ترجمہ و تفسیر — سورۃ القصص (28) — آیت 67

فَاَمَّا مَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنَ مِنَ الۡمُفۡلِحِیۡنَ ﴿۶۷﴾
پس رہا وہ جس نے توبہ کر لی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیا، سو امید ہے کہ وہ فلاح پانے والوں میں سے ہوگا۔ En
لیکن جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور عمل نیک کئے تو اُمید ہے کہ وہ نجات پانے والوں میں ہو
En
ہاں جو شخص توبہ کرلے ایمان لے آئے اور نیک کام کرے یقین ہے کہ وه نجات پانے والوں میں سے ہو جائے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 67) ➊ { فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ …:} قرآن مجید میں کافر و مومن اور عذاب و ثواب دونوں کے بیان کا سلسلہ ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ یہاں کفر پر مرنے والوں کے ذکر کے بعد توبہ کر کے ایمان اور عمل صالح والوں کا ذکر فرمایا کہ امید ہے کہ یہ لوگ فلاح پانے والوں سے ہوں گے۔
➋ یہاں مشہور سوال ہے کہ توبہ، ایمان اور عمل صالح والوں کے لیے فلاح کا وعدہ موجود ہے، جیسا کہ سورۂ بقرہ کے شروع میں مومنوں کی چند صفات ذکر کرنے کے بعد فرمایا: «{ اُولٰٓىِٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ [البقرۃ: ۵] یہ لوگ اپنے رب کی طرف سے بڑی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ پورے کامیاب ہیں۔ پھر یقین کے بجائے { فَعَسٰۤى } (سو امید ہے) کا کیا مطلب ہے؟ اس کے دو جواب ہیں، ایک یہ کہ یہ شاہانہ اندازِ بیان ہے۔ عام بادشاہ کسی چیز کی امید دلا دیں تو اسے پورا کرتے ہیں، تو شاہوں کا شاہ ملک الملوک امید دلائے تو کیسے ہو سکتا ہے کہ پوری نہ کرے، یہ اس کی شان ہی کے خلاف ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ { فَعَسٰۤى } (سو امید ہے) اس توبہ، ایمان اور عمل صالح والے شخص کے اعتبار سے ہے کہ اسے یہ امید رکھنی چاہیے، کیونکہ یقین تو تب ہو جب اسے قبولیت کی سند مل جائے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

67۔ البتہ جس شخص نے توبہ کر لی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کئے تو امید ہے [91] کہ وہ فلاح پا سکے۔
[91] یہ شاہانہ انداز کلام ہے۔ یعنی اس دن وہ شخص ضرور فلاح پا لے گا جس نے خواہش نفس کی پیروی اور اللہ کی نافرمانی سے توبہ کر لی اور ایمان لے آیا۔ پھر اس کے بعد اعمال بھی صالح بجا لاتا رہا۔ گویا دوزخ کے لئے صرف توبہ اور ایمان لانے کا اقرار ہی کافی نہیں بلکہ اس ایمان کا عملی اظہار بھی ضروری ہے جو صرف نیک اعمال بجا لانے کی صورت میں ہی ہو سکتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔