اِنَّکَ لَا تَہۡدِیۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۵۶﴾
بے شک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔
En
(اے محمدﷺ) تم جس کو دوست رکھتے ہو اُسے ہدایت نہیں کر سکتے بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور وہ ہدایت پانیوالوں کو خوب جانتا ہے
En
آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاه ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 56) ➊ { اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ …:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں کے بے حد خیر خواہ تھے اور ان کے ایمان لانے کی شدید خواہش رکھتے تھے۔ خصوصاً آپ کے دل میں اپنے قرابت داروں کے متعلق صلہ رحمی کے جذبے کی وجہ سے یہ خواہش اور بھی زیادہ تھی۔ اس مقام پر اہل کتاب کے ان لوگوں کا ذکر آیا جو کتاب اللہ کی تلاوت سنتے ہی ایمان لے آئے، تو قدرتی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کا اس بات سے متاثر ہونا لازمی تھا کہ نسبتاً دور والے ایمان لانے میں بازی لے گئے اور میرے قرابت دار حتیٰ کہ عزیز چچا ابو طالب اس نعمت سے محروم رہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی کہ اس معاملے میں آپ کی دعوت یا خیر خواہی میں کوئی کمی نہیں، بلکہ بات یہ ہے کہ ہدایت آپ کے اختیار میں نہیں، اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور وہی زیادہ جانتا ہے کہ ہدایت پانے والے کون ہیں، اہلِ کتاب ہیں یا عرب، اقارب ہیں یا دور کے رشتہ دار۔ (بقاعی) کسی اور کو علم ہی نہیں کہ ہدایت کسے دینی ہے، تو وہ ہدایت کیا دے گا؟ تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب کے بارے میں اتری۔
➋ سعید بن مسیب کے والد بیان کرتے ہیں: [لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ جَاءَهُ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ وَعَبْدَ اللّٰهِ بْنَ أَبِيْ أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيْرَةِ، فَقَالَ أَيْ عَمِّ! قُلْ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ، كَلِمَةً أُحَاجُّ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللّٰهِ، فَقَالَ أَبُوْ جَهْلٍ وَعَبْدُ اللّٰهِ بْنُ أَبِيْ أُمَيَّةَ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟ فَلَمْ يَزَلْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ، وَيُعِيْدَانِهِ بِتِلْكَ الْمَقَالَةِ حَتّٰي قَالَ أَبُوْ طَالِبٍ آخِرَ مَا كَلَّمَهُمْ عَلٰی مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَأَبٰی أَنْ يَّقُوْلَ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ، قَالَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللّٰهِ! لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ، فَأَنْزَلَ اللّٰهُ: «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ» وَ أَنْزَلَ اللّٰهُ فِيْ أَبِيْ طَالِبٍ، فَقَالَ لِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: «{ اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ}» ] [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «إنک لا تھدی من أحببت…» ۴۷۷۲] ”جب ابو طالب کی وفات کا وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور اس کے پاس ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ کو پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے چچا! تو ”لاالٰہ الا اللہ“ کہہ دے، یہ ایسا کلمہ ہے جس کے ذریعے سے میں تیرے لیے اللہ کے پاس جھگڑا کروں گا۔“ تو ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ نے کہا: ”کیا تو عبدالمطلب کی ملت سے بے رغبتی کرتا ہے۔“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سامنے یہی بات پیش کرتے رہے اور وہ دونوں اپنی وہی بات دہراتے رہے، حتیٰ کہ ابوطالب نے ان سے آخری بات جو کی وہ یہ تھی: ”عبد المطلب کی ملت پر (مر رہا ہوں)۔“ اور اس نے ”لا الٰہ الا اللہ“ کہنے سے انکار کر دیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں ہر صورت تیرے لیے استغفار کروں گا، جب تک مجھے منع نہ کر دیا گیا۔“ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: «{ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِيْ قُرْبٰى }» [التوبۃ: ۱۱۳] ”اس نبی اور ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، کبھی جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کریں، خواہ وہ قرابت دار ہوں۔“ اور اللہ عزوجل نے ابوطالب کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا: «{ اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ }» ”بے شک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔“
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا سے کہا: ”تو ”لا الٰہ الا اللہ“ کہہ دے، میں قیامت کے دن تیرے لیے اس کی شہادت دوں گا۔“ اس نے کہا: ”اگر یہ نہ ہوتا کہ قریش کے لوگ مجھے عار دلائیں گے کہ اسے اس پر (موت کی) گھبراہٹ نے آمادہ کیا تو میں اس کے ساتھ تیری آنکھ ٹھنڈی کر دیتا۔“ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «{ اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ }» [مسلم، الإیمان، باب الدلیل علٰی صحۃ إسلام …: 25/42]
➌ بعض لوگوں کو اصرار ہے کہ ابوطالب اسلام پر فوت ہوا، ان کا کہنا یہ ہے کہ عبدالمطلب ملتِ ابراہیم پر تھے اور {”عَلٰي مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ“} کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ”میں ملتِ ابراہیم پر فوت ہو رہا ہوں“ لہٰذا وہ مسلمان تھا۔ مگر حدیث کے الفاظ ”اور اس نے لا الٰہ الا اللہ کہنے سے انکار کر دیا“ کے بعد اس تاویل کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
➍ ابو طالب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے حد محبت تھی، اس نے ہر طرح سے آپ کی حفاظت اور آپ کا دفاع کیا، مگر اس کی محبت طبعی یعنی قرابت اور نسب کی وجہ سے تھی، ایمانی محبت نہ تھی، اس لیے ہدایت نصیب نہ ہو سکی۔
➎ اگرچہ یہ آیت ابوطالب کے بارے میں اتری مگر اصولی طور پر اس کا حکم عام ہے اور اس میں ہر وہ شخص شامل ہے جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش تھی کہ وہ ایمان لے آئے، مگر اس نے کفر پر مرنے کو ترجیح دی۔ مزید دیکھیے سورۂ توبہ (۱۱۳)۔
➏ یہاں فرمایا: «{ اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ }» اور دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِيْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ }» [الشورٰی: ۵۲]”اور بلاشبہ تو یقینا سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔“ پہلی آیت میں ہدایت سے مراد منزلِ مقصود پر پہنچا دینا ہے۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے، یہ کسی اور کا کام نہیں۔ دوسری آیت میں ہدایت سے مراد راستہ دکھانا ہے، یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سر انجام دیتے تھے۔
➋ سعید بن مسیب کے والد بیان کرتے ہیں: [لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ جَاءَهُ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ وَعَبْدَ اللّٰهِ بْنَ أَبِيْ أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيْرَةِ، فَقَالَ أَيْ عَمِّ! قُلْ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ، كَلِمَةً أُحَاجُّ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللّٰهِ، فَقَالَ أَبُوْ جَهْلٍ وَعَبْدُ اللّٰهِ بْنُ أَبِيْ أُمَيَّةَ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟ فَلَمْ يَزَلْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ، وَيُعِيْدَانِهِ بِتِلْكَ الْمَقَالَةِ حَتّٰي قَالَ أَبُوْ طَالِبٍ آخِرَ مَا كَلَّمَهُمْ عَلٰی مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَأَبٰی أَنْ يَّقُوْلَ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ، قَالَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللّٰهِ! لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ، فَأَنْزَلَ اللّٰهُ: «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ» وَ أَنْزَلَ اللّٰهُ فِيْ أَبِيْ طَالِبٍ، فَقَالَ لِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: «{ اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ}» ] [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «إنک لا تھدی من أحببت…» ۴۷۷۲] ”جب ابو طالب کی وفات کا وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور اس کے پاس ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ کو پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے چچا! تو ”لاالٰہ الا اللہ“ کہہ دے، یہ ایسا کلمہ ہے جس کے ذریعے سے میں تیرے لیے اللہ کے پاس جھگڑا کروں گا۔“ تو ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ نے کہا: ”کیا تو عبدالمطلب کی ملت سے بے رغبتی کرتا ہے۔“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سامنے یہی بات پیش کرتے رہے اور وہ دونوں اپنی وہی بات دہراتے رہے، حتیٰ کہ ابوطالب نے ان سے آخری بات جو کی وہ یہ تھی: ”عبد المطلب کی ملت پر (مر رہا ہوں)۔“ اور اس نے ”لا الٰہ الا اللہ“ کہنے سے انکار کر دیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں ہر صورت تیرے لیے استغفار کروں گا، جب تک مجھے منع نہ کر دیا گیا۔“ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: «{ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِيْ قُرْبٰى }» [التوبۃ: ۱۱۳] ”اس نبی اور ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، کبھی جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کریں، خواہ وہ قرابت دار ہوں۔“ اور اللہ عزوجل نے ابوطالب کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا: «{ اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ }» ”بے شک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔“
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا سے کہا: ”تو ”لا الٰہ الا اللہ“ کہہ دے، میں قیامت کے دن تیرے لیے اس کی شہادت دوں گا۔“ اس نے کہا: ”اگر یہ نہ ہوتا کہ قریش کے لوگ مجھے عار دلائیں گے کہ اسے اس پر (موت کی) گھبراہٹ نے آمادہ کیا تو میں اس کے ساتھ تیری آنکھ ٹھنڈی کر دیتا۔“ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «{ اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ }» [مسلم، الإیمان، باب الدلیل علٰی صحۃ إسلام …: 25/42]
➌ بعض لوگوں کو اصرار ہے کہ ابوطالب اسلام پر فوت ہوا، ان کا کہنا یہ ہے کہ عبدالمطلب ملتِ ابراہیم پر تھے اور {”عَلٰي مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ“} کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ”میں ملتِ ابراہیم پر فوت ہو رہا ہوں“ لہٰذا وہ مسلمان تھا۔ مگر حدیث کے الفاظ ”اور اس نے لا الٰہ الا اللہ کہنے سے انکار کر دیا“ کے بعد اس تاویل کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
➍ ابو طالب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے حد محبت تھی، اس نے ہر طرح سے آپ کی حفاظت اور آپ کا دفاع کیا، مگر اس کی محبت طبعی یعنی قرابت اور نسب کی وجہ سے تھی، ایمانی محبت نہ تھی، اس لیے ہدایت نصیب نہ ہو سکی۔
➎ اگرچہ یہ آیت ابوطالب کے بارے میں اتری مگر اصولی طور پر اس کا حکم عام ہے اور اس میں ہر وہ شخص شامل ہے جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش تھی کہ وہ ایمان لے آئے، مگر اس نے کفر پر مرنے کو ترجیح دی۔ مزید دیکھیے سورۂ توبہ (۱۱۳)۔
➏ یہاں فرمایا: «{ اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ }» اور دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِيْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ }» [الشورٰی: ۵۲]”اور بلاشبہ تو یقینا سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔“ پہلی آیت میں ہدایت سے مراد منزلِ مقصود پر پہنچا دینا ہے۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے، یہ کسی اور کا کام نہیں۔ دوسری آیت میں ہدایت سے مراد راستہ دکھانا ہے، یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سر انجام دیتے تھے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
56-1یہ آیت اس وقت نازل ہوئی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمدرد اور غمسار چچا ابو طالب کا انتقال ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوشش فرمائی کہ چچا اپنی زبان سے ایک مرتبہ لاَ اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دیں تاکہ قیامت والے دن میں اللہ سے ان کی مغفرت کی سفارش کرسکوں۔ لیکن وہاں پر دوسرے رؤسائے قریش کی موجودگی کی وجہ سے ابو طالب قبول ایمان کی سعادت سے محروم رہے اور کفر پر ہی ان کا خاتمہ ہوگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا بڑا صدمہ تھا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر واضح کیا کہ آپ کا کام صرف تبلیغ و دعوت اور راہنمائی ہے۔ لیکن ہدایت کے اوپر چلا دینا یہ ہمارا کام ہے۔ ہدایت اسے ہی ملے گی جسے ہم ہدایت سے نوازنا چاہیں نہ کہ اسے جسے آپ ہدایت پر دیکھنا پسند کریں (صحیح بخاری)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
56۔ (اے نبی)! جسے آپ چاہیں اسے ہدایت [76] نہیں دے سکتے، اللہ ہی ہے جو جس کو چاہے ہدایت دیتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں [77] کو خوب جانتا ہے۔
[76] ہدایت کے دو مختلف مفہوم اور ابو طالب کی وفات کا قصہ:۔
ہدایت کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک صورت یہ ہے کہ کسی کافر کے قلب و دماغ میں ایسی تبدیلی آجائے کہ وہ ہدایت یا اسلام قبول کرنے کے لئے تیار ہو جائے یہ کام خالصتاً اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں اس کی صراحت موجود ہے۔ نیز درج ذیل حدیث بھی اسی معنی کی تائید کرتی ہے۔ سعید بن مسیب کے والد مسیب بن حزن کہتے ہیں کہ جب ابو طالب کی وفات کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لے گئے۔ وہاں دیکھا کہ ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ پہلے ہی وہاں بیٹھے ہیں۔ آپ نے ابو طالب سے فرمایا: ”چچا جان! اگر آپ ﴿لا الٰه الا الله﴾ کہہ لیں تو میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں دلیل پیش کر سکوں گا“ اور ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ کہنے لگے: ابو طالب! کیا تم عبد المطلب کا دین چھوڑ دو گے؟ آخر ابو طالب نے آخری بات جو کہ وہ یہ تھی کہ میں عبد المطلب کے دین پر مرتا ہوں اور ﴿لا الٰه الا الله﴾ کہنا قبول نہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں اس وقت تک تمہارے لئے دعا کرتا رہوں گا جب تک اس سے منع نہ کیا جاؤں“ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ﴾ اور ابو طالب کے بارے میں یہ آیت: ﴿إنَّكَ لاَ تَهْدِيْ...﴾ [بخاري۔ كتاب التفسير]
2۔ ترمذی کی روایت کے مطابق ابو طالب نے آپ کو یہ جواب دیا اگر قریش مجھے یہ عار نہ دلائیں کہ موت کی گھبراہٹ نے اسے یہ کلمہ کہلوا دیا ہے تو بھتیجے! میں یہ کلمہ کہہ کر تیری آنکھیں ٹھنڈی کر دیتا۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ [ترمذي۔ ابواب التفسير]
اب رہا ابو طالب کا اخروی انجام، جس نے مکی دور میں اپنے آخری دم تک آپ کی حمایت اور سرپرستی کی اور ہر مشکل سے مشکل وقت میں آپ کا ساتھ دیا، تو اس کے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے:
1۔ حضرت عباس بن عبد المطلبؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ابو طالب کو کچھ فائدہ پہنچے گا۔ وہ آپ کی حفاظت کیا کرتے تھے اور آپ کی خاطر سب کی ناراضگی مول لے لی تھی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوتے“ [مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب شفاعۃ النبی لابی طالب]
2۔ ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا: ”قیامت کے دن شاید ان کو میری سفارش سے فائدہ پہنچے اور وہ ہلکی آگ میں رکھے جائیں جو ان کے ٹخنوں تک ہو اور ان کا بھیجا پکتا رہے“ [مسلم۔ حواله ايضاً]
3۔ ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جہنم کا سب سے ہلکا عذاب ابو طالب کو ہو گا وہ (آگ کی) دو جوتیاں پہنے ہوں گے جس سے ان کا بھیجا کھول رہا ہو گا۔ (مسلم۔ حوالہ ایضاً) اور ہدایت کا دوسرا معنی یا دوسری صورت یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لا چکے ہیں۔ ان کی منزل مقصود تک رہنمائی کی جائے۔ ان معنوں میں آپ اور دیگر انبیاء بلکہ علمائے کرام بھی ہدایت کی راہ نہ بتلا سکتے ہیں اور پیغمبروں کی تو ذمہ داری ہی یہی ہوتی ہے جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿وَاِنَّكَ لَـــتَهْدِيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ﴾ [52:42] یعنی آپ یقیناً لوگوں کو سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
[77] یعنی اللہ صرف ان لوگوں کو ایمان لانے کی توفیق دیتا ہے جو خود بھی ہدایت کے طلبگار ہوں۔ ایسے لوگوں کو وہ خوب جانتا ہے اور ان کی ہدایت کے اسباب بھی انھیں مہیا فرما دیتا ہے۔
2۔ ترمذی کی روایت کے مطابق ابو طالب نے آپ کو یہ جواب دیا اگر قریش مجھے یہ عار نہ دلائیں کہ موت کی گھبراہٹ نے اسے یہ کلمہ کہلوا دیا ہے تو بھتیجے! میں یہ کلمہ کہہ کر تیری آنکھیں ٹھنڈی کر دیتا۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ [ترمذي۔ ابواب التفسير]
اب رہا ابو طالب کا اخروی انجام، جس نے مکی دور میں اپنے آخری دم تک آپ کی حمایت اور سرپرستی کی اور ہر مشکل سے مشکل وقت میں آپ کا ساتھ دیا، تو اس کے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے:
1۔ حضرت عباس بن عبد المطلبؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ابو طالب کو کچھ فائدہ پہنچے گا۔ وہ آپ کی حفاظت کیا کرتے تھے اور آپ کی خاطر سب کی ناراضگی مول لے لی تھی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوتے“ [مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب شفاعۃ النبی لابی طالب]
2۔ ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا: ”قیامت کے دن شاید ان کو میری سفارش سے فائدہ پہنچے اور وہ ہلکی آگ میں رکھے جائیں جو ان کے ٹخنوں تک ہو اور ان کا بھیجا پکتا رہے“ [مسلم۔ حواله ايضاً]
3۔ ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جہنم کا سب سے ہلکا عذاب ابو طالب کو ہو گا وہ (آگ کی) دو جوتیاں پہنے ہوں گے جس سے ان کا بھیجا کھول رہا ہو گا۔ (مسلم۔ حوالہ ایضاً) اور ہدایت کا دوسرا معنی یا دوسری صورت یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لا چکے ہیں۔ ان کی منزل مقصود تک رہنمائی کی جائے۔ ان معنوں میں آپ اور دیگر انبیاء بلکہ علمائے کرام بھی ہدایت کی راہ نہ بتلا سکتے ہیں اور پیغمبروں کی تو ذمہ داری ہی یہی ہوتی ہے جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿وَاِنَّكَ لَـــتَهْدِيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ﴾ [52:42] یعنی آپ یقیناً لوگوں کو سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
[77] یعنی اللہ صرف ان لوگوں کو ایمان لانے کی توفیق دیتا ہے جو خود بھی ہدایت کے طلبگار ہوں۔ ایسے لوگوں کو وہ خوب جانتا ہے اور ان کی ہدایت کے اسباب بھی انھیں مہیا فرما دیتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ہدایت صرف اللہ کے ذمہ ہے ٭٭
’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کا ہدایت قبول کرنا تمہارے قبضے کی چیز نہیں۔ آپ پر تو صرف پیغام اللہ کے پہنچادینے کا فریضہ ہے۔ ہدایت کا مالک اللہ ہے وہ اپنی حکمت کے ساتھ جسے چاہے قبول ہدایت کی توفیق بخشتا ہے ‘۔
جیسے فرمان ہے آیت «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ» ۱؎ [2-البقرة:272] ’ تیرے ذمہ ان کی ہدایت نہیں وہ چاہے تو ہدایت بخشے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [12-یوسف:103] ’ گو تو ہر چند طمع کرے لیکن ان میں سے اکثر ایماندار نہیں ہوتے ‘ کہ یہ اللہ کے ہی علم میں ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے؟ اور مستحق ضلالت کون ہے؟
بخاری و مسلم میں ہے کہ { یہ آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب کے بارے میں اتری جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت طرف دار تھا اور ہر موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیتا تھا۔ اور دل سے محبت کرتا تھا لیکن یہ محبت بوجہ رشتہ داری کے طبعی تھی شرعاً نہ تھی۔ جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام کی دعوت دی اور ایمان لانے کی رغبت دلائی لیکن تقدیر کا لکھا اور اللہ کا چاہا غالب آگیا یہ ہاتھوں میں سے پھسل گیا اور اپنے کفر پر اڑا رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے انتقال پر اس کے پاس آئے۔ ابوجہل اور عبداللہ بن امیہ بھی اس کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہو میں اس کی وجہ سے اللہ کے ہاں تیرا سفارشی بن جاؤنگا }۔ ابوجہل اور عبداللہ کہنے لگے ابوطالب کیا تو اپنے باپ عبدالمطلب کے مذہب سے پھر جائے گا۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھاتے اور وہ دونوں اسے روکتے یہاں تک کہ آخر کلمہ اس کی زبان سے یہی نکلتا کہ میں یہ کلمہ نہیں پڑھتا اور میں عبدالمطلب کے مذہب پر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بہتر میں تیرے لیے رب سے استغفار کرتا رہونگا یہ اور بات ہے کہ میں روک دیا جاؤں اللہ مجھے منع فرما دے }۔ لیکن اسی وقت آیت اتری کہ «مَا كَان للنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْٓا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ» ۱؎ [9-التوبة:113] یعنی ’ نبی کو اور مومن کو ہرگز یہ بات سزاوار نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے استغفار کریں گو وہ ان کے نزدیکی قرابتدار ہی کیوں نہ ہوں ‘ اور اسی ابوطالب کے بارے میں آیت «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ» ۱؎ [28-القصص:56] بھی نازل ہوئی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3884]
جیسے فرمان ہے آیت «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ» ۱؎ [2-البقرة:272] ’ تیرے ذمہ ان کی ہدایت نہیں وہ چاہے تو ہدایت بخشے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [12-یوسف:103] ’ گو تو ہر چند طمع کرے لیکن ان میں سے اکثر ایماندار نہیں ہوتے ‘ کہ یہ اللہ کے ہی علم میں ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے؟ اور مستحق ضلالت کون ہے؟
بخاری و مسلم میں ہے کہ { یہ آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب کے بارے میں اتری جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت طرف دار تھا اور ہر موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیتا تھا۔ اور دل سے محبت کرتا تھا لیکن یہ محبت بوجہ رشتہ داری کے طبعی تھی شرعاً نہ تھی۔ جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام کی دعوت دی اور ایمان لانے کی رغبت دلائی لیکن تقدیر کا لکھا اور اللہ کا چاہا غالب آگیا یہ ہاتھوں میں سے پھسل گیا اور اپنے کفر پر اڑا رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے انتقال پر اس کے پاس آئے۔ ابوجہل اور عبداللہ بن امیہ بھی اس کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہو میں اس کی وجہ سے اللہ کے ہاں تیرا سفارشی بن جاؤنگا }۔ ابوجہل اور عبداللہ کہنے لگے ابوطالب کیا تو اپنے باپ عبدالمطلب کے مذہب سے پھر جائے گا۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھاتے اور وہ دونوں اسے روکتے یہاں تک کہ آخر کلمہ اس کی زبان سے یہی نکلتا کہ میں یہ کلمہ نہیں پڑھتا اور میں عبدالمطلب کے مذہب پر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بہتر میں تیرے لیے رب سے استغفار کرتا رہونگا یہ اور بات ہے کہ میں روک دیا جاؤں اللہ مجھے منع فرما دے }۔ لیکن اسی وقت آیت اتری کہ «مَا كَان للنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْٓا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ» ۱؎ [9-التوبة:113] یعنی ’ نبی کو اور مومن کو ہرگز یہ بات سزاوار نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے استغفار کریں گو وہ ان کے نزدیکی قرابتدار ہی کیوں نہ ہوں ‘ اور اسی ابوطالب کے بارے میں آیت «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ» ۱؎ [28-القصص:56] بھی نازل ہوئی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3884]
ترمذی وغیرہ میں ہے کہ { ابوطالب کے مرض الموت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا کہ { چجا «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ لو میں اس کی گواہی قیامت کے دن دے دونگا }، تو اس نے کہا اگر مجھے اپنے خاندان قریش کے اس طعنے کا خوف نہ ہو اس نے موت کی گھبراہٹ کی وجہ سے یہ کہہ لیا تو میں اسے کہہ کر تیری آنکھوں کو ٹھنڈی کر دیتا مگر پھر بھی اسے تیری خوشی کے لیے کہتا ہوں۔ اس پر یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:25]
دوسری روایت میں ہے کہ اس نے کلمہ پڑھنے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ میرے بھتیجے میں تو اپنے بڑوں کی روش پر ہوں۔ اور اسی بات پر اس کی موت ہوئی کہ وہ عبدالمطلب کے مذہب پر ہے۔
دوسری روایت میں ہے کہ اس نے کلمہ پڑھنے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ میرے بھتیجے میں تو اپنے بڑوں کی روش پر ہوں۔ اور اسی بات پر اس کی موت ہوئی کہ وہ عبدالمطلب کے مذہب پر ہے۔
قیصر کا قاصد جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور قیصر کا خط خدمت نبوی میں پیش کیا تو { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں رکھ کر فرمایا: { تو کس قبیلے سے ہے؟ } اس نے کہا تیرج قبیلے کا آدمی ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { تیرا قصد ہے کہ تو اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کے دین پر آ جائے؟ } اس نے جواب دیا کہ میں جس قوم کا قاصد ہوں جب تک ان کے پیغام کا جواب انہیں نہ پہنچا دوں ان کے مذہب کو نہیں چھوڑ سکتا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرف دیکھ کر یہی آیت پڑھی }۔ ۱؎ [مسند احمد:441/3:ضعیف]
مشرکین اپنے ایمان نہ لانے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کرتے تھے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایت کو مان لیں تو ہمیں ڈر لگتا ہے کہ اس دین کے مخالف جو ہمارے چاروں طرف ہیں اور تعداد میں مال میں ہم سے زیادہ ہیں۔ وہ ہمارے دشمن بن جائیں گے اور ہمیں تکلیفیں پہنچائیں گی اور ہمیں برباد کر دیں گے۔
اللہ فرماتا ہے کہ ’ یہ حیلہ بھی ان کا غلط ہے اللہ نے انہیں حرم محترم میں رکھا ہے جہاں شروع دنیا سے اب تک امن وامان رہا ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حالت کفر میں تو یہاں امن سے رہیں اور جب اللہ کے سچے دین کو قبول کریں تو امن اٹھ جائے؟‘
یہی تو وہ شہر ہے کہ طائف وغیرہ مختلف مقامات سے پھل فروٹ سامان اسباب مال تجارت وغیرہ کی آمد و رفت بکثرت رہتی ہے۔ تمام چیزیں یہاں کھنچی چلی آتی ہیں اور ہم انہیں بیٹھے بٹھائے روزیاں پہنچا رہے ہیں لیکن ان میں اکثر بے علم ہیں۔ اسی لیے ایسے رکیک حیلے اور بے جا عذر پیش کرتے ہیں مروی ہے کہ یہ کہنے والاحارث بن عامر بن نوفل تھا۔
مشرکین اپنے ایمان نہ لانے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کرتے تھے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایت کو مان لیں تو ہمیں ڈر لگتا ہے کہ اس دین کے مخالف جو ہمارے چاروں طرف ہیں اور تعداد میں مال میں ہم سے زیادہ ہیں۔ وہ ہمارے دشمن بن جائیں گے اور ہمیں تکلیفیں پہنچائیں گی اور ہمیں برباد کر دیں گے۔
اللہ فرماتا ہے کہ ’ یہ حیلہ بھی ان کا غلط ہے اللہ نے انہیں حرم محترم میں رکھا ہے جہاں شروع دنیا سے اب تک امن وامان رہا ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حالت کفر میں تو یہاں امن سے رہیں اور جب اللہ کے سچے دین کو قبول کریں تو امن اٹھ جائے؟‘
یہی تو وہ شہر ہے کہ طائف وغیرہ مختلف مقامات سے پھل فروٹ سامان اسباب مال تجارت وغیرہ کی آمد و رفت بکثرت رہتی ہے۔ تمام چیزیں یہاں کھنچی چلی آتی ہیں اور ہم انہیں بیٹھے بٹھائے روزیاں پہنچا رہے ہیں لیکن ان میں اکثر بے علم ہیں۔ اسی لیے ایسے رکیک حیلے اور بے جا عذر پیش کرتے ہیں مروی ہے کہ یہ کہنے والاحارث بن عامر بن نوفل تھا۔