ترجمہ و تفسیر — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 69

وَ الَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿٪۶۹﴾
اور وہ لوگ جنھوں نے ہمارے بارے میں پوری کوشش کی ہم ضرور ہی انھیں اپنے راستے دکھادیں گے اور بلاشبہ اللہ یقینا نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ En
اور جن لوگوں نے ہمارے لئے کوشش کی ہم اُن کو ضرور اپنے رستے دکھا دیں گے۔ اور خدا تو نیکو کاروں کے ساتھ ہے
En
اور جو لوگ ہماری راه میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم انہیں اپنی راہیں ضرور دکھا دیں گے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کا ساتھی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 69) ➊ { وَ الَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا:} کفار کا انجام بیان کرنے کے بعد اپنے مومن بندوں کے لیے بشارت بیان فرمائی۔ سورت کا آغاز اہل ایمان کی آزمائش اور جہاد کے ذکر سے ہوا تھا، فرمایا: «{ وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ [العنکبوت: ۶] اب اختتام بھی اسی جہاد پر بشارت کے ساتھ ہوتا ہے۔ { وَ الَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا } میں جہاد سے وہی جہاد مراد ہے جو سورت کے شروع میں { وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ } سے مراد ہے۔ اس لیے اس پہلی آیت کا فائدہ دوبارہ نقل کیا جاتا ہے۔ {جَهَدَ يَجْهَدُ} کا معنی کوشش کرنا ہے اور {جَاهَدَ } (مفاعلہ) میں مقابلے کا مفہوم بھی ہے اور مبالغے کا بھی، یعنی کسی کے مقابلے میں پوری کوشش لگا دینا۔ مومن کو اللہ تعالیٰ کے احکام پر کاربند رہنے کے لیے بہت سی چیزوں کے مقابلے میں جدوجہد کرنا پڑتی ہے، اسے اپنے نفس کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے جو ہر وقت اسے اپنی خواہش کا غلام بنانے کے لیے زور لگاتا رہتا ہے، شیطان کا بھی جس نے اس کی دشمنی کی قسم کھا رکھی ہے اور اپنے گھر سے لے کر تمام دنیا کے ان انسانوں کا بھی جو اسے راہ حق سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں، حتیٰ کہ اسے اس کوشش میں لڑائی بھی کرنا پڑتی ہے، جس میں وہ دشمن کو قتل کرتا ہے اور خود بھی قتل ہو جاتا ہے۔ قرآن و حدیث میں جہاد کا لفظ اکثر اسی معنی میں آیا ہے۔ سب سے اونچا درجہ اس کا وہ ہے جب وہ سب کچھ اللہ کی راہ میں لٹا کر قربان ہو جاتا ہے۔ عبد اللہ بن حُبْشی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں (لمبی حدیث ہے): [قِيْلَ فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِيْنَ بِمَالِهِ، وَنَفْسِهِ، قِيْلَ فَأَيُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ؟ قَالَ مَنْ أُهْرِيْقَ دَمُهُ، وَعُقِرَ جَوَادُهُ] [مسند أحمد: 411/3، ۴۱۲، ح: ۱۵۴۰۷، قال المحقق إسنادہ قوي۔ أبوداوٗد: ۱۴۴۹، قال الألباني صحیح] (نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے) سوال کیا گیا کہ کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مشرکین کے ساتھ اپنی جان اور مال کے ساتھ جہاد کرے۔ پوچھا گیا: پھر کون سا قتل سب سے اونچی شان والا ہے؟ فرمایا: جس کا خون بہا دیا جائے اور اس کا عمدہ گھوڑا کاٹ دیا جائے۔
➋ یعنی اللہ پر جھوٹ گھڑنے اور حق کو جھٹلانے والوں کا انجام تو جہنم ہے، مگر ہماری خاطر جو لوگ ایسے لوگوں کے ساتھ جہاد کریں گے اور ہماری راہ میں اپنے مال اور اپنی جانیں قربان کریں گے ہم ضرور ہی انھیں وہ راستہ دکھا دیں گے جن پر چل کر وہ ہم تک پہنچیں اور انھیں ان پر چلنے کی توفیق دیں گے اور ان پر ثابت قدم رکھیں گے، کیونکہ ہدایت کی تکمیل ان تینوں چیزوں کے ساتھ ہوتی ہے۔
➌ { وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ: اِنَّ } علت بیان کرنے کے لیے ہوتا ہے، یہاں ایک جملہ محذوف ہے جو خودبخود سمجھ میں آرہا ہے، وہ یہ ہے کہ جو شخص ہماری راہ میں جہاد کرے وہ محسن ہے، یعنی اپنی جان پر اور دوسرے لوگوں پر احسان کرنے والا ہے اور ایسے لوگ جو احسان کرنے والے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے۔
➍ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے، اس کے باوجود وہ اپنی مخلوق کے ساتھ بھی ہے۔ پھر اس کی یہ معیت (ساتھ) ایک تو عام ہے کہ وہ اپنے علم وقدرت کے ساتھ یا جس طرح وہ خود بہتر جانتا ہے ہر بندے کے ساتھ ہے (دیکھیے حدید: ۴۔ مجادلہ: ۷) اور ایک خاص معیت ہے، جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کے لشکروں کے آنے پر کہا تھا: «‏‏‏‏{ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ [الشعراء: ۶۲] بے شک میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ مجھے ضرور راستہ بتائے گا۔ اور جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمنوں کے آ پہنچنے پر اپنے غار کے ساتھی سے فرمایا تھا: «{ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا [التوبۃ: ۴۰] غم نہ کر، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ { الْمُحْسِنِيْنَ } کے ساتھ ہونے سے مراد یہی خاص معیت ہے، یعنی اللہ اپنی ہدایت، حفاظت، حمایت اور نصرت کے ذریعے سے ان کے ساتھ ہے۔
➎ بعض مفسرین نے اس مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک روایت نقل کی ہے کہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ سے واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَی الْجِهَادِ الْأَكْبَرِ] ہم چھوٹے جہاد (یعنی کفار سے لڑائی) سے بڑے جہاد (یعنی نفس سے جہاد) کی طرف واپس آئے ہیں۔ حالانکہ یہ کسی شخص کا قول ہے، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے لگانا بہت بڑا جھوٹ اور زبردست دیدہ دلیری ہے۔ جہاد اکبر وہی ہے جس کا ذکر اوپر حدیث رسول میں آیا ہے: [مَنْ أُهْرِيْقَ دَمُهُ وَ عُقِرَ جَوَادُهُ] جس کا خون بہا دیا گیا اور اس کا عمدہ گھوڑا کاٹ دیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ نفس کے ساتھ جہاد بھی سب سے بڑھ کر اسی کا ہے جو اللہ کی راہ میں جان دے دیتا ہے۔ کچھ لوگوں نے قتال فی سبیل اللہ کو چھوٹا قرار دیا اور نفس سے جہاد کو بڑا قرار دے کر حجروں میں چلہ کشی کے لیے بیٹھ گئے۔ ایسے آرام دہ جہاد ہی کا نتیجہ ہے کہ مسلمان دنیا میں مغلوب ہیں اور کافر غالب۔ کاش! یہ حضرات راہبوں کے طریقے کے بجائے وہ جہاد کرتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے کیا، جس کے ساتھ وہ صرف دس سال کے عرصے میں پورے جزیرۂ عرب کے مالک بن گئے اور پھر نصف صدی کے اندر اندر مشرق سے مغرب تک کے فرماں روا بن گئے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

69-1یعنی دین پر عمل کرنے میں جو دشواریاں، آزمائشیں پیش آتی ہیں69-2اس سے مراد دنیا اور آخرت کے وہ راستے ہیں جن پر چل کر انسان کو اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ 69-3احسان کا مطلب ہے اللہ کو حاضر ناظر جان کر ہر نیکی کے کام کو اخلاص کے ساتھ کرنا، سنت نبوی کے مطابق کرنا، برائی کے بدلے حسن سلوک کرنا، اپنا حق چھوڑ دینا اور دوسروں کو حق سے زیادہ دینا۔ یہ سب احسان کے مفہوم میں شامل ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

69۔ اور جو لوگ ہماری راہ میں جہاد کرتے ہیں ہم یقیناً انھیں اپنی راہیں دکھا دیتے [101] ہیں اور اللہ تعالیٰ یقیناً اچھے کام کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔
[101] اللہ کن لوگوں کو اپنی راہیں سجھاتا ہے؟ خلوص نیت سے جہاد پر اللہ کی راہیں کھلنا:۔
یعنی انسان کا کام یہ ہے کہ وہ نہایت نیک نیتی سے اللہ کی راہ پر گامزن ہو جائے۔ اس راستہ میں کون کون سی مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ اور ان کا کیا حل ہو سکتا ہے یہ سوچنا انسان کے بس سے باہر ہے کیونکہ نہ اسے پیش آنے والی مشکلات کا پہلے سے صحیح اندازہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی اللہ کی تقدیر کے مقابلہ میں انسان کی تدبیر کسی کام آسکتی ہے۔ انسان کا کام اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے اس کی مقدور بھر کوشش ہے اور اس کی لازمی شرط محض اللہ کی رضا اور خلوص نیت ہے۔ اس شرط کے ساتھ اگر کوئی فرد یا کوئی جماعت جہاد کی کسی بھی قسم کے لئے گامزن ہو جائے گا تو اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات کا حل اللہ تعالیٰ خود ہی سجھاتا جائے گا خلوص اور نیک نیتی ہو گی تو راہیں خود بخود کھلتی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ دستگیری اور مدد فرماتا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خود بھلے کام کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ راہیں سجھاتا بھی ہے، کھولتا بھی ہے اور بروقت مدد کو بھی پہنچتا ہے۔ انسان کا کام صبر و استقلال اور نیک نیتی کے ساتھ آگے بڑھتے جانا ہے۔ واضح رہے کہ یہاں جہاد سے مراد صرف قتال فی سبیل اللہ ہی نہیں بلکہ جہاد کی جملہ اقسام ہیں۔ جن کی تفصیل کسی دوسرے مقام پر دی جا چکی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَالَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا اور جن لوگوں نے ہمارے لیے کوشش کی۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی، اپنے دشمنوں کے خلاف جہاد کیا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی اتباع کرنے کی بھرپور کوشش کی ﴿لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا ہم ان کو ضرور اپنے راستے دکھا دیں گے۔ یعنی ہم ان کو ان راستوں پر گامزن کر دیتے ہیں جو ہم تک پہنچتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نیکوکار ہیں۔ ﴿وَاِنَّ اللّٰهَ لَ٘مَعَ الْمُحْسِنِیْنَ اور اللہ تعالیٰ اپنی مدد، نصرت اور ہدایت کے ذریعے سے نیکو کاروں کے ساتھ ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ صحیح بات کی موافقت کرنے کے حق دار اہل جہاد ہیں۔
اس آیت کریمہ سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے احکام کی احسن طریقے سے تعمیل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتا ہے اور ہدایت کے اسباب کو اس کے لیے آسان کر دیتا ہے۔
اس آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جو کوئی شرعی علم کی طلب میں جدوجہد کرتا ہے اسے اپنے مطلوب و مقصود اور ان امور الٰہیہ کے حصول میں اللہ تعالیٰ کی معاونت اور راہنمائی حاصل ہوتی ہے جو اس کے مدارک اجتہاد سے باہر ہیں اور امور علم اس کے لیے آسان ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ شرعی علم طلب کرنا جہاد فی سبیل اللہ کے زمرے میں آتا ہے بلکہ یہ جہاد کی دو اقسام میں سے ایک ہے جسے صرف خاص لوگ ہی قائم کرتے ہیں... اور وہ ہے منافقین و کفار کے خلاف قولی اور لسانی جہاد۔ امور دین کی تعلیم کے لیے جدوجہد کرنا اور مخالفین حق، خواہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہوں، کے اعتراضات کا جواب دینا بھی جہاد ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{والذين جاهدوا فينا}: وهم الذين هاجروا في سبيل الله وجاهدوا أعداءَهم وبَذَلوا مجهودَهم في اتِّباع مرضاتِهِ؛ {لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا}؛ أي: الطرق الموصلة إلينا، وذلك لأنَّهم محسنونَ. والله مع المحسنينَ: بالعون والنصر والهداية.

دلَّ هذا على أنَّ أحرى الناس بموافقة الصواب أهلُ الجهاد، وعلى أنَّ مَنْ أحسنَ فيما أُمِرَ به؛ أعانه الله ويَسَّرَ له أسبابَ الهداية، وعلى أنَّ مَنْ جدَّ واجتهد في طلب العلم الشرعيِّ؛ فإنَّه يحصُلُ له من الهداية والمعونة على تحصيل مطلوبِهِ أمورٌ إلهيَّةٌ خارجةٌ عن مدرك اجتهادِهِ، وتيسَّر له أمر العلم؛ فإنَّ طلب العلم الشرعيِّ من الجهاد في سبيل الله، بل هو أحدُ نوعي الجهاد، الذي لا يقومُ به إلا خواصُّ الخلق، وهو الجهادُ بالقول واللسان للكفار والمنافقين، والجهادُ على تعليم أمور الدين وعلى ردِّ نزاع المخالفين للحقِّ، ولو كانوا من المسلمين.