فَاَقِمۡ وَجۡہَکَ لِلدِّیۡنِ حَنِیۡفًا ؕ فِطۡرَتَ اللّٰہِ الَّتِیۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیۡہَا ؕ لَا تَبۡدِیۡلَ لِخَلۡقِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ ٭ۙ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿٭ۙ۳۰﴾
پس تو ایک طرف کا ہو کر اپنا چہرہ اس دین کے لیے سیدھا رکھ، اللہ کی اس فطرت کے مطابق، جس پر اس نے سب لوگوں کو پیدا کیا، اللہ کی پیدائش کو کسی طرح بدلنا (جائز) نہیں، یہی سیدھا دین ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
En
تو تم ایک طرف کے ہوکر دین (خدا کے رستے) پر سیدھا منہ کئے چلے جاؤ (اور) خدا کی فطرت کو جس پر اُس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے (اختیار کئے رہو) خدا کی بنائی ہوئی (فطرت) میں تغیر وتبدل نہیں ہو سکتا۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
En
پس آپ یک سو ہو کر اپنا منھ دین کی طرف متوجہ کر دیں۔ اللہ تعالیٰ کی وه فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ تعالیٰ کے بنائے کو بدلنا نہیں، یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 30) ➊ {فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا: ” لِلدِّيْنِ “} میں ”الف لام“ عہد کا ہے، یعنی یہ دین جس میں خالق و مالک اور معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ کو مانا گیا ہے، جس میں اس کی ذات یا صفات یا افعال میں کسی کو شریک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ {” حَنِيْفًا “ ”حَنَفَ“} (حاء کے ساتھ) کا لفظی معنی مائل ہونا ہے، اکثر استعمال تمام راستوں سے ہٹ کر ایک سیدھے راستے کی طرف آنے کے معنی میں ہوتا ہے، جب کہ {”جَنَفَ“} (جیم کے ساتھ) کا مطلب سیدھے راستے سے ہٹ کر اِدھر یا اُدھر ہوجانا ہوتا ہے۔ {” فَاَقِمْ “} میں ”فاء“ (پس) کا مطلب یہ ہے کہ جب اتنے سارے دلائل سے ثابت ہو گیا کہ اس کائنات کا خالق و مالک اور عبادت و اطاعت کا مستحق اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں، تو لازم ہے کہ تم اپنا چہرہ اس دین کی طرف سیدھا رکھو، نہ ذرہ برابر ادھر ادھر دیکھو اور نہ اس ایک سیدھی راہ سے اِدھر اُدھر ہٹو۔
➋ { فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا: ” فِطْرَتَ “} کا معنی پیدائش ہے، ”اللہ تعالیٰ کی فطرت“ سے مراد وہ حالت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا ہے اور وہ اللہ کی توحید اور دین اسلام ہے، جو ہر آدمی کے دل میں پیدائش کے ساتھ ہی رکھ دی گئی ہے کہ تیرا خالق و مالک اللہ ہے اور تو اس کا بندہ اور غلام ہے، لہٰذا تیرے لیے اس پر قائم رہنا لازم ہے۔ اگر انسان کو اس کی طبعی حالت پر چھوڑ دیا جائے اور بیرونی اثرات سے اس کے دل و دماغ کو محفوظ رکھا جائے تو وہ توحید اور دین فطرت ہی اختیار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے {” اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ “} کے ساتھ آدم علیہ السلام کی اولاد کے ہر فرد سے اپنے رب ہونے کا عہد لیا ہے اور اسی عہد کے متعلق باز پرس ہوگی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۱۷۲، ۱۷۳) کی تفسیر۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ إِلاَّ يُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ، كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيْمَةُ بَهِيْمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّوْنَ فِيْهَا مِنْ جَدْعَاءَ؟ ثُمَّ يَقُوْلُ: «{ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ }» ] [بخاري، التفسیر، باب: «لا تبدیل لخلق اللہ» : ۴۷۷۵] ”کوئی بچہ نہیں جو پیدا ہو مگر وہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی بنا دیتے ہیں یا نصرانی بنا دیتے ہیں یا مجوسی بنا دیتے ہیں، جیسے جانور پیدا ہوتا ہے تو صحیح سالم جانور پیدا ہوتا ہے۔ کیا تم نے ان میں سے کوئی کان یا ناک کٹا ہوا دیکھا ہے؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «{ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ }» [الروم: ۳۰]“ اسود بن سریع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً يَوْمَ خَيْبَرَ فَقَاتَلُوا الْمُشْرِكِيْنَ، فَأَمْضٰی بِهِمُ الْقَتْلُ إِلَی الذُّرِّيَّةِ، فَلَمَّا جَاؤُوْا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَمَلَكُمْ عَلٰی قَتْلِ الذُّرِّيَّةِ؟ فَقَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنَّمَا كَانُوْا أَوْلاَدَ الْمُشْرِكِيْنَ، قَالَ وَهَلْ خِيَارُكُمْ إِلاَّ أَوْلاَدُ الْمُشْرِكِيْنَ، وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! مَا مِنْ نَسَمَةٍ تُوْلَدُ إِلاَّ عَلَی الْفِطْرَةِ، حَتّٰی يُعْرِبَ عَنْهَا لِسَانُهَا] [مستدرک حاکم: 123/2، ح ۲۵۶۶، وصححہ الحاکم و وافقہ الذھبي و صححہ الألباني في سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۴۰۲] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن ایک دستہ بھیجا، انھوں نے مشرکین سے جنگ کی، یہاں تک کہ قتل کرتے کرتے وہ بچوں تک جا پہنچے۔ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھیں بچے قتل کرنے پر کس چیز نے آمادہ کر دیا؟“ انھوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! وہ مشرکین کی اولاد ہی تو تھے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے بہترین لوگ مشرکین کی اولاد ہی تو ہیں، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! کوئی جان پیدا نہیں ہوتی مگر فطرت پر، یہاں تک کہ اس کی زبان اس کے مطالب کا اظہار کرنے لگتی ہے۔“ مشرکین کے فوت شدہ بچوں کے حکم کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۱۵) اور اعراف (۱۷۲، ۱۷۳) کی تفسیر۔ عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا: [أَلَا إِنَّ رَبِّيْ أَمَرَنِيْ أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِيْ يَوْمِيْ هٰذَا كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عَبْدًا حَلَالٌ وَإِنِّيْ خَلَقْتُ عِبَادِيْ حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ وَ إِنَّهُمْ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِيْنُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِيْنِهِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ وَ أَمَرَتْهُمْ أَنْ يُّشْرِكُوْا بِيْ مَا لَمْ أُنْزِلْ بِهِ سُلْطَانًا] [مسلم، الجنۃ و صفۃ نعمیہا، باب الصفات التي یعرف بھا…: ۲۸۶۵] ”سنو! میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس نے مجھے میرے آج کے دن میں جو کچھ سکھایا ہے تمھیں اس میں سے چند وہ باتیں سکھاؤں جن سے تم واقف نہیں ہو۔ (وہ فرماتا ہے کہ) ہر وہ مال جو میں نے کسی بندے کو عطا کیا ہے وہ حلال ہے اور میں نے اپنے تمام بندوں کو ”حنفاء“ (ایک اللہ کے ہو جانے والے) پیدا کیا ہے اور ہوا یہ کہ ان کے پاس شیاطین آئے اور انھوں نے ان کو ان کے دین سے پھیر دیا اور ان کے لیے وہ چیزیں حرام کر دیں جو میں نے ان کے لیے حلال کی تھیں اور انھوں نے ان کو حکم دیا کہ میرے ساتھ ان چیزوں کو شریک بنائیں جن کی میں نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔“
➌ { لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ:} یعنی اللہ کا دین (اسلام) جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اسے بدلنا، توحید کے بجائے شرک کرنا یا اس کے حلال و حرام کے احکام کو تبدیل کرنا جائز نہیں۔ الفاظ کے عموم میں یہ بھی آتا ہے کہ جس شکل پر اللہ تعالیٰ نے کسی کو پیدا کیا ہے اسے بدلنا اور اس کے کان یا ناک وغیرہ کو کاٹنا جائز نہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نساء کی آیت (۱۱۹) کی تفسیر۔
➍ { ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ:} یعنی شریعتِ اسلام اور فطرتِ سلیمہ پر مضبوطی سے قائم رہنا ہی بالکل سیدھا اور مضبوط دین ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے، بلکہ باپ دادا کے رسم و رواج اور شیطان کے پیچھے چل کر فطرت کے خلاف کفر و شرک کو اختیار کیے جاتے ہیں۔
➋ { فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا: ” فِطْرَتَ “} کا معنی پیدائش ہے، ”اللہ تعالیٰ کی فطرت“ سے مراد وہ حالت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا ہے اور وہ اللہ کی توحید اور دین اسلام ہے، جو ہر آدمی کے دل میں پیدائش کے ساتھ ہی رکھ دی گئی ہے کہ تیرا خالق و مالک اللہ ہے اور تو اس کا بندہ اور غلام ہے، لہٰذا تیرے لیے اس پر قائم رہنا لازم ہے۔ اگر انسان کو اس کی طبعی حالت پر چھوڑ دیا جائے اور بیرونی اثرات سے اس کے دل و دماغ کو محفوظ رکھا جائے تو وہ توحید اور دین فطرت ہی اختیار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے {” اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ “} کے ساتھ آدم علیہ السلام کی اولاد کے ہر فرد سے اپنے رب ہونے کا عہد لیا ہے اور اسی عہد کے متعلق باز پرس ہوگی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۱۷۲، ۱۷۳) کی تفسیر۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ إِلاَّ يُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ، كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيْمَةُ بَهِيْمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّوْنَ فِيْهَا مِنْ جَدْعَاءَ؟ ثُمَّ يَقُوْلُ: «{ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ }» ] [بخاري، التفسیر، باب: «لا تبدیل لخلق اللہ» : ۴۷۷۵] ”کوئی بچہ نہیں جو پیدا ہو مگر وہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی بنا دیتے ہیں یا نصرانی بنا دیتے ہیں یا مجوسی بنا دیتے ہیں، جیسے جانور پیدا ہوتا ہے تو صحیح سالم جانور پیدا ہوتا ہے۔ کیا تم نے ان میں سے کوئی کان یا ناک کٹا ہوا دیکھا ہے؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «{ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ }» [الروم: ۳۰]“ اسود بن سریع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً يَوْمَ خَيْبَرَ فَقَاتَلُوا الْمُشْرِكِيْنَ، فَأَمْضٰی بِهِمُ الْقَتْلُ إِلَی الذُّرِّيَّةِ، فَلَمَّا جَاؤُوْا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَمَلَكُمْ عَلٰی قَتْلِ الذُّرِّيَّةِ؟ فَقَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنَّمَا كَانُوْا أَوْلاَدَ الْمُشْرِكِيْنَ، قَالَ وَهَلْ خِيَارُكُمْ إِلاَّ أَوْلاَدُ الْمُشْرِكِيْنَ، وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! مَا مِنْ نَسَمَةٍ تُوْلَدُ إِلاَّ عَلَی الْفِطْرَةِ، حَتّٰی يُعْرِبَ عَنْهَا لِسَانُهَا] [مستدرک حاکم: 123/2، ح ۲۵۶۶، وصححہ الحاکم و وافقہ الذھبي و صححہ الألباني في سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۴۰۲] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن ایک دستہ بھیجا، انھوں نے مشرکین سے جنگ کی، یہاں تک کہ قتل کرتے کرتے وہ بچوں تک جا پہنچے۔ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھیں بچے قتل کرنے پر کس چیز نے آمادہ کر دیا؟“ انھوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! وہ مشرکین کی اولاد ہی تو تھے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے بہترین لوگ مشرکین کی اولاد ہی تو ہیں، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! کوئی جان پیدا نہیں ہوتی مگر فطرت پر، یہاں تک کہ اس کی زبان اس کے مطالب کا اظہار کرنے لگتی ہے۔“ مشرکین کے فوت شدہ بچوں کے حکم کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۱۵) اور اعراف (۱۷۲، ۱۷۳) کی تفسیر۔ عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا: [أَلَا إِنَّ رَبِّيْ أَمَرَنِيْ أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِيْ يَوْمِيْ هٰذَا كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عَبْدًا حَلَالٌ وَإِنِّيْ خَلَقْتُ عِبَادِيْ حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ وَ إِنَّهُمْ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِيْنُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِيْنِهِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ وَ أَمَرَتْهُمْ أَنْ يُّشْرِكُوْا بِيْ مَا لَمْ أُنْزِلْ بِهِ سُلْطَانًا] [مسلم، الجنۃ و صفۃ نعمیہا، باب الصفات التي یعرف بھا…: ۲۸۶۵] ”سنو! میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس نے مجھے میرے آج کے دن میں جو کچھ سکھایا ہے تمھیں اس میں سے چند وہ باتیں سکھاؤں جن سے تم واقف نہیں ہو۔ (وہ فرماتا ہے کہ) ہر وہ مال جو میں نے کسی بندے کو عطا کیا ہے وہ حلال ہے اور میں نے اپنے تمام بندوں کو ”حنفاء“ (ایک اللہ کے ہو جانے والے) پیدا کیا ہے اور ہوا یہ کہ ان کے پاس شیاطین آئے اور انھوں نے ان کو ان کے دین سے پھیر دیا اور ان کے لیے وہ چیزیں حرام کر دیں جو میں نے ان کے لیے حلال کی تھیں اور انھوں نے ان کو حکم دیا کہ میرے ساتھ ان چیزوں کو شریک بنائیں جن کی میں نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔“
➌ { لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ:} یعنی اللہ کا دین (اسلام) جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اسے بدلنا، توحید کے بجائے شرک کرنا یا اس کے حلال و حرام کے احکام کو تبدیل کرنا جائز نہیں۔ الفاظ کے عموم میں یہ بھی آتا ہے کہ جس شکل پر اللہ تعالیٰ نے کسی کو پیدا کیا ہے اسے بدلنا اور اس کے کان یا ناک وغیرہ کو کاٹنا جائز نہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نساء کی آیت (۱۱۹) کی تفسیر۔
➍ { ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ:} یعنی شریعتِ اسلام اور فطرتِ سلیمہ پر مضبوطی سے قائم رہنا ہی بالکل سیدھا اور مضبوط دین ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے، بلکہ باپ دادا کے رسم و رواج اور شیطان کے پیچھے چل کر فطرت کے خلاف کفر و شرک کو اختیار کیے جاتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
30-1یعنی اللہ کی توحید اور اس کی عبادت پر قائم رہیں اور جھوٹے مذاہب کی طرف دھیان ہی نہ کریں 30-2فطرت کے اصل معنی خلقت پیدائش کے ہیں یہاں مراد ملت اسلام ہے مطلب یہ ہے کہ سب کی پیدائش بغیر مسلم و کافر کی تفریق کے اسلام اور توحید پر ہوتی ہے اس لیے توحید ان کی فطرت یعنی جبلت میں شامل ہے جس طرح کہ عہد الست سے واضح ہے بعد میں بہت سوں کو ماحول یا دیگر عوارض فطرت کی اس آواز کی طرف نہیں آنے دیتے، جس کی وجہ سے وہ کفر پر ہی باقی رہتے ہیں جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی وغیرہ بنا دیتے ہیں۔ 30-3یعنی اللہ کی خلقت کو تبدیل نہ کرو بلکہ صحیح تربیت کے ذریعے سے اس کی نشوونما کرو تاکہ ایمان و توحید بچوں کے دل ودماغ میں راسخ ہوجائے یہ خبر بمعنی انشا ہے یعنی نفی نہی کے معنی میں ہے۔ 30-4یعنی وہ دین جس کی طرف یکسو اور متوجہ ہونے کا حکم ہے یا جو فطرت کا تقاضا ہے وہ یہ دین قیم ہے۔ 30-5اسی لیے وہ اسلام اور توحید سے ناآشنا رہتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
30۔ لہذا (اے نبی!) یکسو ہو کر اپنا رخ دین [30] پر مرتکز کر دو۔ یہی فطرت الٰہی [31] ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی اس خلقت [32] میں کوئی رد و بدل نہیں ہو سکتا یہی درست دین [33] ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
[30] یعنی جب یہ بات واضح ہو چکی کہ مشرک اپنے حق میں ایسی تقسیم بات گوارا نہیں کرتے، پھر بھی اگر اللہ کی مخلوق کو اس کا شریک بنا ڈالیں تو اس سے بڑی دھاندلی کوئی نہیں ہو سکتی۔ تو آپ کو چاہئے کہ ان مشرکوں کی لغویات پر ہرگز توجہ نہ دو اور دوسرے تمام مذاہب سے اپنی توجہ ہٹا کر صرف دین اسلام یا خالص اللہ ہی کی عبادت کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔ [31] ہر بچہ اصل فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے :۔
یعنی یہ بات ہر انسان کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے کہ اس کا خالق و مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ اور وہ اس کا بندہ اور غلام ہے۔ لہٰذا اسے صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کرنا چاہئے۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے والدین خواہ اسے یہودی بنا لیں یا عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
اور ایک روایت میں ہے کہ کسی غزوہ میں صحابہ کرامؓ نے مشرکوں کے بچوں کو بھی مار ڈالا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا۔ تم نے بچوں کو کیوں مار ڈالا۔ انہوں نے جواب دیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ مشرکوں کی اولاد تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب جو تم میں عمدہ مسلمان ہیں کیا وہ مشرکوں کی اولاد نہیں ہیں؟“
اور ایک روایت میں ہے کہ کسی غزوہ میں صحابہ کرامؓ نے مشرکوں کے بچوں کو بھی مار ڈالا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا۔ تم نے بچوں کو کیوں مار ڈالا۔ انہوں نے جواب دیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ مشرکوں کی اولاد تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب جو تم میں عمدہ مسلمان ہیں کیا وہ مشرکوں کی اولاد نہیں ہیں؟“
ہر انسان میں قبول حق کی استعداد موجود ہے اور یہی اللہ کی فطرت ہے :۔
ان احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی فطرت اصلی پر اس کے والدین یا ماحول کا گہرا اثر ہوتا ہے اور غلط ماحول میں وہ فطرت اصلیہ دب جاتی ہے۔ اسی دبی ہوئی فطرت سے ماحول کے دباؤ کو زائل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ انبیاء کو بھیجتا اور کتابیں نازل فرماتا ہے۔ بالفاظ دیگر ہر انسان کی فطرت میں قبول حق کی استعداد رکھ دی گئی ہے اور اسی لئے اسے قبول حق کا مکلف بھی بنایا گیا ہے۔ مثلاً اگر فرعون یا ابو جہل کی فطرت میں یہ استعداد اور صلاحیت ہی موجود نہ ہوتی تو انھیں حق کی طرف دعوت دینا ہی بے معنی ہوتا۔
[32] اس جملہ کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ نے انسان کو جس فطرت پر پیدا کیا ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ معبود صرف اللہ تعالیٰ ہے اس کے ساتھ دوسروں کو بھی معبود نہیں بنایا جا سکتا۔ اور انسان عبد اور غلام ہے۔ اسے کسی طرح یہ سزا وار نہیں وہ اللہ کا نافرمان اور سرکش ہو جائے یا خود ہی معبود بن بیٹھے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس جاندار کو جس حال میں پیدا کیا ہے اسے اسی حال میں رہنے دینا چاہئے۔ یعنی جانوروں کے بچے تندرست اور صحیح شکل و صورت پر پیدا ہوتے تھے تو مشرکین جن جانوروں کو بتوں کے نام پر وقف کرتے ان کے کان چیر دیتے تھے۔ علاوہ ازیں بچوں کے سر پر کسی کے نام کی چوٹی رکھنا، داڑھی منڈانا، خوبصورتی کی خاطر جسم کو گودنا یا گدوانا اور اس میں نیلا داغ دینا یا دانتوں میں مصنوعی طریقوں سے خلا پیدا کرنا سب اسی ضمن میں آتا ہے۔
[32] اس جملہ کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ نے انسان کو جس فطرت پر پیدا کیا ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ معبود صرف اللہ تعالیٰ ہے اس کے ساتھ دوسروں کو بھی معبود نہیں بنایا جا سکتا۔ اور انسان عبد اور غلام ہے۔ اسے کسی طرح یہ سزا وار نہیں وہ اللہ کا نافرمان اور سرکش ہو جائے یا خود ہی معبود بن بیٹھے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس جاندار کو جس حال میں پیدا کیا ہے اسے اسی حال میں رہنے دینا چاہئے۔ یعنی جانوروں کے بچے تندرست اور صحیح شکل و صورت پر پیدا ہوتے تھے تو مشرکین جن جانوروں کو بتوں کے نام پر وقف کرتے ان کے کان چیر دیتے تھے۔ علاوہ ازیں بچوں کے سر پر کسی کے نام کی چوٹی رکھنا، داڑھی منڈانا، خوبصورتی کی خاطر جسم کو گودنا یا گدوانا اور اس میں نیلا داغ دینا یا دانتوں میں مصنوعی طریقوں سے خلا پیدا کرنا سب اسی ضمن میں آتا ہے۔
[33] یہ سیدھا دین کیا ہے؟
چند موٹی موٹی اور سیدھی سادی باتیں جنہیں سب مذاہب والے یکساں تسلیم کرتے ہیں اور وہ باتیں یہ ہیں۔ اللہ ہی سب کا خالق ہے مالک ہے اور حاکم ہے۔ وہ اپنی ذات میں یکتا ہے اس کا کوئی ہمسر نہیں۔ اس کا سب پر زور رہتا ہے۔ اس پر کسی کا زور نہیں چلتا۔ لہٰذا اسی کی تسبیح کرنا یا نام جپنا چاہئے۔ اسی طرح کسی کے جان و مال کو نقصان پہنچانا، کسی کی عزت پر حملہ کرنا یا تہمت لگانا، دوسروں سے دغا فریب کرنا سب برا سمجھتے ہیں۔ اور سچ بولنا، غریب پر ترس کھانا، حقدار کو اس کا حق پورا ادا کرنا سب ہی اسے بہتر سمجھتے ہیں اور اس کی تلقین کرتے ہیں۔ یہی سچا دین ہے جسے ہر انسان کی فطرت میں ودیعت کر دیا گیا ہے۔ اور انہی فطرت امور کو پیغمبر یاد دلاتے رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بچہ اور ماں باپ ٭٭
’ ملت ابراہیم حنیف پر جم جاؤ جس دین کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے مقرر کر دیا ہے اور جسے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے ہاتھ پر اللہ نے کمال کو پہنچایا ہے ‘۔
رب کی فطرت سلیمہ پر وہی قائم ہے جو اس دین اسلام کا پابند ہے۔ اسی پر یعنی توحید پر رب نے تمام انسانوں کو بنایا ہے۔ روز اول میں اسی کا سب سے اقرار کرا لیا گیا تھا کہ «وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى» ’ کیا میں سب کا رب نہیں ہوں؟ تو سب نے اقرار کیا کہ بیشک تو ہی ہمارا رب ہے ‘۔ ۱؎ [7-الأعراف:172]
وہ حدیثیں عنقریب ان شاءاللہ بیان ہونگی جن سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جملہ مخلوق کو اپنے سچے دین پر پیدا کیا ہے گو اس کے بعد لوگ یہودیت نصرانیت وغیرہ پر چلے گئے۔
’ لوگو! اللہ کی اس فطرت کو نہ بدلو۔ لوگوں کو اس راہ راست سے نہ ہٹاؤ ‘۔ تو یہ خبر معنی میں امر ہوگی جیسے آیت «وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا» ۔ ۱؎ [3-آل عمران:97] میں یہ معنی نہایت عمدہ اور صحیح ہیں۔
دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو فطرت سلیمہ پر یعنی دین اسلام پر پیدا کیا۔ رب کے اس دین میں کوئی تبدل و تغیر نہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے یہی معنی کئے ہیں کہ ”یہاں خلق اللہ سے مراد دین اور فطرت اسلام ہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:تفسیر سورۃ الروم]۔
رب کی فطرت سلیمہ پر وہی قائم ہے جو اس دین اسلام کا پابند ہے۔ اسی پر یعنی توحید پر رب نے تمام انسانوں کو بنایا ہے۔ روز اول میں اسی کا سب سے اقرار کرا لیا گیا تھا کہ «وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى» ’ کیا میں سب کا رب نہیں ہوں؟ تو سب نے اقرار کیا کہ بیشک تو ہی ہمارا رب ہے ‘۔ ۱؎ [7-الأعراف:172]
وہ حدیثیں عنقریب ان شاءاللہ بیان ہونگی جن سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جملہ مخلوق کو اپنے سچے دین پر پیدا کیا ہے گو اس کے بعد لوگ یہودیت نصرانیت وغیرہ پر چلے گئے۔
’ لوگو! اللہ کی اس فطرت کو نہ بدلو۔ لوگوں کو اس راہ راست سے نہ ہٹاؤ ‘۔ تو یہ خبر معنی میں امر ہوگی جیسے آیت «وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا» ۔ ۱؎ [3-آل عمران:97] میں یہ معنی نہایت عمدہ اور صحیح ہیں۔
دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو فطرت سلیمہ پر یعنی دین اسلام پر پیدا کیا۔ رب کے اس دین میں کوئی تبدل و تغیر نہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے یہی معنی کئے ہیں کہ ”یہاں خلق اللہ سے مراد دین اور فطرت اسلام ہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:تفسیر سورۃ الروم]۔
بخاری شریف میں { بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں۔ جیسے بکری کا صحیح سالم بچہ ہوتا ہے جس کے کان لوگ کتر دیتے ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ» } } ۱؎ [صحیح بخاری:4775]
مسند احمد میں ہے اسود بن سریع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر کفار سے جہاد کیا وہاں ہم بفضل اللہ غالب آگئے۔ اس دن لوگوں نے بہت سے کفار کو قتل کیا یہاں تک کہ چھوٹے بچوں کو بھی قتل کر ڈالا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے { یہ کیا بات ہے لوگ حد سے آگے نکل جاتے ہیں آج بچوں کو بھی قتل کر دیا ہے }۔ کسی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخر وہ بھی تو مشرکین کی ہی اولاد تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { نہیں نہیں۔ یاد رکھو تم میں سے بہترین لوگ مشرکین کے بچے ہیں۔ خبردار بچوں کو کبھی قتل نہ کرنا، نابالغوں کے قتل سے رک جانا۔ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اپنی زبان سے کچھ کہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہود نصرانی بنا لیتے ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:435/3:صحیح]
مسند احمد میں ہے اسود بن سریع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر کفار سے جہاد کیا وہاں ہم بفضل اللہ غالب آگئے۔ اس دن لوگوں نے بہت سے کفار کو قتل کیا یہاں تک کہ چھوٹے بچوں کو بھی قتل کر ڈالا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے { یہ کیا بات ہے لوگ حد سے آگے نکل جاتے ہیں آج بچوں کو بھی قتل کر دیا ہے }۔ کسی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخر وہ بھی تو مشرکین کی ہی اولاد تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { نہیں نہیں۔ یاد رکھو تم میں سے بہترین لوگ مشرکین کے بچے ہیں۔ خبردار بچوں کو کبھی قتل نہ کرنا، نابالغوں کے قتل سے رک جانا۔ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اپنی زبان سے کچھ کہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہود نصرانی بنا لیتے ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:435/3:صحیح]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مسند شریف میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اسے زبان آ جائے۔ اب یا تو شاکر بنتا ہے یا کافر } }۔ ۱؎ [مسند احمد:353/3:ضعیف]۔
مسند میں بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ { حضور علیہ السلام سے مشرکوں کی اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { جب انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا وہ خوب جانتا تھا کہ وہ کیا اعمال کرنے والے ہیں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1383]۔
آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { ایک زمانہ میں میں کہتا تھا مسلمانوں کی اولاد مسلمانوں کے ساتھ ہے اور مشرکوں کی اولاد مشرکوں کے ساتھ ہے یہاں تک کہ فلاں شخص نے فلاں سے روایت کر کے مجھے سنایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کے بچوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ خوب عالم ہے اس چیز سے جو وہ کرتے }۔ اس حدیث کو سن کر میں نے اپنا فتویٰ چھوڑ دیا } ۱؎ [مسند احمد:73/5:صحیح]۔
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے مسند احمد وغیرہ میں حدیث ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ { مجھے جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ جو اس نے مجھے آج سکھایا ہے اور اس سے تم جاہل ہو وہ میں تمہیں سکھا دوں }۔ فرمایا کہ ’ جو میں نے اپنے بندوں کو دیا ہے میں نے ان کے لیے حلال کیا ہے میں نے اپنے سب بندوں کو یک طرفہ خالص دین والا بنایا ہے،ان کے پاس شیطان پہنچتا ہے اور انہیں دین سے گمراہ کرتا ہے اور حلال کو ان پر حرام کرتا ہے اور انہیں میرے ساتھ شریک کرنے کو کہتا ہے جس کی کوئی دلیل نہیں ‘ }۔
مسند میں بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ { حضور علیہ السلام سے مشرکوں کی اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { جب انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا وہ خوب جانتا تھا کہ وہ کیا اعمال کرنے والے ہیں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1383]۔
آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { ایک زمانہ میں میں کہتا تھا مسلمانوں کی اولاد مسلمانوں کے ساتھ ہے اور مشرکوں کی اولاد مشرکوں کے ساتھ ہے یہاں تک کہ فلاں شخص نے فلاں سے روایت کر کے مجھے سنایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کے بچوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ خوب عالم ہے اس چیز سے جو وہ کرتے }۔ اس حدیث کو سن کر میں نے اپنا فتویٰ چھوڑ دیا } ۱؎ [مسند احمد:73/5:صحیح]۔
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے مسند احمد وغیرہ میں حدیث ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ { مجھے جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ جو اس نے مجھے آج سکھایا ہے اور اس سے تم جاہل ہو وہ میں تمہیں سکھا دوں }۔ فرمایا کہ ’ جو میں نے اپنے بندوں کو دیا ہے میں نے ان کے لیے حلال کیا ہے میں نے اپنے سب بندوں کو یک طرفہ خالص دین والا بنایا ہے،ان کے پاس شیطان پہنچتا ہے اور انہیں دین سے گمراہ کرتا ہے اور حلال کو ان پر حرام کرتا ہے اور انہیں میرے ساتھ شریک کرنے کو کہتا ہے جس کی کوئی دلیل نہیں ‘ }۔
{ اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف نگاہ ڈالی اور عرب وعجم سب کو ناپسند فرمایا سوائے چند اہل کتاب کے کچھ لوگوں کے۔ وہ فرماتا ہے کہ ’ میں نے تجھے صرف آزمائش کے لیے بھیجا ہے تیری اپنی بھی آزمائش ہوگی اور تیری وجہ سے اور سب کی بھی میں تو تجھ پر وہ کتاب اتارونگا جسے پانی دھو نہ سکے تو اسے سوتے جاگتے پڑھتا رہے گا ‘۔
{ پھر مجھ سے جناب باری عزوجل نے ارشاد فرمایا کہ میں قریش کو ہوشیار کر دوں میں نے اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ کہیں وہ میرا سر کچل کر روٹی جیسا نہ بنادیں؟ تو فرمایا ’ سن جیسے یہ تجھے نکالیں گے میں انہیں نکالونگا تو ان سے جہاد کر میں تیرا ساتھ دونگا تو خرچ کر تجھ پر خرچ کیا جائے گا۔ تو لشکر بھیج میں اس سے پانچ حصے زیادہ لشکر بھیجوں گا فرمانبرداروں کو لیکر اپنے نافرمانوں پر چڑھائی کر دے ‘ }۔
{ اہل جنت تین قسم کے ہیں عادل بادشاہ توفیق خیر والا سخی۔ نرم دل ہر مسلمان کے ساتھ سلوک احسان کرنے والا پاک دامن، سوال اور حرام سے بچنے والا عیالدار آدمی،۔ اہل جہنم پانچ قسم کے لوگ ہیں وہ بے وقعت،کمینے لوگ جو بے زر اور بے گھر ہیں جو تمہارے دامنوں میں لپٹے رہتے ہیں۔ وہ خائن جو حقیر چیزوں میں بھی خیانت کئے بغیر نہیں رہتا۔ وہ لوگ جو ہر وقت لوگوں کو ان کی جان مال اور اہل و عیال میں دھوکے دیتے رہتے ہیں صبح شام چالبازیوں اور مکر و فریب میں لگے رہتے ہیں }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے { بخیلی یا کذاب کا ذکر کیا اور فرمایا پانچوں قسم کے لوگ بدزبان بدگو ہیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2765]
{ پھر مجھ سے جناب باری عزوجل نے ارشاد فرمایا کہ میں قریش کو ہوشیار کر دوں میں نے اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ کہیں وہ میرا سر کچل کر روٹی جیسا نہ بنادیں؟ تو فرمایا ’ سن جیسے یہ تجھے نکالیں گے میں انہیں نکالونگا تو ان سے جہاد کر میں تیرا ساتھ دونگا تو خرچ کر تجھ پر خرچ کیا جائے گا۔ تو لشکر بھیج میں اس سے پانچ حصے زیادہ لشکر بھیجوں گا فرمانبرداروں کو لیکر اپنے نافرمانوں پر چڑھائی کر دے ‘ }۔
{ اہل جنت تین قسم کے ہیں عادل بادشاہ توفیق خیر والا سخی۔ نرم دل ہر مسلمان کے ساتھ سلوک احسان کرنے والا پاک دامن، سوال اور حرام سے بچنے والا عیالدار آدمی،۔ اہل جہنم پانچ قسم کے لوگ ہیں وہ بے وقعت،کمینے لوگ جو بے زر اور بے گھر ہیں جو تمہارے دامنوں میں لپٹے رہتے ہیں۔ وہ خائن جو حقیر چیزوں میں بھی خیانت کئے بغیر نہیں رہتا۔ وہ لوگ جو ہر وقت لوگوں کو ان کی جان مال اور اہل و عیال میں دھوکے دیتے رہتے ہیں صبح شام چالبازیوں اور مکر و فریب میں لگے رہتے ہیں }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے { بخیلی یا کذاب کا ذکر کیا اور فرمایا پانچوں قسم کے لوگ بدزبان بدگو ہیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2765]
یہی فطرت سلیمہ یہی شریعت کو مضبوطی سے تھامے رہنا ہی سچا اور سیدھا دین ہے۔ لیکن اکثر لوگ بے علم ہیں۔ اور اپنی اسی جہالت کی وجہ سے اللہ کے ایسے پاک دین سے دور بلکہ محروم رہ جاتے ہیں۔
جیسے ایک اور آیت میں ہے «وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ» ’ گو تیری حرص ہو لیکن ان میں سے اکثر لوگ بے ایمان ہی رہیں گے ‘۔ ۱؎ [12-يوسف:103]
ایک اور آیت میں ہے «وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ» [6-الأنعام:116] ’ اگر تو اکثریت کی اطاعت کرے گا تو وہ تجھے راہ اللہ سے بہکا دیں گے ‘۔
’ تم سب اللہ کی طرف راغب رہو، اسی کی جانب جھکے رہو، اسی کا ڈر خوف رکھو اور اسی کا لحاظ رکھو۔ نمازوں کی پابندی کرو جو سب سے بڑی عبادت اور اطاعت ہے۔ تم مشرک نہ بنو بلکہ موحد اور خالص بن جاؤ اس کے سوا کسی اور سے کوئی مراد وابستہ نہ رکھو ‘۔
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ تین چیزیں ہیں اور یہی نجات کی جڑیں ہیں اول اخلاص جو فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا ہے دوسرے نماز جو دراصل دین ہے تیسرے اطاعت جو عصمت اور بچاؤ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ رضی اللہ عنہ نے سچ کہا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:183/10:]
تمہیں مشرکوں میں نہ ملنا چاہیئے تمہیں ان کا ساتھ نہ دینا چاہیئے اور نہ ان جیسے فعل کرنا چاہیئے جنہوں نے دین اللہ کو بدل دیا بعض باتوں کو مان لیا اور بعض سے انکار کر گئے «فَرَّقُوا» کی دوسری قرأت «فَارَقُوْا» ہے یعنی انہوں نے اپنے دین کو چھوڑ دیا۔ جیسے یہود، نصاری، مجوسی، بت پرست اور دوسرے باطل مذاہب والے۔
جیسے ارشاد ہے «إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُون» [6-الأنعام:159] ’ جن لوگوں نے اپنے دین میں تفریق کی اور گروہ بندی کر لی تو ان میں شامل ہی نہیں ان کا انجام سپرد اللہ ہے ‘۔
’ تم سے پہلے والی قومیں گروہ گروہ ہو گئیں تھی ‘۔ سب کی سب باطل پر جم گئیں اور ہر فرقہ یہی دعویٰ کر تا رہا کہ وہ سچا ہے دراصل حقانیت ان سب سے گم ہوگئی تھی اس امت میں بھی تفرقہ پڑا لیکن ان میں ایک حق پر ہے ہاں باقی سب گمراہی پر ہیں۔ یہ حق والی جماعت اہل سنت والجماعت ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مضبوط تھامنے والی ہے۔ جس پر سابقہ زمانے کے صحابہ، تابعین اور ائمہ مسلمین تھے گزشتہ زمانے میں بھی اور اب بھی۔
جیسے مستدرک حاکم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ ان سب میں نجات پانے والا فرقہ کون سا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ كَانَ عَلَى مِثْلِ مَا أَنَا عَلَيْهِ الْيَوْمَ وَأَصْحَابِي» یعنی وہ لوگ جو اس پر ہوں جس پر آج میں اور میرے اصحاب رضی اللہ عنہم ہیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2641]
(برادران غور فرمائیے کہ وہ چیز جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے وہ وحی اللہ یعنی قرآن و حدیث ہی تھی یا کسی امام کی تقلید؟)
جیسے ایک اور آیت میں ہے «وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ» ’ گو تیری حرص ہو لیکن ان میں سے اکثر لوگ بے ایمان ہی رہیں گے ‘۔ ۱؎ [12-يوسف:103]
ایک اور آیت میں ہے «وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ» [6-الأنعام:116] ’ اگر تو اکثریت کی اطاعت کرے گا تو وہ تجھے راہ اللہ سے بہکا دیں گے ‘۔
’ تم سب اللہ کی طرف راغب رہو، اسی کی جانب جھکے رہو، اسی کا ڈر خوف رکھو اور اسی کا لحاظ رکھو۔ نمازوں کی پابندی کرو جو سب سے بڑی عبادت اور اطاعت ہے۔ تم مشرک نہ بنو بلکہ موحد اور خالص بن جاؤ اس کے سوا کسی اور سے کوئی مراد وابستہ نہ رکھو ‘۔
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ تین چیزیں ہیں اور یہی نجات کی جڑیں ہیں اول اخلاص جو فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا ہے دوسرے نماز جو دراصل دین ہے تیسرے اطاعت جو عصمت اور بچاؤ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ رضی اللہ عنہ نے سچ کہا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:183/10:]
تمہیں مشرکوں میں نہ ملنا چاہیئے تمہیں ان کا ساتھ نہ دینا چاہیئے اور نہ ان جیسے فعل کرنا چاہیئے جنہوں نے دین اللہ کو بدل دیا بعض باتوں کو مان لیا اور بعض سے انکار کر گئے «فَرَّقُوا» کی دوسری قرأت «فَارَقُوْا» ہے یعنی انہوں نے اپنے دین کو چھوڑ دیا۔ جیسے یہود، نصاری، مجوسی، بت پرست اور دوسرے باطل مذاہب والے۔
جیسے ارشاد ہے «إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُون» [6-الأنعام:159] ’ جن لوگوں نے اپنے دین میں تفریق کی اور گروہ بندی کر لی تو ان میں شامل ہی نہیں ان کا انجام سپرد اللہ ہے ‘۔
’ تم سے پہلے والی قومیں گروہ گروہ ہو گئیں تھی ‘۔ سب کی سب باطل پر جم گئیں اور ہر فرقہ یہی دعویٰ کر تا رہا کہ وہ سچا ہے دراصل حقانیت ان سب سے گم ہوگئی تھی اس امت میں بھی تفرقہ پڑا لیکن ان میں ایک حق پر ہے ہاں باقی سب گمراہی پر ہیں۔ یہ حق والی جماعت اہل سنت والجماعت ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مضبوط تھامنے والی ہے۔ جس پر سابقہ زمانے کے صحابہ، تابعین اور ائمہ مسلمین تھے گزشتہ زمانے میں بھی اور اب بھی۔
جیسے مستدرک حاکم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ ان سب میں نجات پانے والا فرقہ کون سا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ كَانَ عَلَى مِثْلِ مَا أَنَا عَلَيْهِ الْيَوْمَ وَأَصْحَابِي» یعنی وہ لوگ جو اس پر ہوں جس پر آج میں اور میرے اصحاب رضی اللہ عنہم ہیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2641]
(برادران غور فرمائیے کہ وہ چیز جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے وہ وحی اللہ یعنی قرآن و حدیث ہی تھی یا کسی امام کی تقلید؟)