ترجمہ و تفسیر — سورۃ القصص (28) — آیت 82

وَ اَصۡبَحَ الَّذِیۡنَ تَمَنَّوۡا مَکَانَہٗ بِالۡاَمۡسِ یَقُوۡلُوۡنَ وَیۡکَاَنَّ اللّٰہَ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ وَ یَقۡدِرُ ۚ لَوۡ لَاۤ اَنۡ مَّنَّ اللّٰہُ عَلَیۡنَا لَخَسَفَ بِنَا ؕ وَیۡکَاَنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿٪۸۲﴾
اور جن لوگوں نے کل اس کے مرتبے کی تمنا کی تھی انھوں نے اس حال میں صبح کی کہ کہہ رہے تھے افسوس! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے، اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ نے ہم پر احسان کیا تو وہ ضرور ہمیں دھنسا دیتا، افسوس! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ کافر فلاح نہیں پاتے۔ En
اور وہ لوگ جو کل اُس کے رتبے کی تمنا کرتے تھے صبح کو کہنے لگے ہائے شامت! خدا ہی تو اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کر دیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔ اگر خدا ہم پر احسان نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا۔ ہائے خرابی! کافر نجات نہیں پا سکتے
En
اور جو لوگ کل اس کے مرتبہ پر پہنچنے کی آرزو مندیاں کر رہے تھے وه آج کہنے لگے کہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہے روزی کشاده کر دیتا ہے اور تنگ بھی؟ اگر اللہ تعالیٰ ہم پر فضل نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا، کیا دیکھتے نہیں ہو کہ ناشکروں کو کبھی کامیابی نہیں ہوتی؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 82) ➊ {وَ اَصْبَحَ الَّذِيْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٗ بِالْاَمْسِ …: وَيْكَاَنَّ } کی تفسیر میں کئی اقوال ہیں، بعض نے فرمایا، اس کا معنی {أَلَمْ تَرَ أَنَّ} (کیا تو نے نہیں دیکھا کہ) ہے۔ بعض نے فرمایا، یہ{ وَيْ، كَ} اور {أَنَّ } کا مجموعہ ہے۔ {وَيْ} تعجب کا کلمہ ہے، کاف تعلیل کے لیے ہے (اس لیے) اور {أَنَّ } حرف تحقیق ہے۔ یعنی تعجب ہے، اس لیے کہ بے شک اللہ تعالیٰ…۔ اور بعض نے فرمایا {وَيْ } کلمہ تَنَدُّم ہے، یعنی ندامت اور افسوس کے اظہار کے لیے آتا ہے اور کاف حرف تشبیہ ہے (بمعنی گویا کہ)۔ میں نے اسی کے مطابق ترجمہ کیا ہے: افسوس! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ۔
➋ یعنی کل جو لوگ مال و دولت اور جاہ و حشمت میں قارون کو حاصل مرتبے کی تمنا کر رہے تھے، صبح ہوئی تو وہی کہہ رہے تھے کہ افسوس! معلوم یہی ہوتا ہے کہ رزق کا زیادہ ہونا یا کم ہونا کسی کے علم یا محنت پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور مرضی پر موقوف ہے۔ وہ جس کا رزق چاہتا ہے فراخ کر دیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔ کسی کو رزق زیادہ دینے کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے پاس مال کمانے کا ہنر زیادہ ہے اور کسی کا رزق تنگ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے پاس مال کمانے کا ہنر نہیں، نہ ہی مال کا زیادہ ہونا اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی یا کم ہونا اس کے ناراض ہونے کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی علامت صرف اور صرف یہ ہے کہ وہ کسی کو ایمان کی دولت عطا فرما دے، جیسا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰی قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَخْلاَقَكُمْ، كَمَا قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَرْزَاقَكُمْ، وَإِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰي يُعْطِي الْمَالَ مَنْ أَحَبَّ وَمَنْ لاَ يُحِبُّ، وَلاَ يُعْطِي الْإِيْمَانَ إِلاَّ مَنْ يُحِبُّ] [الأدب المفرد: ۲۷۵، قال الألباني صحیح، موقوف في حکم المرفوع، وانظر سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۲۷۱۴]اللہ تعالیٰ نے تمھارے درمیان تمھارے اخلاق اسی طرح تقسیم کیے ہیں جس طرح اس نے تمھارے رزق تقسیم کیے ہیں اور اللہ مال اسے بھی دیتا ہے جس سے محبت کرتا ہے اور اسے بھی جس سے محبت نہیں کرتا، مگر ایمان اس کے سوا کسی کو نہیں دیتا جس سے وہ محبت کرتا ہو۔
➌ {لَوْ لَاۤ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا لَخَسَفَ بِنَا …:} یعنی اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں قارون کی طرح نہیں بنایا، ورنہ ہماری بھی یہی حالت ہوتی۔ ہم تو حرص کی وجہ سے { يٰلَيْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِيَ قَارُوْنُ } (کاش! ہمارے لیے اس جیسا ہوتا جو قارون کو دیا گیا ہے) کہہ کر اس جیسے عذاب کے حق دار بن چکے تھے۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہماری آرزو پوری نہ کی، بلکہ قارون کا انجام آنکھوں سے دکھا کر رجوع کی توفیق فرمائی۔ اب معلوم ہوا کہ مال و دولت جتنا بھی جمع کر لیں کافر کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔
➍ ابو کبشہ الانماری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ لمبی حدیث ہے، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّمَا الدُّنْيَا لِأَرْبَعَةِ نَفَرٍ: عَبْدٍ رَزَقَهُ اللّٰهُ مَالاً وَعِلْمًا فَهُوَ يَتَّقِيْ رَبَّهُ فِيْهِ وَيَصِلُ فِيْهِ رَحِمَهُ وَيَعْلَمُ لِلّٰهِ فِيْهِ حَقًّا فَهٰذَا بِأَفْضَلِ الْمَنَازِلِ وَعَبْدٍ رَزَقَهُ اللّٰهُ عِلْمًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ مَالاً فَهُوَ صَادِقُ النِّيَّةِ يَقُوْلُ لَوْ أَنَّ لِيْ مَالاً لَعَمِلْتُ فِيْهِ بِعَمَلِ فُلاَنٍ فَهُوَ بِنِيَّتِهِ فَأَجْرُهُمَا سَوَاءٌ، وَعَبْدٍ رَزَقَهُ اللّٰهُ مَالاً وَلَمْ يَرْزُقْهُ عِلْمًا فَهُوَ يُخْبَطُ فِيْ مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ لاَ يَتَّقِيْ فِيهِ رَبَّهُ وَلاَ يَصِلُ فِيْهِ رَحِمَهُ وَلاَ يَعْلَمُ لِلّٰهِ فِيْهِ حَقًّا فَهٰذَا بِأَخْبَثِ الْمَنَازِلِ وَعَبْدٍ لَمْ يَرْزُقْهُ اللّٰهُ مَالاً وَلاَ عِلْمًا فَهُوَ يَقُوْلُ لَوْ أَنَّ لِيْ مَالاً لَعَمِلْتُ فِيْهِ بِعَمَلِ فُلاَنٍ فَهُوَ بِنِيَّتِهِ فَوِزْرُهُمَا سَوَاءٌ] [ترمذي، الزھد، باب ما جاء مثل الدنیا مثل أربعۃ نفر: ۲۳۲۵] دنیا صرف چار آدمیوں کے لیے ہے، ایک وہ بندہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال اور علم عطا فرمایا، چنانچہ وہ اس کے بارے میں اپنے رب سے ڈرتا ہے اور صلہ رحمی کرتا ہے اور اس میں اللہ کا حق جانتا ہے، یہ سب سے افضل مرتبے میں ہے اور ایک وہ بندہ جسے اللہ تعالیٰ نے علم دیا، مگر مال نہیں دیا، چنانچہ وہ سچی نیت والا ہے۔ کہتا ہے، اگر میرے پاس مال ہو تو میں فلاں شخص جیسا عمل کروں۔ سو یہ اس کی نیت ہے اور دونوں کا اجر برابر ہے۔ اور ایک وہ بندہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا، مگر علم نہیں دیا۔ چنانچہ وہ اس میں علم کے بغیر ٹامک ٹوئیاں مارتا پھرتا ہے۔ نہ اس میں اپنے رب سے ڈرتا ہے، نہ اس میں صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ اس میں اللہ کا کوئی حق جانتا ہے۔ سو وہ بدترین مرتبے میں ہے اور ایک وہ بندہ جسے اللہ نے نہ مال دیا ہے نہ علم۔ چنانچہ وہ کہتا ہے، اگر میرے پاس مال ہو تو میں فلاں شخص جیسا عمل کروں تو یہ اس کی نیت ہے اور ان دونوں کا گناہ برابر ہے۔ جو لوگ کل قارون کے مرتبے کی تمنا کر رہے تھے اس حدیث کی رو سے قارون اور وہ دونوں گناہ میں برابر تھے، اس لیے انھوں نے اللہ کا احسان مانا کہ اس نے ہمیں قارون کی طرح زمین میں دھنسا نہیں دیا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

82-1مکان سے مراد دنیاوی مرتبہ و منزلت ہے جو دنیا میں عارضی طور پر ملتا ہے۔ جیسے قارون کو ملا تھا، مطلب یہ ہے کہ قارون کی سی دولت و حشمت کی آرزو کرنے والوں نے جب قارون کا عبرت ناک حشر دیکھا تو کہا کہ مال و دولت، اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس صاحب مال سے راضی بھی ہے۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کسی کو مال زیادہ دیتا ہے اور کسی کو کم اس کا تعلق اس کی مشیت اور حکمت بالغہ سے ہے جسے اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، مال کی فروانی اس کی رضا کی اور مال کی کمی اس کی نارضگی کی دلیل نہیں ہے نہ یہ معیار فضیلت ہے۔ 82-2یعنی ہم بھی اسی حشر سے دوچار ہوتے جس سے قارون دو چار ہوا۔ 82-3یعنی قارون نے دولت پا کر شکر گزاری کے بجائے ناشکری اور معصیت کا راست اختیار کیا تو دیکھ لو اس کا انجام بھی کیسا ہوا؟ دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

82۔ اب وہی لوگ جو کل تک قارون کے رتبہ کی تمنا کر رہے تھے، کہنے لگے: ”ہماری حالت پر افسوس! اللہ ہی اپنے بندوں میں سے جس کا رزق کشادہ [111] کر دیتا ہے اور جس کا چاہے تنگ کر دیتا ہے۔ اگر اللہ ہم پر احسان نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا۔ افسوس! اصل بات یہ یہی ہے کہ کافر لوگ فلاح نہیں پا سکتے
[111] قارون کا یہ انجام دیکھ کر ان دنیا پر فریفتہ ہونے والوں کی آنکھیں کھل گئیں جو کل یہ سمجھ رہے تھے کہ قارون کس قدر خوش نصیب آدمی ہے۔ اور ان پر حقیقت واضح ہو گئی کہ جس شخص کے پاس مال ودولت کی فراوانی ہو۔ ضروری نہیں کہ اللہ بھی اس پر خوش ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو قارون کبھی اس عذاب الٰہی کا شکار نہ ہوتا۔ اور دوسری بات انھیں معلوم ہوئی کہ جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو مال و دولت کس قدر بھی زیادہ ہو کسی کام نہیں آسکتا ہے۔ بلکہ بسا اوقات یہی مال و دولت عذاب الٰہی کو کھینچ لانے کا سبب بن جاتا ہے۔ لہٰذا انسان کی خوش نصیبی کا معیار مال و دولت ہرگز نہیں ہو سکتا۔ رزق کی کمی بیشی اور چیز ہے اور انسان کی فلاح اور خوش نصیبی اور چیز ہے۔ اور یہ اچھا ہوا کہ ہماری آرزو کرنے کے باوجود اللہ نے ہمیں مال و دولت کی فراوانی عطا نہیں کی ورنہ ہمارا بھی وہی حشر ہوتا جو قارون کا ہوا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ایک بالشت کا آدمی؟ ٭٭
اوپر قارون کی سرکشی بے ایمانی کا ذکر ہو چکا یہاں اس کے انجام کا بیان ہو رہا ہے۔ ایک حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ایک شخص اپنا تہبند لٹکائے فخر سے جا رہا تھا کہ اللہ نے زمین کو حکم دیا کہ اسے نگل جا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5790]‏‏‏‏
کتاب العجائب میں نوفل بن مساحق کہتے ہیں کہ نجران کی مسجد میں میں نے ایک نوجوان کو دیکھا بڑا لمبا چوڑا بھرپور جوانی کے نشہ میں چور گٹھے ہوئے بدن والا بانکا ترچھا اچھے رنگ ورغن، والا خوبصورت، شکیل۔ میں نگاہیں جماکر اس کے جمال وکمال کو دیکھنے لگا تو اس نے کہا کیا دیکھ رہے ہو؟ میں نے کہا آپ کے حسن و جمال کامشاہدہ کر رہا ہوں اور تعجب معلوم ہو رہا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ تو ہی کیا خود اللہ تعالیٰ کو بھی تعجب ہے۔ نوفل کہتے ہیں کہ اس کلمہ کے کہتے ہی وہ گھٹنے لگا اور اس کا رنگ روپ اڑنے لگا اور قد پست ہونے لگا یہاں تک کہ بے قدر ایک بالشت کے رہ گیا۔ آخرکار اس کا کوئی قریبی رشتہ دار اپنی آستین میں ڈال کر لے گیا۔
یہ بھی مذکور ہے کہ قارون کی ہلاکت موسیٰ علیہ السلام کی بدعا سے ہوئی تھی اور اس کے سبب میں بہت کچھ اختلاف ہے۔ ایک سبب تو یہ بیان کیا جاتا ہے کہ قارون ملعون نے ایک فاحشہ عورت کو بہت کچھ مال ومتاع دے کر اس بات پر آمادہ کیا کہ عین اس وقت جب موسیٰ کلیم اللہ بنی اسرائیل میں کھڑے خطبہ کہہ رہے ہوں وہ آئے اور آپ علیہ السلام سے کہے کہ تو وہی ہے نا جس نے میرے ساتھ ایسا ایسا کیا۔ اس عورت نے یہی کیا موسیٰ علیہ السلام کانپ اٹھے اور اسی وقت نماز کی نیت باندھ لی اور دو رکعت ادا کر کے اس عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمانے لگے تجھے اس اللہ کی قسم جس نے سمندر میں سے راستہ دیا اور تیری قوم کو فرعون کے مظالم سے نجات دی اور بھی بہت سے احسانات کئے تو جو سچا واقعہ ہے اسے بیان کر۔
یہ سن کر اس عورت کا رنگ بدل گیا اور اس نے صحیح واقعہ سب کے سامنے بیان کر دیا اور اللہ سے استغفار کیا اور سچے دل سے توبہ کر لی۔ موسیٰ علیہ السلام پھر سجدہ میں گر گئے اور قارون کی سزا چاہی۔ اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوئی کہ میں نے زمین کو تیرے تابع کر دیا ہے۔ آپ علیہ السلام نے سجدے سے سر اٹھایا اور زمین سے کہا کہ تو اسے اور اس کے محل کو نگل لے۔ زمین نے یہی کیا۔
دوسرا سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ جب قارون کی سواری اس طمطراق سے نکلی سفید قیمتی خچر پر بیش بہا پوشاک پہنے سوار تھا، اس کے غلام بھی سب کے سب ریشمی لباسوں میں تھے۔ ادھر موسیٰ علیہ السلام خطبہ پڑھ رہے تھے بنو اسرائیل کا مجمع تھا۔ یہ جب وہاں سے نکلا تو سب کی نگاہیں اس پر اور اس کی دھوم دھام پر لگ گئیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے اسے دیکھ کر پوچھا آج اس طرح کیسے نکلے؟ اس نے کہا بات یہ ہے کہ ایک بات اللہ نے تمہیں دے رکھی ہے اور ایک فضیلت مجھے دے رکھی ہے اگر تمہارے پاس نبوت ہے تو میرے پاس یہ جاہ وحشم ہے اور اگر آپ کو میری فضیلت پر شک ہو تو میں تیار ہوں کہ آپ اور میں چلیں اور اللہ سے دعا کریں۔ دیکھ لیجئے کہ اللہ کس کی دعا قبول فرماتا ہے۔
آپ علیہ السلام اس بات پر آمادہ ہو گئے اور اس کو لے کر چلے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ پہلے تو دعا کرتا ہے یا میں کروں؟ اس نے کہا نہیں میں کرونگا اب اس نے دعا مانگنی شروع کر دی اور ختم ہو گئی لیکن دعا قبول نہ ہوئی۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا اب دعا میں کرتا ہوں اس نے کہا ہاں کیجئے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ زمین کو حکم دے کہ جو میں کہوں مان لے اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور وحی آئی کہ میں نے زمین کو تیری اطاعت کا حکم دے دیا ہے۔
موسیٰ علیہ السلام نے یہ سن کر زمین سے فرمایا اے زمین! اسے اور اس کے لوگوں کو پکڑ لے وہیں یہ لوگ اپنے قدموں تک زمین میں دھنس گئے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا اور پکڑے لے۔ یہ اپنے گھٹنوں تک دھنس گئے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا اور پکڑ یہ مونڈھوں تک زمین میں دھنس گئے۔ پھر فرمایا ان کے خزانے اور مال بھی یہیں لے آ۔ اسی وقت ان کے کل خزانے اور مال وہاں آ گئے اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے ان سب کو دیکھ لیا پھر آپ علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ ان کو ان کے خزانوں سمیت اپنے اندر کر لے اسی وقت یہ سب غارت ہوگئے اور زمین جیسی تھی ویسی ہوگئی۔
مروی ہے کہ ساتوں زمین تک یہ لوگ بقدر انسان دھنستے جا رہے ہیں قیامت تک اسی عذاب میں رہیں گے۔ یہاں پر بنی اسرائیل کی اور بہت سی روایتیں ہیں لیکن ہم نے ان کا ذکر یہاں چھوڑ دیا ہے۔
نہ تو مال ان کے کام آیا نہ جاہ و حشم نہ دولت وتمکنت نہ کوئی ان کی مدد کے لیے اٹھا نہ یہ خود اپنا کوئی بچاؤ کر سکے۔ تباہ ہو گئے بینشان ہو گئے مٹ گئے اور مٹادئیے گئے «اعاذنا الله» اس وقت تو ان لوگوں کی بھی آنکھیں کھل گئی جو قارون کی دولت کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے تھے۔ اور اسے نصیب دار سمجھ کر لمبے سانس لیا کرتے تھے اور رشک کیا کرتے تھے کہ کاش ہم ایسے دولت مند ہوتے۔ وہ کہنے لگے اب دیکھ لیا کہ واقعی سچ ہے دولت مند ہونا کچھ اللہ کی رضا مندی کا سبب نہیں۔ یہ اللہ کی حکمت ہے جسے چاہے زیادہ دے جسے چاہے کم دے۔ جس پر چاہے وسعت کرے جس پر چاہے تنگ کرے۔ اس کی حکمتیں وہی جانتا ہے۔
ایک حدیث میں بھی ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے تم میں اخلاق کی بھی اسی طرح تقسیم کی ہے جس طرح روزی کی۔ مال تو اللہ کی طرف سے اس کے دوستوں کو بھی ملتا ہے اور اس کے دشمنوں کو بھی۔ البتہ ایمان اللہ کی طرف سے اسی کو ملتا ہے جسے اللہ چاہتا ہو }۔ ۱؎ [مسند احمد:387/1:صحیح موقوف فی حکم المرفوع]‏‏‏‏
قارون کے اس دھنسائے جانے کو دیکھ کر وہ جو اس جیسا بننے کی امیدیں کر رہے تھے کہنے لگے اگر اللہ کا لطف واحسان ہم پر نہ ہوتا تو ہماری اس تمناکے بدلے جو ہمارے دل میں تھی کہ کاش ہم بھی ایسے ہی ہوتے۔ آج اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس کے ساتھ دھنسا دیتا۔ وہ کافر تھا اور کافر اللہ کے ہاں فلاح کے لائق نہیں ہوتے۔ نہ انہیں دنیا میں کامیابی ملے نہ آخرت میں ہی وہ چھٹکارا پائیں۔
نحوی کہتے ہیں «وَیْکَاَنَّ» کے معنی «وَیْلَكَ اِعْلَمْ اَنَّ» ہیں لیکن مخفف کر کے «وَیْکَ» رہ گیا اور «اَنْ» کے فتح نے «اِعْلَمْ» کے محذوف ہونے پر دلالت کر دی۔ لیکن اس قول کو امام ابن جریر نے ضعیف بتایا ہے۔ مگر میں کہتا ہوں یہ ضعیف کہنا ٹھیک نہیں۔ قرآن کریم میں اس کی کتابت کا ایک ساتھ ہونا اس کے ضعیف ہونے کی وجہ نہیں بن سکتا۔ اس لیے کہ کتابت کا طریقہ تو اختراعی امر ہے جو رواج پا گیا وہی معتبر سمجھا جاتا ہے۔ اس سے معنی پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
دوسرے معنی اس کے «اَلَمْ تَرَاَنَّ» کے لیے گئے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس طرح یہ دو لفظ ہیں «وَیْ» اور «کَاَنَّ» ۔ حرف «وَیْ» تعجب کے لیے ہیں اور یا تنبیہہ کے لیے اور «کَاَنَّ» معنی میں «اَظُنُّ» کے ہے۔ ان تمام اقوال میں قوی قول یہ ہے کہ یہ معنی میں «اَلَمْ تَرَ» کے ہے یعنی کیا نہ دیکھا تو نے جیسے کہ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے اور یہی معنی عربی شعر میں بھی مراد لیے گئے ہیں۔