ترجمہ و تفسیر — سورۃ النمل (27) — آیت 9

یٰمُوۡسٰۤی اِنَّہٗۤ اَنَا اللّٰہُ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ۙ﴿۹﴾
اے موسیٰ! بے شک حقیقت یہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں، جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ En
اے موسیٰ میں ہی خدائے غالب ودانا ہوں
En
موسیٰ! سن بات یہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں غالب با حکمت En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 9) {يٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ:} دیکھیے سورۂ طٰہٰ(۱۴) یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے اپنی دو صفات بیان فرمائیں، ایک {عزيز} اور دوسری {حكيم}۔ کیونکہ موسیٰ علیہ السلام کو جو عظیم ذمہ داری دی جانے والی تھی اس کے لیے انھیں یہ اطمینان دلانا ضروری تھا کہ فرعون کو دعوت دیتے وقت اس کی شان و شوکت یا قوت و عظمت سے مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ انھیں بھیجنے والا اللہ ہے جو سب پر غالب ہے اور جو کمال حکمت والا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے گھر پرورش دلانے، پھر دس سال بکریاں چروانے اور اندھیری رات میں صحرا میں راستہ بھلا کر اچانک نبوت اور معجزے عطا کرکے فرعون کی طرف بھیجنے میں اس کی بے شمار حکمتیں ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

9-1درخت سے ندا کا آنا، حضرت موسیٰ ؑ کے لئے باعث تعجب تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، موسٰی! تعجب نہ کر میں ہی اللہ ہوں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

موسیٰ میں ہی اللہ [9] ہوں۔ سب پر غالب اور حکمت والا۔
[9] اس منظر نے پھر اس آواز نے حضرت موسیٰؑ کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تو پھر آواز آئی: ”موسیٰ! میں اللہ ہوں، زبردست ہوں اور حکمت والا ہوں“ اور یہاں سبحان اللہ کہنے سے مقصود یہ تھا کہ اللہ رب العالمین ایسا نہیں جو اس درخت میں یا آگ میں موجود ہو یا ان میں حلول کر آیا ہو۔ بس اس مقام پر اللہ نے اپنی تجلی ڈالی تھی۔ جیسے سورج کے سامنے شیشہ رکھنے سے شیشے میں سے بھی روشنی اور اس کی شعاعیں اور سورج سب کچھ نظر آنے لگتے ہیں۔ لیکن یہ کہا جا سکتا ہے اتنا بڑا سورج چھوٹے سے آئینہ میں سما گیا ہے یا اس جگہ موجود ہے۔
معتزلہ جہمیہ اور متصوفین کا رد:۔
جہمیہ اور معتزلہ جو اللہ تعالیٰ کی صفات کی بزعم خود تنزیہہ بیان کرتے اور اپنے آپ کو اہل التوحید کہتے تھے نیز بعض متصوفین اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت موسیٰؑ نے اللہ کی آواز نہیں سنی بلکہ اس درخت میں اللہ تعالیٰ نے بات کرنے کی قوت پیدا کر دی تھی اور یہ آواز اسی درخت کی آواز تھی اور اسی درخت سے نکل رہی تھی۔ سوچنے کی بات ہے کہ کیا درخت بیچارے کی کیا مجال ہے کہ وہ کہے ”میں اللہ ہوں، زبردست اور حکمتوں والا“ اور درخت یہ دعویٰ کر سکتا ہے تو پھر حسین بن منصور بن حلاج کا کیا قصور تھا جس نے ﴿انا الحق﴾ کا دعویٰ کیا تھا؟ نیز جنید بغدادی اور دیگر علمائے حق نے اس کے قتل کا کیوں فتویٰ دیا تھا؟ دراصل یہ اللہ تعالیٰ کے اپنے بندے سے ہمکلام ہونے کی ایک مسلمہ خاص شکل ہے مجھے سورۃ شوریٰ کی آیت نمبر 51 میں ﴿أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور وراء کا لفظ آگے، پیچھے، اوپر، نیچے غرضیکہ سب سمتوں کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے حجاب میں رہ کر درخت کی طرف سے کلام کی تھی اور اللہ کا حجاب نور ہے جیسا کہ احادیث میں وارد ہے کہ (حجابه النور) تو یا اس روشنی کے پار سے اللہ تعالیٰ نے خود موسیٰؑ سے باتیں کی تھیں اسی لئے موسیٰؑ کو کلیم اللہ کہا جاتا ہے۔ کیونکہ قرآن میں اللہ نے واضح طور پر فرمایا ہے: ﴿وَكَلَّمَ اللَّـهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا جب کہ معتزلہ اللہ کے کلام کرنے کے منکر ہیں اور متصوفین عقیدہ حلول کو درست سمجھتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔