قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِیۡتُہٗ عَلٰی عِلۡمٍ عِنۡدِیۡ ؕ اَوَ لَمۡ یَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ قَدۡ اَہۡلَکَ مِنۡ قَبۡلِہٖ مِنَ الۡقُرُوۡنِ مَنۡ ہُوَ اَشَدُّ مِنۡہُ قُوَّۃً وَّ اَکۡثَرُ جَمۡعًا ؕ وَ لَا یُسۡـَٔلُ عَنۡ ذُنُوۡبِہِمُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴿۷۸﴾
اس نے کہا مجھے تو یہ ایک علم کی بنا پر دیا گیا ہے، جو میرے پاس ہے۔ اور کیا اس نے نہیں جانا کہ اللہ اس سے پہلے کئی نسلیں ہلاک کر چکا ہے جو اس سے زیادہ طاقت ور اور زیادہ جماعت والی تھیں اور مجرموں سے ان کے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جاتا۔
En
بولا کہ یہ (مال) مجھے میری دانش (کے زور) سے ملا ہے کیا اس کو معلوم نہیں کہ خدا نے اس سے پہلے بہت سی اُمتیں جو اس سے قوت میں بڑھ کر اور جمعیت میں بیشتر تھیں ہلاک کر ڈالی ہیں۔ اور گنہگاروں سے اُن کے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا
En
قارون نے کہا یہ سب کچھ مجھے میری اپنی سمجھ کی بنا پر ہی دیا گیا ہے، کیا اسے اب تک یہ نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے بہت سے بستی والوں کو غارت کر دیا جو اس سے بہت زیاده قوت والے اور بہت بڑی جمع پونجی والے تھے۔ اور گنہگاروں سے ان کے گناہوں کی باز پرس ایسے وقت نہیں کی جاتی
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 78) ➊ {قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِيْ:} اس نے کہا اللہ کا مجھ پر کوئی احسان نہیں، یہ سب کچھ تو مجھے صرف اس علم کی وجہ سے دیا گیا ہے جو میرے پاس ہے۔ یہ اس طرح کی بات ہے جیسے آج کل کے دہر یہ سائنس دان کہتے ہیں کہ ہماری تمام تر ترقی ہمارے علوم کی وجہ سے ہے، اللہ تعالیٰ کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ یہ عقل، ذہانت اور مہارت عطا کرنے والا کون ہے؟ دوسری تفسیر یہ ہے کہ {” عِنْدِيْ “} کو {” عِلْمٍ “} کے متعلق ماننے کے بجائے {” اُوْتِيْتُهٗ “} کے متعلق مانا جائے، اس صورت میں معنی یہ ہو گا کہ ”میرے نزدیک یہ سب کچھ مجھے اللہ تعالیٰ کے میرے اعمال و اوصاف کو جاننے کی بنا پر ملا ہے۔“ یعنی اسے معلوم تھا کہ میں اس قابل ہوں، اگر میں اس کی نگاہ میں ناپسندیدہ ہوتا تو وہ مجھے یہ مال کیوں دیتا۔
➋ وہ علم جو قارون کو دیا گیا تھا، کیا تھا؟ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ علم کیمیا تھا، جس کے ساتھ وہ سونا بنا لیتا تھا، مگر اس کی کوئی دلیل نہیں۔ اللہ تعالیٰ بندے کو تجارت، صنعت، زراعت، غرض جس ذریعے سے بھی رزق دے وہ اس ذریعے کو رزق کا باعث قرار دے لیتا ہے اور اس مالک کو بھول جاتا ہے جس نے اس کے لیے اس علم و ہنر کو ذریعہ بنایا۔
➌ {اَوَ لَمْ يَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ …:} یعنی یہ شخص جو اپنے علم و ہنر پر اس قدر مغرور تھا، کیا اسے معلوم نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے اس سے زیادہ قوت اور زیادہ جمع شدہ مال اور زیادہ جماعتوں والے لوگوں کو ہلاک کر دیا؟ ان کا علم و ہنر انھیں ہلاک ہونے سے نہ روک سکا، تو اس کا وہ علم جس پر اسے ناز ہے اسے ہلاک ہونے سے کیسے بچا سکے گا؟ اور اگر دنیا میں زیادہ مال و دولت اور زیادہ طرف داروں کا ہونا اللہ تعالیٰ کے خوش ہونے کی دلیل ہے تو پھر ان لوگوں پر عذاب کیوں آیا جو اس سے زیادہ قوت والے اور زیادہ تعداد والے تھے؟
➍ { وَ لَا يُسْـَٔلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ:} یعنی مجرم تو یہی دعویٰ کیا کرتے ہیں کہ ہم بہت اچھے لوگ ہیں، مگر جب ان پر جرم ثابت ہو جاتا ہے اور اللہ کا عذاب آتا ہے تو ان سے پوچھ کر انھیں نہیں پکڑا جاتا کہ تمھارے گناہ کیا ہیں۔
➎ دوسرے مقام پر جو فرمایا ہے: «{ فَوَرَبِّكَ لَنَسْـَٔلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ (92) عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ }» [الحجر: ۹۲، ۹۳] (سو تیرے رب کی قسم ہے! یقینا ہم ان سب سے ضرور سوال کریں گے، اس کے بارے میں جو وہ کیا کرتے تھے) تو وہ اس آیت کے منافی نہیں، کیونکہ قیامت کا دن بہت لمبا ہے۔ مجرموں کو ہلاک کرنے کے وقت ان سے ان کے گناہوں کے بارے میں نہیں پوچھا جاتا، ہاں دوسرے مقامات اور مواقع پر ان سے سوال کیا جاتا ہے۔
➋ وہ علم جو قارون کو دیا گیا تھا، کیا تھا؟ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ علم کیمیا تھا، جس کے ساتھ وہ سونا بنا لیتا تھا، مگر اس کی کوئی دلیل نہیں۔ اللہ تعالیٰ بندے کو تجارت، صنعت، زراعت، غرض جس ذریعے سے بھی رزق دے وہ اس ذریعے کو رزق کا باعث قرار دے لیتا ہے اور اس مالک کو بھول جاتا ہے جس نے اس کے لیے اس علم و ہنر کو ذریعہ بنایا۔
➌ {اَوَ لَمْ يَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ …:} یعنی یہ شخص جو اپنے علم و ہنر پر اس قدر مغرور تھا، کیا اسے معلوم نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے اس سے زیادہ قوت اور زیادہ جمع شدہ مال اور زیادہ جماعتوں والے لوگوں کو ہلاک کر دیا؟ ان کا علم و ہنر انھیں ہلاک ہونے سے نہ روک سکا، تو اس کا وہ علم جس پر اسے ناز ہے اسے ہلاک ہونے سے کیسے بچا سکے گا؟ اور اگر دنیا میں زیادہ مال و دولت اور زیادہ طرف داروں کا ہونا اللہ تعالیٰ کے خوش ہونے کی دلیل ہے تو پھر ان لوگوں پر عذاب کیوں آیا جو اس سے زیادہ قوت والے اور زیادہ تعداد والے تھے؟
➍ { وَ لَا يُسْـَٔلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ:} یعنی مجرم تو یہی دعویٰ کیا کرتے ہیں کہ ہم بہت اچھے لوگ ہیں، مگر جب ان پر جرم ثابت ہو جاتا ہے اور اللہ کا عذاب آتا ہے تو ان سے پوچھ کر انھیں نہیں پکڑا جاتا کہ تمھارے گناہ کیا ہیں۔
➎ دوسرے مقام پر جو فرمایا ہے: «{ فَوَرَبِّكَ لَنَسْـَٔلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ (92) عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ }» [الحجر: ۹۲، ۹۳] (سو تیرے رب کی قسم ہے! یقینا ہم ان سب سے ضرور سوال کریں گے، اس کے بارے میں جو وہ کیا کرتے تھے) تو وہ اس آیت کے منافی نہیں، کیونکہ قیامت کا دن بہت لمبا ہے۔ مجرموں کو ہلاک کرنے کے وقت ان سے ان کے گناہوں کے بارے میں نہیں پوچھا جاتا، ہاں دوسرے مقامات اور مواقع پر ان سے سوال کیا جاتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
78-1ان نصیحتوں کے جواب میں اس نے یہ کہا۔ اس کا مطلب ہے کہ مجھے کسب و تجارت کا جو فن آتا ہے، یہ دولت تو اسکا اور ثمر ہے، اللہ کے فضل و کرم سے اسکا کیا تعلق ہے؟ جو سرے معنی یہ کیے گئے ہیں کہ اللہ نے مجھے یہ مال دیا ہے تو اس نے اپنے علم کی وجہ سے دیا ہے کہ میں اس کا مستحق ہوں اور میرے لیے اس نے یہ پسند کیا ہے۔ جیسے دوسرے مقام پر انسانوں کا ایک اور قول اللہ نے نقل فرمایا ہے ، جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے، پھر جب ہم اسے اپنی نعمت سے نواز دیتے ہیں تو کہتا ہے (اِنَّمَآ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰي عِلْمٍ عِنْدِيْ) 28۔ القصص:78) أی۔ علی علم من اللہ یعنی مجھے یہ نعمت اس لیے ملی ہے کہ اللہ کے علم میں میں اس کا مستحق تھا، ایک مقام پر ہے،، جب ہم انسان پر تکلیف کے بعد اپنی رحمت کرتے ہیں تو کہتا ہے۔ (ھٰذَا لِي) (41۔ فصلت:50) أی۔ ہذا أستحقہ یہ تو میرا استحقاق ہے (ابن کثیر) بعض کہتے ہیں کہ قارون کو کیمیا (سونا بنانے کا) علم آتا تھا، یہاں یہی مراد ہے اسی کیمیا گری سے اس نے اتنی دولت کمائی تھی۔ لیکن امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ یہ علم سراسر جھوٹ، فریب اور دھوکہ ہے۔ کوئی شخص اس بات پر قادر نہیں ہے کہ وہ کسی چیز کی ماہیت تبدیل کر دے۔ اس لیے قارون کے لیے بھی یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ دوسری دھاتوں کو تبدیل کر کے سونا بنا لیا کرتا اور اس طرح دولت کے انبار جمع کرلیتا۔ 78-2یعنی قوت اور مال کی فروانی۔ یہ فضیلت کا باعث نہیں، اگر ایسا ہوتا تو پچھلی قومیں تباہ و برباد نہ ہوتیں۔ اسلئے قارون کا اپنی دولت پر گھمنڈ کرنے اور اسے باعث فضیلت گرداننے کا کوئی جواز نہیں۔ 78-3یعنی جب گناہ اتنی زیادہ تعداد میں ہوں کہ ان کی وجہ سے مستحق عذاب قرار دئے گئے ہوں تو پھر ان سے باز پرس نہیں ہوتی، بلکہ اچانک ان کا مواخذہ کرلیا جاتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
78۔ وہ کہنے لگا: ”یہ تو جو کچھ مجھے ملا ہے اس علم کی بدولت [104] ملا ہے جو مجھے حاصل ہے“ کیا اسے یہ معلوم نہیں۔ سو اللہ اس سے پہلے ایسے بہت سے [105] لوگوں کو ہلاک کر چکا ہے جو قوت میں اس سے سخت اور مال و دولت میں اس سے زیادہ تھے۔؟ اور مجرموں کے گناہوں کے متعلق ان سے تو نہ پوچھا جائے گا۔ [106]
[104] قارون اس نصیحت کے جواب میں کہنے لگا:۔
میری دولت میں دوسروں کا حق کیسے آگیا۔ یہ ساری دولت میں نے خود کمائی ہے۔ محنت کر کے کمائی ہے۔ اپنے ہنر، تجربہ اور قابلیت کی بنا پر کمائی ہے۔ پھر اس میں دوسروں کا حق کیوں کر شامل ہو گیا؟ جو تم مجھے دوسروں کا حق ادا کرنے کی تلقین کرنے لگے ہو۔
[105] قارون کا جواب اور نا عاقبت اندیشی:۔
قارون کو یہ جواب دیتے وقت اتنا بھی خیال نہ آیا کہ جس ہنر، تجربہ اور قابلیت کا وہ ذکر کر رہا ہے وہ اسے اللہ نے ہی بخشی ہے۔ لہٰذا وہ اپنے حقیقی محسن کو بھول کر اپنی ہی دولت اور لیاقت پر ناز کرنے لگا۔ پھر اسے یہ بھی خیال نہ آیا کہ دولت ڈھلتی چھاؤں ہے اس کے پاس اگر جمع ہو گئی ہے تو اس سے چھن بھی سکتی ہے۔ پھر یہ دولت کیا امن و سلامتی کی بھی ضامن بن سکتی ہے؟ کتنے ہی لوگ تھے جو اس سے طاقت اور دولت میں بڑھ کر تھے لیکن جب انہوں نے سرکشی دکھلائی تو اللہ نے تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ اور اپنی ساری دولت اور خزانے اپنے پیچھے چھوڑ کر انتہائی بے بسی اور حسرت و یاس کی موت مر گئے۔
[106] یعنی مجرموں کے تمام اعمال و اقوال کا ریکارڈ اللہ کے ہاں پہلے سے ہی موجود ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ مجرموں سے ان کے گناہوں کے سوال کیا جائے اور اگر وہ ان کا اعتراف کر لیں تو تب ہی ان کے جرم ثابت ہوں گے۔ اور قیامت کے دن ان سے پوچھا بھی جائے گا تو ان کو خلق خدا کے سامنے ذلیل و رسوا کرنے اور زجر و توبیخ کے طور پر پوچھا جائے گا۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے مجرموں کے اعمال کے اچھا یا برا ہونے کا معیار مجرموں کے اپنے خیال پر منحصر نہیں۔ مجرم تو ہمیشہ یہی دعویٰ کریں گے کہ وہ بڑے اچھے لوگ ہیں اور ان میں کوئی برائی نہیں۔ جیسے کہ قارون بھی اپنے آپ کو درست ہی سمجھتا تھا۔ لہٰذا مجرموں کو جو سزا ملے گی اسی کا انحصار اس بات پر نہیں ہو گا کہ آیا مجرم خود بھی اس کام کو جرم سمجھتا ہے یا نہیں۔
[106] یعنی مجرموں کے تمام اعمال و اقوال کا ریکارڈ اللہ کے ہاں پہلے سے ہی موجود ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ مجرموں سے ان کے گناہوں کے سوال کیا جائے اور اگر وہ ان کا اعتراف کر لیں تو تب ہی ان کے جرم ثابت ہوں گے۔ اور قیامت کے دن ان سے پوچھا بھی جائے گا تو ان کو خلق خدا کے سامنے ذلیل و رسوا کرنے اور زجر و توبیخ کے طور پر پوچھا جائے گا۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے مجرموں کے اعمال کے اچھا یا برا ہونے کا معیار مجرموں کے اپنے خیال پر منحصر نہیں۔ مجرم تو ہمیشہ یہی دعویٰ کریں گے کہ وہ بڑے اچھے لوگ ہیں اور ان میں کوئی برائی نہیں۔ جیسے کہ قارون بھی اپنے آپ کو درست ہی سمجھتا تھا۔ لہٰذا مجرموں کو جو سزا ملے گی اسی کا انحصار اس بات پر نہیں ہو گا کہ آیا مجرم خود بھی اس کام کو جرم سمجھتا ہے یا نہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اپنی عقل و دانش پہ مغرور قارون ٭٭
قوم کے علماء کی نصیحتوں کو سن کر قارون نے جو جواب دئیے اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اس نے کہا آپ اپنی نصیحتوں کو رہنے دیجئیے میں خوب جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو دے رکھا ہے اسی کا مستحق میں تھا، میں ایک عقلمند زیرک، دانا شخص ہوں میں اسی قابل ہوں اور اسے بھی اللہ جانتا ہے اسی لیے اس نے مجھے یہ دولت دی ہے۔
بعض انسانوں کا یہ خاصہ ہوتا ہے جیسے قرآن میں ہے کہ «فَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ثُمَّ إِذَا خَوَّلْنَاهُ نِعْمَةً مِّنَّا قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ بَلْ هِيَ فِتْنَةٌ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ» [39-الزمر:49] جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تب بڑی عاجزی سے ہمیں پکارتا ہے اور جب انسان کو کوئی نعمت و راحت اسے ہم دے دیتے ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ آیت «قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰي عِلْمٍ عِنْدِيْ اَوَلَمْ يَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّاَكْثَرُ جَمْعًا وَلَا يُسْـَٔــلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ» ۱؎ [28-القصص:78] یعنی ’ اللہ جانتا تھا کہ میں اسی کا مستحق ہوں اس لیے اس نے مجھے یہ دیا ہے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَلَئِنْ أَذَقْنَاهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِن بَعْدِ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ هَـٰذَا لِي» ۱؎ [41-فصلت:50] کہ ’ اگر ہم اسے کوئی رحمت چکھائیں اس کے بعد جب اسے مصیبت پہنچی ہو تو کہہ اٹھتا ہے کہ «هَـٰذَا لِي» اس کا حقدار تو میں تھا ہی ‘۔
بعض لوگوں نے کہا ہے کہ قارون علم کیمیا جانتا تھا لیکن یہ قول بالکل ضعیف ہے۔ بلکہ کیمیا کا علم فی الواقع ہے ہی نہیں۔ کیونکہ کسی چیز کے عین کو بدل دینا یہ اللہ ہی کی قدرت کی بات ہے جس پر کوئی اور قادر نہیں۔ فرمان الٰہی ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ» ۱؎ [22-الحج:73] کہ ’ اگر تمام مخلوق بھی جمع ہو جائے تو ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتی ‘۔
صحیح حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ’ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو کوشش کرتا ہے کہ میری طرح پیدائش کرے۔ اگر وہ سچا ہے تو ایک ذرہ یا ایک جو ہی بنا دے ‘ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5953] یہ حدیث ان کے بارے میں ہے جو تصویریں اتارتے ہیں اور صرف ظاہر صورت کو نقل کرتے ہیں۔
ان کے لیے تو یہ فرمایا پھر جو دعویٰ کرے کہ وہ کیمیا جانتا ہے اور ایک چیز کی کایا پلٹ کر سکتا ہے ایک ذات سے دوسری ذات بنا دیتا ہے مثلا لوہے کو سونا وغیرہ تو صاف ظاہر ہے کہ یہ محض جھوٹ ہے اور بالکل محال ہے اور جہالت وضلالت ہے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ رنگ وغیرہ بدل کر دھوکے بازی کرے۔ لیکن حقیقتاً یہ ناممکن ہے۔ یہ کیمیا گر جو محض جھوٹے جاہل فاسق اور مفتری ہیں یہ محض دعوے کر کے مخلوق کو دھوکے میں ڈالنے والے ہیں۔
ہاں یہ خیال رہے کہ بعض اولیاء کے ہاتھوں جو کرامتیں سرزد ہو جاتی ہیں اور کبھی کبھی چیزیں بدل جاتی ہے ان کا ہمیں انکار نہیں۔ وہ اللہ کی طرف سے ان پر ایک خاص فضل ہوتا ہے اور وہ بھی ان کے بس کا نہیں ہوتا، نہ ان کے قبضے کا ہوتا ہے، نہ کوئی کاری گری، صنعت یا علم ہے۔ وہ محض اللہ کے فرمان کا نتیجہ ہے جو اللہ اپنے فرمانبردار نیک کار بندوں کے ہاتھوں اپنی مخلوق کو دکھا دیتا ہے۔
بعض انسانوں کا یہ خاصہ ہوتا ہے جیسے قرآن میں ہے کہ «فَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ثُمَّ إِذَا خَوَّلْنَاهُ نِعْمَةً مِّنَّا قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ بَلْ هِيَ فِتْنَةٌ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ» [39-الزمر:49] جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تب بڑی عاجزی سے ہمیں پکارتا ہے اور جب انسان کو کوئی نعمت و راحت اسے ہم دے دیتے ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ آیت «قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰي عِلْمٍ عِنْدِيْ اَوَلَمْ يَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّاَكْثَرُ جَمْعًا وَلَا يُسْـَٔــلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ» ۱؎ [28-القصص:78] یعنی ’ اللہ جانتا تھا کہ میں اسی کا مستحق ہوں اس لیے اس نے مجھے یہ دیا ہے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَلَئِنْ أَذَقْنَاهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِن بَعْدِ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ هَـٰذَا لِي» ۱؎ [41-فصلت:50] کہ ’ اگر ہم اسے کوئی رحمت چکھائیں اس کے بعد جب اسے مصیبت پہنچی ہو تو کہہ اٹھتا ہے کہ «هَـٰذَا لِي» اس کا حقدار تو میں تھا ہی ‘۔
بعض لوگوں نے کہا ہے کہ قارون علم کیمیا جانتا تھا لیکن یہ قول بالکل ضعیف ہے۔ بلکہ کیمیا کا علم فی الواقع ہے ہی نہیں۔ کیونکہ کسی چیز کے عین کو بدل دینا یہ اللہ ہی کی قدرت کی بات ہے جس پر کوئی اور قادر نہیں۔ فرمان الٰہی ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ» ۱؎ [22-الحج:73] کہ ’ اگر تمام مخلوق بھی جمع ہو جائے تو ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتی ‘۔
صحیح حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ’ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو کوشش کرتا ہے کہ میری طرح پیدائش کرے۔ اگر وہ سچا ہے تو ایک ذرہ یا ایک جو ہی بنا دے ‘ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5953] یہ حدیث ان کے بارے میں ہے جو تصویریں اتارتے ہیں اور صرف ظاہر صورت کو نقل کرتے ہیں۔
ان کے لیے تو یہ فرمایا پھر جو دعویٰ کرے کہ وہ کیمیا جانتا ہے اور ایک چیز کی کایا پلٹ کر سکتا ہے ایک ذات سے دوسری ذات بنا دیتا ہے مثلا لوہے کو سونا وغیرہ تو صاف ظاہر ہے کہ یہ محض جھوٹ ہے اور بالکل محال ہے اور جہالت وضلالت ہے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ رنگ وغیرہ بدل کر دھوکے بازی کرے۔ لیکن حقیقتاً یہ ناممکن ہے۔ یہ کیمیا گر جو محض جھوٹے جاہل فاسق اور مفتری ہیں یہ محض دعوے کر کے مخلوق کو دھوکے میں ڈالنے والے ہیں۔
ہاں یہ خیال رہے کہ بعض اولیاء کے ہاتھوں جو کرامتیں سرزد ہو جاتی ہیں اور کبھی کبھی چیزیں بدل جاتی ہے ان کا ہمیں انکار نہیں۔ وہ اللہ کی طرف سے ان پر ایک خاص فضل ہوتا ہے اور وہ بھی ان کے بس کا نہیں ہوتا، نہ ان کے قبضے کا ہوتا ہے، نہ کوئی کاری گری، صنعت یا علم ہے۔ وہ محض اللہ کے فرمان کا نتیجہ ہے جو اللہ اپنے فرمانبردار نیک کار بندوں کے ہاتھوں اپنی مخلوق کو دکھا دیتا ہے۔
چنانچہ مروی ہے کہ حیوہ بن شریح مصری رحمہ اللہ سے ایک مرتبہ کسی سائل نے سوال کیا اور آپ کے پاس کچھ نہ تھا اور اس کی حاجت مندی اور ضرورت کو دیکھ کر آپ دل میں بہت آزردہ ہو رہے تھے۔ آخر آپ نے ایک کنکر زمین سے اٹھایا اور کچھ دیر اپنے ہاتھوں میں الٹ پلٹ کر کے فقیر کی جھولی میں ڈال دیا تو وہ سونے کا بن گیا۔ معجزے اور کرامات احادیث اور آثار میں اور بھی بہت سے مروی ہیں۔ جنہیں یہاں بیان کرنا باعث طول ہو گا۔
بعض کا قول ہے کہ قارون اسم اعظم جانتا تھا جسے پڑھ کر اس نے اپنی مالداری کی دعا کی تو اس قدر دولت مند ہو گیا۔ قارون کے اس جواب کی رد میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ یہ غلط ہے کہ میں جس پر مہربان ہوتا ہوں اسے دولت مند کر دیتا ہوں نہیں اس سے پہلے اس سے زیادہ دولت اور آسودہ حال لوگوں کو میں نے تباہ کر دیا ہے تو یہ سمجھ لینا کہ مالداری میری محبت کی نشانی ہے، محض غلط ہے۔ جو میرا شکر ادانہ کریں کفر پر جما رہے اس کا انجام بد ہوتا ہے ‘۔
گناہ گاروں کے کثرت گناہ کی وجہ سے پھر ان سے ان کے گناہوں کا سوال بھی عبث ہوتا۔ اس کا خیال تھا کہ مجھ میں خیریت ہے اس لیے اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ میں اس مالداری کا اہل ہوں اگر مجھ سے خوش نہ ہوتا اور مجھے اچھا آدمی نہ جانتا تو مجھے اپنی یہ نعمت بھی نہ دیتا۔
بعض کا قول ہے کہ قارون اسم اعظم جانتا تھا جسے پڑھ کر اس نے اپنی مالداری کی دعا کی تو اس قدر دولت مند ہو گیا۔ قارون کے اس جواب کی رد میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ یہ غلط ہے کہ میں جس پر مہربان ہوتا ہوں اسے دولت مند کر دیتا ہوں نہیں اس سے پہلے اس سے زیادہ دولت اور آسودہ حال لوگوں کو میں نے تباہ کر دیا ہے تو یہ سمجھ لینا کہ مالداری میری محبت کی نشانی ہے، محض غلط ہے۔ جو میرا شکر ادانہ کریں کفر پر جما رہے اس کا انجام بد ہوتا ہے ‘۔
گناہ گاروں کے کثرت گناہ کی وجہ سے پھر ان سے ان کے گناہوں کا سوال بھی عبث ہوتا۔ اس کا خیال تھا کہ مجھ میں خیریت ہے اس لیے اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ میں اس مالداری کا اہل ہوں اگر مجھ سے خوش نہ ہوتا اور مجھے اچھا آدمی نہ جانتا تو مجھے اپنی یہ نعمت بھی نہ دیتا۔