ترجمہ و تفسیر — سورۃ آل عمران (3) — آیت 131

وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیۡۤ اُعِدَّتۡ لِلۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۳۱﴾ۚ
اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ En
اور (دوزخ کی) آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے
En
اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 131) {وَ اتَّقُوا النَّارَ …:} اس آیت میں سود خوروں کو اس آگ سے ڈرایا گیا ہے جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوا سود لینا اور دینا مسلمان کا کام نہیں۔ جو شخص یہ کام کرتا ہے اور باز نہیں آتا اسے اس آگ کے لیے تیار رہنا چاہیے جو کفار کے لیے تیار کی گئی ہے۔ سورۂ بقرہ میں ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنگ کا اعلان کان کھول کر سننے کا حکم ہے۔ (قرطبی)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

131۔ اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

سود خور جہنمی ہے اور غصہ شیطان کی دین ہے اس سے بچو ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو سودی لین دین سے اور سود خوری سے روک رہا ہے، اہل جاہلیت سودی قرضہ دیتے تھے مدت مقرر ہوتی تھی اگر اس مدت پر روپیہ وصول نہ ہوتا تو مدت بڑھا کر سود پر سود بڑھا دیا کرتے تھے اسی طرح سود در سود ملا کر اصل رقم کئی گنا بڑھ جاتی، اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو اس طرح ناحق لوگوں کے مال غصب کرنے سے روک رہا ہے اور تقوے کا حکم دے کر اس پر نجات کا وعدہ کر رہا ہے، پھر آگ سے ڈراتا ہے اور اپنے عذابوں سے دھمکاتا ہے پھر اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے اور اس پر رحم و کرم کا وعدہ دیتا ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْۤ اُعِدَّتْ لِلْ٘كٰفِرِیْنَ یعنی جہنم سے ڈرو اور ان تمام امور کو چھوڑ دو جو جہنم میں لے جاتے ہیں مثلاً کفر اور مختلف اقسام کے گناہ اور معاصی۔ کیونکہ تمام گناہ، خصوصاً کبیرہ گناہ کفر کی طرف لے جاتے ہیں بلکہ کبیرہ گناہ تو کفر کے خصائل ہیں جس کے حاملین کے لیے اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ تیار کر رکھی ہے اور گناہ اور معاصی کو ترک کرنا جہنم کی آگ سے نجات دیتا ہے اور خدائے جبار کی ناراضی سے بچاتا ہے۔ نیکی اور اطاعت کے افعال رحمٰن کی رضا، جنت میں دخول اور حصول رحمت کے موجب ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{واتقوا النار التي أُعدت للكافرين}، بترك ما يوجب دخولها من الكفر والمعاصي على اختلاف درجاتها، فإن المعاصي كلها وخصوصاً المعاصي الكبار تجر إلى الكفر، بل هي من خصال الكفر الذي أعد الله النار لأهله، فترك المعاصي ينجي من النار ويقي من سخط الجبار، وأفعال الخير والطاعة توجب رضا الرحمن ودخول الجنان وحصول الرحمة، ولهذا قال: