اِنۡ یَّمۡسَسۡکُمۡ قَرۡحٌ فَقَدۡ مَسَّ الۡقَوۡمَ قَرۡحٌ مِّثۡلُہٗ ؕ وَ تِلۡکَ الۡاَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیۡنَ النَّاسِ ۚ وَ لِیَعۡلَمَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ یَتَّخِذَ مِنۡکُمۡ شُہَدَآءَ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۴۰﴾ۙ
اگر تمھیں کوئی زخم پہنچے تو یقینا ان لوگوں کو بھی اس جیسا زخم پہنچا ہے اور یہ تو دن ہیں، ہم انھیں لوگوں کے درمیان باری باری بدلتے رہتے ہیں، اور تاکہ اللہ ان لوگوں کو جان لے جو ایمان لائے اور تم میں سے بعض کو شہید بنائے اور اللہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔
En
اگر تمہیں زخم (شکست) لگا ہے تو ان لوگوں کو بھی ایسا زخم لگ چکا ہے اور یہ دن ہیں کہ ہم ان کو لوگوں میں بدلتے رہتے ہیں اور اس سے یہ بھی مقصود تھا کہ خدا ایمان والوں کو متمیز کر دے اور تم میں سے گواہ بنائے اور خدا بےانصافوں کو پسند نہیں کرتا
En
اگر تم زخمی ہوئے ہو تو تمہارے مخالف لوگ بھی تو ایسے ہی زخمی ہو چکے ہیں، ہم ان دنوں کو لوگوں کے درمیان ادلتے بدلتے رہتے ہیں۔ (شکست احد) اس لئے تھی کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ﻇاہر کردے اور تم میں سے بعض کو شہادت کا درجہ عطا فرمائے، اللہ تعالیٰ ﻇالموں سے محبت نہیں کرتا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 141،140) ➊ {اِنْ يَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ …:} یعنی اگر ” احد “ کے دن تمھیں مشرکین کے ہاتھوں نقصان پہنچا ہے تو تم بھی بدر کے دن انھیں اسی قسم کا نقصان پہنچا چکے ہو، اس لیے یہ زیادہ پریشانی کی بات نہیں۔ { ”اَلْحَرْبُ سِجَالٌ“} (لڑائی میں باریاں ہوتی ہیں) جب بھی دو گروہوں میں جنگ ہوئی ہے تو کبھی ایک کا پلڑا بھاری رہا ہے، کبھی دوسرے کا۔
➋ {وَ تِلْكَ الْاَيَّامُ …:} جنگ احد میں مسلمانوں کو سخت جانی نقصان پہنچا۔ یہود اور منافقین کے طعنے مزید دل دکھانے کا باعث بنے۔ منافق کہتے تھے کہ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) سچے نبی ہوتے تو مسلمان یہ نقصان اور ہزیمت کی ذلت کیوں اٹھاتے وغیرہ۔ ان آیات میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ فتح و شکست تو ادلتی بدلتی چیز ہے، یہ حق اور نا حق کا معیار نہیں، آج اگر تم نے زخم کھایا ہے تو کل وہ جنگ بدر میں تمھارے ہاتھوں اسی قسم کا زخم کھا چکے ہیں اور خود اس جنگ کے شروع میں ان کے بہت سے آدمی مارے جا چکے ہیں، جیسا کہ اس آیت: «اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ» [آل عمران: ۱۵۲] (جب تم انھیں اس کے حکم سے کاٹ رہے تھے) سے معلوم ہوتا ہے۔ تمھاری اس شکست میں بھی کئی حکمتیں پوشیدہ ہیں، ایک یہ کہ ایمان و اخلاص اور کفر و نفاق میں تمیز ہو گئی، مومن اور منافق الگ الگ ہو گئے، اگر ہمیشہ مسلمانوں کو فتح ہوتی تو منافقین کا نفاق ظاہر نہ ہوتا۔ دوسری مومنوں کو شہادت نصیب ہوئی، فرمایا: «وَ يَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ» جو اللہ کے ہاں بہت بڑا شرف ہے۔ کفار کی اس عارضی فتح کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ ظالموں اور مشرکوں کو پسند کرتا ہے، فرمایا: «وَ اللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ» ”اور اللہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔“ تیسری یہ کہ مومنوں کو خالص کرے، اگر ان میں کچھ کمی ہے تو دور کر دے، فرمایا: «وَ لِيُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا» ”اور تاکہ اللہ ان لوگوں کو خالص کر دے جو ایمان لائے“ اور چوتھی یہ کہ کفار کی طاقت کو ختم کرنا مقصود ہے، «وَ يَمْحَقَ الْكٰفِرِيْنَ» اس طرح کہ وہ اپنی عارضی فتح پر مغرور ہو کر پھر لڑنے آئیں گے اور اس وقت ان کی وہ سرکوبی ہو گی کہ دوبارہ اس طرف رخ کرنے کا نام نہیں لیں گے۔ چنانچہ غزوۂ احزاب کے موقع پر ایسا ہی ہوا کہ اس کے بعد کفار نے دفاعی جنگیں تو لڑیں مگر خود حملے کی جرأت نہ کر سکے۔ (رازی، شوکانی)
➋ {وَ تِلْكَ الْاَيَّامُ …:} جنگ احد میں مسلمانوں کو سخت جانی نقصان پہنچا۔ یہود اور منافقین کے طعنے مزید دل دکھانے کا باعث بنے۔ منافق کہتے تھے کہ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) سچے نبی ہوتے تو مسلمان یہ نقصان اور ہزیمت کی ذلت کیوں اٹھاتے وغیرہ۔ ان آیات میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ فتح و شکست تو ادلتی بدلتی چیز ہے، یہ حق اور نا حق کا معیار نہیں، آج اگر تم نے زخم کھایا ہے تو کل وہ جنگ بدر میں تمھارے ہاتھوں اسی قسم کا زخم کھا چکے ہیں اور خود اس جنگ کے شروع میں ان کے بہت سے آدمی مارے جا چکے ہیں، جیسا کہ اس آیت: «اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ» [آل عمران: ۱۵۲] (جب تم انھیں اس کے حکم سے کاٹ رہے تھے) سے معلوم ہوتا ہے۔ تمھاری اس شکست میں بھی کئی حکمتیں پوشیدہ ہیں، ایک یہ کہ ایمان و اخلاص اور کفر و نفاق میں تمیز ہو گئی، مومن اور منافق الگ الگ ہو گئے، اگر ہمیشہ مسلمانوں کو فتح ہوتی تو منافقین کا نفاق ظاہر نہ ہوتا۔ دوسری مومنوں کو شہادت نصیب ہوئی، فرمایا: «وَ يَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ» جو اللہ کے ہاں بہت بڑا شرف ہے۔ کفار کی اس عارضی فتح کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ ظالموں اور مشرکوں کو پسند کرتا ہے، فرمایا: «وَ اللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ» ”اور اللہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔“ تیسری یہ کہ مومنوں کو خالص کرے، اگر ان میں کچھ کمی ہے تو دور کر دے، فرمایا: «وَ لِيُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا» ”اور تاکہ اللہ ان لوگوں کو خالص کر دے جو ایمان لائے“ اور چوتھی یہ کہ کفار کی طاقت کو ختم کرنا مقصود ہے، «وَ يَمْحَقَ الْكٰفِرِيْنَ» اس طرح کہ وہ اپنی عارضی فتح پر مغرور ہو کر پھر لڑنے آئیں گے اور اس وقت ان کی وہ سرکوبی ہو گی کہ دوبارہ اس طرف رخ کرنے کا نام نہیں لیں گے۔ چنانچہ غزوۂ احزاب کے موقع پر ایسا ہی ہوا کہ اس کے بعد کفار نے دفاعی جنگیں تو لڑیں مگر خود حملے کی جرأت نہ کر سکے۔ (رازی، شوکانی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
140۔ 1 ایک اور انداز سے مسلمانوں کو تسلی دی جا رہی ہے کہ اگر جنگ احد میں تمہارے کچھ لوگ زخمی ہوئے تو کیا ہوا؟ تمہارے مخالف بھی تو (جنگ بدر میں) اور احد کی ابتداء میں اسی طرح زخمی ہوچکے ہیں اور اللہ کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ فتح و شکست کے ایام کو ادلتا بدلتا رہتا ہے۔ کبھی غالب کو مغلوب اور کبھی مغلوب کو غالب کردیتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
140۔ اگر تمہیں کوئی صدمہ پہنچا ہے تو (اس سے پہلے) کافروں کو بھی ایسا [126] ہی صدمہ پہنچ چکا ہے اور یہ (فتح و شکست وغیرہ کے) دن تو ہم لوگوں کے درمیان پھراتے رہتے ہیں اور اس لیے بھی کہ اللہ ان لوگوں کو جاننا چاہتا تھا جو سچے دل سے ایمان لائے ہیں اور پھر تمہیں میں سے کچھ لوگوں کو گواہ بھی بنانا چاہتا تھا۔ اور اللہ ظالم لوگوں [127] کو پسند نہیں کرتا
[126] جنگ بدر میں کافروں کو اس سے زیادہ صدمہ پہنچا تھا۔ اس وقت کافروں کے ستر سردار قتل ہوئے تو ستر گرفتار بھی ہوئے۔ جب کہ غزوہ احد میں ستر مسلمان شہید ہو گئے اور اللہ کے فضل و کرم سے مسلمانوں کا ایک آدمی بھی گرفتار نہ ہوا۔ کیونکہ بالآخر میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہا اور قریش مکہ کو پسپا ہونا پڑا تھا۔ غزوہ احد میں وقتی شکست کی حکمتیں:۔
اس آیت میں شکستہ دل مسلمانوں کو ڈھارس بندھائی جا رہی ہے۔ پھر اس شکست کی بعض حکمتیں بیان کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ خوشی اور غمی، فتح و شکست، کامرانی و ناکامی، خوشحالی و تنگدستی ایسی چیزیں ہیں جو لوگوں میں ہر کسی کو پیش آتی رہتی ہیں۔ اس لیے اگر مسلمانوں کو وقتی طور پر شکست ہو بھی گئی تو غمزدہ اور بد دل ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ انہیں کافروں کی طرف دیکھنا چاہئے جو میدان بدر میں بری طرح مار کھانے کے باوجود پھر سے نئے عزم کے ساتھ باطل کی حمایت میں لڑنے آ گئے ہیں۔ دوسری حکمت اس غزوہ میں یہ ہے کہ سچے مومنوں اور منافقوں میں امتیاز ہو جائے، جسے تم لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ لو۔
﴿وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَا﴾
کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت کا درجہ نصیب ہو۔
[127] ظالم لوگوں سے مراد وہی منافقوں کی جماعت ہے جو عبد اللہ بن ابی کے ساتھ واپس چلی گئی تھی اور جس موقعہ پر مسلمانوں کو شکست ہوئی تو یہ لوگ مسلمانوں میں بددلی پھیلانے میں پیش پیش تھے۔
﴿وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَا﴾
کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت کا درجہ نصیب ہو۔
[127] ظالم لوگوں سے مراد وہی منافقوں کی جماعت ہے جو عبد اللہ بن ابی کے ساتھ واپس چلی گئی تھی اور جس موقعہ پر مسلمانوں کو شکست ہوئی تو یہ لوگ مسلمانوں میں بددلی پھیلانے میں پیش پیش تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔