تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى:} قرآن مجید نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ قارون موسیٰ علیہ السلام کی قوم سے تھا اور اپنی قوم کے خلاف فرعون کا ساتھی بنا ہوا تھا، جیسے تمام ظالم بادشاہ کسی قوم پر ظلم و ستم کے لیے اسی قوم کے کسی آدمی کو مال و دولت اور عہدہ و مرتبہ دے کر اپنا آلۂ کار بناتے ہیں۔ بعض تفسیروں میں لکھا ہے کہ یہ تورات کا حافظ تھا اور بہت خوب صورت آواز سے تورات پڑھتا تھا، مگر اندر سے منافق تھا۔ لیکن قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کفر میں اتنا پکا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو جھٹلانے والوں میں فرعون کے ساتھ جن دو آدمیوں کا نام لیا ہے ان میں سے ایک قارون تھا، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ (23) اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ }» [المؤمن: ۲۳، ۲۴] ”اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو اپنی آیات اور واضح دلیل کے ساتھ بھیجا۔ فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف تو انھوں نے کہا، جادوگر ہے، بہت جھوٹا ہے۔“ (مزید دیکھیے عنکبوت:۳۹) اس کے مطابق اس کے تورات کا عالم یا منافق ہونے کی بات درست نہیں۔
➌ { فَبَغٰى عَلَيْهِمْ:} اس سے بڑی سرکشی کیا ہو گی کہ وہ اپنی ہی قوم کے خلاف ایسے شخص کا دست و بازو بن گیا جو ان کے لڑکے ذبح کرتا تھا، ان کی عورتوں کو زندہ رکھتا اور انھیں بدترین سزائیں دیتا تھا۔
➍ {وَ اٰتَيْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ …:} اس سے معلوم ہوا کہ ظالموں کو جو مال ملتا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی عطا کرتا ہے، جس میں ان کی آزمائش اور ان پر حجت پوری کرنے کی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔ {”اَلْعُصْبَةُ “} غیر معین آدمیوں کی جماعت۔ اسے {”عُصْبَةٌ“} اس لیے کہتے ہیں کہ ان کا ہر فرد دوسرے کے لیے قوت کا باعث ہوتا ہے۔ عرف میں دس سے لے کر چالیس آدمیوں کی جماعت کو کہتے ہیں۔ {”مَفَاتِحُ“ ”مِفْتَحٌ“} کی جمع ہے، چابیاں۔ یعنی ہم نے قارون کو اتنے خزانے دیے تھے جن سے بھرے ہوئے کمروں کے تالوں کی چابیاں ایک قوت والی جماعت پر اٹھانے میں بھاری تھیں۔ تفاسیر میں ان خزانوں کی عجیب و غریب تفصیل مذکور ہے، جس کی تصدیق کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں۔ صاحبِ کشّاف نے فرمایا: ”اس کے اموال کی کثرت کے بیان میں مبالغے کے کئی الفاظ استعمال ہوئے ہیں، یعنی {”اَلْكُنُوْزُ، اَلْمَفَاتِحُ، اَلنَّوْءُ} (بھاری ہونا) {اَلْعُصْبَةُ، أُوْلِي الْقُوَّةِ“} اس سے ان اموال کا بہت زیادہ ہونا ثابت ہو رہا ہے۔“
➎ { اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ …:} انسان کو اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں سے نوازے تو وہ ان پر پھول جاتا ہے، اس کی گفتگو، اس کا لباس، اس کی چال ڈھال، اس کے رنگ ڈھنگ، غرض اس کی ایک ایک ادا سے کبر و غرور ٹپکنے لگتا ہے۔ یہی حال قارون کا ہوا، بنی اسرائیل کے نیک بزرگ اور عالم لوگوں نے اسے سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے دولت دی ہے تو اپنے آپ میں رہ، اسے اللہ کی نافرمانی میں خرچ مت کر اور پھول مت جا، اللہ تعالیٰ پھول جانے والوں سے محبت نہیں کرتا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[102] یہ بھی انسان کی فطرت ہے کہ اگر اللہ اسے اپنے انعامات سے نوازے تو وہ اپنے آپ کو عام انسانوں سے کوئی بالاتر مخلوق سمجھنے لگتا ہے۔ اس کی گفتگو، اس کے لباس، اس کی چال ڈھال، اس کے رنگ ڈھنگ غرضیکہ اس کی ایک ایک ادا سے نخوت اور بڑائی ٹپکنے لگتی ہے۔ اور وہ دوسروں کو کسی خاطر میں نہیں لاتا یہی صورت حال قارون کی تھی۔ بنی اسرائیل کے کچھ بزرگوں نے اسے از راہ نصیحت کہا کہ اگر اللہ نے تمہیں مال و دولت سے نوازا ہے تو اپنے آپ کو ضبط اور کنٹرول میں رکھو، بات بات پر اترانا کوئی اچھی بات نہیں ہوتی اور نہ ہی اللہ ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
چونکہ بہت مالدار تھا اس لیے بھول گیا تھا اور اللہ کو بھول بیٹھا تھا۔ قوم میں عام طور پر جس لباس کا دستور تھا اس نے اس سے بالشت بھر نیچا لباس بنوایا تھا جس سے اس کا غرور اور اس کی دولت ظاہر ہو۔ اس کے پاس اس قدر مال تھا کہ اس خزانے کی کنجیاں اٹھانے پر قوی مردوں کی ایک جماعت مقرر تھی۔ اس کے بہت خزانے تھے۔ ہر خزانے کی کنجی الگ تھی جو بالشت بھر کی تھی۔ جب یہ کنجیاں اس کی سواری کے ساتھ خچروں پر لادی جاتیں تو اس کے لیے ساٹھ پنج کلیاں خچر مقرر ہوتے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن حالة قارون وما فَعَلَ وفُعِلَ به ونُصِحَ ووُعِظَ، فقال: {إنَّ قارون كان من قوم موسى}؛ أي: من بني إسرائيل، الذين فَضَلوا العالمين وفاقوهم في زمانهم، وامتَنَّ الله عليهم بما امتنَّ به، فكانت حالُهم مناسبةً للاستقامة، ولكنَّ قارون هذا بغى على قومه، وطغى بما أوتِيَه من الأموال العظيمة المُطْغِيَة، {وآتَيْناه من الكنوزِ}؛ أي: كنوز الأموال شيئاً كثيراً، {ما إنَّ مفاتِحَهُ لَتنوءُ بالعصبةِ أولي القوَّةِ}: والعُصبة من العشرة إلى التسعة إلى السبعة ونحو ذلك؛ أي: حتى إنَّ مفاتح خزائنِ أموالِهِ تُثْقِلُ الجماعةَ القويةَ عن حملها؛ هذه المفاتيح؛ فما ظنُّك بالخزائن؟! {إذ قال له قومُهُ}: ناصحين له محذِّرين له عن الطُّغيان: {لا تَفْرَحْ إن الله لا يحبُّ الفرِحينَ}؛ أي: لا تفرحْ بهذه الدُّنيا العظيمة، وتفتخرْ بها، وتلهيك عن الآخرة؛ فإنَّ الله لا يحبُّ الفرحين بها المكبِّين على محبَّتها.