ترجمہ و تفسیر — سورۃ النمل (27) — آیت 10

وَ اَلۡقِ عَصَاکَ ؕ فَلَمَّا رَاٰہَا تَہۡتَزُّ کَاَنَّہَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدۡبِرًا وَّ لَمۡ یُعَقِّبۡ ؕ یٰمُوۡسٰی لَا تَخَفۡ ۟ اِنِّیۡ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴿٭ۖ۱۰﴾
اور اپنی لاٹھی پھینک۔ تو جب اس نے اسے دیکھا کہ حرکت کر رہی ہے، جیسے وہ ایک سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر لوٹا اور واپس نہیں مڑا۔ اے موسیٰ! مت ڈر، بے شک میں، میرے پاس رسول نہیں ڈرتے۔ En
اور اپنی لاٹھی ڈال دو۔ جب اُسے دیکھا تو (اس طرح) ہل رہی تھی گویا سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا (حکم ہوا کہ) موسیٰ ڈرو مت۔ ہمارے پاس پیغمبر ڈرا نہیں کرتے
En
تو اپنی ﻻٹھی ڈال دے، موسیٰ نے جب اسے ہلتا جلتا دیکھا اس طرح کہ گویا وه ایک سانﭗ ہے تو منھ موڑے ہوئے پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پلٹ کر بھی نہ دیکھا، اے موسیٰ! خوف نہ کھا، میرے حضور میں پیغمبر ڈرا نہیں کرتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 10) ➊ {وَ اَلْقِ عَصَاكَ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ …: جَآنٌّ } اصل میں چھوٹے سفیدسانپ کو کہتے ہیں۔ سورۂ اعراف (۱۰۷) اور شعراء (۳۲) میں اس کے لیے { ثُعْبَانٌ } کا لفظ آیا ہے، جس کا معنی بڑا سانپ (اژدہا) ہے۔ اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ وہ شروع میں { جَآنٌّ } تھا، پھر { ثُعْبَانٌ } بن گیا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اول سٹک سی بن گئی تھی پتلی، جب فرعون کے آگے ڈالی تو ناگ ہو گئی بڑھ کر۔ (موضح) یا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سانپ حجم میں اژدہا تھا، مگر تیزی میں چھوٹے سانپ جیسا تھا۔
➋ { يٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ …:} موسیٰ علیہ السلام کے خوف زدہ ہو کر پیٹھ پھیر کر لوٹنے سے ظاہر ہے کہ انھیں اس سے پہلے نہ اپنے نبی بنائے جانے کا علم تھا، نہ یہ معجزات عطا کیے جانے کا۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پہلی وحی پر سخت خوف زدہ ہو گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا: اے موسیٰ! ڈرو نہیں، رسول میرے پاس ڈرا نہیں کرتے۔ بعض حضرات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدائش سے بھی پہلے عالم الغیب باور کروانے پر اصرار کرتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

10-1اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر عالم الغیب نہیں ہوتے، ورنہ موسیٰ ؑ اپنے ہاتھ کی لاٹھی سے نہ ڈرتے دوسرا، طبعی خوف پیغمبر کو بھی لا حق ہوسکتا ہے کیونکہ وہ بھی بالآخر انسان ہی ہوتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

10۔ اپنی لاٹھی تو ذرا پھینکو، موسیٰ نے جب لاٹھی پھینکی تو دیکھا کہ وہ یوں حرکت کر رہی ہے جیسے سانپ ہو۔ آپ پیٹھ پھیر کر جو بھاگے تو پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا (ہم نے کہا) موسیٰ! ڈرو نہیں۔ میرے حضور رسول [10] ڈرا نہیں کرتے۔
[10] نبی کو مبعوث سے پہلے اپنے نبی کا علم نہیں ہوتا:۔
اس آیت سے کئی امور پر روشنی پڑتی ہے۔ مثلاً حضرت موسیٰؑ کی لاٹھی کے سانپ بن جانے کا معجزہ، آپ کو سب سے پہلے اور اسی مقام پر عطا ہوا تھا۔ یہ لاٹھی زمین پر پڑتے ہی اژدہا کی شکل کا بڑا سانپ بن گیا جس میں پھرتی پتلے سانپ کی تھی۔ دوسرے یہ کہ چونکہ یہ پہلا موقع تھا اس لئے موسیٰؑ خود بھی اس سانپ سے ڈر گئے تھے۔ تیسرے یہ کہ اس وقت ہی آپ کو معلوم ہوا کہ منصب رسالت آپ کے سپرد کیا جا رہا ہے اس سے پہلے آپ کو قطعی طور پر علم نہ تھا کہ آپ کو نبوت عطا ہو گی اور نبوت یا رسالت عطا ہونے کے وقت بھی طبیعت گرانبار ہو جاتی ہے اور کچھ نامعلوم سا خطرہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی غار حرا میں ایسا خوف لاحق ہوا تھا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ”رسول میرے حضور ڈرا نہیں کرتے“

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاَلْقِ عَصَاكَ اور اپنی لاٹھی ڈال دو۔ پس انھوں نے اپنی لاٹھی ڈال دی ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ پس جب اسے حرکت کرتا ہوا دیکھا اس طرح کہ گویا وہ ایک سانپ ہے۔ وہ ایک سریع الحرکت نرسانپ تھا۔﴿ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّلَمْ یُعَقِّبْ تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ آپ طبیعت بشری کے تقاضے کے مطابق اس سانپ سے خوف کھا کر بھاگے جو آپ نے دیکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا: ﴿یٰمُوْسٰؔى لَا تَخَفْ اے موسیٰ! ڈرئیے مت۔ ایک مقام پر فرمایا: ﴿ اَ٘قْبِلْ وَلَا تَخَفْ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ (القصص:28؍31) اے موسیٰ! آگے آ، ڈر مت، یقینا تو ہر طرح امن والا ہے۔ ﴿ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْ٘مُرْسَلُوْنَ پیغمبر میرے پاس ڈرا نہیں کرتے۔ پیغمبروں کو کوئی امر خوف زدہ نہیں کرتا اس لیے کہ تمام مقامات خوف اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر، اس کے تصرف اور امر کے مطابق درج ہیں۔ وہ نفوس قدسیہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے مختص اور اپنی وحی کے لیے چن لیا ہے ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غیر اللہ سے ڈریں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی قرب اور اس سے ہم کلامی کے موقع پر۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وألقِ عصاك}: فألقاها، {فلمَّا رآها تهتزُّ كأنَّها جانٌّ}: وهو ذكر الحيات سريعُ الحركة؛ {وَلَّى مُدْبِراً ولم يُعَقِّبْ}: ذُعراً من الحية التي رأى على مقتضى الطبائع البشرية، فقال الله له: {يا موسى لا تخفْ}، وقال في الآية الأخرى: {أقْبِلْ ولا تَخَفْ إنَّكَ من الآمِنينَ}. {إنِّي لا يخافُ لديَّ المرسلونَ}: لأنَّ جميع المخاوف مندرجةٌ في قضائِهِ وقدرِهِ وتصريفِهِ وأمرِهِ، فالذين اختصَّهم الله برسالتِهِ واصطفاهم لوحيِهِ لا ينبغي لهم أن يخافوا غيرَ الله؛ خصوصاً عند زيادة القُرْبِ منهم والحظوة بتكليمه.