ترجمہ و تفسیر — سورۃ آل عمران (3) — آیت 141

وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ یَمۡحَقَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۴۱﴾
اور تاکہ اللہ ان لوگوں کو خالص کر دے جو ایمان لائے اور کافروں کو مٹا دے۔ En
اور یہ بھی مقصود تھا کہ خدا ایمان والوں کو خالص (مومن) بنا دے اور کافروں کو نابود کر دے
En
(یہ وجہ بھی تھی) کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو بالکل الگ کر دے اور کافروں کو مٹا دے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 140 میں تا آیت 142 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

141۔ 1 احد میں مسلمانوں کو جو عارضی شکست ان کی اپنی کوتاہی کی وجہ سے ہوئی اس میں بھی مستقبل کے لئے کئی حکمتیں پنہاں ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ آگے بیان فرما رہا ہے۔ ایک یہ کہ ایمان والوں کو ظاہر کر دے (کیونکہ صبر اور استقامت ایمان کا تقاضا ہے) جنگ کی شدتوں اور مصیبتوں میں جنہوں نے صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا، یقینا وہ سب مومن ہیں۔ دوسری یہ کہ کچھ لوگوں کو شہادت کے مرتبہ پر فائز کر دے۔ آخری دونوں کا مطلب گناہوں سے پاکی اور خلاصی ہے (فتح الْقدیر) مرحوم مترجم نے پہلے معنی کو اختیار کیا ہے چوتھی، یہ کہ کافروں کو ہٹا دے۔ وہ اس طرح کہ وقتی فتح یابی سے ان کی سرکشی اور تکبر میں اضافہ ہوگا اور یہی چیز ان کی تباہی و ہلاکت کا سبب بنے گی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

141۔ اور اس لیے بھی کہ وہ اس آزمائش کے ذریعہ مومنوں کو پاک صاف کر کے چھانٹ لے اور کافروں [128] کو ملیا میٹ کر دے
[128] تیسری حکمت یہ ہے کہ حقیقی مسلمان ممتاز ہو کر سب کے سامنے آجائیں اور کافر اس عارضی فتح سے دلیر ہو کر پھر سے مسلمانوں پر حملہ کرنے آجائیں تو ان کے ان کرتوتوں کا انہیں بدلہ مل سکے۔ چنانچہ بعد میں غزوہ خندق میں کفار شکست کھا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس کے بعد ان میں یہ سکت ہی نہ رہی کہ جارحانہ طور پر مسلمانوں پر حملہ آور ہو سکیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔