ترجمہ و تفسیر — سورۃ الروم (30) — آیت 36

وَ اِذَاۤ اَذَقۡنَا النَّاسَ رَحۡمَۃً فَرِحُوۡا بِہَا ؕ وَ اِنۡ تُصِبۡہُمۡ سَیِّئَۃٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ اِذَا ہُمۡ یَقۡنَطُوۡنَ ﴿۳۶﴾
اور جب ہم لوگوں کو کوئی رحمت چکھاتے ہیں وہ اس سے خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انھیں کوئی برائی پہنچتی ہے، اس کی وجہ سے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا تو اچانک وہ نا امید ہو جاتے ہیں۔ En
اور جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو اُس سے خوش ہو جاتے ہیں اور اگر اُن کے عملوں کے سبب جو اُن کے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں کوئی گزند پہنچے تو نااُمید ہو کر رہ جاتے ہیں
En
اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزه چکھاتے ہیں تو وه خوب خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انہیں ان کے ہاتھوں کے کرتوت کی وجہ سے کوئی برائی پہنچے تو ایک دم وه محض ناامید ہو جاتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 36) ➊ {وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا …:} اس آیت میں لوگوں کو رحمت چکھانے کی نسبت اپنی طرف فرمائی ہے، یعنی جب ہم لوگوں کو کوئی رحمت چکھاتے ہیں اور برائی پہنچنے کا سبب ان کے ہاتھوں کی کمائی یعنی ان کے اعمال کو قرار دیا ہے۔ اس کی تفسیر کے لیے سورۂ نساء کی آیت (۷۹): «{ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ کی تفسیر پر نظر ڈال لیں۔ اسی طرح رحمت چکھانے کے لیے { اِذَاۤ } (جب) کا لفظ فرمایا اور برائی پہنچنے کے لیے { اِنْ } (اگر) کا لفظ فرمایا جو شک کے لیے آتا ہے۔ اس میں رحمت کے مقابلے میں تکلیف کے بہت ہی کم ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ (رازی)
➋ آیت میں انسان کی ناشکری، تنگ ظرفی اور تھڑدلی کا بیان ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی تھوڑی سی نعمت بھی ({ رَحْمَةً } کی تنوین تنکیر و تقلیل کے لیے ہے) عطا ہوتی ہے تو وہ اس پر پھول جاتا ہے۔ اس کی چال ڈھال اور ہر حرکت سے اس کی نخوت کا اظہار ہوتا ہے۔ اس وقت نہ وہ خالق کو خاطر میں لاتا ہے نہ اس کی مخلوق کو اور نہ اسے یہ یاد رہتا ہے کہ یہ نعمت دائمی نہیں بلکہ ہر حال میں چھننے والی ہے اور اگر اپنے ہی اعمال کی وجہ سے کوئی برائی آ پہنچے تو اچانک (فوراً ہی) ناامید ہو جاتا ہے اور ہمت ہار بیٹھتا ہے کہ اب کوئی نہیں جو میری مصیبت ٹال سکے۔ یہ کافر کی حالت ہے کہ سختی کے وقت مایوس ہو جاتا ہے اور عیش و آرام کے وقت تکبر و غرور کرنے لگتا ہے۔ بہت سے کمزور ایمان والوں کا بھی یہی حال ہے۔ مگر صحیح مومن کا حال اس کے برعکس ہے، اسے عیش و آرام میسر ہوتا ہے تو اللہ کا شکر بجا لاتا ہے اور جب مصیبت یا تنگی پہنچتی ہے تو صبر و تحمل سے کام لیتا ہے۔ (دیکھیے سورۂ ہود: ۹تا ۱۱) صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَّهُ وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَّهُ] [مسلم، الزھد والرقائق، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر: ۲۹۹۹] مومن کے ہر حال پر تعجب ہے، کیونکہ اس کا ہر معاملہ ہی خیر ہے اور یہ چیز مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں۔ اگر اسے کوئی خوشی پہنچتی ہے تو شکر کرتا ہے تو وہ اس کے لیے خیر ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے توصبر کرتا ہے تو وہ بھی اس کے لیے خیر ہوتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

36-1یہ وہی مضمون ہے جو سورة ہود میں گزرا اور جو انسانوں کی اکثریت کا شیوہ ہے کہ راحت میں وہ خوش ہوتے ہیں اور مصیبت میں ناامید ہوجاتے ہیں۔ اہل ایمان اس سے مستشنٰی ہیں۔ وہ تکلیف میں صبر اور راحت میں اللہ کا شکر یعنی عمل صالح کرتے ہیں۔ یوں دونوں حالتیں ان کے لئے خیر اور اجر وثواب کا باعث بنتی ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

36۔ اور جب ہم انھیں اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو یہ اترانے [40] لگتے ہیں۔ اور جب ان کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو آس توڑ بیٹھتے ہیں۔
[40] انسان کی تنگ ظرفی اور چھچھورا پن :۔
اس آیت میں انسان کی نا شکری، تنگ ظرفی اور چھچھورے پن کا ذکر ہے۔ انسان کی عادت ہے کہ جب اس پر خوشحالی کے دن آتے ہیں تو پھولا نہیں سماتا۔ اس کی وضع قطع چال ڈھال اور گفتگو سے ہی اس کی نخوت کا پتہ چل جاتا ہے۔ اس وقت وہ نہ اپنے خالق کو خاطر میں لاتا ہے اور نہ خلق خدا کو اور یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اسے ہی سرخاب کے پر لگے ہوئے تھے جو اسے یہ عیش و آرام میسر ہے۔ پھر جب کسی وقت اس پر برے دن آجاتے ہیں۔ تو بھی اللہ کی نا شکری ہی کرنے لگتا ہے اور اللہ کی رحمت سے مایوسی کی باتیں کرنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس مومن کی حالت اس کے بالکل الٹ ہوتی ہے۔ اس پر خوشحالی کے دن آئیں تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور اس کے آگے پہلے سے زیادہ جھک جاتا ہے۔ اور جب سختی کے دن آئیں تو نہایت صبر و تحمل سے یہ زمانہ گزارتا ہے اور اللہ کا شکر ہر حال میں ادا کرتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ نرمی اور سختی کے حالات میں اکثر لوگوں کی فطرت یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ صحت، فراخی اور نصرت وغیرہ کے ذریعے سے انھیں اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی نعمت پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے فرحت کا اظہار نہیں کرتے بلکہ تکبر کے ساتھ اتراتے ہوئے خوش ہوتے ہیں ﴿وَاِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ اور اگر انھیں کوئی تکلیف پہنچے یعنی اگر ان کا حال ایسا ہوتا ہے جس سے ان کو تکلیف پہنچتی ہو ﴿بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ ان کے عملوں کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجے یعنی اپنے کرتوتوں کے باعث ﴿اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ تو ناامید ہوجاتے ہیں۔ یعنی فقر اور بیماری وغیرہ کے دور ہونے کے بارے میں مایوس ہو جاتے ہیں یہ مایوسی ان کی جہالت اور عدم معرفت کے باعث ہے۔
﴿اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَیَقْدِرُ کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی جس کے لیے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے؟ یہ جان لینے کے بعد کہ خیر اور شر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، رزق میں تنگی اور فراخی بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہے، مایوسی کا کوئی مقام نہیں۔ اے عقل مند شخص! مجرد اسباب پر نظر نہ رکھ بلکہ مسبب الاسباب کی طرف دیکھ، اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں نشانیاں ہیں۔ کیونکہ یہی لوگ ہیں جو رزق میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی مشیت کے مطابق عطا کردہ کشادگی اور تنگی سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ اس کے ذریعے سے انھیں اللہ تعالیٰ کی حکمت، اس کی رحمت، اس کے جودوکرم اور رزق کی تمام ضروریات میں دل کے اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے کی طرف میلان کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن طبيعة أكثر الناس في حال الرخاء والشدَّة أنَّهم إذا أذاقهم الله منه رحمةً من صحَّةٍ وغنى ونصرٍ ونحو ذلك؛ فرحوا بذلك فرحَ بَطَرٍ لا فرح شُكْرٍ وتبجُّح بنعمة الله. {وإنْ تُصِبْهم سيئةٌ}؛ أي: حالٌ تسوؤهم، وذلك {بما قدَّمت أيديهم}: من المعاصي، {إذا هم يَقْنَطون}: ييأسون من زوال ذلك الفقر والمرض ونحوه، وهذا جهلٌ منهم وعدم معرفة. {أوَلَمْ يرَوْا أنَّ الله يبسطُ الرزقَ لمن يشاء وَيَقْدِرُ}: فالقنوط بعدما علم أن الخير والشرَّ من الله والرزق سعته وضيقه من تقديره ضائعٌ ليس له محلٌّ؛ فلا تنظر أيُّها العاقل لمجرَّد الأسباب، بل اجعلْ نَظَرَكَ لمسبِّبها، ولهذا قال: {إنَّ في ذلك لآياتٍ لقوم يؤمنون}: فهم الذين يعتبِرونَ ببسطِ الله لِمَنْ يشاءُ وقَبْضِهِ، ويعرفون بذلك حكمة الله ورحْمته وجوده وجذب القلوب لسؤالِهِ في جميع مطالب الرزق.