(آیت 45) ➊ { لِيَجْزِيَالَّذِيْنَاٰمَنُوْاوَعَمِلُواالصّٰلِحٰتِ …:} اس میں قیامت کے دن لوگوں کے جدا جدا ہونے کی وجہ بیان فرمائی ہے۔ بقاعی نے فرمایا: ”یہاں دو جملوں میں سے ہر ایک کا ایک حصہ حذف کر دیا اور ایک بیان کر دیا ہے، جس سے حذف شدہ حصہ خود بخود معلوم ہو رہا ہے۔“ گویا مفصل کلام یوں ہو گا: {”لِيَجْزِيَالَّذِيْنَآمَنُوْاوَعَمِلُواالصَّالِحَاتِمِنْفَضْلِهِإِنَّهُيُحِبُّالْمُؤْمِنِيْنَوَلِيَجْزِيَالَّذِيْنَكَفَرُوْاوَعَمِلُواالسَّيِّئَاتِبِعَدْلِهِإِنَّهُلَايُحِبُّالْكَافِرِيْنَ“} ”تاکہ وہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے اپنے فضل سے جزا دے، کیونکہ وہ ایمان والوں سے محبت کرتا ہے اور تاکہ وہ ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا اور برے اعمال کیے اپنے عدل کے ساتھ بدلا دے، کیونکہ وہ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔“ پہلے جملے میں سے {”إِنَّهُيُحِبُّالْمُؤْمِنِيْنَ“} حذف کر دیا اور دوسرے میں سے {”لِيَجْزِيَالَّذِيْنَكَفَرُوْاوَعَمِلُواالسَّيِّئَاتِبِعَدْلِهِ“} حذف کر دیا۔ اسے احتباک کہتے ہیں اور لمبی بات کو اس طرح مختصر کرنا قرآن کے بیان کا ایک حسن ہے۔ ➋ { مِنْفَضْلِهٖ:} یعنی ایمان اور عمل صالح والوں کو جنت میں داخلہ کسی استحقاق کی بنا پر نہیں ملے گا بلکہ محض فضل یعنی اصل بدلے سے زائد اجر کے طور پر ملے گا۔ کیونکہ دنیا میں اگر انسان نے اللہ کا شکر ادا کیا یا اس کا فرماں بردار بن کر رہا تو اس سے تو اس کے پہلے احسانات کا بدلا ہی پورا نہیں ہوتا، اس توفیق کا بدلا کس طرح ہوگا جس کے بغیر انسان کچھ بھی نہیں کر سکتا!؟ اس لیے بندوں کو جو اجر بھی ملے گا وہ ان کے اعمال سے زائد انعام ہی ہوگا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: [لَنْيُّدْخِلَأَحَدًاعَمَلُهُالْجَنَّةَ]”کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔“ لوگوں نے کہا: [وَلاَأَنْتَيَارَسُوْلَاللّٰهِ!؟]”اور کیا آپ کو بھی نہیں اے اللہ کے رسول!؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَا،وَلاَأَنَاإِلاَّأَنْيَّتَغَمَّدَنِيَاللّٰهُبِفَضْلٍوَرَحْمَةٍ][بخاري، المرضٰی، باب تمنی المریض الموت: ۵۶۷۳]”نہیں، مجھے بھی نہیں، اِلاّ یہ کہ اللہ مجھے فضل و رحمت کے ساتھ ڈھانپ لے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
45-1یعنی محض نیکیاں دخول جنت کے لئے کافی نہیں ہوں گی، جب تک ان کے ساتھ اللہ کا فضل بھی شامل حال نہ ہوگا پس وہ اپنے فضل سے ایک ایک نیکی کا اجر دس سے سات سو گنا تک بلکہ اس سے زیادہ بھی دے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
45۔ تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے انھیں اپنی مہربانی [53] سے اس کا بدلہ دے۔ وہ یقیناً کافروں کو پسند نہیں کرتا۔
[53] جنت میں داخلہ استحقاق کی بنا پر نہیں بلکہ محض اللہ کے فضل سے ہو گا :۔
ایمان والوں اور نیک لوگوں کو بھی جنت میں داخلہ کسی استحقاق کی بنا پر نہیں ملے گا بلکہ محض اللہ کے فضل یعنی اصل بدلہ سے زائد اجر کے طور پر ملے گا۔ کیونکہ دنیا میں انسان نے اگر اللہ کا شکر ادا کیا یا اس کا فرمانبردار بن کر رہا تو اس سے تو اللہ کے سابقہ احسانات کا بدلہ پورا نہیں ہوتا اب مزید کیسا؟ یہ اجر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دیں گے تو محض اس لئے کہ انہوں نے جو بھی کام کئے تھے اللہ کی رضا کی خاطر کئے تھے اور اللہ ان سے راضی ہو کر زائد بدلہ خاص اپنی مہربانی سے جنت کی صورت میں عطا کرے گا۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی شخص کو اس کا عمل بہشت میں نہیں لے جائے گا“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ کے اعمال بھی؟ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت میں نہیں لے جائیں گے؟) فرمایا: ”ہاں میرے اعمال بھی مجھے جنت میں نہیں لے جائیں گے، الا یہ کہ اللہ اپنے فضل اور اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے“ [بخاری۔ کتاب المرضی۔ باب تمنی المریض الموت]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔