تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
’ اب تم اپنی تجارت اور کمائی دھندے کے لیے ادھر سے ادھر، ادھر سے ادھر جاسکو۔ پس تمہیں چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ کی ان بےشمار ان گنت تعمتوں پر اس کا شکریہ ادا کرو ‘۔
پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسکین اور تسلی دینے کے لیے فرماتا ہے کہ ’ اگر آپ کو لوگ جھٹلاتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے کوئی انوکھی بات نہ سمجھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے رسولوں کو بھی ان کی امتوں نے ایسے ہی ٹیڑھے ترچھے فقرے سنائے ہیں۔ وہ بھی صاف روشن اور واضح دلیلیں معجزے اور احکام لائے تھے بالآخر جھٹلانے والے عذاب کے شنکجے میں کس دئیے گئے اور مومنوں کو اس وقت ہر قسم کی برائی سے نجات ملی ‘۔
اپنے فضل سے اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اپنے نفس کریم پر یہ بات لازم کر لی ہے کہ وہ اپنے با ایمان بندوں کو مدد دے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت «كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ» ۱؎ [6-الأنعام:54]۔
ابن ابی حاتم میں حدیث ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی آبرو بچالے اللہ پر حق ہے کہ وہ اس سے جہنم کی آگ کو ہٹالے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا آیت «وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ» } ۱؎ [30-الروم:47]۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:580،]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: ومن الأدلَّة الدالَّة على رحمته وبعثِهِ الموتى وأنَّه الإله المعبود والملك المحمود، أن أرسل {الرياحَ}: أمام المطر {مبشراتٍ}: بإثارتها للسحاب ثم جمعِها، فتبشر بذلك النفوس قبل نزوله، {ولِيذيقَكم من رحمتِهِ}: فَيُنْزِلَ عليكم مطراً تحيا به البلادُ والعبادُ وتذوقون من رحمتِهِ ما تعرِفون أنَّ رحمته هي المنقذة للعباد الجالبة لأرزاقهم، فتشتاقون إلى الإكثار من الأعمال الصالحة الفاتحة لخزائن الرحمة، {ولِتَجْرِيَ الفلكُ}: في البحر {بأمرِهِ}: القدريِّ، {ولِتَبْتَغوا من فضلِهِ}: بالتصرُّفِ في معايشكم ومصالحكم. {ولعلَّكُم تشكُرونَ}: مَنْ سخَّر لكم الأسباب، ويَسَّرَ لكم الأمور؛ فهذا المقصود من النعم أنْ تقابَلَ بشكر الله تعالى؛ ليزيدَكم الله منها، ويبقيَها عليكم، وأمَّا مقابلة النعم بالكفرِ والمعاصي؛ فهذه حالُ من بدَّل نعمة الله كفراً، ونعمته محنةً، وهو معرَّضٌ لها للزوال والانتقال منه إلى غيره.