ترجمہ و تفسیر — سورۃ الروم (30) — آیت 37

اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّ اللّٰہَ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَقۡدِرُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۳۷﴾
اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ رزق فراخ کر دیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے، بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔ En
کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کرتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کرتا ہے۔ بیشک اس میں ایمان لانے والوں کے لئے نشانیاں ہیں
En
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے کشاده روزی دیتا ہے اور جسے چاہے تنگ، اس میں بھی ان لوگوں کے لئے جو ایمان ﻻتے ہیں نشانیاں ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 37) ➊ { اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ يَقْدِرُ:} یعنی خوش حالی پر پھول جانے یا مصیبت پر ناامید ہونے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انسان خوش حالی یا مصیبت کے معاملے کو دائمی سمجھ لیتا ہے۔ ایسے لوگوں کو ہر روز پیش آنے والے مشاہدے کی طرف توجہ دلائی کہ کیا انھوں نے دیکھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے رزق فراخ کر دیتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے۔ ایک ہی شخص کا رزق کبھی فراخ ہے کبھی تنگ اور ایک ہی وقت میں کسی کا رزق فراخ ہے اور کسی کا تنگ۔ رزق کا معاملہ اس نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ بعض اوقات بڑے بڑے عقل مند اور عالم غربت کا شکار ہوتے ہیں اور اَن پڑھوں اور بے وقوفوں کو ایسی روزی دیتا ہے کہ پڑھے لکھے اور دانا حیران ہوتے ہیں۔ یہ اللہ کی قدرت اور اس کی حکمت ہے جسے وہی جانتا ہے، کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں۔ مومن نہ خوش حالی کو دائمی یا اپنی محنت کا نتیجہ سمجھتا ہے کہ پھول جائے اور نہ ہی مصیبت کو دائمی سمجھتا ہے کہ نا امید ہو جائے، بلکہ وہ ہر وقت خوف و رجا اور امید و بیم کے درمیان کی حالت میں رہتا ہے۔ جو اسے فخرو غرور سے بھی باز رکھتی ہے اور یاس و نا امیدی سے بھی۔
➋ {اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ:} یعنی ایک ہی شخص کو کسی وقت غنی اور کسی وقت فقیر کر دینے میں بہت سی نشانیاں ہیں اور ایک ہی وقت میں کسی کو غنی اور کسی کو فقیر کر دینے میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ اسی طرح اس بات میں بھی بہت سی نشانیاں ہیں کہ کافر ہر لمحے دنیا کے قانون تغیر کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ کوئی شخص ہمیشہ ایک حال پر نہیں رہتا، نہ سب لوگ ایک حال پر ہیں، رزق اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق پھیلتا اور سکڑتا رہتا ہے، اس کے باوجود وہ اس طرح خوشی پر مغرور اور مصیبت میں ناامید ہوتے ہیں جیسے یہ حالت ہمیشہ ہی رہے گی۔ ان تمام چیزوں میں ایمان والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، کیونکہ ان سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں۔ کفار نہ ان پر غور کرتے ہیں، نہ انھیں ان سے کوئی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

37-1یعنی اپنی حکمت و مصلحت سے وہ کسی کو مال و دولت زیادہ اور کسی کو کم دیتا ہے۔ حتیٰ کہ بعض دفعہ عقل و شعور میں اور ظاہری اسباب و وسائل میں دو انسان ایک جیسے ہی محسوس ہوتے ہیں ایک جیسا ہی کاروبار بھی شروع کرتے ہیں لیکن ایک کے کاروبار کو خوب فروغ ملتا ہے اور اس کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں، جب کہ دوسرے شخص کا کاروبار محدود ہی رہتا ہے اور اسے وسعت نصیب نہیں ہوتی۔ آخر یہ کون ہستی ہے جس کے پاس تمام اختیارات ہیں اور وہ اس قسم کے تصرفات فرماتا ہے علاوہ ازیں وہ کبھی دولت فراواں کے مالک کو محتاج کردیتا ہے اور محتاج کو مال ودولت سے نواز دیتا ہے اور یہ سب اسی ایک اللہ کے ہاتھ میں ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

37۔ کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ اللہ جس کا چاہے رزق زیادہ کر دیتا ہے اور (جس کا چاہے) کم کر دیتا ہے۔ ایمان [41] لانے والوں کے لئے اس میں بھی کئی نشانیاں ہیں۔
[41] رزق کی کمی بیشی میں اللہ کی مصلحتیں:۔
یعنی رزق کی فراخی اور تنگی تو خالصتاً اللہ کے ہاتھ میں ہے جسے چاہے وہ زیادہ دے اور جسے چاہے کم دے اور اس رزق کی کمی و بیشی میں بھی اس کی کئی مصلحتیں ہوتی ہیں (تفصیل کے لئے دیکھئے سورۃ عنکبوت کی آیت نمبر 62 کا حاشیہ) لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ رزق کی کمی بیشی کی بنا پر انسان اپنے اخلاق ہی بگاڑ لے۔ خوشحالی کا دور آئے تو پھولا نہ سمائے اور کسی کو حتیٰ کہ اللہ کو بھی خاطر میں نہ لائے اور تنگی کا دور آئے تو اللہ کو ہی اپنے شکووں کا ہدف بنالے اور اس کی رحمت سے مایوس ہو جائے۔ بلکہ صحیح طرز عمل یہ ہے کہ رزق کی کمی بیشی سے اللہ اپنے بندوں کا امتحان لیتا ہے اور کامیاب وہ انسان ہے جو ہر حال میں اخلاق فاضلہ کا مظاہرہ کرے۔ خوشحالی آئے تو اللہ کا شکر ادا کرے اور مزید سرنگوں ہو جائے اور تنگی کا وقت آئے تو صبر و تحمل سے کام رکھے اور اللہ کی رحمت کا امیدوار ہے۔ یہ اخلاق فاضلہ بذات خود اللہ کی ایسی نعمت ہے جو نہ کسی کافر و مشرک کو میسر آ سکتی ہے اور نہ کسی دہریئے کو، یہ صرف اسے میسر آتی جو صرف اللہ پر ہی توکل رکھتا ہو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔