ترجمہ و تفسیر — سورۃ الروم (30) — آیت 10

ثُمَّ کَانَ عَاقِبَۃَ الَّذِیۡنَ اَسَآءُوا السُّوۡٓاٰۤی اَنۡ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ کَانُوۡا بِہَا یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿٪۱۰﴾
پھر ان لوگوں کا انجام جنھوں نے برائی کی بہت برا ہی ہوا، اس لیے کہ انھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور وہ ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ En
پھر جن لوگوں نے برائی کی اُن کا انجام بھی برا ہوا اس لیے کہ خدا کی آیتوں کو جھٹلاتے اور اُن کی ہنسی اُڑاتے رہے تھے
En
پھر آخر برا کرنے والوں کا بہت ہی برا انجام ہوا، اس لئے کہ وه اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلاتے اور ان کی ہنسی اڑاتے تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 10) {ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِيْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤى …: السُّوْٓاٰۤى أَسْوَأُ} کا مؤنث ہے جو اسم تفضیل ہے، مگر یہاں تفضیل مراد نہیں بلکہ مراد مبالغہ ہے، یعنی بہت ہی برا۔ { اَنْ كَذَّبُوْا } سے پہلے لام محذوف ہے، یعنی اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا۔ { ثُمَّ } کا لفظ لانے میں اشارہ ہے کہ ان قوموں کو بہت مہلت دی گئی، پھر آخر کار ان کا انجام بہت ہی برا ہوا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

10-1سوآی بروزن فعلی سوء سے اسوأ کی تانیث ہے ی سے حسنی احسن کی تانیث ہے۔ یعنی ان کا جو انجام ہوا، بدترین انجام تھا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

10۔ پھر جن لوگوں نے برائیاں کی تھیں ان کا انجام بھی برا ہی ہوا کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا اور وہ ان کا مذاق [9] اڑایا کرتے تھے۔
[9] یہ ان کے ظلم اور زیادتی کی آخری حد تھی۔ نہ انہوں نے اپنے اندر کی شہادت پر غور کیا، نہ نظام کائنات میں غور کیا اور رسولوں نے انھیں جب اصل حقائق سے آگاہ کیا تو انھیں صرف جھٹلایا ہی نہیں بلکہ ان کا اور اللہ کی آیات کا مذاق بھی اڑانے لگے۔ جب ان کی سرکشی اس حد تک پہنچ گئی اور عملی طور پر اس ظلم اور زیادتی میں آگے ہی بڑھتے چلے گئے تو انھیں ان کی بداعمالیوں کی سزا بھی اتنی ہی بری ملی جس حد تک ان کے اعمال برے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔