ترجمہ و تفسیر — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 26

فَاٰمَنَ لَہٗ لُوۡطٌ ۘ وَ قَالَ اِنِّیۡ مُہَاجِرٌ اِلٰی رَبِّیۡ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۲۶﴾
تو لوط اس پر ایمان لے آیا اور اس نے کہا بے شک میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں، یقینا وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ En
پس اُن پر (ایک) لوط ایمان لائے اور (ابراہیم) کہنے لگے کہ میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں۔ بیشک وہ غالب حکمت والا ہے
En
پس حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر حضرت لوط (علیہ السلام) ایمان ﻻئے اور کہنے لگے کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے واﻻ ہوں۔ وه بڑا ہی غالب اور حکیم ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 26) ➊ {فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ:} ابراہیم علیہ السلام جب آگ سے صحیح سلامت باہر آئے اور انھوں نے یہ نصیحت کی تو لوط علیہ السلام فوراً ہی ان پر ایمان لے آئے اور ان کے تابع فرمان ہو گئے، ان کے سوا کوئی اور ان پر ایمان نہیں لایا۔ فوراً کا مفہوم فاء سے نکل رہا ہے۔
➋ یہاں ایک سوال ہے کہ عام طور پر ایمان لانے اور تصدیق کرنے کے لیے {آمَنَ بِهِ} کا لفظ استعمال ہوتا ہے، {آمَنَ لَهُ} کا لفظ کسی کی بات کا اعتبار اور یقین کرنے کے معنی میں آتا ہے، جیسا کہ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے کہا تھا: «{ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِيْنَ [یوسف: ۱۷] اور تو ہر گز ہمارا اعتبار کرنے والا نہیں، خواہ ہم سچے ہوں۔ تو یہاں {آمَنَ لَهُ} لانے میں کیا حکمت ہے؟ اس کا جواب اکثر مفسرین نے تو یہ دیا ہے کہ ایمان لانے اور تصدیق کرنے کے لیے {امَنَ بِهِ} اور {آمَنَ لَهُ} دونوں لفظ استعمال ہوتے ہیں، جیسا کہ جادوگروں کے ایمان لانے پر فرعون کا قول اللہ تعالیٰ نے بعض جگہ {اٰمَنْتُمْ لَهٗ } نقل فرمایا ہے۔ (دیکھیے طٰہٰ: ۷۱) اور بعض جگہ { اٰمَنْتُمْ بِهٖ } (دیکھیے اعراف: ۱۲۳)۔ اس لیے {آمَنَ بِهِ} اور {آمَنَ لَهُ} کا مفہوم ایک ہی ہے۔ ابن جزی صاحب التسہیل نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہاں {آمَنَ} کے ضمن میں {اِنْقَادَ } (مطیع ہو گیا) کا مفہوم داخل ہے، اس لیے اس کا صلہ {لَهُ} آیا ہے، مطلب یہ ہے کہ تو اسی وقت لوط اس کے لیے تابع فرمان ہو گیا۔ مفسرین میں سے بعض نے لوط علیہ السلام کو ابراہیم کا بھانجا اور اکثر نے بھتیجا بیان کیا ہے، قابل یقین دلیل کسی نے بھی ذکر نہیں فرمائی، البتہ یہ بات ظاہر ہے کہ لوط علیہ السلام ان کی قوم اور ان کے شہر کے آدمی تھے۔
➌ { وَ قَالَ اِنِّيْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ…:} ابراہیم علیہ السلام نے جب دیکھا کہ اتنا بڑا معجزہ دیکھ کر بھی پوری قوم میں سے صرف ایک شخص ایمان لایا ہے تو ان سے ناامید ہو کر وہاں سے نکل پڑے، ان کے ساتھ ان کی بیوی سارہ اور لوط علیہ السلام بھی تھے، کچھ خبر نہ تھی کہاں جانا ہے، اپنا سب کچھ اللہ کے حوالے کرتے ہوئے کہنے لگے، میں تو وطن چھوڑ کر اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں۔ وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے، وہی میری حفاظت کرے گا، مجھے غلبہ عطا کرے گا اور جہاں اس کی حکمت کا تقاضا ہو گا مجھے لے جائے گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کی قوم سے نجات دلا کر اپنی حفاظت میں خیریت اور سلامتی کے ساتھ سرزمین شام میں پہنچا دیا، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ نَجَّيْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا لِلْعٰلَمِيْنَ [الأنبیاء: ۷۱] اور ہم نے اسے اور لوط کو اس سر زمین کی طرف نجات دی جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔ قرآن مجید میں ارض مبارک سے مراد شام کی زمین ہوتی ہے۔ (دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل: ۱) ان کے ہجرت کر جانے کے بعد قوم پر جو گزری اس کے لیے سورۂ انبیاء کی آیات (۷۴، ۷۵) کے حواشی دیکھیے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو نمرود اور اس کی قوم کی ہدایت کے لیے بھیجا، اس پر بھی جب یہ لوگ سرکشی سے باز نہ آئے تو ان پر مچھروں کا عذاب نازل ہوا۔ یہ مچھر ان لوگوں کا تو سب خون پی گئے، گوشت اور چربی سب کھا گئے، خالی ہڈیاں زمین پر گر پڑیں، مگر نمرود کے دماغ میں ایک مچھر چڑھ گیا جس کے سبب سے اس کے سر پر ایک مدت تک مار پڑتی رہی، اس ذلت کے بعد پھر وہ بھی ہلاک ہو گیا۔ طبری نے یہ بات تابعی زید بن اسلم کے قول سے نقل کی ہے، جس کا اسرائیلی روایت ہونا ظاہر ہے، اس لیے اس پر کسی صورت یقین نہیں کیا جا سکتا، نہ ہی اسے قرآن کی تفسیر میں بیان کیا جا سکتا ہے، کیونکہ لا ریب کتاب کی تفسیر بھی لا ریب ذریعے سے ثابت ہونا ضروری ہے۔ اس حکایت میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہمارے کئی واعظ کئی سال تک اس مچھر کی وجہ سے نمرود کے سر پر جوتے مرواتے رہتے ہیں، حالانکہ مچھر بے چارے کی کل عمر چند گھنٹوں سے زیادہ نہیں ہوتی۔ مسلمان واعظین کی عجائب پسندی نے اس بات کو ایک مسلّمہ حقیقت بنا دیا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

26-1حضرت لوط علیہ السلام، حضرت ابراہیم ؑ کے برادر زاد تھے، یہ حضرت ابراہیم ؑ پر ایمان لائے، بعد میں ان کو بھی ' سدوم ' کے علاقے میں نبی بنا کر بھیجا گیا۔ 26-2یہ حضرت ابراہیم ؑ نے کہا اور بعض کے نزدیک حضرت لوط ؑ نے، اور بعض کہتے ہیں دونوں نے ہجرت کی۔ یعنی جب ابراہیم ؑ اور ان پر ایمان لانے والے لوط ؑ کے لئے اپنے علاقے ' کو ٹی ' میں، جو حران کی طرف جاتے ہوئے کوفے کی ایک بستی تھی، اللہ کی عبادت کرنی مشکل ہوگئی تو وہاں سے ہجرت کر کے شام کے علاقے میں چلے گئے، تیسری، ان کے ساتھ حضرت ابراہیم ؑ کی اہلیہ سارہ تھیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

26۔ (آگ کو ابراہیم پر ٹھنڈا ہوتے دیکھ کر) لوط سیدنا ابراہیم پر [40] ایمان لے آئے اور ابراہیم نے کہا کہ میں تو اپنے پروردگار کے حکم کے مطابق ہجرت [41] کرنے والا ہوں۔ وہ یقیناً سب پر غالب اور حکمت والا ہے
[40] سیدنا لوط کا ایمان لانا اور ہجرت کرنا:۔
حضرت لوطؑ حضرت ابراہیمؑ کے چچا زادہ بھائی تھے۔ دونوں ہی عراق کے شہر بابل کے رہنے والے تھے۔ جب حضرت ابراہیمؑ آگ کے امتحان سے صحیح سلامت باہر نکل آئے۔ اس وقت حضرت لوطؑ نے ان پر ایمان لانے کا اعلان کیا۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حضرت لوطؑ پہلے مشرک تھے۔ کیونکہ نبیوں کی نبوت سے پہلی زندگی بھی اللہ کی مہربانی سے ایسی نجاستوں سے پاک و صاف ہوتی ہے۔ انبیاء کے علاوہ اور بھی کئی ایسے آدمی ہوتے ہیں جو شرک سے بیزار قلب سلیم رکھتے ہیں مگر انھیں صحیح رہنمائی نہیں ملتی۔ دور نبوی میں بھی آپ کی نبوت سے پہلے ایسے چھ آدمی موجود تھے۔
[41] مفسرین کہتے ہیں کہ یہ ہجرت حضرت ابراہیمؑ اور حضرت لوطؑ دونوں نے مل کر کی تھی۔ اور یہ سفر ہجرت بابل سے فلسطین کی طرف تھا۔ اللہ کی حکمت اسی میں تھی کہ آپ وہاں چلے جائیں، اسی مقام پر حضرت لوطؑ کو بھی نبوت ملی تو حضرت ابراہیمؑ نے حضرت لوطؑ کو سدوم کے علاقے کی طرف بھیج دیا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

لوط علیہ السلام اور سارہ رضی اللہ تعالٰی عنہا ٭٭

کہا جاتا ہے کہ لوط علیہ السلام ابرہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ لوط بن ہاران بن آزر۔ آپ کی ساری قوم میں سے ایک تو لوط ایمان لائے تھے اور ایک سارہ رضی اللہ عنہا جو آپ کی بیوی تھیں۔
ایک روایت میں ہے کہ جب آپ کی بیوی صاحبہ کو اس ظالم بادشاہ نے اپنے سپاہیوں کے ذریعہ اپنے پاس بلوایا تو ابراہیم نے کہا تھا کہ دیکھو میں نے اپنا رشتہ تم سے بھائی بہن کا بنایا ہے تم بھی یہی کہنا کیونکہ اس وقت دنیا پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں ہے تو ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ کوئی میاں بیوی ہمارے سوا ایماندار نہیں۔
لوط علیہ السلام آپ پر ایمان تو لائے مگر اسی وقت ہجرت کر کے شام چلے گئے تھے پھر اہل سدوم کی طرف نبی بنا کر بھیج دئے گئے تھے جیسا کہ بیان گزرا اور آئے گا۔
ہجرت کا ارادہ یا تو لوط علیہ السلام نے ظاہر فرمایا کیونکہ ضمیر کا مرجع اقرب تو یہی ہے۔ یا ابراہیم نے جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ضحاک رحمہ اللہ کا بیان ہے۔ تو گویا لوط علیہ السلام کے ایمان لانے کے بعد آپ نے اپنی قوم سے دست برداری کر لی اور اپنا ارادہ ظاہر کیا کہ اور کسی جگہ جاؤں شاید وہاں والے اللہ والے بن جائیں۔ عزت اللہ کی اس کے رسول کی اور مومنوں کی ہے۔ حکمت والے اقوال، افعال، تقدیر، شریعت اللہ کی ہے۔
قتادۃ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ کوفے سے ہجرت کر کے شام کے ملک کی طرف گئے۔
حدیث میں ہے کہ { ہجرت کے بعد کی ہجرت ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت گاہ کی طرف ہو گی۔ اس وقت زمین پر بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جنہیں زمین تھوک دے گی اور اللہ ان سے نفرت کرے گا انہیں آگ سورؤں اور بندروں کے ساتھ ہنکاتی پھرے گی۔ راتوں کو دنوں کو انہی کے ساتھ رہے گی اور ان کی جھڑن کھاتی رہے گی۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27730:مرسل]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے { جو ان میں سے پیچھے رہ جائے گا اسے یہ آگ کھا جائے گی اور مشرق کی طرف سے کچھ لوگ میری امت میں ایسے نکلیں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا ان کے خاتمے کے بعد دوسرا گروہ کھڑا ہو گا۔ یہاں تک کہ آپ نے بیس سے بھی زیادہ بار اسے دہرایا۔ یہاں تک کہ انہی کے آخری گروہ میں سے دجال نکلے گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:199/2:ضعیف]‏‏‏‏
{ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک زمانہ تو ہم پر وہ تھا کہ ہم ایک مسلمان بھائی کے لیے درہم ودینار کو کوئی چیز نہیں سمجھتے تھے اپنی دولت اپنے بھائی کی ہی سمجھتے تھے پھر وہ زمانہ آیا کہ دولت ہمیں اپنے مسلم بھائی سے زیادہ عزیز معلوم ہونے لگی۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اگر تم بیلوں کی دموں کے پیچھے لگ جاؤ گے اور تجارت میں مشغول ہوجاؤ گے اور اللہ کی راہ کا جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری گردنوں میں ذلت کے پٹے ڈال دے گا جو اس وقت تک تم سے الگ نہ ہوں گے جب تک کہ تم پھر سے وہیں نہ آ جاؤ جہاں تھے اور تم توبہ نہ کر لو۔
پھر وہی حدیث بیان کی جو اوپر گزری اور فرمایا کہ میری امت میں ایسے لوگ ہونگے جو قرآن پڑھیں گے اور بدعملیاں کریں گے قرآن ان کے حلقوم سے نیچے نہیں اترے گا۔ ان کے علم کو دیکھ کر تم اپنے علموں کو حقیر سمجھنے لگوگے۔ وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے پس جب یہ لوگ ظاہر ہوں تو انہیں قتل کر دینا، پھر نکلیں پھر مار ڈالنا، پھر ظاہر ہوں پھر قتل کر دینا۔ وہ بھی خوش نصیب ہے جو انھیں قتل کرے اور وہ بھی خوش نصیب ہے جو انکے ہاتھوں قتل کیا جائے جب ان کے گروہ نکلیں گے اللہ انہیں برباد کر دے گا پھر نکلیں گے پھر برباد ہو جائیں گے۔
{ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بیس مرتبہ بلکہ اس سے بھی زیادہ بار یہی فرمایا۔ } ۱؎ [مسند احمد:84/2:ضعیف]‏‏‏‏
ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام نامی بیٹا دیا اور اسحاق علیہ السلام کو یعقوب علیہ السلام نامی۔ جیسے فرمان ہے کہ جب خلیل اللہ نے اپنی قوم کو اور ان کے معبودوں کو چھوڑ دیا تو اللہ نے آپ کو اسحاق اور یعقوب دیے اور ہر ایک کو نبی بنایا۔
اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ پوتا بھی آپ کی موجودگی میں ہو جائے گا اسحاق علیہ السلام بیٹے تھے اور یعقوب علیہ السلام پوتے تھے۔ اور آیت میں ہے کہ ہم نے ابراہیم علیہ السلام کی بیوی صاحبہ کو اسحٰق کی اور اسحاق علیہ السلام کے پیچھے یعقوب علیہ السلام کی بشارت دی۔ اور فرمایا کہ قوم کو چھوڑنے کے بدلے اللہ تمہارے گھر کی بستی یہ دے گا جس سے تمہاری آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ پس ثابت ہوا کی یعقوب علیہ السلام اسحاق علیہ السلام کے فرزند تھے۔ یہی سنت سے بھی ثابت ہے قرآن کی اور آیت میں ہے کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب علیہ السلام کی موت کا وقت آیا تو وہ اپنے لڑکوں سے کہنے لگے تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟ انہوں نے کہا آپ کی اور آپ کے والد ابراہیم علیہ السلام، اسماعیل علیہ السلام، اسحاق علیہ السلام کے الہ کی جو یکتا ہے اور واحد لا شریک ہے۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: { کریم بن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابرہیم علیہم السلام ہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3382_3390]‏‏‏‏
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جو مروی ہے کہ اسحاق ویعقوب علیہم السلام ابراہیم علیہ السلام کے فرزند تھے اس سے مراد فرزند کے فرزند کو فرزند کہہ دینا ہے۔ یہ نہیں کہ صلبی فرزند دونوں تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما تو کہاں ادنی آدمی بھی ایسی ٹھوکر نہیں کھا سکتا۔
ہم نے انہی کی اولاد میں کتاب و نبوت رکھ دی۔ خلیل کا خطاب انہیں کو ملا انہیں کہا گیا پھر ان کے بعد انہی کی نسل میں نبوت وحکمت رہی بنی اسرائیل کے تمام انبیاء یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام کی نسل سے ہیں۔ عیسیٰ تک تو یہ سلسلہ یوں ہی چلا۔
بنی اسرائیل کے اس آخری پیغمبر نے اپنی امت کو صاف کہہ دیا کہ میں نے تمہیں نبی عربی قریشی ہاشمی خاتم المرسلین اور سیدالرسل اولادِ آدم کی بشارت دیتا ہوں جنہیں اللہ نے چن لیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسماعیل علیہ السلام کی نسل میں سے تھے۔ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے آپ کے سوائے اور نبی نہیں ہوا۔ «علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم» ۔
ہم نے انہیں دنیا کے ثواب بھی دئیے اور آخرت کی نیکیاں بھی عطا فرمائیں۔ دنیا میں رزق وسیع، جگہ پاک، بیوی نیک، سیرت جمیل اور ذکر حسن دیا ساری دنیا کے دلوں میں آپ کی محبت ڈال دی۔ باوجودیکہ اپنی اطاعت کی توفیق روز بروز اور زیادہ دی۔ کامل اطاعت گزاری کی توفیق کے ساتھ دنیاکی بھلائیاں بھی عطا فرمائیں۔ اور آخرت میں بھی صالحین میں رکھا۔ جیسے فرمان ہے ابراہیم علیہ السلام مکمل فرماں بردار تھے موحد تھے مشرکوں میں سے نہ تھے آخرت میں بھلے لوگوں کا ساتھی ہوا۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم کو دعوت دیتے رہے اور ان کی قوم اپنے عناد پر جمی رہی۔ سوائے لوط علیہ السلام کے جو ابراہیم علیہ السلام کی دعوت پر ایمان لے آئے اللہ تعالیٰ نے لوط علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرما کر ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ جس کا ذکر عنقریب آئے گا۔ ﴿ وَقَالَ جب ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ ان کی دعوت کچھ فائدہ نہیں دے رہی تو کہنے لگے ﴿ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں۔ یعنی وہ برے خطۂ ارض کو چھوڑ کر بابرکت سرزمین کی طرف نکل گئے … اس سے مراد ملک شام ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الْ٘عَزِیْزُ بے شک وہ بڑا ہی غالب ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ جو قوت کا مالک ہے تمھیں ہدایت دینے پر قادر ہے لیکن وہ حکمت والا ہے اور اس کی حکمت ایسا کرنے کی مقتضی نہیں۔
جب ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم کو اسی حال میں چھوڑ کر چلے گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے ان کو ہلاک کر دیا تھا بلکہ صرف یہ ذکر فرمایا کہ آپ وہاں سے ہجرت کر گئے ور اپنی قوم کو چھوڑ کر چلے گئے۔ رہا وہ قصہ جو اسرائیلیات میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی قوم پر مچھروں کا دروازہ کھول دیا۔ وہ ان کا خون پی گئے، گوشت کھا گئے اور ان کے آخری آدمی تک کو ہلاک کر ڈالا اس بارے میں حتمی رائے قائم کرنے کے لیے دلیل پر توقف کرنا چاہیے جو کہ موجود نہیں ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذریعے سے ان کو تہس نہس کیا ہوتا تو ضرور اس کا ذکر فرماتا جیسے دیگر جھٹلانے والی امتوں کی ہلاکت کا ذکر فرمایا ہے۔
مگر کیا اس قصہ کا یہ راز تو نہیں کہ حضرت خلیل علیہ السلام مخلوق میں سب سے زیادہ رحیم و شفیق، سب سے زیادہ افضل، سب سے زیادہ حلیم اور سب سے زیادہ جلیل القدر لوگوں میں سے تھے۔ آپ نے کبھی اپنی قوم کے لیے بددعا نہیں کی جیسے دیگر بعض انبیائے کرام نے بددعا کی اور نہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے سبب آپ کی قوم پر عذاب نازل فرمایا… اس موقف پر یہ واقعہ بھی دلالت کرتا ہے کہ جب فرشتے قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے تو آپ نے قوم لوط کی مدافعت کے لیے ان فرشتوں سے جھگڑا کیا حالانکہ وہ آپ کی قوم نہ تھی۔ اصل صورت حال کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: لم يزلْ إبراهيمُ عليه الصلاة والسلام يَدْعو قومَه، وهم مستمرُّون على عنادهم؛ إلاَّ أنَّه آمن له بدعوته لوطٌ الذي نبَّأه الله وأرسله إلى قومِهِ كما سيأتي ذِكْره، {وقال}: إبراهيمُ حين رأى أنَّ دعوةَ قومِهِ لا تفيدُهم شيئاً: {إنِّي مهاجرٌ إلى ربِّي}؛ أي: هاجِرٌ أرضَ السوء، ومهاجِرٌ إلى الأرض المباركة، وهي الشام. {إنَّه هو العزيزُ}؛ أي: الذي له القوَّة، وهو يقدِرُ على هدايتكم، ولكنَّه حكيمٌ، ما اقتضت حكمتُه ذلك.

ولمَّا اعتزلهم وفارَقَهم وهم بحالِهِم؛ لم يذكرِ الله عنهم أنَّه أهلكهم بعذابٍ، بل ذَكَرَ اعتزالَه إيَّاهم وهجرتَه من بين أظهُرِهم، فأمَّا ما يُذْكَرُ في الإسرائيلياتِ أنَّ الله تعالى فتح على قومِهِ باب البعوض، فشرب دِماءَهم، وأكل لحومَهم، وأتْلَفَهم عن آخرهم؛ فهذا يتوقَّفُ الجزم به على الدليل الشرعيِّ، ولم يوجدْ؛ فلو كان اللَّه استأصَلَهم بالعذاب؛ لَذَكَرَه كما ذَكَرَ إهلاكَ الأمم المكذِّبة، ولكن هل من أسرار ذلك أن الخليل عليه السلام من أرحم الخلق وأفضلهم وأحلمهم وأجلِّهم؛ فلم يَدْعُ على قومِهِ كما دعا غيرُه، ولم يكن اللهُ لِيَجْزِيَ بسببه عذاباً عامًّا؟ ومما يدلُّ على ذلك أنَّه راجع الملائكة في إهلاك قوم لوط، وجادَلَهم، ودافَعَ عنهم، وهم ليسوا قومَه. والله أعلم بالحال.