۴﴾
اللہ وہ ہے جس نے تمھیں کمزوری سے پیدا کیا، پھر کمزوری کے بعد قوت بنائی، پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا بنا دیا، وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور وہی سب کچھ جاننے والا ہے، ہر چیز پر قادر ہے۔ En
خدا ہی تو ہے جس نے تم کو (ابتدا میں) کمزور حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد طاقت عنایت کی پھر طاقت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ صاحب دانش اور صاحب قدرت ہے
En
اللہ تعالیٰ وه ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا پھر اس کمزوری کے بعد توانائی دی، پھر اس توانائی کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، وه سب سے پورا واقف اور سب پر پورا قادر ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 54) ➊ {اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُعْفٍ …:} مفسر ابن کثیر فرماتے ہیں: انسان کا اصل تو مٹی سے ہے، پھر نطفے سے، پھر جمے ہوئے خون کے ٹکڑے سے، پھر گوشت کے لوتھڑے سے، پھر اسے ہڈیاں پہنائی جاتی ہیں، پھر ہڈیوں پر گوشت پوست پہنایا جاتا ہے، پھر روح پھونکی جاتی ہے، پھر ماں کے پیٹ سے ضعیف و نحیف ہو کر نکلتا ہے، پھر تھوڑا تھوڑا بڑھتا ہے اور مضبوط ہوتا جاتا ہے، پھر بچپن کے زمانے کی بہاریں دیکھتا ہے، پھر جوانی کے قریب پہنچتا ہے، پھر جوان ہوتا ہے، آخر نشوونما موقوف ہو جاتی ہے۔ اب قُویٰ پھر مضمحل ہونا شروع ہوتے ہیں، طاقتیں گھٹنے لگتی ہیں، ادھیڑ عمر کو پہنچتا ہے، پھر بوڑھا ہو جاتا ہے۔ طاقت کے بعد یہ کمزوری بھی قابل عبرت ہوتی ہے کہ ہمت پست ہے۔ دیکھنا، سننا، چلنا، پھرنا، اٹھنا، اچکنا، پکڑنا غرض ہر طاقت گھٹ جاتی ہے، رفتہ رفتہ بالکل جواب دے جاتی ہے اور ساری صفتیں متغیر ہو جاتی ہیں، بدن پر جھریاں پڑ جاتی ہیں، رخسار پچک جاتے ہیں، دانت ٹوٹ جاتے ہیں اور بال سفید ہو جاتے ہیں، یہ ہے قوت کے بعد کی ضعیفی اور بڑھاپا۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، بنانا بگاڑنا اس کی قدرت کے ادنیٰ کرشمے ہیں۔ ساری مخلوق اس کی غلام، وہ سب کا مالک۔ وہ عالم و قادر، نہ اس کا ساکسی کا علم، نہ اس جیسی کسی کی قدرت۔ (ابن کثیر)
➋ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا اثبات اور منکرین قیامت کا رد فرمایا ہے کہ جو اللہ انسان کو عدم سے نکال کر وجود میں لا سکتا ہے، پھر ضعف کی حالت سے بڑھا کر قوت اور جوانی تک پہنچاتا ہے، پھر قوت و جوانی سے ضعف اور بڑھاپے کی طرف لا کر موت تک پہنچا دیتا ہے، اس کے لیے اسے دوبارہ پیدا کرنا کچھ مشکل نہیں، خصوصاً جب وہ علیم بھی ہے، اسے کائنات کے ہر شخص اور ہر چیز کے ہر ذرّے کا علم ہے کہ کہاں ہے اور قدیر بھی ہے کہ اس کا وجود و عدم دونوں اس کی قدرت کا نتیجہ ہیں۔ وہ جب چاہے مردہ اجزا کو دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔
➌ { يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ:} یعنی ضعف سے قوت کی طرف اور قوت سے ضعف اور بڑھاپے کی طرف انسان کا یہ سفر اندھے اور بے شعور مادے کے خود بخود ہونے والے تغیر ات نہیں، بلکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کا فعل ہے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، کسی کو جنین ہی کی حالت میں ختم کر دیتا ہے، کسی کو پیدا ہوتے ہی، کسی کو بچپن میں بلا لیتا ہے، کسی کو جوانی تک پہنچاتا ہے اور جسے چاہتا ہے بڑھاپے تک پہنچا دیتا ہے۔ یہ سب کچھ اس کی مشیّت، کمال علم اور کمال قدرت کے مطابق ہوتا ہے۔
➍ ابن عاشور فرماتے ہیں: لفظ { ضُعْفٍ } آیت میں ضاد کے ضمّہ کے ساتھ ہے اور یہ زیادہ فصیح اور لغتِ قریش ہے اور اس کے ضاد پر فتحہ بھی جائز ہے اور یہ لغتِ تمیم ہے۔ ابو داؤد اور ترمذی نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت کی ہے، وہ فرماتے ہیں: میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے {الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ} (یعنی ضاد کے فتحہ کے ساتھ) پڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے { مِنْ ضُعْفٍ } (یعنی ضاد کے ضمہ کے ساتھ) پڑھایا۔ [ترمذي، القراءات، باب ومن سورۃ الروم: ۲۹۳۶، وقال الألباني حسن۔ أبو داوٗد، الحروف و القراءات، باب: ۳۹۷۸] جمہور نے تینوں جگہ { ضُعْفٍ } کا لفظ ضاد کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور عاصم اور حمزہ نے اسے ضاد کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یقینا ان کے پاس اس کا ثبوت ہے جو ابن عمر رضی اللہ عنھما کی روایت کے خلاف ہے۔ اس قراء ت اور ابن عمر رضی اللہ عنھما کی حدیث کے درمیان تطبیق یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ضاد کے ضمہ کے ساتھ پڑھا، کیونکہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کی لغت ہے اور جو دوسرے قبیلے کی لغت میں پڑھے اس کے لیے فتحہ کے ساتھ پڑھنے کی رخصت ہے اور جس کی کوئی خاص لغت نہ ہو اسے دونوں طرح پڑھنے کا اختیار ہے۔ (التحریر و التنویر) یاد رہے کہ اگرچہ عاصم کی قراء ت ضاد کے فتحہ کے ساتھ ہے مگر ان کے ایک راوی حفص نے (جن کی روایت ہمارے ہاں رائج ہے) ابن عمر رضی اللہ عنھما کی حدیث کی وجہ سے اس کے ضاد کے ضمہ کو ترجیح دی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

54-1یہاں سے اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کا ایک اور کمال بیان فرما رہا ہے اور وہ ہے مختلف اطوار سے انسان کی تخلیق۔ ضعف (کمزوری کی حالت) سے مراد نطفہ یعنی قطرہ آب ہے یا عالم طفولیت۔ 54-2یعنی جوانی، جس میں قوائے عقلی و جسمانی کی تکمیل ہوجاتی ہے۔54-3کمزوری سے مراد کہولت کی عمر ہے جس میں عقلی و جسمانی قوتوں میں نقصان کا آغاز ہوجاتا ہے اور بڑھاپے سے مراد شیخوخت کا وہ دور ہے جس میں ضعف بڑھ جاتا ہے۔ ہمت پست ہاتھ پیروں کی حرکت اور گرفت کمزور، بال سفید اور تمام ظاہری و باطنی صفات متغیر ہوجاتی ہیں۔ قرآن نے انسان کے یہ چار بڑے اطوار بیان کیے ہیں۔ بعض علماء نے دیگر چھوٹے چھوٹے اطوار بھی شمار کر کے انھیں قدرے تفصیل سے بیان کیا ہے جو قرآن کے اجمال کی توضیح اور اس کے اعجاز بیان کی شرح ہے مثلا امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ انسان یکے بعد دیگرے ان حالات واطوار سے گزرتا ہے۔ اس کی اصل مٹی ہے یعنی اس کے باپ آدم ؑ کی تخلیق مٹی سے ہوئی تھی یا انسان جو کچھ کھاتا ہے جس سے وہ منی پیدا ہوتی ہے جو رحم مادر میں جاکر اس کے وجود و تخلیق کا باعث بنتی ہے، وہ سب مٹی ہی کی پیداوار ہے پھر وہ نطفہ، نطفہ سے علقہ پھر مضغہ پھر ہڈیاں جنہیں گوشت کا لباس پہنایا جاتا ہے۔ پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔ پھر ماں کے پیٹ سے اس حال میں نکلتا ہے کہ نحیف و نزار اور نہایت نرم ونازک ہوتا ہے۔ پھر بتدریج نشوونما پاتا، بچپن، بلوغت اور جوانی کو پہنچتا ہے اور پھر بتدریج رجعت قہقری کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ کہولت، شیخوخت اور پھر کبر سنی تاآنکہ موت اسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ 54-3انہی اشیاء میں ضعف و قوت بھی ہے، جس سے انسان گزرتا ہے جیسا کہ ابھی تفصیل بیان ہوئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

54۔ اللہ وہ ہے جس نے تمہیں کمزور سی حالت سے پیدا کیا۔ پھر اس کمزوری کے بعد تمہیں قوت بخشی پھر اس قوت کے بعد تمہیں کمزور اور بوڑھا بنا دیا [59]۔ وہ جیسے چاہے [60] پیدا کرتا ہے اور وہ سب کچھ جاننے والا اور قدرت والا ہے۔
[59] زندگی کے سب مراحل اضطراری ہیں:۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی وہ تدریجی حالتیں بیان فرمائی ہیں جن میں مجبور محض ہوتا ہے اور اپنے اختیار سے ان حالتوں میں خود کوئی تبدیلی لانا ممکن نہیں ہے، پیدا ہوتا ہے تو اس قدر کمزور کہ کسی بھی جاندار کا بچہ اتنا کمزور پیدا نہیں ہو گا۔ ہر جاندار کا بچہ پیدا ہوتے ہیں چلنے پھرنے لگتا ہے مگر انسان کا بچہ چلنا تو درکنار بیٹھ بھی نہیں سکتا اور چلنے کی نوبت تو ڈیڑھ دو سال بعد آتی ہے۔ پھر اس کے بعد اس پر بلوغت اور جوانی کا دور آتا ہے تو وہ جسمانی طور پر طاقتور اور مضبوط ہوتا ہے۔ اس کے قوائے عقلیہ، اس کا فہم و شعور سب جوبن پر ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اس پر انحطاط کا دور آتا ہے۔ قوتیں جواب دینے لگتی ہیں۔ اعضا مضمحل ہونے لگتے ہیں۔ کئی طرح کے عوارض اور بیماریاں اسے آگھیرتی ہیں حتیٰ کہ اس کی عقل بھی زائل ہونا شروع ہو جاتی ہے اور یہ سب ایسے مدارج زندگی ہیں۔ جن سے انسان کو نہ کوئی مضر ہے اور نہ ان میں تبدیلی لا سکتا ہے وہ لاکھ چاہے کہ بڑھاپے کے بعد پھر اس پر جوانی کا دور آئے وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ جس تدریج کے ساتھ اللہ اسے ان مراحل سے گزارتا ہے۔ اسے بہرحال گزرنا پڑتا ہے۔
[60] طبعی امور کے علاوہ اللہ کی مشیت سے اختلافی حالات:۔
مندرجہ بالا مراحل ایسے تھے جو طبیعی تقاضے تھے جو سب کے لئے یکساں ہیں پھر کچھ ایسے امور ہیں جن میں اللہ تعالیٰ خاص انسانوں کو خاص صفات سے نوازتا ہے وہ چاہے تو کسی کو کمزور الخلقت پیدا کر دے اور اس کے اعضا کو نشو و نما کی رفتار بہت کم رہ جائے۔ چاہے تو کسی کو بونا بنا دے۔ کسی کو مادر زادہ اندھا پیدا کر دے کسی کو بلا کا عقل و فہم عطا کر دے۔ اور اسے ذہین و فطین بنا دے اور چاہے تو کسی کو بلید الذہن پیدا کر دے پھر چاہے تو کسی پر جوانی اور بڑھاپے کے مراحل آنے ہی نہ دے اور بچپن میں ہی اسے موت سے دوچار کر دے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایک بوڑھا کو سٹ بستر مرگ پر سال ہا سال ایڑیاں رگڑتا رہے مگر اسے موت نہ آئے۔ اور چاہے تو کسی کو لمبی عمر بھی عطا کرے اور تندرست و صحت یاب بھی رکھے۔ یہ سب امور اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے اور انسان کا ان میں کچھ بھی اختیار نہیں ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کس شخص کو کس حال میں رکھنا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

پیدائش انسان کی مرحلہ وار روداد ٭٭
انسان کی ترقی و تنزل پر نظر ڈالو اس کی اصل تو مٹی سے ہے، پھر نطفے سے، پھرخون بستہ سے، پھر گوشت کے لوتھڑے سے، پھر اسے ہڈیاں پہنائی جاتی ہیں، پھر ہڈیوں پر گوشت پوست پہنایا جاتا ہے پھر روح پھونکی جاتی ہے پھر ماں کے پیٹ سے ضعیف و نحیف ہو کر نکلتا ہے۔ پھر تھوڑا تھوڑا بڑھتا ہے اور مضبوط ہوتا جاتا ہے پھر بچپن کے زمانے کی بہاریں دیکھتا ہے پھر جوانی کے قریب پہنچتا ہے پھر جوان ہوتا ہے آخر نشوونما موقوف ہو جاتی ہے۔
اب قوی پھر مضمحل ہونے شروع ہوتے ہیں طاقتیں گھٹنے لگتی ہیں ادھیڑ عمر کر پہنچتا ہے، پھر بڈھا ہوتاہے، پھر بڈھا پھوس ہو جاتا ہے۔ طاقت کے بعد یہ کمزوری بھی قابل عبرت ہوتی ہے کہ ہمت پست ہے، دیکھنا، سننا، چلنا، پھرنا، اٹھنا، اچکنا، پکڑنا غرض ہرطاقت گھٹ جاتی ہے۔ رفتہ رفتہ بالکل جواب دے جاتی ہے اور ساری صفتیں متغیر ہو جاتی ہیں۔ بدن پر جھریاں پڑجاتی ہیں۔ رخسار پچک جاتے ہیں دانت ٹوٹ جاتے ہیں بال سفید ہو جاتے ہیں۔
یہ ہے قوت کے بعد کی ضعیفی اور بڑھاپا، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، بنانا بگاڑنا اس کی قدرت کے ادنیٰ کرشمے ہیں۔ ساری مخلوق اس کی غلام وہ سب کا مالک، وہ عالم و قادر، نہ اس کا سا کسی کا علم نہ اس جیسی کسی کی قدرت۔
عطیہ عوفی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے اس آیت کو «ضُعْفًا» تک ابن عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے پڑھا تو، آپ رضی اللہ عنہ نے بھی اسے تلاوت کیا اور فرمایا { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس آیت کو اتنا ہی پڑھا تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنے لگے جس طرح میں نے تمہاری قرأت پر قرأت شروع کردی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3978،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏