فَالۡتَقَطَہٗۤ اٰلُ فِرۡعَوۡنَ لِیَکُوۡنَ لَہُمۡ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا ؕ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَ ہَامٰنَ وَ جُنُوۡدَہُمَا کَانُوۡا خٰطِئِیۡنَ ﴿۸﴾
تو فرعون کے گھر والوں نے اسے اٹھالیا، تاکہ آخر ان کے لیے دشمن ہو اور غم کا باعث ہو۔ بے شک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر خطا کار تھے۔
En
تو فرعون کے لوگوں نے اس کو اُٹھا لیا اس لئے کہ (نتیجہ یہ ہونا تھا کہ) وہ اُن کا دشمن اور (ان کے لئے موجب) غم ہو۔ بیشک فرعون اور ہامان اور اُن کے لشکر چوک گئے
En
آخر فرعون کے لوگوں نے اس بچے کو اٹھا لیا کہ آخرکار یہی بچہ ان کا دشمن ہوا اور ان کے رنج کا باعﺚ بنا، کچھ شک نہیں کہ فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر تھے ہی خطاکار
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 8) ➊ { فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ: ” اِلْتَقَطَ“} کا معنی ہے کسی کی گری ہوئی چیز اٹھا لینا۔ اُمّ موسیٰ کا گھر دریائے نیل کے کنارے پر فرعون کے محل کے بالائی جانب تھا۔ انھوں نے موسیٰ علیہ السلام کو ایک صندوق میں بند کر کے اسے پانی سے محفوظ بنا کر دریا میں ڈال دیا، جو بہتا ہوا فرعون کے محل کے پاس سے گزرا، اس کے لوگوں نے اسے دیکھا تو دریا سے نکال کر فرعون کے پاس لے آئے۔
➋ {لِيَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا:} اس ”لام“ کو اکثر مفسرین ”لام عاقبت“ کہتے ہیں، یعنی آل فرعون کے اسے اٹھانے کا نتیجہ یہ ہونا تھا کہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے غم کا باعث بنے۔ مگر اسے لام تعلیل بھی بنا سکتے ہیں، یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر تھی کہ آل فرعون نے اسے اٹھا لیا، تاکہ وہ ان کے لیے دشمن اور باعث غم بنے۔
➌ {اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ …:” خٰطِـِٕيْنَ “ ”أَخْطَأَ يُخْطِئُ“} (افعال) کا معنی ہے بھول کر خطا کرنا اور {”خَطِئَ يَخْطَأُ “} (ع) کا معنی ہے جان بوجھ کر گناہ کرنا، جیسا کہ فرمایا: «{ نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ }» [العلق: ۱۶] ”پیشانی کے ان بالوں کے ساتھ جو جھوٹے ہیں، خطا کار ہیں۔“ اس کا مصدر {”خِطْأٌ“} (خاء کے کسرے کے ساتھ) ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِيْرًا }» [بني إسرائیل: ۳۱] ”بے شک ان کا قتل ہمیشہ سے بہت بڑا گناہ ہے۔“ اور سورۂ یوسف میں ہے: «{ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِـِٕيْنَ }» [یوسف: ۲۹] ”یقینا تو ہی خطا کاروں سے تھی۔“ {” اِنَّ “} کے ساتھ عموماً پہلی بات کی علت بیان کی جاتی ہے، یعنی موسیٰ علیہ السلام ان کے لیے دشمن اور باعث غم کیوں بننے والے تھے؟ اس لیے کہ وہ سب اللہ کے نافرمان اور خطاکار تھے، جنھوں نے ہزاروں بچوں کو ذبح کر دیا اور بنی اسرائیل پر بے پناہ ظلم کیے۔ اللہ تعالیٰ نے انھی کے پروردہ کو ان کی ہلاکت کا ذریعہ بنا دیا۔ بعض مفسرین نے اس کا ترجمہ ”چوکنے والے“ کیا ہے، مگر {”خَاطِئٌ“} کا لغوی معنی اس ترجمے کا ساتھ نہیں دیتا۔
➋ {لِيَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا:} اس ”لام“ کو اکثر مفسرین ”لام عاقبت“ کہتے ہیں، یعنی آل فرعون کے اسے اٹھانے کا نتیجہ یہ ہونا تھا کہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے غم کا باعث بنے۔ مگر اسے لام تعلیل بھی بنا سکتے ہیں، یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر تھی کہ آل فرعون نے اسے اٹھا لیا، تاکہ وہ ان کے لیے دشمن اور باعث غم بنے۔
➌ {اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ …:” خٰطِـِٕيْنَ “ ”أَخْطَأَ يُخْطِئُ“} (افعال) کا معنی ہے بھول کر خطا کرنا اور {”خَطِئَ يَخْطَأُ “} (ع) کا معنی ہے جان بوجھ کر گناہ کرنا، جیسا کہ فرمایا: «{ نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ }» [العلق: ۱۶] ”پیشانی کے ان بالوں کے ساتھ جو جھوٹے ہیں، خطا کار ہیں۔“ اس کا مصدر {”خِطْأٌ“} (خاء کے کسرے کے ساتھ) ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِيْرًا }» [بني إسرائیل: ۳۱] ”بے شک ان کا قتل ہمیشہ سے بہت بڑا گناہ ہے۔“ اور سورۂ یوسف میں ہے: «{ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِـِٕيْنَ }» [یوسف: ۲۹] ”یقینا تو ہی خطا کاروں سے تھی۔“ {” اِنَّ “} کے ساتھ عموماً پہلی بات کی علت بیان کی جاتی ہے، یعنی موسیٰ علیہ السلام ان کے لیے دشمن اور باعث غم کیوں بننے والے تھے؟ اس لیے کہ وہ سب اللہ کے نافرمان اور خطاکار تھے، جنھوں نے ہزاروں بچوں کو ذبح کر دیا اور بنی اسرائیل پر بے پناہ ظلم کیے۔ اللہ تعالیٰ نے انھی کے پروردہ کو ان کی ہلاکت کا ذریعہ بنا دیا۔ بعض مفسرین نے اس کا ترجمہ ”چوکنے والے“ کیا ہے، مگر {”خَاطِئٌ“} کا لغوی معنی اس ترجمے کا ساتھ نہیں دیتا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
8-1یہ تابوت بہتا بہتا فرعون کے محل کے پاس پہنچ گیا، جو لب دریا تھا اور وہاں فرعون کے نوکروں چاکروں نے پکڑ کر باہر نکال لیا۔ 8-2یہ عاقبت کے لئے ہے۔ یعنی انہوں نے تو اسے اپنا بچہ اور آنکھوں کی ٹھنڈک بنا کرلیا تھا نہ کہ دشمن سمجھ کر۔ لیکن انجام ان کے اس فعل کا یہ ہوا کہ وہ ان کا دشمن اور رنج و غم کا باعث، ثابت ہوا۔ 8-3یہ اس سے پہلے کی تعلیل ہے کہ موسیٰ ؑ ان کے لئے دشمن کیوں ثابت ہوئے؟ اس لئے کہ وہ سب اللہ کے نافرمان اور خطا کار تھے، اللہ تعالیٰ نے سزا کے طور پر ان کے پروردہ کو ہی ان کی ہلاکت کا ذریعہ بنادیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
8۔ چنانچہ فرعون کے گھر والوں نے اس بچے کو اٹھا لیا کہ وہ ان کے لئے دشمن اور رنج [12] کا باعث بنے بلا شبہ فرعون، ہامان اور [13] ان کے لشکر خطا کار لوگ تھے
[12] سیدنا موسیٰؑ فرعون کی بیوی کے پاس :۔
چنانچہ ام موسیٰ نے وحی کے مطابق اس بچہ کو کسی تابوت یا ٹوکرے میں رکھ کر دریائے نیل کی موجوں کے سپرد کر دیا۔ یہ تابوت موجوں پر سفر کرتے کرتے جب اس مقام پر پہنچا جہاں فرعون کے محلات تھے تو فرعون کے اہل کاروں نے اسے دیکھ لیا اور اسے پکڑ کر فرعون اور اس کی بیوی کے سامنے پیش کر دیا۔ یا ممکن ہے کہ فرعون اور اس کی بیوی سیر و تفریح کی غرض سے محل سے نکل کر دیا کے کنارے آئے ہوئے ہوں اور انہوں نے خود یہ تابوت دیکھ کر اسے نکال لانے کا حکم دیا ہو۔ چنانچہ فرعون اور اس کی بیوی اس بچہ کو اپنے ہاں لے آئے۔ جو ان کا دشمن اور ان کی تباہی کا باعث بننے والا تھا۔
[13] اس جملہ کے دو مطلب ہو سکتے ہیں: ایک یہ کہ ایک بچہ کے خطرہ کی بنا پر ہزار ہا بچوں کا قتل کر دینا ان کی بہت بڑی غلطی اور حماقت تھی۔ اور ان کی یہ حماقت اس لحاظ سے اور بھی زیادہ واضح ہو گئی تھی کہ جس بچہ سے خطرہ کے سد باب کے لئے وہ یہ سفاکی کر رہے تھے وہ تو ان کے پاس پہنچ چکا تھا۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ خطاکار اس لحاظ سے تھے کہ وہ اپنی اس ظالمانہ تدبیر سے اللہ کی تقدیر کو روکنا چاہتے تھے۔
[13] اس جملہ کے دو مطلب ہو سکتے ہیں: ایک یہ کہ ایک بچہ کے خطرہ کی بنا پر ہزار ہا بچوں کا قتل کر دینا ان کی بہت بڑی غلطی اور حماقت تھی۔ اور ان کی یہ حماقت اس لحاظ سے اور بھی زیادہ واضح ہو گئی تھی کہ جس بچہ سے خطرہ کے سد باب کے لئے وہ یہ سفاکی کر رہے تھے وہ تو ان کے پاس پہنچ چکا تھا۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ خطاکار اس لحاظ سے تھے کہ وہ اپنی اس ظالمانہ تدبیر سے اللہ کی تقدیر کو روکنا چاہتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بچوں کا قتل اور بنی اسرائیل ٭٭
مروی ہے کہ جب بنی اسرائیل کے ہزار ہا بچے قتل ہو چکے تو قبطیوں کو اندیشہ ہوا کہ اگر بنو اسرائیل ختم ہو گئے توجتنے ذلیل کام اور بے ہودہ خدمتیں حکومت ان سے لے رہیں ہیں کہیں ہم سے نہ لینے لگیں۔ تو دربار میں میٹنگ ہوئی اور یہ رائے قرار پائی کہ ایک سال مار ڈالے جائیں اور دوسرے سال قتل نہ کئے جائیں۔
ہارون علیہ السلام اس سال تولد ہوئے جس سال بچوں کو قتل نہ کیا جاتا تھا لیکن موسیٰ علیہ السلام اس سال پیدا ہوئے جس سال بنی اسرائیل کے لڑکے عام طور پر تہ تیغ ہو رہے تھے۔ عورتیں گشت کرتی رہتی تھی اور حاملہ عورتوں کا خیال رکھتی تھی۔ ان کے نام لکھ لیے جاتے تھے۔ وضع حمل کے وقت یہ عورتیں پہنچ جاتی تھی اگر لڑکی ہوئی تو واپس چلی جاتی تھی اور اگر لڑکا ہوا تو فوراً جلادوں کو خبر کر دیتی تھی۔ یہ لوگ تیز چھرے لیے اسی وقت آ جاتے تھے اور ماں باپ کے سامنے اسی وقت ان کے بچوں کوٹکڑے ٹکڑے کر کے چلے جاتے تھے۔
موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کا جب حمل ہوا تو عام حمل کی طرح اس کا پتا نہ چلا اور جو عورتیں اس کام پر مامور تھی اور جتنی دائیاں آتی تھی کسی کو حمل کا پتہ نہ چلا۔ یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام تولد بھی ہو گئے آپ علیہ السلام کی والدہ سخت پریشان ہونے لگی اور ہر وقت خوفزدہ رہنے لگیں اور اپنے بچے سے محبت بھی اتنی تھی کہ کسی ماں کو اپنے بچے سے اتنی نہ ہو گی۔
ایک ماں پر ہی کیا موقوف اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کا چہرہ ہی ایسا بنایا تھا۔ کہ جس کی نظر پڑ جاتی تھی اس کے دل میں ان کی محبت بیٹھ جاتی تھی۔ جیسے جناب باری تعالیٰ کا ارشاد ہے آیت «أَنِ اقْذِفِيهِ فِي التَّابُوتِ فَاقْذِفِيهِ فِي الْيَمِّ فَلْيُلْقِهِ الْيَمُّ بِالسَّاحِلِ يَأْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّي وَعَدُوٌّ لَّهُ وَأَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّي وَلِتُصْنَعَ عَلَىٰ عَيْنِي» ۱؎ [20-طه:39] ’ میں نے اپنی خصوصی محبت سے تمہیں نوازا ‘۔
پس جب کہ والدہ موسیٰ علیہ السلام ہر وقت کبیدہ خاطر، خوفزدہ اور رنجیدہ رہنے لگیں تو اللہ نے ان کے دل میں خیال ڈالا کہ اسے دودھ پلاتی رہ اور خوف کے موقعہ پر انہیں دریائے نیل میں بہادے جس کے کنارے پر ہی آپ کا مکان تھا۔ چنانچہ یہی کیا کہ ایک پیٹی کی وضع کا صندوق بنا لیا اس میں موسیٰ کو رکھ دیا دودھ پلا دیا کرتیں اور اس میں سلادیا کرتیں۔ جہاں کوئی ایسا ڈراؤنا موقعہ آیا تو اس صندوق کو دریا میں بہادیتیں اور ایک ڈوری سے اسے باندھ رکھا تھا خوف ٹل جانے کے بعد اسے کھینچ لیتیں۔
ہارون علیہ السلام اس سال تولد ہوئے جس سال بچوں کو قتل نہ کیا جاتا تھا لیکن موسیٰ علیہ السلام اس سال پیدا ہوئے جس سال بنی اسرائیل کے لڑکے عام طور پر تہ تیغ ہو رہے تھے۔ عورتیں گشت کرتی رہتی تھی اور حاملہ عورتوں کا خیال رکھتی تھی۔ ان کے نام لکھ لیے جاتے تھے۔ وضع حمل کے وقت یہ عورتیں پہنچ جاتی تھی اگر لڑکی ہوئی تو واپس چلی جاتی تھی اور اگر لڑکا ہوا تو فوراً جلادوں کو خبر کر دیتی تھی۔ یہ لوگ تیز چھرے لیے اسی وقت آ جاتے تھے اور ماں باپ کے سامنے اسی وقت ان کے بچوں کوٹکڑے ٹکڑے کر کے چلے جاتے تھے۔
موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کا جب حمل ہوا تو عام حمل کی طرح اس کا پتا نہ چلا اور جو عورتیں اس کام پر مامور تھی اور جتنی دائیاں آتی تھی کسی کو حمل کا پتہ نہ چلا۔ یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام تولد بھی ہو گئے آپ علیہ السلام کی والدہ سخت پریشان ہونے لگی اور ہر وقت خوفزدہ رہنے لگیں اور اپنے بچے سے محبت بھی اتنی تھی کہ کسی ماں کو اپنے بچے سے اتنی نہ ہو گی۔
ایک ماں پر ہی کیا موقوف اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کا چہرہ ہی ایسا بنایا تھا۔ کہ جس کی نظر پڑ جاتی تھی اس کے دل میں ان کی محبت بیٹھ جاتی تھی۔ جیسے جناب باری تعالیٰ کا ارشاد ہے آیت «أَنِ اقْذِفِيهِ فِي التَّابُوتِ فَاقْذِفِيهِ فِي الْيَمِّ فَلْيُلْقِهِ الْيَمُّ بِالسَّاحِلِ يَأْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّي وَعَدُوٌّ لَّهُ وَأَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّي وَلِتُصْنَعَ عَلَىٰ عَيْنِي» ۱؎ [20-طه:39] ’ میں نے اپنی خصوصی محبت سے تمہیں نوازا ‘۔
پس جب کہ والدہ موسیٰ علیہ السلام ہر وقت کبیدہ خاطر، خوفزدہ اور رنجیدہ رہنے لگیں تو اللہ نے ان کے دل میں خیال ڈالا کہ اسے دودھ پلاتی رہ اور خوف کے موقعہ پر انہیں دریائے نیل میں بہادے جس کے کنارے پر ہی آپ کا مکان تھا۔ چنانچہ یہی کیا کہ ایک پیٹی کی وضع کا صندوق بنا لیا اس میں موسیٰ کو رکھ دیا دودھ پلا دیا کرتیں اور اس میں سلادیا کرتیں۔ جہاں کوئی ایسا ڈراؤنا موقعہ آیا تو اس صندوق کو دریا میں بہادیتیں اور ایک ڈوری سے اسے باندھ رکھا تھا خوف ٹل جانے کے بعد اسے کھینچ لیتیں۔
ایک مرتبہ ایک ایسا شخص گھر میں آنے لگا جس سے آپ علیہ السلام کی والدہ صاحبہ کو بہت دہشت ہوئی دوڑ کر بچے کو صندوق میں لٹاکر دریا میں بہادیا اور جلدی اور گھبراہٹ میں ڈوری باندھنی بھول گئیں صندوق پانی کی موجوں کے ساتھ زور سے بہنے لگا اور فرعون کے محل کے پاس گزرا تو لونڈیوں نے اسے اٹھا لیا اور فرعون کی بیوی کے پاس لے گئیں راستے میں انہوں نے اسے ڈر کے مارے کھولا نہ تھا کہ کہیں تہمت ان پر نہ لگ جائے جب فرعون کی بیوی کے پاس اسے کھولا گیا تو دیکھا کہ اس میں تو ایک نہایت خوبصورت نورانی چہرے والا صحیح سالم بچہ لیٹا ہوا ہے جسے دیکھتے ہی ان کا دل مہر محبت سے بھر گیا اور اس بچہ کی پیاری شکل دل میں گھر کر گئی۔
اس میں بھی رب کی مصلحت تھی کہ فرعون کی بیوی کو راہ راست دکھائے اور فرعون کے سامنے اس کا ڈر لائے اور اسے اور اس کے غرور کو ڈھائے تو فرماتا ہے کہ ’ آل فرعون نے اس صندوق کو اٹھا لیا اور انجام کار وہ ان کی دشمنی اور ان کے رنج وملال کا باعث ہوا ‘۔ محمد بن اسحاق وغیرہ فرماتے ہیں «لِیکُوْنَ» کا لام لام عاقبت ہے لام تعلیل نہیں۔ اس لیے کہ ان کا ارادہ نہ تھا بظاہر یہ ٹھیک بھی معلوم ہوتا ہے لیکن معنی کو دیکھتے ہوئے لام کو لام تعلیل سمجھنے میں بھی کوئی حرج نہیں آتا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس صندوقچے کا اٹھانے والا اس لیے بنایا تھا کہ اللہ اسے ان کے لیے دشمن بنا دے اور ان کے رنج و غم کا باعث بنائے بلکہ اس میں ایک لطف یہ بھی ہے کہ جس سے وہ بچنا چاہتے تھے وہ ان کے سر چڑھ گیا۔
اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا گیا کہ ’ فرعون ہامان اور ان کے ساتھی خطا کار تھے ‘۔
روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے قدریہ کو جو لوگ کہ تقدیر کے منکر ہیں ایک خط میں لکھا کہ موسیٰ علیہ السلام کے سابق علم میں فرعون کے دشمن اور اس کے لیے باعث رنج و غم تھے جیسے قرآن کی اس آیت سے ثابت ہے لیکن تم کہتے ہو کہ فرعون چاہتا تو موسیٰ علیہ السلام اس کے مددگار اور دوست ہوتے۔
اس میں بھی رب کی مصلحت تھی کہ فرعون کی بیوی کو راہ راست دکھائے اور فرعون کے سامنے اس کا ڈر لائے اور اسے اور اس کے غرور کو ڈھائے تو فرماتا ہے کہ ’ آل فرعون نے اس صندوق کو اٹھا لیا اور انجام کار وہ ان کی دشمنی اور ان کے رنج وملال کا باعث ہوا ‘۔ محمد بن اسحاق وغیرہ فرماتے ہیں «لِیکُوْنَ» کا لام لام عاقبت ہے لام تعلیل نہیں۔ اس لیے کہ ان کا ارادہ نہ تھا بظاہر یہ ٹھیک بھی معلوم ہوتا ہے لیکن معنی کو دیکھتے ہوئے لام کو لام تعلیل سمجھنے میں بھی کوئی حرج نہیں آتا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس صندوقچے کا اٹھانے والا اس لیے بنایا تھا کہ اللہ اسے ان کے لیے دشمن بنا دے اور ان کے رنج و غم کا باعث بنائے بلکہ اس میں ایک لطف یہ بھی ہے کہ جس سے وہ بچنا چاہتے تھے وہ ان کے سر چڑھ گیا۔
اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا گیا کہ ’ فرعون ہامان اور ان کے ساتھی خطا کار تھے ‘۔
روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے قدریہ کو جو لوگ کہ تقدیر کے منکر ہیں ایک خط میں لکھا کہ موسیٰ علیہ السلام کے سابق علم میں فرعون کے دشمن اور اس کے لیے باعث رنج و غم تھے جیسے قرآن کی اس آیت سے ثابت ہے لیکن تم کہتے ہو کہ فرعون چاہتا تو موسیٰ علیہ السلام اس کے مددگار اور دوست ہوتے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ اس بچے کو دیکھتے ہی فرعون بدکا کہ ایسا نہ ہو کسی اسرائیلی عورت نے اسے پھینک دیا ہو اور کہیں یہ وہی نہ ہو جس کے قتل کرنے کے لیے ہزاروں بچوں کو فنا کر چکا ہوں ‘۔
یہ سوچ کر اس نے انہیں بھی قتل کرنا چاہا لیکن اس کی بیوی آسیہ رضی اللہ عنہا نے ان کی سفارش کی۔ فرعون کو اس کے ارادے سے روکا اور کہا اسے قتل نہ کیجیئے بہت ممکن ہے کہ یہ آپ کی اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہو مگر فرعون نے جواب دیا کہ تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہو لیکن مجھے تو آنکھوں کی ٹھنڈک کی ضروت نہیں۔
اللہ کی شان دیکھئیے کہ یہی ہوا کہ آسیہ کو اللہ نے اپنا دین نصیب فرمایا اور موسیٰ علیہ السلام کی وجہ سے انہوں نے ہدایت پائی اور اس متکبر کو اللہ نے اپنے نبی علیہ السلام کے ہاتھوں ہلاک کیا۔ نسائی وغیرہ کے حوالے سے سورۃ طہٰ کی تفسیر میں حدیث فتون میں یہ قصہ پورا بیان ہو چکا ہے۔
یہ سوچ کر اس نے انہیں بھی قتل کرنا چاہا لیکن اس کی بیوی آسیہ رضی اللہ عنہا نے ان کی سفارش کی۔ فرعون کو اس کے ارادے سے روکا اور کہا اسے قتل نہ کیجیئے بہت ممکن ہے کہ یہ آپ کی اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہو مگر فرعون نے جواب دیا کہ تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہو لیکن مجھے تو آنکھوں کی ٹھنڈک کی ضروت نہیں۔
اللہ کی شان دیکھئیے کہ یہی ہوا کہ آسیہ کو اللہ نے اپنا دین نصیب فرمایا اور موسیٰ علیہ السلام کی وجہ سے انہوں نے ہدایت پائی اور اس متکبر کو اللہ نے اپنے نبی علیہ السلام کے ہاتھوں ہلاک کیا۔ نسائی وغیرہ کے حوالے سے سورۃ طہٰ کی تفسیر میں حدیث فتون میں یہ قصہ پورا بیان ہو چکا ہے۔
حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے شاید ہمیں نفع پہنچائے۔ ان کی امید اللہ نے پوری کی دنیا میں موسیٰ علیہ السلام ان کی ہدایت کا ذریعہ بنے اور آخرت میں جنت میں جانے کا۔
اور کہتی ہیں کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم اسے اپنا بچہ بنا لیں۔ ان کی کوئی اولاد نہ تھی تو چاہا کہ موسیٰ علیہ السلام کو متبنٰی بنا لیں۔ ان میں سے کسی کو شعور نہ تھا کہ قدرت کس طرح پوشیدہ اپنا ارادہ پوراکر رہی ہے۔
اور کہتی ہیں کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم اسے اپنا بچہ بنا لیں۔ ان کی کوئی اولاد نہ تھی تو چاہا کہ موسیٰ علیہ السلام کو متبنٰی بنا لیں۔ ان میں سے کسی کو شعور نہ تھا کہ قدرت کس طرح پوشیدہ اپنا ارادہ پوراکر رہی ہے۔