تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ یعنی اللہ پر جھوٹ گھڑنے اور حق کو جھٹلانے والوں کا انجام تو جہنم ہے، مگر ہماری خاطر جو لوگ ایسے لوگوں کے ساتھ جہاد کریں گے اور ہماری راہ میں اپنے مال اور اپنی جانیں قربان کریں گے ہم ضرور ہی انھیں وہ راستہ دکھا دیں گے جن پر چل کر وہ ہم تک پہنچیں اور انھیں ان پر چلنے کی توفیق دیں گے اور ان پر ثابت قدم رکھیں گے، کیونکہ ہدایت کی تکمیل ان تینوں چیزوں کے ساتھ ہوتی ہے۔
➌ { وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ: ” اِنَّ “} علت بیان کرنے کے لیے ہوتا ہے، یہاں ایک جملہ محذوف ہے جو خودبخود سمجھ میں آرہا ہے، وہ یہ ہے کہ جو شخص ہماری راہ میں جہاد کرے وہ محسن ہے، یعنی اپنی جان پر اور دوسرے لوگوں پر احسان کرنے والا ہے اور ایسے لوگ جو احسان کرنے والے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے۔
➍ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے، اس کے باوجود وہ اپنی مخلوق کے ساتھ بھی ہے۔ پھر اس کی یہ معیت (ساتھ) ایک تو عام ہے کہ وہ اپنے علم وقدرت کے ساتھ یا جس طرح وہ خود بہتر جانتا ہے ہر بندے کے ساتھ ہے (دیکھیے حدید: ۴۔ مجادلہ: ۷) اور ایک خاص معیت ہے، جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کے لشکروں کے آنے پر کہا تھا: «{ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ }» [الشعراء: ۶۲] ”بے شک میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ مجھے ضرور راستہ بتائے گا۔“ اور جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمنوں کے آ پہنچنے پر اپنے غار کے ساتھی سے فرمایا تھا: «{ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا }» [التوبۃ: ۴۰] ”غم نہ کر، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔“ {” الْمُحْسِنِيْنَ “} کے ساتھ ہونے سے مراد یہی خاص معیت ہے، یعنی اللہ اپنی ہدایت، حفاظت، حمایت اور نصرت کے ذریعے سے ان کے ساتھ ہے۔
➎ بعض مفسرین نے اس مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک روایت نقل کی ہے کہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ سے واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَی الْجِهَادِ الْأَكْبَرِ] ”ہم چھوٹے جہاد (یعنی کفار سے لڑائی) سے بڑے جہاد (یعنی نفس سے جہاد) کی طرف واپس آئے ہیں۔“ حالانکہ یہ کسی شخص کا قول ہے، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے لگانا بہت بڑا جھوٹ اور زبردست دیدہ دلیری ہے۔ جہاد اکبر وہی ہے جس کا ذکر اوپر حدیث رسول میں آیا ہے: [مَنْ أُهْرِيْقَ دَمُهُ وَ عُقِرَ جَوَادُهُ] ”جس کا خون بہا دیا گیا اور اس کا عمدہ گھوڑا کاٹ دیا گیا۔“ حقیقت یہ ہے کہ نفس کے ساتھ جہاد بھی سب سے بڑھ کر اسی کا ہے جو اللہ کی راہ میں جان دے دیتا ہے۔ کچھ لوگوں نے قتال فی سبیل اللہ کو چھوٹا قرار دیا اور نفس سے جہاد کو بڑا قرار دے کر حجروں میں چلہ کشی کے لیے بیٹھ گئے۔ ایسے آرام دہ جہاد ہی کا نتیجہ ہے کہ مسلمان دنیا میں مغلوب ہیں اور کافر غالب۔ کاش! یہ حضرات راہبوں کے طریقے کے بجائے وہ جہاد کرتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے کیا، جس کے ساتھ وہ صرف دس سال کے عرصے میں پورے جزیرۂ عرب کے مالک بن گئے اور پھر نصف صدی کے اندر اندر مشرق سے مغرب تک کے فرماں روا بن گئے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{والذين جاهدوا فينا}: وهم الذين هاجروا في سبيل الله وجاهدوا أعداءَهم وبَذَلوا مجهودَهم في اتِّباع مرضاتِهِ؛ {لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا}؛ أي: الطرق الموصلة إلينا، وذلك لأنَّهم محسنونَ. والله مع المحسنينَ: بالعون والنصر والهداية.
دلَّ هذا على أنَّ أحرى الناس بموافقة الصواب أهلُ الجهاد، وعلى أنَّ مَنْ أحسنَ فيما أُمِرَ به؛ أعانه الله ويَسَّرَ له أسبابَ الهداية، وعلى أنَّ مَنْ جدَّ واجتهد في طلب العلم الشرعيِّ؛ فإنَّه يحصُلُ له من الهداية والمعونة على تحصيل مطلوبِهِ أمورٌ إلهيَّةٌ خارجةٌ عن مدرك اجتهادِهِ، وتيسَّر له أمر العلم؛ فإنَّ طلب العلم الشرعيِّ من الجهاد في سبيل الله، بل هو أحدُ نوعي الجهاد، الذي لا يقومُ به إلا خواصُّ الخلق، وهو الجهادُ بالقول واللسان للكفار والمنافقين، والجهادُ على تعليم أمور الدين وعلى ردِّ نزاع المخالفين للحقِّ، ولو كانوا من المسلمين.