ترجمہ و تفسیر — سورۃ القصص (28) — آیت 77

وَ ابۡتَغِ فِیۡمَاۤ اٰتٰىکَ اللّٰہُ الدَّارَ الۡاٰخِرَۃَ وَ لَا تَنۡسَ نَصِیۡبَکَ مِنَ الدُّنۡیَا وَ اَحۡسِنۡ کَمَاۤ اَحۡسَنَ اللّٰہُ اِلَیۡکَ وَ لَا تَبۡغِ الۡفَسَادَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۷۷﴾
اور جو کچھ اللہ نے تجھے دیا ہے اس میں آخرت کا گھر تلاش کر اور دنیا سے اپنا حصہ مت بھول اور احسان کر جیسے اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے اور زمین میں فساد مت ڈھونڈ، بے شک اللہ فساد کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ En
اور جو (مال) تم کو خدا نے عطا فرمایا ہے اس سے آخرت کی بھلائی طلب کیجئے اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھلائیے اور جیسی خدا نے تم سے بھلائی کی ہے (ویسی) تم بھی (لوگوں سے) بھلائی کرو۔ اور ملک میں طالب فساد نہ ہو۔ کیونکہ خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا
En
اور جو کچھ اللہ تعالی نے تجھے دے رکھا ہے اس میں سے آخرت کے گھر کی تلاش بھی رکھ اور اپنے دنیوی حصے کو بھی نہ بھول اور جیسے کہ اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے تو بھی اچھا سلوک کر اور ملک میں فساد کا خواہاں نہ ہو، یقین مان کہ اللہ مفسدوں کو ناپسند رکھتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 77) ➊ {وَ ابْتَغِ فِيْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ:} اور اللہ تعالیٰ نے تجھے جو کچھ عطا فرمایا ہے اس کے ذریعے سے آخری گھر یعنی جنت حاصل کرنے کی کوشش کر۔
➋ { وَ لَا تَنْسَ نَصِيْبَكَ مِنَ الدُّنْيَا:} یعنی مت بھول کہ دنیا جو تجھے عطا کی گئی ہے، اس میں تیرا حصہ کیا ہے۔ اس کی بہترین تفسیر وہ حدیث ہے جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَقُوْلُ الْعَبْدُ مَالِيْ مَالِيْ إِنَّمَا لَهُ مِنْ مَّالِهِ ثَلَاثٌ، مَا أَكَلَ فَأَفْنٰی أَوْ لَبِسَ فَأَبْلٰی أَوْ أَعْطٰی فَاقْتَنٰی وَمَا سِوَی ذٰلِكَ فَهُوَ ذَاهِبٌ وَ تَارِكُهُ لِلنَّاسِ] [مسلم، الزھد، باب الدنیا سجن للمؤمن و جنۃ للکافر : ۲۹۵۹] بندہ کہتا ہے میرا مال، میرا مال، حالانکہ اس کے مال میں اس کی تو صرف تین چیزیں ہیں، جو اس نے کھایا اور فنا کر دیا، یا پہنا اور پرانا کر دیا، یا (اللہ کی راہ میں) دیا اور ذخیرہ بنا لیا اور جو اس کے سوا ہے تو یہ اسے لوگوں کے لیے چھوڑ کر (دنیا سے) جانے والا ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا، کسی چیز میں آدمی کا حصہ وہ نہیں ہوتا جو اس سے جدا ہو جائے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو اس کے ساتھ رہے۔ اس کے مطابق دنیا میں سے آدمی کا حصہ وہ نیکی ہے جو آخرت میں اس کے ساتھ جائے۔ اور بعض مفسرین نے فرمایا، دنیا میں سے آدمی کے حصے سے مراد اس کا کفن ہے، کیونکہ اس کے سوا وہ کوئی چیز ساتھ لے کر نہیں جاتا:
{نَصِيْبُكَ مِمَّا تَجْمَعُ الدَّهْرَ كُلَّهُ
رِدَائَانِ تُلْوٰي فِيْهِمَا وَ حَنُوْطُ}
ساری عمر تو جو کچھ جمع کرے گا اس میں سے تیرا حصہ دو چادریں ہیں، جن میں تجھے لپیٹا جائے گا اور مُردے کو لگائی جانے والی خوشبو ہے۔
ایک تفسیر جو اکثر مفسرین نے بیان فرمائی ہے، یہ ہے کہ مال کا حریص بعض اوقات بخل کی اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اپنی جان پر بھی خرچ کرنے سے گریز کرتا ہے، اپنے کھانے، پہننے اور دوسری ضروریات میں بھی بخل سے کام لیتا ہے۔ قارون کو بزرگوں نے نصیحت کی کہ دنیا میں اپنے حصے کو مت بھول، اپنی جان پر بھی ضرورت کے مطابق خرچ کر۔ یہ چاروں تفسیریں درست ہیں اور ایک دوسرے کی تائید کرتی ہیں۔
➌ { وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَيْكَ:} یعنی جیسے اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ احسان (بہترین سلوک) کیا ہے، یہ مال و دولت اور شان و شوکت تجھے کسی بدلے کے بغیر عطا کی ہے، اسی طرح تو بھی اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کر، یعنی ان سے کسی صلے کی خواہش کے بغیر بہترین سلوک کر۔ احسان کی یہ تفسیر اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندے کو جو کچھ دیا ہے کسی بدلے کے بغیر دیا ہے۔ والدین کے ساتھ بھی اسی احسان کا حکم ہے، فرمایا: «{ وَ بِالْوَالِدَيْنِ۠ اِحْسَانًا [بني إسرائیل: ۲۳] اور ماں باپ کے ساتھ بہت اچھا سلوک کر۔ کیونکہ بڑھاپے میں ان سے کسی صلے کی توقع نہیں ہوتی۔ احسان کی تفسیر حدیث میں یہ بھی آئی ہے: [أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَّمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ] [بخاري، الإیمان، باب سؤال جبریل النبي صلی اللہ علیہ وسلم …: ۵۰] اللہ کی عبادت اس طرح کرے جیسے تو اسے دیکھ رہا ہے، پھر اگر تو اسے نہیں دیکھتا تو وہ تجھے دیکھتا ہے۔ اس تفسیر کے مطابق مطلب یہ ہو گا کہ جیسے اللہ نے تیرے ساتھ بہترین سلوک کیا ہے تو بھی اس کے ساتھ بہترین معاملہ رکھ کہ ہر وقت اور ہر کام میں اسے پیشِ نظر رکھ اور اپنے ہر حال پر اس کی نگرانی کو اس طرح مدنظر رکھ کہ تیرا ہر کام اور تیری ہر حرکت اس کی رضا کے مطابق ہو، یہ احسان ہے۔
➍ { وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْاَرْضِ …:} زمین میں ہر خرابی اور ہر فساد اللہ کے ساتھ شرک اور اس کی اور اس کے رسول کی نافرمانی سے پیدا ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ [الروم: ۴۱] خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہوگیا، اس کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا۔ قوم کے دانش مند لوگوں نے قارون کو زمین میں فساد کی کوشش سے منع کیا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ مفسدوں سے محبت نہیں رکھتا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

77-1یعنی اپنے مال کو ایسی جگہوں اور راہوں پر خرچ کر، جہاں اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے، اس سے تیری آخرت سنورے گی اور وہاں اس کا تجھے اجر ثواب ملے گا۔ 77-2یعنی دنیا کے مباحات پر بھی اعتدال کے ساتھ خرچ کر مباحات دنیا کیا ہیں؟ کھانا پینا، لباس، گھر اور نکاح وغیرہ، مطلب یہ ہے کہ جس طرح تجھ پر تیرے رب کا حق ہے، اسی طرح تیرے اپنے نفس کا، بیوی بچوں کا اور مہمانوں وغیرہ کا بھی حق ہے، ہر حق والے کو اس کا حق دے۔ 77-3اللہ نے تجھے مال دے کر تجھ پر احسان کیا ہے تو مخلوق پر حرچ کر کے ان پر احسان کر۔ 77-4یعنی تیرا مقصد زمین میں فساد پھیلانا نہ ہو۔ اسی طرح مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کے بجائے بدسلوکی مت کر، نہ معصیتوں کا ارتکاب کر کہ ان تمام باتوں سے فساد پھیلتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

77۔ جو مال و دولت اللہ نے تجھے دے رکھا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کرو [103] اور دنیا میں بھی اپنا حصہ فراموش نہ کرو اور لوگوں سے ایسے ہی احسان کرو جیسے اللہ تمہارے ساتھ بھلائی کی ہے۔ اور ملک میں فساد پیدا کرنے کی کوشش نہ کرو کیونکہ اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
[103] قارون کو حقوق کی ادائیگی کی نصیحت:۔
یعنی تمہاری دولت کا بہترین مصرف یہ ہے کہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر کے اپنی عاقبت سنوارنے کی کوشش کرو۔ نہ یہ کہ مال کے نشہ میں چور ہو کر دوسروں کو حقیر سمجھنے لگو۔ اس سے خود کھاؤ پیو پہنو اور جو بچ جائے اس سے خویش و اقارب اور دوسرے لوگوں کی مالی اعانت کرو۔ اللہ کی مخلوق پر تم بھی ایسے ہی احسان کرو جیسے اللہ نے تم پر احسان کیا ہے اور مخلوق خدا کی دعائیں لو۔ اور اللہ کے فرمانبردار بن کر رہو۔ اپنے مال و دولت کا دوسروں پر رعب جمانا کوئی اچھا طریقہ نہیں۔ تمہاری اس دولت میں جو دوسروں کا حق ہے اسے ادا کرو اور معاشی اور معاشرتی ناہمواریوں کا باعث نہ بنو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
قوم کے بزرگ اور نیک لوگوں اور عالموں نے جب اس کے سرکشی اور تکبر کو حد سے بڑھتے ہوتے دیکھا تو اسے نصیحت کی کہ اتنا اکڑ نہیں اس قدر غرور نہ کر اللہ کا ناشکرا نہ ہو، ورنہ اللہ کی محبت سے دور ہو جاؤ گے۔
قوم کے واعظوں نے کہا کہ یہ جو اللہ کی نعمتیں تیرے پاس ہیں انہیں اللہ کی رضا مندی کے کاموں میں خرچ کر تاکہ آخرت میں بھی تیرا حصہ ہو جائے۔ یہ ہم نہیں کہتے کہ دنیا میں کچھ عیش وعشرت کر ہی نہیں۔ نہیں اچھا کھا، پی، پہن اوڑھ جائز نعمتوں سے فائدہ اٹھا نکاح سے راحت اٹھا حلال چیزیں برت لیکن جہاں اپنا خیال رکھ وہاں مسکینوں کا بھی خیال رکھ جہاں اپنے نفس کو نہ بھول وہاں اللہ کے حق بھی فراموش نہ کر۔ تیرے نفس کا بھی حق ہے تیرے مہمان کا بھی تجھ پر حق ہے تیرے بال بچوں کا بھی تجھ پر حق ہے۔ مسکین غریب کا بھی تیرے مال میں ساجھا ہے۔
ہر حقدار کا حق ادا کر اور جیسے اللہ نے تیرے ساتھ سلوک کیا تو اوروں کے ساتھ سلوک واحسان کر اپنے اس مفسدانہ رویہ کو بدل ڈال اللہ کی مخلوق کی ایذ رسانی سے باز آ جا۔ اللہ فسادیوں سے محبت نہیں رکھتا۔