فَلَمَّا جَآءَہَا نُوۡدِیَ اَنۡۢ بُوۡرِکَ مَنۡ فِی النَّارِ وَ مَنۡ حَوۡلَہَا ؕ وَ سُبۡحٰنَ اللّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۸﴾
تو جب وہ اس کے پاس آیا تو اسے آواز دی گئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور جو اس کے ارد گرد ہے اور اللہ پاک ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔
En
جب موسیٰ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ وہ جو آگ میں (تجلّی دکھاتا) ہے بابرکت ہے۔ اور جو آگ کے اردگرد ہیں اور خدا جو تمام عالم کا پروردگار ہے پاک ہے
En
جب وہاں پہنچے تو آواز دی گئی کہ بابرکت ہے وه جو اس آگ میں ہے اور برکت دیاگیا ہے وه جس کے آس پاس ہے اور پاک ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پالنے واﻻ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 8) ➊ {فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِيَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّارِ …: } موسیٰ علیہ السلام جب اس آگ کے پاس آئے تو انھیں آواز دی گئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور جو اس کے ارد گرد ہے۔ یہاں سوال ہے کہ {” مَنْ فِي النَّارِ “} (وہ جو آگ میں ہے) سے مراد کون ہے؟ اور {”مَنْ حَوْلَهَا “} (جو اس آگ کے اردگرد ہے) سے مراد کون ہے؟ بعض مفسرین نے {” مَنْ فِي النَّارِ “} سے مراد موسیٰ علیہ السلام لیے ہیں اور کہا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام آگ کے قریب تھے، اس لیے ان کو {” مَنْ فِي النَّارِ “} کہہ دیا گیا اور {”مَنْ حَوْلَهَا “} سے مراد فرشتے ہیں۔ بعض نے ان الفاظ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰ علیہ السلام اور فرشتوں کے لیے سلام کے قائم مقام قرار دیا ہے، جس طرح فرشتوں نے سارہ علیھا السلام کو {” رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَيْكُمْ اَهْلَ الْبَيْتِ “} کہا تھا۔ صاحبِ ”مواهب الرحمان“ فرماتے ہیں، یہ تکلف سے خالی نہیں۔ زمخشری اور ان کے ہم خیال حضرات نے {” بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّارِ “} کا معنی {”بُوْرِكَ فِيْ مَكَانِ النَّارِ“} کیا ہے، یعنی آگ کی جگہ بابرکت ہے اور اس کے اردگرد کی جگہ، یعنی سارا ملک شام بابرکت ہے۔ مگر {” مَنْ “} ذوی العقول کے لیے آتا ہے، اس سے مکان مراد لینا بعید بات ہے۔ سب سے ظاہر بات وہ ہے جو عبد الرزاق نے اپنی صحیح سند کے ساتھ قتادہ سے نقل کی ہے، انھوں نے فرمایا: {” نُوْرُ اللّٰهِ بُوْرِكَ “} یعنی اللہ کا نور بابرکت ہے۔ عبد الرزاق ہی نے حسن کا قول نقل کیا ہے کہ {” مَنْ فِي النَّارِ “} سے مراد نور ہے اور {”مَنْ حَوْلَهَا “} سے مراد فرشتے ہیں۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ بابرکت ہے وہ ذات پاک جو اس آگ میں ہے اور وہ فرشتے بھی جو اس کے ارد گرد ہیں۔ اس معنی کی تائید اگلی آیت میں مذکور الفاظ {” يٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ “} سے بھی ہوتی ہے۔ یہ آگ جو موسیٰ علیہ السلام کو نظر آئی اللہ تعالیٰ کی ذات کا نور نہیں تھی بلکہ نور یا نار کا وہ پردہ تھا جو اللہ تعالیٰ کے چہرے کا حجاب ہے۔ یہ تفسیر عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بیٹے ابوعبیدہ نے اللہ تعالیٰ کے نور کے پردوں والی حدیث بیان کرتے ہوئے زیرِ تفسیر آیت کی تلاوت کرکے فرمائی ہے۔
صحیح مسلم میں ابو عبیدہ نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں کھڑے ہو کر پانچ باتیں بیان فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ لَا يَنَامُ وَلَا يَنْبَغِيْ لَهُ أَنْ يَّنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ، وَ عَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ، حِجَابُهُ النُّوْرُ وَفِيْ رِوَايَةِ أَبِيْ بَكْرٍ النَّارُ لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهٰی إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ] [مسلم، الإیمان، باب في قولہ علیہ السلام إن اللہ لا ینام …: ۱۷۹] ”اللہ عز و جل سوتا نہیں، نہ ہی سونا اس کے لائق ہے۔ وہ ترازو کو نیچا کرتا ہے اور اسے اونچا کرتا ہے، رات کا عمل اس کی طرف دن کے عمل سے پہلے اوپر لے جایا جاتا ہے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اس کی طرف اوپر لے جایا جاتا ہے، اس کا حجاب نور ہے۔“ ابوبکر کی روایت میں (نور کی جگہ) نار ہے۔ ”اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کے چہرے کی شعائیں اس کی مخلوق میں سے ان سب چیزوں کو جلا دیں جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے۔“ مسند احمد میں ہے کہ ابوعبیدہ نے یہ حدیث بیان کر کے یہ آیت پڑھی: «{فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِيَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ }» [مسند أحمد: 400/4، ۴۰۱، ح: ۱۹۶۰۶] اور ابن ابی حاتم نے بھی اپنی تفسیر میں سورۂ نمل کی اس آیت کے تحت یہ حدیث بیان فرمائی ہے، جس کے آخر میں ابوعبیدہ نے اس آیت کی تلاوت کی ہے۔ ابن ابی حاتم کے محقق نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ [الصحیح المسبور]
یونانی فلسفے سے متاثر بہت سے مفسرین نے اللہ تعالیٰ کے متعلق قرآن و حدیث میں بیان کی گئی بہت سی باتوں کا انکار کر دیا، یا ان کی تاویل کی، مثلاً قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے۔ وہ جب چاہے جہاں چاہے نور یا نار کے پردے میں محجوب رہ کر نزول فرماتا ہے، وہ رات کے پچھلے پہر آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے۔ قیامت کے دن زمین پر نزول فرمائے گا، اس دن اس کے عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ وہ جب چاہے، جو چاہے، جس سے چاہے کلام کر سکتا ہے اور کرتا ہے۔ ہمارے ان مفسرین نے ان سب باتوں کو اللہ تعالیٰ کی شان کے منافی قرار دے کر ان کا انکار کر دیا، یا ان کی ایسی تاویل کی جو انکار سے بھی بدتر ہے۔ ان حضرات نے یہ نہ سوچا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے بڑھ کر اللہ کی شان نہ سمجھ سکتے ہیں، نہ بیان کر سکتے ہیں۔ اس مقام پر {” مَنْ فِي النَّارِ “} سے اللہ تعالیٰ کی ذات کے بجائے موسیٰ علیہ السلام یا کوئی اور مراد لینے کے پیچھے بھی یہی مشکل کار فرما ہے۔
➋ { وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ:} یہ اس بات کی تردید ہے کہ کوئی اللہ تعالیٰ کے آگ کے حجاب میں نزول کو یا بذات خود کلام کرنے کو اپنے نزول یا کلام کرنے کی طرح سمجھے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے فرمایا: «{ لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ }» [الشورٰی: ۱۱] ”اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“ یعنی یہ بھی مانو کہ اس کی مثل کوئی چیز نہیں او ریہ بھی مانو کہ وہ سمیع بھی ہے بصیر بھی، مگر اس کا سمع و بصر تمھاری مثل نہیں۔
➌ بعض حضرات نے اس جگہ کی تعیین کا تکلف کیا ہے، جہاں موسیٰ علیہ السلام کو یہ معاملہ پیش آیا تھا اور انھوں نے عیسائی بادشاہ قسطنطین کے ۳۶۵ء میں اس مقام پر ایک کنیسہ تعمیر کرنے کو بطور دلیل پیش کیا ہے، بلکہ لوگوں کی روایات کو بنیاد بنا کر ایک درخت کو بھی وہ درخت قرار دے دیا ہے جس میں موسیٰ علیہ السلام کو آگ نظر آئی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس کوئی معتبر دلیل نہیں کہ ہم اس جگہ کی تعیین کر سکیں۔ ہدایت کے لیے وہی کافی ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے بیان فرما دیا ہے، اگر اس کی ضرورت ہوتی تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی تعیین فرما دیتے۔
صحیح مسلم میں ابو عبیدہ نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں کھڑے ہو کر پانچ باتیں بیان فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ لَا يَنَامُ وَلَا يَنْبَغِيْ لَهُ أَنْ يَّنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ، وَ عَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ، حِجَابُهُ النُّوْرُ وَفِيْ رِوَايَةِ أَبِيْ بَكْرٍ النَّارُ لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهٰی إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ] [مسلم، الإیمان، باب في قولہ علیہ السلام إن اللہ لا ینام …: ۱۷۹] ”اللہ عز و جل سوتا نہیں، نہ ہی سونا اس کے لائق ہے۔ وہ ترازو کو نیچا کرتا ہے اور اسے اونچا کرتا ہے، رات کا عمل اس کی طرف دن کے عمل سے پہلے اوپر لے جایا جاتا ہے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اس کی طرف اوپر لے جایا جاتا ہے، اس کا حجاب نور ہے۔“ ابوبکر کی روایت میں (نور کی جگہ) نار ہے۔ ”اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کے چہرے کی شعائیں اس کی مخلوق میں سے ان سب چیزوں کو جلا دیں جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے۔“ مسند احمد میں ہے کہ ابوعبیدہ نے یہ حدیث بیان کر کے یہ آیت پڑھی: «{فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِيَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ }» [مسند أحمد: 400/4، ۴۰۱، ح: ۱۹۶۰۶] اور ابن ابی حاتم نے بھی اپنی تفسیر میں سورۂ نمل کی اس آیت کے تحت یہ حدیث بیان فرمائی ہے، جس کے آخر میں ابوعبیدہ نے اس آیت کی تلاوت کی ہے۔ ابن ابی حاتم کے محقق نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ [الصحیح المسبور]
یونانی فلسفے سے متاثر بہت سے مفسرین نے اللہ تعالیٰ کے متعلق قرآن و حدیث میں بیان کی گئی بہت سی باتوں کا انکار کر دیا، یا ان کی تاویل کی، مثلاً قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے۔ وہ جب چاہے جہاں چاہے نور یا نار کے پردے میں محجوب رہ کر نزول فرماتا ہے، وہ رات کے پچھلے پہر آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے۔ قیامت کے دن زمین پر نزول فرمائے گا، اس دن اس کے عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ وہ جب چاہے، جو چاہے، جس سے چاہے کلام کر سکتا ہے اور کرتا ہے۔ ہمارے ان مفسرین نے ان سب باتوں کو اللہ تعالیٰ کی شان کے منافی قرار دے کر ان کا انکار کر دیا، یا ان کی ایسی تاویل کی جو انکار سے بھی بدتر ہے۔ ان حضرات نے یہ نہ سوچا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے بڑھ کر اللہ کی شان نہ سمجھ سکتے ہیں، نہ بیان کر سکتے ہیں۔ اس مقام پر {” مَنْ فِي النَّارِ “} سے اللہ تعالیٰ کی ذات کے بجائے موسیٰ علیہ السلام یا کوئی اور مراد لینے کے پیچھے بھی یہی مشکل کار فرما ہے۔
➋ { وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ:} یہ اس بات کی تردید ہے کہ کوئی اللہ تعالیٰ کے آگ کے حجاب میں نزول کو یا بذات خود کلام کرنے کو اپنے نزول یا کلام کرنے کی طرح سمجھے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے فرمایا: «{ لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ }» [الشورٰی: ۱۱] ”اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“ یعنی یہ بھی مانو کہ اس کی مثل کوئی چیز نہیں او ریہ بھی مانو کہ وہ سمیع بھی ہے بصیر بھی، مگر اس کا سمع و بصر تمھاری مثل نہیں۔
➌ بعض حضرات نے اس جگہ کی تعیین کا تکلف کیا ہے، جہاں موسیٰ علیہ السلام کو یہ معاملہ پیش آیا تھا اور انھوں نے عیسائی بادشاہ قسطنطین کے ۳۶۵ء میں اس مقام پر ایک کنیسہ تعمیر کرنے کو بطور دلیل پیش کیا ہے، بلکہ لوگوں کی روایات کو بنیاد بنا کر ایک درخت کو بھی وہ درخت قرار دے دیا ہے جس میں موسیٰ علیہ السلام کو آگ نظر آئی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس کوئی معتبر دلیل نہیں کہ ہم اس جگہ کی تعیین کر سکیں۔ ہدایت کے لیے وہی کافی ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے بیان فرما دیا ہے، اگر اس کی ضرورت ہوتی تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی تعیین فرما دیتے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
8-1دور سے جہاں آگ کے شعلے لپکتے نظر آئے، وہاں پہنچے یعنی کوہ طور پر، تو دیکھا کہ سرسبز درخت سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں۔ یہ حقیقت میں آگ نہیں تھی، اللہ کا نور تھا، جس کی تجلی آگ کی طرح محسوس ہوتی تھی مَنْ فَی النَّار میں مَنْ سے مراد اللہ تبارک و تعالیٰ اور نار سے مراد اس کا نور ہے اور وَمَنْ حَوْلَھَا (اس کے ارد گرد) سے مراد موسیٰ اور فرشتے، حدیث میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے حجاب (پردے) کو نور (روشنی) اور ایک روایت میں نار (آگ) سے تعبیر کیا گیا ہے اور فرمایا ہے، کہ ' اگر اپنی ذات کو بےنقاب کر دے تو اس کا جلال تمام مخلوقات کو جلا کر رکھ دے ' (صحیح مسلم)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
8۔ پھر جب وہ وہاں پہنچے تو ندا آئی کہ ”مبارک ہے۔ وہ جو اس آگ میں ہے اور جو [8] اس کے ارد گرد ہے اور پاک ہے اللہ جو سب جہان والوں کا پروردگار ہے۔
[8] وہاں پہنچ کر عجیب سا منظر دیکھا۔ آگ نے ایک درخت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے مگر درخت ویسے کا ویسا سرسبز ہے اور لہلہا رہا ہے۔ آس پاس کوئی آدمی بھی نہیں ہے۔ آگ سے دھواں بھی نہیں اٹھ رہا۔ اور پورا خطہ زمین روشنی سے جگمگا رہا ہے۔ اس حیرانی کے عالم میں کھڑے تھے کہ اس روشنی سے یا درخت میں سے ندا آئی، موسیٰ اپنے جوتے اتار لو۔ اس وقت تم طویٰ کی مقدس وادی میں پہنچ گئے ہو اور تم یہاں بھولے سے نہیں آگئے بلکہ ٹھیک ہمارے اندازے کے مطابق یہاں پہنچے ہو۔ اس آگ میں اور اس کے ارد گرد جو کوئی بھی ہے سب مبارک ہے۔ یہ آگ، یہ درخت، تم، خود اور آس پاس فرشتے سب مبارک اور بابرکت ہے۔ اور اللہ کی ذات، جو تمام جہانوں کی پروردگار ہے۔ ہر قسم کے جہات اور تشبیہات سے منزہ اور پاک ہے۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
آگ لینے گئے رسالت مل گئی ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ یاد دلارہا ہے کہ اللہ نے انہیں کس طرح بزرگ بنایا اور ان سے کلام کیا اور انہیں زبردست معجزے عطا فرمائے اور فرعون اور فرعونیوں کے پاس اپنا رسول بنا کر بھیجا لیکن کفارنے آپ کا انکار کیا اپنے کفر وتکبر سے نہ ہٹے آپ کی اتباع اور پیروی نہ کی۔ فرماتا ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام اپنی اہل کو لے کر چلے اور راستہ بھول گئے رات آ گئی اور وہ بھی سخت اندھیرے والی۔
تو آپ نے دیکھا کہ ایک جانب سے آگ کا شعلہ سا دکھائی دیتا ہے آپ نے اپنی اہل سے فرمایا کہ تم تو یہیں ٹھہرو۔ میں اس روشنی کے پاس جاتا ہوں کیا عجب کہ وہاں سے جو ہو اس سے راستہ معلوم ہو جائے یا میں وہاں کچھ آگ لے آؤں کہ تم اسے ذرا سینک تاپ کر لو۔ ایسا ہی ہوا کہ آپ وہاں سے ایک بڑی خبر لائے اور بہت بڑا نور حاصل کیا فرماتا ہے کہ جب وہاں پہنچے اس منظر کو دیکھ کر حیر ان رہ گئے دیکھتے ہیں کہ سرسبز درخت ہے اس پر آگ لپٹی رہی شعلے تیز ہو رہے ہیں اور درخت کی سرسبزی اور بڑھ رہی ہے۔
اونچی نگاہ کی تو دیکھا کہ وہ نور آسمان تک پہنچا ہوا ہے۔ فی الوقع وہ آگ نہ تھی بلکہ نور تھا اور نور بھی رب العالمین وحدہ لاشریک کا۔ موسیٰ علیہ السلام متعجب تھے اور کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ کہ یکایک ایک آواز آتی ہے کہ اس نور میں جو کچھ ہے وہ پاکی والا اور بزرگی والا ہے اور اس کے پاس جو فرشتے ہیں وہ بھی مقدس ہیں۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سوتا نہیں اور نہ اسے سونا لائق ہے وہ ترازو کو پست کرتا ہے اور اونچی کرتا ہے رات کے کام اس کی طرف دن سے پہلے اور دن کے کام رات سے پہلے چڑھ جاتے ہیں۔ اس کا حجاب نور یا آگ ہے اگر وہ بٹ جائیں تو اس کے چہرے کی تجلیاں ہرچیز کو جلادیں جس پر اس کی نگاہ پہنچ رہی ہے یعنی کل کائنات کو۔
تو آپ نے دیکھا کہ ایک جانب سے آگ کا شعلہ سا دکھائی دیتا ہے آپ نے اپنی اہل سے فرمایا کہ تم تو یہیں ٹھہرو۔ میں اس روشنی کے پاس جاتا ہوں کیا عجب کہ وہاں سے جو ہو اس سے راستہ معلوم ہو جائے یا میں وہاں کچھ آگ لے آؤں کہ تم اسے ذرا سینک تاپ کر لو۔ ایسا ہی ہوا کہ آپ وہاں سے ایک بڑی خبر لائے اور بہت بڑا نور حاصل کیا فرماتا ہے کہ جب وہاں پہنچے اس منظر کو دیکھ کر حیر ان رہ گئے دیکھتے ہیں کہ سرسبز درخت ہے اس پر آگ لپٹی رہی شعلے تیز ہو رہے ہیں اور درخت کی سرسبزی اور بڑھ رہی ہے۔
اونچی نگاہ کی تو دیکھا کہ وہ نور آسمان تک پہنچا ہوا ہے۔ فی الوقع وہ آگ نہ تھی بلکہ نور تھا اور نور بھی رب العالمین وحدہ لاشریک کا۔ موسیٰ علیہ السلام متعجب تھے اور کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ کہ یکایک ایک آواز آتی ہے کہ اس نور میں جو کچھ ہے وہ پاکی والا اور بزرگی والا ہے اور اس کے پاس جو فرشتے ہیں وہ بھی مقدس ہیں۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سوتا نہیں اور نہ اسے سونا لائق ہے وہ ترازو کو پست کرتا ہے اور اونچی کرتا ہے رات کے کام اس کی طرف دن سے پہلے اور دن کے کام رات سے پہلے چڑھ جاتے ہیں۔ اس کا حجاب نور یا آگ ہے اگر وہ بٹ جائیں تو اس کے چہرے کی تجلیاں ہرچیز کو جلادیں جس پر اس کی نگاہ پہنچ رہی ہے یعنی کل کائنات کو۔
ابوعبیدہ رحمہ اللہ راوی حدیث نے یہ حدیث بیان فرما کر یہی آیت تلاوت کی۔ یہ الفاظ ابن ابی حاتم کے ہیں اور اس کی اصل صحیح مسلم میں ہے۔ پاک ہے وہ اللہ جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے مشابہ نہیں۔ اس کی مصنوعات میں سے کوئی چیز کسی کے احاطے میں نہیں۔ وہ بلند و بالا ہے ساری مخلوق سے الگ ہے زمین و آسمان اسے گھیر نہیں سکتے وہ احد وصمد ہے وہ مخلوق کی مشابہت سے پاک ہے۔
پھر خبر دی کہ خود اللہ تعالیٰ ان سے خطاب فرما رہا ہے وہی اسی وقت سرگوشیاں کر رہا ہے جو سب پر غالب ہے سب اس کے ماتحت اور زیر حکم ہیں۔ وہ اپنے اقوال وافعال میں حکمت والا ہے اس کے بعد جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ اے موسیٰ اپنی لکڑی کو زمین پر ڈال دو تاکہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکو کہ اللہ تعالیٰ فاعل مختار ہے وہ ہرچیز پر قادر ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ارشاد سنتے ہی لکڑی کو زمین پر گرایا۔
اسی وقت وہ ایک پھن اٹھائے پھنکارتا ہوا سانپ بن گئی اور بہت بڑے جسم کا سانپ بڑی ڈراؤنی صورت اس موٹاپے پر تیز تیز چلنے والا۔ ایسا جیتا جاگتا چلتا پھرتا زبردست اژدہا دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام خوف زدہ ہو گئے «جان» کا لفظ قرآن کریم میں ہے یہ ایک قسم کے سانپ ہیں جو بہت تیزی سے حرکت کرنے والے اور کنڈلی لگانے والے ہوتے ہیں۔
پھر خبر دی کہ خود اللہ تعالیٰ ان سے خطاب فرما رہا ہے وہی اسی وقت سرگوشیاں کر رہا ہے جو سب پر غالب ہے سب اس کے ماتحت اور زیر حکم ہیں۔ وہ اپنے اقوال وافعال میں حکمت والا ہے اس کے بعد جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ اے موسیٰ اپنی لکڑی کو زمین پر ڈال دو تاکہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکو کہ اللہ تعالیٰ فاعل مختار ہے وہ ہرچیز پر قادر ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ارشاد سنتے ہی لکڑی کو زمین پر گرایا۔
اسی وقت وہ ایک پھن اٹھائے پھنکارتا ہوا سانپ بن گئی اور بہت بڑے جسم کا سانپ بڑی ڈراؤنی صورت اس موٹاپے پر تیز تیز چلنے والا۔ ایسا جیتا جاگتا چلتا پھرتا زبردست اژدہا دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام خوف زدہ ہو گئے «جان» کا لفظ قرآن کریم میں ہے یہ ایک قسم کے سانپ ہیں جو بہت تیزی سے حرکت کرنے والے اور کنڈلی لگانے والے ہوتے ہیں۔
ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے ایسے سانپوں کے قتل سے ممانعت فرمائی ہے۔ } الغرض جناب موسیٰ اسے دیکھ کر ڈرے اور دہشت کے مارے ٹھہر نہ سکے اور منہ موڑ کر پیٹھ پھیر کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے ایسے دہشت زدہ تھے کہ مڑ کر بھی نہ دیکھا۔
اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ موسیٰ ڈرو نہیں۔ میں تو تمہیں اپنا برگزیدہ رسول اور ذی عزت پیغمبر بنانا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اس آیت میں انسان کے لیے بہت بڑی بشارت ہے کہ جس نے بھی کوئی برائی کا کام کیا ہو پھر وہ اس پر نادم ہو جائے اس کام کو چھوڑ دے توبہ کر لے اللہ تعالیٰ کی طرف جھک جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالیتا ہے۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنِّىْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى» ۱؎ [20-طه:82] ’ جو بھی توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور راہ راست پر چلے میں اس کے گناہوں کو بخشنے والا ہوں ‘
اور فرمان ہے آیت «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [4-النساء:110] ’ جو شخص کسی برائی کا مرتکب ہو جائے یا کوئی گناہ کر بیٹھے پھر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے تو وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کو غفور ورحیم پائے گا۔ ‘
اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ موسیٰ ڈرو نہیں۔ میں تو تمہیں اپنا برگزیدہ رسول اور ذی عزت پیغمبر بنانا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اس آیت میں انسان کے لیے بہت بڑی بشارت ہے کہ جس نے بھی کوئی برائی کا کام کیا ہو پھر وہ اس پر نادم ہو جائے اس کام کو چھوڑ دے توبہ کر لے اللہ تعالیٰ کی طرف جھک جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالیتا ہے۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنِّىْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى» ۱؎ [20-طه:82] ’ جو بھی توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور راہ راست پر چلے میں اس کے گناہوں کو بخشنے والا ہوں ‘
اور فرمان ہے آیت «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [4-النساء:110] ’ جو شخص کسی برائی کا مرتکب ہو جائے یا کوئی گناہ کر بیٹھے پھر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے تو وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کو غفور ورحیم پائے گا۔ ‘
اس مضمون کی آیتیں کلام الہٰی میں اور بھی بہت ساری ہیں۔ لکڑی کے سانپ بن جانے کے معجزے کے ساتھ ہی کلیم اللہ کو اور معجزہ دیا جاتا ہے کہ آپ جب بھی اپنے گریبان میں ہاتھ ڈال کر نکالیں گے تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہو کر نکلے گا یہ دو معجزے ان نو (9) معجزوں میں سے ہیں کہ جن سے میں تیری وقتا فوقتا تائید کرتا رہونگا۔
تاکہ فاسق فرعون اور اس کی فاسق قوم کے دلوں میں تیری نبوت کا ثبوت جگہ پکڑجائے یہ نو (9) معجزے وہ تھے جن کا ذکر آیت «وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:101] میں ہے جس کی پوری تفسیر بھی اس آیت کے تحت میں گزر چکی ہے۔
جب یہ واضح ظاہر صاف اور کھلے معجزے فرعونیوں کو دکھائے گئے تو وہ اپنی ضد میں آ کر کہنے لگے یہ تو جادو ہے لو ہم اپنے جادوگروں کو بلالیتے ہیں مقابلہ کر لو اس مقابلہ میں اللہ نے حق کو غالب کیا اور سب لوگ زیر ہو گئے مگر پھر بھی نہ مانے۔ گو دلوں میں اس کی حقانیت جم چکی تھی۔ لیکن ظاہر مقابلہ سے ہٹے۔ صرف ظلم اور تکبر کی بنا پر حق کو جھٹلاتے رہے اب تو دیکھ لے کہ ان مفسدوں کا انجام کس طرح حیرتناک اور کیسا کچھ عبرت ناک ہوا؟
ایک ہی مرتبہ ایک ہی ساتھ سارے کے سارے دریا برد کر دئے گئے۔ پس اے آخری نبی الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے جھٹلانے والو تم اس نبی کو جھٹلا کر مطمئن نہ بیٹھو۔ کیونکہ یہ تو موسیٰ علیہ السلام سے بھی اشرف وافضل ہیں ان کی دلیلیں اور معجزے بھی ان کی دلیلوں اور معجزوں سے بڑے ہیں خود آپ کا وجود آپ کے عادات واخلاق اور اگلی کتابوں کی اور اگلے نبیوں کی آپ کی نسبت بشارتیں اور ان سے اللہ کا عہد پیمان یہ سب چیزیں آپ میں ہیں پس تمہیں نہ مان کر نڈر اور بیخوف نہ رہنا چاہیئے۔
تاکہ فاسق فرعون اور اس کی فاسق قوم کے دلوں میں تیری نبوت کا ثبوت جگہ پکڑجائے یہ نو (9) معجزے وہ تھے جن کا ذکر آیت «وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:101] میں ہے جس کی پوری تفسیر بھی اس آیت کے تحت میں گزر چکی ہے۔
جب یہ واضح ظاہر صاف اور کھلے معجزے فرعونیوں کو دکھائے گئے تو وہ اپنی ضد میں آ کر کہنے لگے یہ تو جادو ہے لو ہم اپنے جادوگروں کو بلالیتے ہیں مقابلہ کر لو اس مقابلہ میں اللہ نے حق کو غالب کیا اور سب لوگ زیر ہو گئے مگر پھر بھی نہ مانے۔ گو دلوں میں اس کی حقانیت جم چکی تھی۔ لیکن ظاہر مقابلہ سے ہٹے۔ صرف ظلم اور تکبر کی بنا پر حق کو جھٹلاتے رہے اب تو دیکھ لے کہ ان مفسدوں کا انجام کس طرح حیرتناک اور کیسا کچھ عبرت ناک ہوا؟
ایک ہی مرتبہ ایک ہی ساتھ سارے کے سارے دریا برد کر دئے گئے۔ پس اے آخری نبی الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے جھٹلانے والو تم اس نبی کو جھٹلا کر مطمئن نہ بیٹھو۔ کیونکہ یہ تو موسیٰ علیہ السلام سے بھی اشرف وافضل ہیں ان کی دلیلیں اور معجزے بھی ان کی دلیلوں اور معجزوں سے بڑے ہیں خود آپ کا وجود آپ کے عادات واخلاق اور اگلی کتابوں کی اور اگلے نبیوں کی آپ کی نسبت بشارتیں اور ان سے اللہ کا عہد پیمان یہ سب چیزیں آپ میں ہیں پس تمہیں نہ مان کر نڈر اور بیخوف نہ رہنا چاہیئے۔