تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اُتْلُ مَاۤ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ:} اس مقصد کے لیے پہلا حکم کتاب اللہ کی تلاوت ہے۔ یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ دوسرے مقامات پر دوسرے لوگوں کو پڑھ کر سنانے کا حکم ہے، مثلاً سورۂ مائدہ میں ہے: «{ وَ اتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ ابْنَيْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ }» [المائدۃ: ۲۷] ”اور ان پر آدم کے دو بیٹوں کی خبر کی تلاوت حق کے ساتھ کر۔“ سورۂ اعراف میں ہے: «{ وَ اتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ الَّذِيْۤ اٰتَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا }» [الأعراف: ۱۷۵] ”اور انھیں اس شخص کی خبر پڑھ کر سنا جسے ہم نے اپنی آیات عطا کیں تو وہ ان سے صاف نکل گیا۔“ سورۂ یونس میں ہے: «{ وَ اتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ }» [یونس: ۷۱] ”اور ان پر نوح کی خبر پڑھ۔“ اور سورۂ شعراء میں ہے: «{ وَ اتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِيْمَ }» [الشعراء: ۶۹] ”اور ان پر ابراہیم کی خبر پڑھ۔“ مگر اس مقام پر مطلق تلاوت کا حکم ہے، جس میں سب سے پہلے خود تلاوت کا حکم ہے، پھر تمام لوگوں کے لیے تلاوت کا حکم ہے، ایک اور مقام پر بھی اسی طرح مطلق تلاوت کا حکم ہے، فرمایا: «{ وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا }» [الکہف: ۲۷] ”اور اس کی تلاوت کر جو تیری طرف تیرے رب کی کتاب میں سے وحی کی گئی ہے، اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور نہ اس کے سوا تو کبھی کوئی پناہ کی جگہ پائے گا۔“ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید کو سننے اور اس کی تلاوت سے دل کو سکون و ثبات حاصل ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً كَذٰلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِيْلًا }» [الفرقان: ۳۲] ”اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، یہ قرآن اس پر ایک ہی بار کیوں نہ نازل کر دیا گیا؟ اسی طرح (ہم نے اتارا) تاکہ ہم اس کے ساتھ تیرے دل کو مضبوط کریں اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا، خوب ٹھہر کر پڑھنا۔“
قرآن کی تلاوت ہی سے دل میں ایمان، کردار کی پختگی اور مصائب و مشکلات برداشت کرنے کی طاقت پیدا ہوتی ہے اور یہ بات تجربے سے ثابت ہے کہ جس شاعر یا مصنف کا کلام بار بار پڑھا جائے آدمی کو اس سے محبت ہو جاتی ہے، اس لیے قرآن کی تلاوت اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، پھر اس میں مذکور اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی صفات، اس کے احکام و مواعظ اور پہلی امتوں اور پیغمبروں کے واقعات بار بار پڑھنے سے اللہ تعالیٰ کا دین ہر وقت آنکھوں کے سامنے رہتا ہے، جس سے اس پر عمل آسان ہوجاتا ہے۔ رات کے قیام میں اس کی تلاوت کی برکات کا تو شمار ہی نہیں۔ (دیکھیے سورۂ مزمل) اس طرح کثرتِ تلاوت کے ساتھ قرآن سینے میں محفوظ ہوجاتا اور محفوظ رہتا ہے، جس پر آدمی خود بھی عمل کر سکتا ہے اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت و تبلیغ کر سکتا ہے اور اس کی تعلیم دے سکتا ہے، اگر اس کی تلاوت میں سستی کی جائے تو یہ بہت جلد سینے سے نکل جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ فَوَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنَ الْإِبِلِ فِيْ عُقُلِهَا] [بخاري، فضائل القرآن، باب استذکار القرآن و تعاھدہ: ۵۰۳۳] ”قرآن کا دھیان رکھو، کیونکہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ اس سے بھی جلدی چھوٹ کر نکل جاتا ہے جتنی جلدی اونٹ اپنی رسیوں میں سے نکل جاتے ہیں۔“ بڑے ہی بد نصیب ہیں وہ لوگ جو قرآن کو محض ایک خط قرار دے کر اس کی تلاوت کو بے کار مشغلہ قرار دیتے ہیں۔
➌ اگرچہ قرآن کی تلاوت جس طرح بھی ہو فائدے اور ثواب سے خالی نہیں، مگر اس کا حقیقی فائدہ تبھی حاصل ہو سکتا ہے جب اسے سمجھ کر پڑھا جائے، کیونکہ اس کے بغیر اس پر تدبر ممکن نہیں، جو اس کا اصل مقصد ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا }» [محمد: ۲۴] ”تو کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے، یا کچھ دلوں پر ان کے قفل پڑے ہوئے ہیں؟“ سمجھ کر پڑھنے ہی سے آدمی اس پر عمل کرسکتا ہے اور اسی سے اس میں باطل سے مقابلے کا جذبہ اور اس کی قوت پیدا ہوتی ہے۔ اکثر اہلِ کتاب کی بربادی کا باعث یہی ہوا کہ وہ تعلیم اور عمل کے بغیر تورات کے لفظوں کی تلاوت پر قانع ہو گئے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۷۸) کی تفسیر۔ آج کل مسلمانوں کی اکثریت کا بھی یہی حال ہے۔ کتاب اللہ کی تلاوت میں اس کا لوگوں کو سنانا اور دعوت دینا بھی شامل ہے۔
➍ { وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ:} دوسرا حکم نماز کی اقامت کا ہے، کیونکہ اس سے آدمی میں اپنے رب کے ساتھ وہ تعلق پیدا ہو جاتا ہے جو اس کے لیے ہر مصیبت اور مشکل میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ (دیکھیے بقرہ: ۴۵، ۴۶) ”اقامتِ صلاۃ“ میں صلاۃ سے مراد تمام فرض نمازیں ہیں اور قائم کرنے سے مراد انھیں درست طریقے سے ادا کرنا ہے، جیسا کہ سورۂ بقرہ کی آیت (۳) کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔
➎ { اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ: ” اِنَّ “} عموماً تعلیل کے لیے ہوتا ہے، یعنی نماز قائم کرنے کا حکم اس لیے ہے کہ نماز {” الْفَحْشَآءِ “} اور {” الْمُنْكَرِ “} سے روکتی ہے۔ {” الْفَحْشَآءِ “} کوئی بھی قول یا فعل جس میں بہت بڑی قباحت ہو۔ (راغب) مثلاً زنا وغیرہ اور {” الْمُنْكَرِ “} وہ قول و عمل جس کا انسانی فطرت اور عقل انکار کرتی ہو۔ نماز کے بے حیائی اور برائی سے روکنے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ نماز میں یہ تاثیر ہے کہ اس سے انسان بے حیائی اور برائی سے باز آجاتا ہے۔ دوسرا یہ کہ نماز کا نمازی سے تقاضا یہ ہے کہ وہ بے حیائی اور برائی سے باز آجائے۔ یہ دونوں مطلب درست ہیں اور ایک دوسرے کو لازم وملزوم ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ وہ آدمی جو نماز کو اس کے اوقات پر جماعت کے ساتھ ادا کرے، اس کے ارکان و شروط اور خشوع کا خیال رکھتے ہوئے صحیح طریقے سے ادا کرے، اس میں پڑھی جانے والی فاتحہ اور دوسری دعاؤں کے ذریعے سے دل کی حاضری کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مناجات کرے اور باربار {”رَبِّ اغْفِرْلِيْ“} اور استغفار کی دوسری دعاؤں کے ساتھ بخشش کی درخواست کرے اور اس پر ہمیشگی اختیار کرے، تو یقینا نماز اسے بے حیائی اور برائی سے روک دے گی۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: [إِنَّ فُلاَنًا يُصَلِّيْ بِاللَّيْلِ، فَإِذَا أَصْبَحَ سَرَقَ قَالَ إِنَّهُ سَيَنْهَاهُ مَا تَقُوْلُ] [مسند أحمد: 447/2، ح: ۹۷۹۲، قال المحقق صحیح] ”فلاں شخص رات نماز پڑھتا ہے، جب صبح ہوتی ہے تو چوری کرتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب اس کا یہ عمل اسے اس کام سے روک دے گا جو تو کہہ رہا ہے۔“ یہاں ایک سوال ہے کہ کیا وجہ ہے کہ کئی لوگ نماز ادا کرتے ہیں مگر بے حیائی اور برائی سے باز نہیں آتے؟ اس کے دو جواب ہیں، ایک یہ کہ اگر وہ نماز کو اخلاص اور اس کے ارکان و آداب اور خشوع کا خیال رکھتے ہوئے دل کی حاضری کے ساتھ روزانہ پانچ مرتبہ مسجد میں باجماعت ادا کرتے تو یقینا ان کی نماز انھیں فحشاء اور منکر سے باز رکھتی۔ اگر اس کا یہ اثر ظاہر نہیں ہوا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز میں خلل ہے، دوا کے اجزا پورے نہیں، تبھی شفا نہیں ہوئی۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ نماز تو کہتی ہے کہ جب تو ہر کام چھوڑ کر مسجد میں آ گیا، تیرے باوضو ہونے سے اور تیرے ادا کیے جانے والے الفاظ سے تیرے رب کے سوا کوئی واقف نہیں، پھر بھی تو بے وضو نماز نہیں پڑھتا، نماز میں فضول بات نہیں کرتا، تو جس رب کے ڈر سے نماز میں اس کی نافرمانی سے پرہیز کرتا ہے نماز کے بعد بھی تجھے اس کے خوف سے ہر بے حیائی اور برائی سے اجتناب لازم ہے۔ نماز بہر حال بے حیائی اور برائی سے منع کرتی ہے، کوئی اس کا کہا نہ مانے تو اس کی مرضی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ بھی بے حیائی اور برائی سے منع کرتا ہے، فرمایا: «{ وَ يَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ }» [النحل: ۹۰] ”اور اللہ بے حیائی اور برائی اور سرکشی سے منع کرتا ہے، وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔“ پھر کوئی اس کا حکم مانتا ہے، کوئی نہیں مانتا۔
➏ اس مقام پر کتبِ تفسیر میں چند احادیث مروی ہیں جو سنداً ثابت نہیں ہیں۔ تفسیر ابن کثیر میں سے وہ روایات اس کے محقق دکتور حکمت بن بشیر کی تحقیق کے ساتھ نقل کی جاتی ہیں: (1) ابن ابی حاتم نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے فرمان {” اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ “} کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ لَّمْ تَنْهَهُ صَلَاتُهُ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ فَلَا صَلَاةَ لَهُ] ”جس شخص کی نماز اسے فحشاء اور منکر سے نہ روکے اس کی کوئی نماز نہیں۔“ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابی عثمان مجہول ہے۔ (2) ابن ابی حاتم اور طبرانی نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ لَّمْ تَنْهَهُ صَلَاتُهُ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ لَمْ يَزْدَدْ بِهَا مِنَ اللّٰهِ إِلَّا بُعْدًا] ”جس شخص کی نماز اسے بے حیائی اور برائی سے نہ روکے اس نماز کے ساتھ اس کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوری ہی میں اضافہ ہو گا۔“ یہ روایت لیث بن ابی سلیم راوی کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ (3) ابن جریر طبری نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَّمْ يُطِعِ الصَّلَاةَ وَطَاعَةُ الصَّلَاةِ تَنْهَاهُ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ] ”جو شخص نماز کی اطاعت نہ کرے اس کی نماز نہیں اور نماز کی اطاعت اسے فحشاء اور منکر سے روکے گی۔“ اس کی سند میں دو راوی جویبر اور حسین (بن داؤد) ضعیف ہیں اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے راوی ضحاک کی ان سے ملاقات ثابت نہیں۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ان تمام روایات کے متعلق فرمایا: ”زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف (صحابہ کے اقوال) ہیں (مگر صحابہ سے بھی اکثر اقوال کی سند کمزور ہے)۔“ یہ روایات جن میں برائی سے نہ روکنے والی نماز کو کالعدم اور اللہ تعالیٰ سے دوری کا باعث بیان کیا گیا ہے، ان کی حقیقت میں نے اس لیے بیان کر دی ہے کہ ایسا فتویٰ لگانے والا شخص فتویٰ کی سنگینی پر غور کرے اور اس بات پر بھی کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے ایسی بات لگا رہا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔
➐ { وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ:} اس کے تین مطلب بیان کیے گئے ہیں، ایک یہ کہ نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے اور وہ کیوں نہ روکے گی جب کہ وہ اللہ کا ذکر ہے، جیسے فرمایا: «{ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ }» [طٰہٰ: ۱۴] ”اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔“ اور یقینا اللہ کا ذکر اور اس کی یاد برائی اور بے حیائی سے روکنے میں سب سے بڑی چیز ہے۔ دوسرا یہ کہ نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے اور یقینا اللہ کا ذکر اور اس کی یاد نماز میں ہو یا اس کے بعد، فحشاء اور منکر سے روکنے میں سب سے بڑی چیز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یاد، اس کا دھیان اور ہر وقت اسے پیش نظر رکھنا ہی آدمی کو گناہ سے باز رکھتا ہے اور گناہ اسی وقت سر زد ہوتا ہے جب آدمی اس بات سے غافل ہوتا ہے کہ میرا مالک مجھے دیکھ رہا ہے۔ اوپر کے دونوں مطلب اس وقت ہیں جب لفظ {”ذِكْرٌ“} اپنے مفعول کی طرف مضاف مانا جائے اور ترجمہ یہ کیا جائے کہ (بندے کا) اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا سب سے بڑی بات ہے۔ تیسرے مطلب کے مطابق لفظ {”ذِكْرٌ“} اپنے فاعل کی طرف مضاف ہے، ترجمہ یہ ہوگا کہ یقینا اللہ تعالیٰ کا (اپنے بندے کو) یاد کرنا سب سے بڑی بات ہے۔ یعنی نماز میں بندہ اپنے رب کا ذکر کرتا اور اسے یاد کرتا ہے تو یہ بڑی بات ہے، لیکن اس کے جواب میں ادھر سے اللہ تعالیٰ جو بندے کا ذکر کرتا اور اسے یاد کرتا ہے یہ سب سے بڑی بات ہے۔ یہ تفسیر امام طبری نے معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے نقل فرمائی ہے۔ اس تفسیر میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرف اشارہ ہے: «{ فَاذْكُرُوْنِيْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِيْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ }» [البقرۃ: ۱۵۲] ”سو تم مجھے یاد کرو، میں تمھیں یاد کروں گا اور میرا شکر کرو اور میری نا شکری مت کرو۔“
➑ بعض مفسرین نے نماز کے برائی اور بے حیائی سے روکنے کا مطلب یہ بیان فرمایا ہے کہ جتنی دیر آدمی نماز میں رہے گا کم از کم اتنی دیر تو بے حیائی اور برائی سے باز رہے گا۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”جتنی دیر نماز میں لگے اتنا تو ہر گناہ سے بچے، امید ہے آگے بھی بچتا رہے اور اللہ کی یاد کو اس سے زیادہ اثر ہے، یعنی گناہ سے بچے اور اعلیٰ درجوں پر چڑھے۔“ (موضح) بعض لوگوں نے اس تفسیر پر اعتراض کیا ہے کہ نماز کے علاوہ بھی کئی کام ہیں جن میں مصروف رہنے تک آدمی گناہ سے بچا رہتا ہے، مگر یہ اعتراض بے سود ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ صرف نماز ہی بے حیائی سے روکتی ہے۔
➒ { وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ:} یعنی نیک یا بد جو بھی عمل تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے اور تمھیں اس کی جزا یا سزا دے گا۔ اس میں بشارت بھی ہے اور نذارت بھی۔ یہ الفاظ اس بات کی دلیل ہیں کہ آیت کے شروع میں {” اُتْلُ مَاۤ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ “} کے مخاطب اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، مگر مراد آپ کے ساتھ پوری امت بھی ہے، اسی لیے آیت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تیسرا فائدہ یہ ہے کہ تلاوت قرآن سوچ سمجھ کر پڑھنے سے اس کے معارف و حقائق پڑھنے والے پر منکشف ہوتے چلے جاتے ہیں۔ چوتھا فائدہ یہ ہے کہ تلاوت قرآن سے دوسرے لوگ بھی اس کے مواعظ اور علوم و برکات سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ پانچواں فائدہ یہ ہے کہ دعوت و اصطلاح کے فریضہ کی اصل بنیاد تلاوت قرآن کریم بھی ہے۔ پھر جو لوگ قرآن کی ہدایت کو تسلیم نہ کریں ان پر اللہ کی حجت قائم اور پوری ہو جاتی ہے۔
پھر یہی خیالات مقام حدیث کے ص 221 پر دہرائے گئے ہیں اور اس کے بعد قرآن سورتوں یا آیات کی تلاوت کی فضیلت کے متعلق چند احادیث درج کر کے ایسی احادیث کے موضوع ہونے کا تاثر دیا گیا ہے نیز یہی افکار اسباب زوال امت کے ص 59 پر بھی دیئے گئے ہیں اور دلیل میں یہ آیت بھی پیش کی گئی ہے: ﴿يَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَيْسَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ﴾ [167:3] وہ زبان سے وہ کچھ کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہوتا۔ (اسباب زوال امت، ص 59) جواب دینے سے پیشتر ہم جناب پرویز کی ہشیاری کی داد ضرور دینا چاہتے ہیں کہ جو آیت منافقوں سے تعلق رکھتی تھی اسے آپ نے اس مقام پر فٹ کر دکھایا ہے۔ یہ آیت ﴿وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُوا﴾ سے شروع ہوتی ہے اور اس آیت کے مندرجہ ٹکڑے کا مطلب یہ ہے کہ منافقوں کی زبان پر کوئی اور بات ہوتی ہے جبکہ دل میں کچھ اور ہوتا ہے یعنی جس بات کا وہ زبان سے اقرار کرتے ہیں ان کے دل اس سے منکر ہوتے ہیں لیکن بلا سوچے سمجھے یا معنی نہ سمجھنے کے باوجود قرآن پاک کی تلاوت کا معاملہ اس سے یکسر مختلف ہے۔ اس لئے کہ ایسے شخص کے دل میں کچھ ہوتا ہی نہیں یا اگر کچھ ہوتا ہے تو صرف یہ کہ وہ اپنے پروردگار کے کلام کی تلاوت کر رہا ہے۔ اور یہ ایک اچھا باعث برکت و ثواب عمل ہے۔ قرآن میں تلاوت قرآن پر بہت زور دیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے پہلی ذمہ داری تھی کہ آپ امت پر اللہ کی آیات تلاوت کرتے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہی حکم تھا اور مسلمان مردوں اور عورتوں کو یہ بھی حکم تھا کہ وہ ان تلاوت شدہ آیات کو زبانی یاد کر لیا کریں۔ اللہ تعالیٰ ازواج النبی سے فرماتے ہیں: ﴿وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلٰي فِيْ بُيُوْتِكُنَّ مِنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ وَالْحِكْمَةِ﴾ [33۔ 34] ”اور تمہارے گھروں میں جو اللہ کی آیات و حکمت پڑھی جاتی ہیں، ان کو یاد رکھو“
1۔ قرآن کسی انسان کا کلام نہیں، بلکہ اس کے الفاظ کی بندش اور فصاحت و بلاغت کا یہ عالم ہے کہ فصحاء اور بلغاء عرب بار بار کے چیلنج کے باوجود اس جیسا کلام لانے سے قاصر رہے لہٰذا اسے عام انسانی تصانیت کے مثل قرار دینا بہت بڑی جسارت ہے۔ جیسا کہ پرویز صاحب نے کسی مصنف کی کتاب کی بلا سوچے سمجھے پڑھنے کی مثال دی ہے۔
2۔ کفار مکہ میں سے اکثر فصحائے عرب تھے۔ ان میں شاعر بھی موجود تھے۔ وہ قرآن کی آیات کو سنتے اور خوب سمجھتے تھے کیونکہ ان کی زبان عربی تھے۔ وہ دل سے قرآن کے مخالف بھی تھے۔ پھر بھی قرآن کے الفاظ کی اعجازی حیثیت ان کو مسحور کر دیتی تھی۔ آخر یہ کیا بات تھی کہ وہ اپنی لگائی ہوئی پابندیوں کے علی الرغم رات کو پہروں چوری چھپے قرآن سنتے تھے؟ کیا یہ الفاظ ہی کی تاثیر نہ تھی؟
3۔ الفاظ کی اس اعجازی حیثیت کا پرویز صاحب خود بھی ایک دوسرے مقام پر زیر عنوان ”مشاعرے“ بدیں الفاظ اقرار کرتے ہیں: ”آپ کسی شاعر سے کہئے کہ جو کچھ آپ نے نظم میں لکھا ہے اسے ذرا نثر میں پڑھ کر سنائیے، پھر دیکھئے اس کے جذبات کا کیا عالم ہوتا ہے۔ غور کیجئے، کتنا بڑا ہے یہ سحر جس کی رو سے محض الفاظ کے ادھر ادھر رکھ دینے سے آپ کے تاثرات بدل جاتے ہیں۔“ [قرآني فيصلے، ص 305]
اب اگر کسی عام شاعر کی نظم میں الفاظ کی بندش میں یہ تاثیر ممکن ہے تو کیا قرآن کے الفاظ کی بندش میں اتنی بھی تاثیر نہیں اور ایسی تاثیر شعر ہی میں نہیں نثر میں بھی ممکن ہے۔ قرآن مجید شاعرانہ بیہودگی سے یکسر پاک ہے تاہم اس کی اعجازی حیثیت مسلمہ ہے اور اس کی تاثیر کی بھی۔
4۔ رجز (جنگی گیت) اور حدی کا اثر اونٹ وغیرہ پر بھی ہونا مشاہدات سے ثابت ہے۔ حالانکہ اونٹ نہ وہ زبان جانتا ہے نہ اس کا مطلب سمجھتا ہے تاہم متاثر ضرور ہو جاتا ہے تو کیا اونٹ میں بھی کوئی عجمی سازش کام کر رہی ہوتی ہے؟ اسی مضمون سے متعلق ایک لطیفہ یاد آگیا۔ کوئی صاحب قرآن کے الفاظ کی تاثیر کے قائل نہ تھے اور اسی موضوع پر اپنے ایک دوست سے بحث فرما رہے تھے۔ اس دوست نے جواب میں صرف اتنا ہی کہہ دیا کہ تم تو نرے گدھے ہو۔ اس بات پر وہ صاحب سیخ پا ہو گئے اور غصہ کی وجہ سے چہرہ تمتما اٹھا اور اپنے دوست کو بدتمیزی کے القابات سے نوازنے لگے۔ دوست نے بڑے آرام سے کہا کہ اگر الفاظ میں کچھ تاثیر نہیں ہوتی تو آپ اس قدر برہم کیوں ہو گئے؟ آپ فی الواقع کوئی گدھا بن تو نہیں گئے۔ یہ جواب سن کر وہ صاحب کچھ کھسیانے سے ہو گئے اور غصہ بھی فرو ہو گیا۔ بلا سوچے سمجھے تلاوت کرنا اگرچہ کوئی با مقصد عمل نہیں کہلا سکتا تاہم اس سے بھی تین فائدے حاصل ہوتے ہیں:
1۔ تلاوت کرنے والا جب تک تلاوت میں مشغول رہے گا دوسری خرافات سے محفوظ رہے گا۔
2۔ جو شخص اس بلا سوچے سمجھے تلاوت کو اپنا معمول بنا لے گا کسی نہ کسی دن ضرور وہ اس کا مفہوم سمجھنے کی بھی کوشش کرے گا۔
3۔ کلام الٰہی اگر ترتیل سے کی جائے تو کائنات کی کئی دوسری اشیاء بھی اس سے اثر قبول کرتی اور ساتھ ہم آہنگ ہو جاتی ہیں۔ داؤدؑ جب زبور کی آیات تلاوت فرماتے تو پہاڑ اور پرندے بھی آپ کی ان تسبیحات سے مسحور ہو کر ان میں شامل ہو جاتے تھے جیسا کہ ارشاد باری ہے: ﴿وَلَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَالطَّيْرَ﴾ ”اور ہم نے اپنی طرف سے داؤد کو برتری بخشی تھی کہ اے پہاڑو اور پرندو! (جب داؤد زبور کی تلاوت کریں تو) تم بھی اس کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاؤ“ بالکل ایسا ہی مضمون سورۃ انبیاء کی آیت نمبر 79 اور سورہ ص کی آیت نمبر 19 میں بھی مذکور ہے۔ ان آیات میں جبال یا پہاڑ جمادات سے اور پرندے حیوانات سے تعلق رکھتے ہیں گویا یہ سب چیزیں آیات الٰہی کی تلاوت سے اثر پذیر ہوتی ہیں۔ حالانکہ وہ نہ ان کے معنی سمجھ سکتی ہیں اور نہ غور و فکر کر سکتی ہیں۔ ان تمام تصریحات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگرچہ قرآن کریم کی تلاوت کا اصل مقصد اسے سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہے تاہم قرآن کے الفاظ کی بندش میں بلا کی تاثیر ہے۔ جس سے انکار نا ممکن ہے۔ لہٰذا اگر تلاوت کرنے والا اس کے مفہوم کو نہ جانتا ہو تب بھی اسے اس کی تلاوت سے کئی طرح سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ رہا مسئلہ قرآنی عملیات، نقوش، تعویذات اور اوراد وغیرہ کا تو ان باتوں کا ثبوت کتاب و سنت میں کہیں بھی نہیں ملتا۔ لہٰذا یہ افعال بدعیہ اور شرکیہ ہیں اور ایسی باتوں کا اگر پرویز صاحب عہد سحر سے تعلق قائم کرنا چاہیں تو بصد شوق ایسا کر سکتے ہیں۔
اور چوتھا مطلب یہ ہے کہ اگر بندہ اللہ کو یاد کرے تو اللہ بھی بندے کو یاد کرتا ہے [2: 152] اور ظاہر ہے کہ اللہ کا بندے کو یاد کرنا بہت بڑی چیز ہے۔
[75] یعنی اللہ اسے بھی جانتا ہے جو اس کے ذکر سے رطب اللسان رہتا ہے اور اسے بھی جو اس کی یاد سے غافل رہتا ہے۔ پھر ہر ایک سے اس کے عمل کے مطابق سلوک کرے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { جس نمازی کی نماز نے اسے گناہوں سے اور سیاہ کاریوں سے باز نہ رکھا وہ اللہ سے بہت دور ہو جاتا ہے۔ }
ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی گئی تو آپ نے فرمایا: { جسے اس کی نماز بےجا اور فحش کاموں سے نہ روکے تو سمجھ لو کہ اس کی نماز اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوئی۔ } ۱؎ [ضعیف و منقطع]
اور روایت میں ہے کہ { وہ اللہ سے دور ہی ہوتا چلا جائے گا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11025:ضعیف]
ایک موقوف روایت میں ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { جو نمازی بھلے کاموں میں مشغول اور برے کاموں سے بچنے والا نہ ہو سمجھ لو کہ اس کی نماز اسے اللہ سے اور دور کرتی جا رہی ہے۔ }
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جو نماز کی بات نہ مانے اس کی نماز نہیں، نماز بےحیائی سے اور بدفعلیوں سے روکتی ہے، اس کی اطاعت یہ ہے کہ ان بےہودہ کاموں سے نمازی رک جائے۔ }
شعیب علیہ السلام سے جب ان کی قوم نے کہا کہ اے شعیب علیہ السلام! کیا تمہیں تمہاری نماز حکم کرتی ہے تو سفیان رحمہ اللہ نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ { ہاں اللہ کی قسم! نماز حکم بھی کرتی ہے اور منع بھی کرتی ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27784:ضعیف و منقطع]
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا: فلاں شخص بڑی لمبی نماز پڑھتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نماز اسے نفع دیتی ہے جو اس کا کہا مانے۔ }
میری تحقیق میں اوپر جو مرفوع روایت بیان ہوئی ہے اس کا بھی موقوف ہونا ہی زیادہ صحیح ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
بزار میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! فلاں شخص نماز پڑھتا ہے لیکن چوری نہیں چھوڑتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب اس کی نماز اس کی یہ برائی چھڑا دے گی۔ } ۱؎ [مسند احمد:447/2:صحیح] چونکہ نماز ذکر اللہ کا نام ہے اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا اللہ کی یاد بڑی چیز ہے اللہ تعالیٰ تمہاری تمام باتوں سے اور تمہارے کل کاموں سے باخبر ہے۔
ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں نماز میں تین چیزیں ہیں اگر یہ نہ ہوں تو نماز نماز نہیں۔ ۱۔ اخلاص وخلوص ۲۔ خوف الہی اور ۳۔ ذکر اللہ۔ اخلاص سے تو انسان نیک ہو جاتا ہے اور خوف الہی سے انسان گناہوں کو چھوڑ دیتا ہے اور ذکر اللہ یعنی قرآن اسے بھلائی و برائی بتا دیتا ہے وہ حکم بھی کرتا ہے اور منع بھی کرتا ہے۔
ابن عون انصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب تو نماز میں ہو تو نیکی میں ہے اور نماز تجھے فحش اور منکر سے بچائے ہوئے ہے۔ اور اس میں جو کچھ تو ذکر اللہ کررہا ہے وہ تیرے لیے بڑے ہی فائدے کی چیز ہے۔ حماد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ کم سے کم حالت نماز میں تو برائیوں سے بچا رہے گا۔
ایک راوی سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول مروی ہے کہ جو بندہ یاد اللہ کو یاد کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اسے یاد کرتا ہے۔ اس نے کہا: ہمارے ہاں جو صاحب ہیں وہ تو کہتے ہیں کہ مطلب اس کا یہ ہے کہ جب تم اللہ کا ذکر کرو گے تو وہ تمہاری یاد کرے گا اور یہ بہت بڑی چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ» ۱؎ [2-البقرة:152] ’ تم میری یاد کرو میں تمہاری یاد کرونگا۔ ‘ اسے سن کر آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا۔
یعنی دونوں مطلب درست ہیں۔ یہ بھی اور وہ بھی اور خود ابن عباس سے یہ بھی تفسیر مروی ہے۔
عبداللہ بن ربیعہ رحمہ اللہ سے ایک مرتبہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے دریافت فرمایا کہ اس جملے کا مطلب جانتے ہو؟ انہوں نے کہا ہاں اس سے مراد نماز میں «سُبْحَانَ اللہِ، اَلْحَمْدُلِلہِ، اَللہُ اَکْبَرُ» وغیرہ کہنا ہے۔ آپ نے فرمایا: تو نے عجیب بات کہی یہ یوں نہیں ہے بلکہ مقصود یہ ہے کہ حکم کے اور منع کے وقت اللہ کا تمہیں یاد کرنا تمہارے ذکر اللہ سے بہت بڑا اور بہت اہم ہے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا ابودرداء، سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اور اسی کو امام ابن جریر رحمہ اللہ پسند فرماتے ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يأمر تعالى بتلاوة وحيه وتنزيله، وهو هذا الكتاب العظيم، ومعنى تلاوتِهِ: اتِّباعُهُ بامتثال ما يأمرُ به واجتناب ما ينهى [عنه]، والاهتداءِ بهداه، وتصديق أخباره، وتدبُّر معانيه، وتلاوة ألفاظه. فصار تلاوةُ لفظِهِ جزءَ المعنى وبعضَه، وإذا كان هذا معنى تلاوة الكتاب؛ عُلِمَ أنَّ إقامةَ الدين كُلِّه داخلةٌ في تلاوة الكتاب، فيكون قوله: {وأقم الصلاة}: من باب عطف الخاصِّ على العامِّ؛ لفضل الصلاة وشرفها وآثارها الجميلة، وهي: {إنَّ الصلاة تنهى عن الفحشاء والمنكر}: فالفحشاءُ كلُّ ما استُعْظِمَ واستُفْحِشَ من المعاصي التي تشتهيها النفوس، والمنكَر كلُّ معصية تُنْكِرُها العقول والفطر.
ووجْهُ كونِ الصلاة تنهى عن الفحشاء والمنكر: أنَّ العبد المقيم لها المتمِّم لأركانها وشروطها وخشوعها يستنيرُ قلبُه ويتطهَّر فؤاده ويزدادُ إيمانُه وتقوى رغبتُه في الخير وتقلُّ أو تعدم رغبتُه في الشرِّ؛ فبالضرورة مداومتها، والمحافظةُ عليها على هذا الوجه تنهى عن الفحشاء والمنكر؛ فهذا من أعظم مقاصدِ الصلاةِ وثمراتها.
وثَمَّ في الصلاة مقصودٌ أعظمُ من هذا وأكبرُ، وهو ما اشتملتْ عليه من ذِكْرِ الله بالقلب واللسان والبدن؛ فإنَّ الله تعالى إنَّما خلق العباد لعبادتِهِ، وأفضلُ عبادةٍ تقع منهم الصلاة، وفيها من عبوديَّات الجوارح كلِّها ما ليس في غيرها، ولهذا قال: {ولَذِكْرُ الله أكبرُ}: ويُحْتَمَلُ أنَّه لمَّا أمَرَ بالصلاة ومدحها؛ أخبر أنَّ ذِكْرَه تعالى خارج الصلاةِ أكبرُ من الصلاة؛ كما هو قولُ جمهور المفسِّرين، لكنَّ الأول أولى؛ لأنَّ الصلاة أفضلُ من الذِّكر خارجها، ولأنَّها ـ كما تقدَّم ـ بنفسِها من أكبر الذكر. {والله يعلم ما تصنَعونَ}: من خيرٍ وشرٍّ، فيجازيكم على ذلك أكمل الجزاء وأوفاه.