بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَہۡوَآءَہُمۡ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ۚ فَمَنۡ یَّہۡدِیۡ مَنۡ اَضَلَّ اللّٰہُ ؕ وَ مَا لَہُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿۲۹﴾
بلکہ وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا وہ جانے بغیر اپنی خواہشوں کے پیچھے چل پڑے، پھر اسے کون راہ پر لائے جسے اللہ نے گمراہ کر دیا ہو اور ان کے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں ہیں۔
En
مگر جو ظالم ہیں بےسمجھے اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں تو جس کو خدا گمراہ کرے اُسے کون ہدایت دے سکتا ہے؟ اور ان کا کوئی مددگار نہیں
En
بلکہ بات یہ ہے کہ یہ ﻇالم تو بغیر علم کے خواہش پرستی کر رہے ہیں، اسے کون راه دکھائے جسے اللہ تعالیٰ راه سے ہٹا دے، ان کا ایک بھی مددگار نہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 29) ➊ { بَلِ اتَّبَعَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ:} یعنی آیات کو کھول کر بیان کرنے کا فائدہ ان لوگوں کو ہے جو عقل کے پیچھے چلیں، مگر یہ لوگ جنھوں نے شرک کے ارتکاب کا ظلم کیا، جس سے بڑا کوئی ظلم نہیں، یہ عقل کے پیچھے چلنے کے بجائے اپنی خواہشوں کے پیچھے چل رہے ہیں اور شرک کا اصل وہ خواہشیں اور آرزوئیں ہی ہیں جو شیطان اپنے پیچھے چلنے والوں کے دلوں میں پیدا کر دیتا ہے۔ جن کا نہ انھیں علم ہوتا ہے اور نہ حقیقت میں کہیں ان کا وجود ہوتا ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۱۲ تا ۱۲۰) اور سورۂ نجم (۲۳ تا ۲۵)۔
➋ { فَمَنْ يَّهْدِيْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ:} اللہ تعالیٰ کی طرف گمراہی کی نسبت اس اعتبار سے ہے کہ وہ ہر چیز کا خالق ہے، ورنہ انسان کی گمراہی کا سبب خود اس کی ہٹ دھرمی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ مَا يُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِيْنَ }» [البقرۃ: ۲۶] ”اور وہ اس کے ساتھ فاسقوں کے سوا کسی کو گمراہ نہیں کرتا۔“
➌ {وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ:} یہاں ایک سوال ہے کہ جب {”وَمَا لَهُمْ مِّنْ نَّاصِرٍ“} کہنے سے ہر قسم کے مددگار کی زیادہ تاکید کے ساتھ نفی ہو جاتی ہے، تو {” نٰصِرِيْنَ “} کا لفظ لانے میں کیا حکمت ہے؟ مفسر ابو السعود نے اس کا جواب یہ دیا ہے: {”عَلٰي مَعْنَي لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمْ نَاصِرٌ وَاحِدٌ عَلٰي مَا هُوَ قَاعِدَةُ مُقَابَلَةِ الْجَمْعِ بِالْجَمْعِ“} ”یعنی ان میں سے کسی ایک کا کوئی ایک مدد کرنے والا نہیں ہو گا، جیسا کہ جمع کے مقابلے میں جمع کا قاعدہ ہے۔“ قرآن مجید میں ایک ہی بات مختلف اسالیب کے ساتھ بیان ہوتی ہے، کیونکہ تنوّع میں حسن ہوتا ہے۔ ایک اسلوب یہ ہے جو اس آیت میں اختیار کیا گیا ہے، دوسرا اسلوب واحد کے لفظ کے ساتھ نفی کا ہے، وہ بھی متعدد مقامات پر استعمال کیا گیا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ لَا تَجْزِيْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَيْـًٔا }» [البقرۃ: ۱۲۳] ”جب نہ کوئی جان کسی جان کے کچھ کام آئے گی۔“ اور فرمایا: «{ وَ اَنَّ الْكٰفِرِيْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ }» [محمد: ۱۱] ”اور اس لیے کہ جو کافر ہیں ان کا کوئی مددگار نہیں۔“ اور فرمایا: «{ فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّ لَا نَاصِرٍ }» [الطارق: ۱۰] ”تو اس کے پاس نہ کوئی قوت ہوگی اور نہ کوئی مددگار۔“
➋ { فَمَنْ يَّهْدِيْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ:} اللہ تعالیٰ کی طرف گمراہی کی نسبت اس اعتبار سے ہے کہ وہ ہر چیز کا خالق ہے، ورنہ انسان کی گمراہی کا سبب خود اس کی ہٹ دھرمی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ مَا يُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِيْنَ }» [البقرۃ: ۲۶] ”اور وہ اس کے ساتھ فاسقوں کے سوا کسی کو گمراہ نہیں کرتا۔“
➌ {وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ:} یہاں ایک سوال ہے کہ جب {”وَمَا لَهُمْ مِّنْ نَّاصِرٍ“} کہنے سے ہر قسم کے مددگار کی زیادہ تاکید کے ساتھ نفی ہو جاتی ہے، تو {” نٰصِرِيْنَ “} کا لفظ لانے میں کیا حکمت ہے؟ مفسر ابو السعود نے اس کا جواب یہ دیا ہے: {”عَلٰي مَعْنَي لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمْ نَاصِرٌ وَاحِدٌ عَلٰي مَا هُوَ قَاعِدَةُ مُقَابَلَةِ الْجَمْعِ بِالْجَمْعِ“} ”یعنی ان میں سے کسی ایک کا کوئی ایک مدد کرنے والا نہیں ہو گا، جیسا کہ جمع کے مقابلے میں جمع کا قاعدہ ہے۔“ قرآن مجید میں ایک ہی بات مختلف اسالیب کے ساتھ بیان ہوتی ہے، کیونکہ تنوّع میں حسن ہوتا ہے۔ ایک اسلوب یہ ہے جو اس آیت میں اختیار کیا گیا ہے، دوسرا اسلوب واحد کے لفظ کے ساتھ نفی کا ہے، وہ بھی متعدد مقامات پر استعمال کیا گیا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ لَا تَجْزِيْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَيْـًٔا }» [البقرۃ: ۱۲۳] ”جب نہ کوئی جان کسی جان کے کچھ کام آئے گی۔“ اور فرمایا: «{ وَ اَنَّ الْكٰفِرِيْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ }» [محمد: ۱۱] ”اور اس لیے کہ جو کافر ہیں ان کا کوئی مددگار نہیں۔“ اور فرمایا: «{ فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّ لَا نَاصِرٍ }» [الطارق: ۱۰] ”تو اس کے پاس نہ کوئی قوت ہوگی اور نہ کوئی مددگار۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
29-1یعنی اس حقیقت کا انھیں خیال ہی نہیں ہے کہ وہ علم سے بےبہرہ اور ضلالت کا شکار ہیں اور اسی بےعلمی اور گمراہی کی وجہ سے وہ اپنی عقل کو کام میں لانے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور اپنی نفسانی خواہشات اور آرائے فاسدہ کے پیروکار ہیں۔ 29-2کیونکہ اللہ کی طرف سے ہدایت اسے ہی نصیب ہوتی ہے جس کے اندر ہدایت کی طلب اور آرزو ہوتی ہے، جو اس طلب صادق سے محروم ہوتے ہیں، انھیں گمراہی میں بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ 29-3یعنی ان گمراہوں کا کوئی مددگار نہیں جو انھیں ہدایت سے بہرہ ور کر دے یا ان سے عذاب پھیر دے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
29۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان ظالموں نے بغیر علم اپنی خواہشات کی پیروی [29] کر رکھی ہے۔ پھر جسے اللہ نے گمراہ کر دیا ہو اسے کون راہ راست پر لا سکتا ہے اور ان کا کوئی مددگار بھی نہ ہو گا۔
[29] شرک کے کاروبار کی بنیاد مفاد پرستی ہے :۔
بات یہ نہیں کہ ان مشرکوں کو حقیقت کی سمجھ نہیں آتی۔ بلکہ شرک کے اس دھندے میں ان کے بہت سے دنیوی مفادات وابستہ ہیں۔ مہنتوں اور پروہتوں اور مجاوروں کو ایسے ہی عقائد کی وجہ سے نذرانے وصول ہوتے ہیں اور یہ ایک انتہائی منافع بخش کاروبار ہے۔ جس میں کچھ سرمایہ بھی نہیں لگانا پڑتا۔ وہ اپنے مریدوں یا عبادت گزاروں کو کئی قصے کہانیاں گھڑ کر سناتے، ان کی بزرگی اور اولیائی کی شان سے ڈراتے دھمکاتے اور انھیں نذرانے دینے پر مجبور بنا دیتے ہیں۔ نیز یہ لوگ اپنے مریدوں کو شفاعت کی خوشخبریاں سناتے رہتے ہیں کہ فلاں پیر صاحب سے اپنا دامن وابستہ کر لینا ہی ان کی شفاعت اور اخروی نجات کی ضمانت ہے۔ اس طرح عابد و معبود دونوں مذہب کے نام پر حقیقتاً اپنی ہی خواہش نفس کے پیچھے لگے ہوتے ہیں۔ اور اللہ کا قانون ہی یہ ہے کہ انسان جس طرح کا طرز زندگی اختیار کرنا چاہے۔ اللہ اسے ویسی ہی توفیق دے دیتا ہے اور جو لوگ نہ خود غور و فکر کریں نہ انبیاء کی بات مانیں، محض اپنی ضد، ہٹ دھرمی اور وہم و گمان پر جمے رہنا چاہیں اللہ ایسے لوگوں کو انھیں کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔ زبردستی ہدایت دینا اللہ کا دستور نہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اپنے دلوں میں جھانکو! ٭٭
مشرکین مکہ اپنے بزرگوں کو شریک اللہ جانتے تھے لیکن ساتھ ہی یہ بھی مانتے تھے کہ یہ سب اللہ کے غلام اور اس کے ماتحت ہیں۔ چنانچہ وہ حج وعمرے کے موقعہ پر لبیک پکارتے ہوئے کہتے تھے کہ ([ «لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ، تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ» ]) یعنی ہم تیرے دربار میں حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ کہ وہ خود اور جس چیز کا وہ مالک ہے سب تیری ملکیت میں ہے۔
یعنی ہمارے شریکوں کا اور ان کی ملکیت کا تو ہی اصلی مالک ہے۔ پس یہاں انہیں ایک ایسی مثال سے سمجھایا جا رہا ہے جو خود یہ اپنے نفس ہی میں پائیں۔ اور بہت اچھی طرح غور وخوض کر سکیں۔
فرماتا ہے کہ ’ کیا تم میں سے کوئی بھی اس امر پر رضا مند ہو گا کہ اس کے کل مال وغیرہ میں اس کے غلام اس کے برابر کے شریک ہوں اور ہر وقت اسے یہ دھڑ کا رہتا ہو کہ کہیں وہ تقسیم کرکے میری جائیداد اور ملکیت آدھوں آدھ بانٹ نہ لے جائیں ‘۔
یعنی ہمارے شریکوں کا اور ان کی ملکیت کا تو ہی اصلی مالک ہے۔ پس یہاں انہیں ایک ایسی مثال سے سمجھایا جا رہا ہے جو خود یہ اپنے نفس ہی میں پائیں۔ اور بہت اچھی طرح غور وخوض کر سکیں۔
فرماتا ہے کہ ’ کیا تم میں سے کوئی بھی اس امر پر رضا مند ہو گا کہ اس کے کل مال وغیرہ میں اس کے غلام اس کے برابر کے شریک ہوں اور ہر وقت اسے یہ دھڑ کا رہتا ہو کہ کہیں وہ تقسیم کرکے میری جائیداد اور ملکیت آدھوں آدھ بانٹ نہ لے جائیں ‘۔
پس جس طرح تم یہ بات اپنے لیے پسند نہیں کرتے اللہ کے لیے بھی نہ چاہو جس طرح غلام آقا کی ہمسری نہیں کر سکتا اسی طرح اللہ کا کوئی بندہ اللہ کا شریک نہیں ہوسکتا۔ یہ عجب ناانصافی ہے کہ اپنے لیے جس بات سے چڑیں اور نفرت کریں اللہ کے لیے وہی بات ثابت کرنے بیٹھ جائیں۔ خود بیٹیوں سے جلتے تھے، اتنا سنتے ہی کہ تیرے ہاں لڑکی ہوئی ہے منہ کالے پڑجاتے تھے اور اللہ کے مقرب فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے تھے۔ اسی طرح خود اس بات کے کبھی رودار نہیں ہونے کہ اپنے غلاموں کو اپنا برابر کا شریک و سہیم سمجھیں۔ لیکن اللہ کے غلاموں کو اللہ کا شریک سمجھ رہے ہیں کس قدر انصاف کا خون ہے؟
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”مشرک جو لبیک پکارتے تھے اور اس میں اللہ کے لا شریک ہونے کا اقرار کرکے پھر اس کی غلامی تلے دوسروں کو مان کر انہیں اس کا شریک ٹھہراتے تھے اس پر یہ آیت اتری۔“ ۱؎ [طبرانی کبیر:12348:ضعیف] اور اس میں بیان ہے کہ ’ جب تم اپنے غلاموں کو اپنے برابر کا شریک ٹھہرانے سے عار رکھتے ہو تو اللہ کے غلاموں کو اللہ کا شریک کیوں ٹھہرا رہے ہو؟ ‘۔
یہ صاف بات بیان فرما کر ارشاد فرماتا ہے کہ ’ ہم اسی طرح تفصیل وار دلائل غافلوں کے سامنے رکھ دیتے ہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے اور بتلاتا ہے کہ ’ مشرکین کے شرک کی کوئی سند، عقلی، نقلی کوئی دلیل نہیں صرف کرشمہ جہالت اور پیروی خواہش ہے۔ جبکہ یہ راہ راست سے ہٹ گئے تو پھر انہیں اللہ کے سوا اور کوئی راہ راست پر لا نہیں سکتا ‘۔
یہ گو دوسروں کا اپنا کارساز اور مددگار مانتے ہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ دشمنان اللہ کا دوست کوئی نہیں۔ کون ہے جو اس کی مرضی کے خلاف لب ہلا سکے۔ کون ہے جو اس پر مہربانی کرے جس پر اللہ نامہربان ہو؟ جو وہ چاہے وہی ہوتا ہے اور جسے وہ نہ چاہے ہو نہیں سکتا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”مشرک جو لبیک پکارتے تھے اور اس میں اللہ کے لا شریک ہونے کا اقرار کرکے پھر اس کی غلامی تلے دوسروں کو مان کر انہیں اس کا شریک ٹھہراتے تھے اس پر یہ آیت اتری۔“ ۱؎ [طبرانی کبیر:12348:ضعیف] اور اس میں بیان ہے کہ ’ جب تم اپنے غلاموں کو اپنے برابر کا شریک ٹھہرانے سے عار رکھتے ہو تو اللہ کے غلاموں کو اللہ کا شریک کیوں ٹھہرا رہے ہو؟ ‘۔
یہ صاف بات بیان فرما کر ارشاد فرماتا ہے کہ ’ ہم اسی طرح تفصیل وار دلائل غافلوں کے سامنے رکھ دیتے ہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے اور بتلاتا ہے کہ ’ مشرکین کے شرک کی کوئی سند، عقلی، نقلی کوئی دلیل نہیں صرف کرشمہ جہالت اور پیروی خواہش ہے۔ جبکہ یہ راہ راست سے ہٹ گئے تو پھر انہیں اللہ کے سوا اور کوئی راہ راست پر لا نہیں سکتا ‘۔
یہ گو دوسروں کا اپنا کارساز اور مددگار مانتے ہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ دشمنان اللہ کا دوست کوئی نہیں۔ کون ہے جو اس کی مرضی کے خلاف لب ہلا سکے۔ کون ہے جو اس پر مہربانی کرے جس پر اللہ نامہربان ہو؟ جو وہ چاہے وہی ہوتا ہے اور جسے وہ نہ چاہے ہو نہیں سکتا۔