وَ یَوۡمَ یُنۡفَخُ فِی الصُّوۡرِ فَفَزِعَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰہُ ؕ وَ کُلٌّ اَتَوۡہُ دٰخِرِیۡنَ ﴿۸۷﴾
اور جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو جو بھی آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، گھبرا جائے گا مگر جسے اللہ نے چاہا اور وہ سب اس کے پاس ذلیل ہوکر آئیں گے۔
En
اور جس روز صور پھونکا جائے گا تو جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں سب گھبرا اُٹھیں گے مگر وہ جسے خدا چاہے اور سب اس کے پاس عاجز ہو کر چلے آئیں گے
En
جس دن صور پھونکا جائے گا تو سب کے سب آسمانوں والے اور زمین والے گھبرا اٹھیں گے مگر جسے اللہ تعالیٰ چاہے، اور سارے کے سارے عاجز وپست ہو کر اس کے سامنے حاضر ہوں گے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 87) ➊ {وَ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ:” الصُّوْرِ “} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۷۳) گزشتہ آیت (۸۳) میں خاص کفار کے حشر کا ذکر تھا، اب تمام مخلوق کے حشر کا ذکر ہے، تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ صرف کفار کا حشر ہو گا۔
➋ { فَفَزِعَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِي الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ:} بعض مفسرین نے تین نفخے ذکر فرمائے ہیں، نفخۂ فزع، نفخۂ صعق اور نفخۂ قیام، مگر صحیح بات یہی ہے کہ نفخۂ فزع اور نفخۂ صعق ایک ہی ہے، کیونکہ دونوں کے بعد{ ” اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ “ } ہے۔ صعق کا لفظ بے ہوشی اور موت دونوں معنوں میں آتا ہے۔ پہلی دفعہ صور میں پھونکے جانے سے پیدا ہونے والی ابتدائی کیفیت فزع اور گھبراہٹ ہے، جو آخر میں ہر چیز کی ہلاکت اور فنا تک پہنچ جائے گی، پھر ایک طویل وقفے کے بعد، جس کی مدت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، دوبارہ صور میں پھونکا جائے گا تو سب لوگ زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہو جائیں گے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُوْنَ، قَالَ أَرْبَعُوْنَ يَوْمًا؟ قَالَ أَبَيْتُ، قَالَ أَرْبَعُوْنَ شَهْرًا؟ قَالَ أَبَيْتُ، قَالَ أَرْبَعُوْنَ سَنَةً؟ قَالَ أَبَيْتُ، قَالَ ثُمَّ يُنْزِلُ اللّٰهُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَيَنْبُتُوْنَ كَمَا يَنْبُتُ الْبَقْلُ، لَيْسَ مِنَ الْإِنْسَانِ شَيْءٌ إِلَّا يَبْلٰی، إِلَّا عَظْمًا وَاحِدًا وَهُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ، وَمِنْهُ يُرَكَّبُ الْخَلْقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ] [بخاري، التفیسر، باب: «یوم ینفخ فی الصور فتأتون أفواجا» : ۴۹۳۵] ”دو نفخوں کے درمیان چالیس کا وقفہ ہے۔“ لوگوں نے کہا: ”(ابو ہریرہ!) چالیس دن؟“ انھوں نے کہا: ”میں یہ نہیں کہتا۔“ لوگوں نے کہا: ”چالیس مہینے؟“ کہا: ”میں یہ نہیں کہتا۔“ لوگوں نے کہا: ”چالیس سال؟“ کہا: ”میں یہ نہیں کہتا۔“ اور حدیث بیان کی: ”پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برسائے گا تو لوگ اُگ آئیں گے جیسے سبزی اُگتی ہے اور انسان کی کوئی چیز نہیں جو بوسیدہ نہ ہو، سوائے ایک ہڈی کے جو دم کی ہڈی ہے۔ اسی سے مخلوق کو قیامت کے دن دوبارہ جوڑا جائے گا۔“
➌ { اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ:} یعنی صور میں پھونکے جانے پر زمین و آسمان میںجو بھی ہے گھبرا جائے گا۔ سورۂ زمر میں فرمایا: «{ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِي الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ }» [الزمر: ۶۸] ”جو لوگ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہوں گے، مر کر گر جائیں گے مگر جسے اللہ نے چاہا۔“ یعنی آسمانوں میں اور زمین میں موجود جو بھی ہے بے ہوش ہو جائے گا، ہلاک ہو جائے گا مگر جسے اللہ چاہے۔ اس سے کون لوگ مراد ہیں؟ مفسرین میں سے بعض نے کہا کہ اس سے مراد انبیاء ہیں، بعض نے کہا شہداء، بعض نے ملائکہ اور بعض نے حورعین مراد لی ہیں، مگر {” اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ “} کی تعیین کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں، اس لیے بہتر یہ ہے کہ یہ بات اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دی جائے کہ وہی بہتر جانتا ہے کہ وہ خوش نصیب کون ہیں جو اس نفخہ کے وقت نہ گھبرائیں گے، نہ بے ہوش یا ہلاک ہوں گے۔ کیونکہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلنَّاسُ يَصْعَقُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَكُوْنُ أَوَّلَ مَنْ يُّفِيْقُ، فَإِذَا أَنَا بِمُوْسٰی آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِيْ أَفَاقَ قَبْلِيْ أَمْ جُوْزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّوْرِ؟] [بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی: «و واعدنا موسٰی …» : ۳۳۹۸] ”لوگ قیامت کے دن بے ہوش ہو جائیں گے، تو میں سب سے پہلا شخص ہوں گا جو ہوش میں آئے گا۔ اچانک میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھوں گا کہ عرش کے پایوں میں سے ایک پائے کو پکڑے ہوئے ہوں گے، سو میں نہیں جانتا کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے یا انھیں ُطور کی بے ہوشی کی جزا دی گئی۔“ تو جب سید الخلق صلی اللہ علیہ وسلم (جنھیں زہر خورانی کی وجہ سے شہادت کی سعادت بھی نصیب ہوئی) اس صعقہ سے مستثنیٰ نہیں تو باقی شہداء یا انبیاء و صلحاء کے متعلق یہ بات کیسے کہی جا سکتی ہے؟ اس لیے بہتر یہ ہے کہ کہا جائے اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا اس فزع اور صعقہ سے محفوظ رکھے گا۔
➍ اس{” اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ “} میں بھی اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت کا اظہار ہو گا کہ صور کی اس خوف ناک آواز کے وقت، جس سے جن، انسان، فرشتے، آسمان و زمین، سورج، چاند، ستارے اور پہاڑ، غرض ہر چیز فنا ہو جائے گی، لیکن اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا اس پر اس وقت بھی گھبراہٹ یا فناکا کوئی اثر نہیں ہو گا۔
➎ { وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِيْنَ: ” دَخَرَ “} کے معنی میں عاجزی، ذلت اور حقارت تینوں باتیں پائی جاتی ہیں، یعنی ساری مخلوق عاجز اور حقیر بن کر اللہ کے حضور پیش ہو گی، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا }» [مریم: ۹۳] ”آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمان کے پاس غلام بن کر آنے والا ہے۔“
➋ { فَفَزِعَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِي الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ:} بعض مفسرین نے تین نفخے ذکر فرمائے ہیں، نفخۂ فزع، نفخۂ صعق اور نفخۂ قیام، مگر صحیح بات یہی ہے کہ نفخۂ فزع اور نفخۂ صعق ایک ہی ہے، کیونکہ دونوں کے بعد{ ” اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ “ } ہے۔ صعق کا لفظ بے ہوشی اور موت دونوں معنوں میں آتا ہے۔ پہلی دفعہ صور میں پھونکے جانے سے پیدا ہونے والی ابتدائی کیفیت فزع اور گھبراہٹ ہے، جو آخر میں ہر چیز کی ہلاکت اور فنا تک پہنچ جائے گی، پھر ایک طویل وقفے کے بعد، جس کی مدت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، دوبارہ صور میں پھونکا جائے گا تو سب لوگ زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہو جائیں گے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُوْنَ، قَالَ أَرْبَعُوْنَ يَوْمًا؟ قَالَ أَبَيْتُ، قَالَ أَرْبَعُوْنَ شَهْرًا؟ قَالَ أَبَيْتُ، قَالَ أَرْبَعُوْنَ سَنَةً؟ قَالَ أَبَيْتُ، قَالَ ثُمَّ يُنْزِلُ اللّٰهُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَيَنْبُتُوْنَ كَمَا يَنْبُتُ الْبَقْلُ، لَيْسَ مِنَ الْإِنْسَانِ شَيْءٌ إِلَّا يَبْلٰی، إِلَّا عَظْمًا وَاحِدًا وَهُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ، وَمِنْهُ يُرَكَّبُ الْخَلْقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ] [بخاري، التفیسر، باب: «یوم ینفخ فی الصور فتأتون أفواجا» : ۴۹۳۵] ”دو نفخوں کے درمیان چالیس کا وقفہ ہے۔“ لوگوں نے کہا: ”(ابو ہریرہ!) چالیس دن؟“ انھوں نے کہا: ”میں یہ نہیں کہتا۔“ لوگوں نے کہا: ”چالیس مہینے؟“ کہا: ”میں یہ نہیں کہتا۔“ لوگوں نے کہا: ”چالیس سال؟“ کہا: ”میں یہ نہیں کہتا۔“ اور حدیث بیان کی: ”پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برسائے گا تو لوگ اُگ آئیں گے جیسے سبزی اُگتی ہے اور انسان کی کوئی چیز نہیں جو بوسیدہ نہ ہو، سوائے ایک ہڈی کے جو دم کی ہڈی ہے۔ اسی سے مخلوق کو قیامت کے دن دوبارہ جوڑا جائے گا۔“
➌ { اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ:} یعنی صور میں پھونکے جانے پر زمین و آسمان میںجو بھی ہے گھبرا جائے گا۔ سورۂ زمر میں فرمایا: «{ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِي الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ }» [الزمر: ۶۸] ”جو لوگ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہوں گے، مر کر گر جائیں گے مگر جسے اللہ نے چاہا۔“ یعنی آسمانوں میں اور زمین میں موجود جو بھی ہے بے ہوش ہو جائے گا، ہلاک ہو جائے گا مگر جسے اللہ چاہے۔ اس سے کون لوگ مراد ہیں؟ مفسرین میں سے بعض نے کہا کہ اس سے مراد انبیاء ہیں، بعض نے کہا شہداء، بعض نے ملائکہ اور بعض نے حورعین مراد لی ہیں، مگر {” اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ “} کی تعیین کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں، اس لیے بہتر یہ ہے کہ یہ بات اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دی جائے کہ وہی بہتر جانتا ہے کہ وہ خوش نصیب کون ہیں جو اس نفخہ کے وقت نہ گھبرائیں گے، نہ بے ہوش یا ہلاک ہوں گے۔ کیونکہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلنَّاسُ يَصْعَقُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَكُوْنُ أَوَّلَ مَنْ يُّفِيْقُ، فَإِذَا أَنَا بِمُوْسٰی آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِيْ أَفَاقَ قَبْلِيْ أَمْ جُوْزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّوْرِ؟] [بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی: «و واعدنا موسٰی …» : ۳۳۹۸] ”لوگ قیامت کے دن بے ہوش ہو جائیں گے، تو میں سب سے پہلا شخص ہوں گا جو ہوش میں آئے گا۔ اچانک میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھوں گا کہ عرش کے پایوں میں سے ایک پائے کو پکڑے ہوئے ہوں گے، سو میں نہیں جانتا کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے یا انھیں ُطور کی بے ہوشی کی جزا دی گئی۔“ تو جب سید الخلق صلی اللہ علیہ وسلم (جنھیں زہر خورانی کی وجہ سے شہادت کی سعادت بھی نصیب ہوئی) اس صعقہ سے مستثنیٰ نہیں تو باقی شہداء یا انبیاء و صلحاء کے متعلق یہ بات کیسے کہی جا سکتی ہے؟ اس لیے بہتر یہ ہے کہ کہا جائے اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا اس فزع اور صعقہ سے محفوظ رکھے گا۔
➍ اس{” اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ “} میں بھی اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت کا اظہار ہو گا کہ صور کی اس خوف ناک آواز کے وقت، جس سے جن، انسان، فرشتے، آسمان و زمین، سورج، چاند، ستارے اور پہاڑ، غرض ہر چیز فنا ہو جائے گی، لیکن اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا اس پر اس وقت بھی گھبراہٹ یا فناکا کوئی اثر نہیں ہو گا۔
➎ { وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِيْنَ: ” دَخَرَ “} کے معنی میں عاجزی، ذلت اور حقارت تینوں باتیں پائی جاتی ہیں، یعنی ساری مخلوق عاجز اور حقیر بن کر اللہ کے حضور پیش ہو گی، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا }» [مریم: ۹۳] ”آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمان کے پاس غلام بن کر آنے والا ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
87-1صور سے مراد وہی قرن ہے جس میں اسرائیل ؑ اللہ کے حکم سے پھونک ماریں گے پہلی پھونک میں ساری دنیا گھبرا کر بےہوش اور دوسری پھونک میں موت سے ہم کنار ہوجائے گی اور تیسری پھونک میں سب لوگ قبروں سے زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہونگے جس سے سب لوگ میدان محشر میں اکھٹے ہوجائیں گے۔ یہاں کون سا نفحہ مراد ہے؟ امام ابن کثیر کے نزدیک یہ پہلا نفحہ اور امام شوکانی کے نزدیک تیسرا نفحہ ہے جب لوگ قبروں سے اٹھیں گے۔ 87-2یہ مشتثنٰی لوگ کون ہونگے۔ بعض کے نزدیک انبیاء و شہدا، بعض کے نزدیک فرشتے اور بعض کے نزدیک سب اہل ایمان ہیں۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کہ تمام مذکورین ہی اس میں شامل ہوں کیونکہ اہل ایمان حقیقی گھبراہٹ سے محفوظ ہوں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
87۔ اور جس دن صور پھونکا [92] جائے گا تو جو کوئی بھی آسمانوں میں یا زمین میں ہو گا سب گھبرا اٹھیں گے بجز ان کے جنہیں اللہ اس ہول [93] سے بچانا چاہے گا۔ اور یہ سب حقیر [94] بن کر اللہ کے حضور پیش ہو جائیں گے۔
[92] معتبر روایات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ نفخہ صور دوبارہ ہو گا۔ پہلی بار جب حضرت اسرافیل صور میں پھونکیں گے تو قیامت برپا ہو جائے گی اور تمام دنیا تباہ و برباد ہو جائے گی۔ یہ نظام کائنات بھی درہم برہم ہو جائے گا اور دوسری بار جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے اپنی اپنی قبروں سے زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے۔ مزید تفصیل سورۃ انعام کی آیت نمبر 73 کے تحت ملاحظہ فرمائیے۔ [93] یہ ایماندار لوگ ہوں گے یا فرشتے مثلاً اسرائیل، میکائیل، جبرئیل وغیرہم۔ کیونکہ یہ نفخہ صور ان کی توقع کے مطابق ہو گا۔ اس لئے ان پر وہ دہشت طاری نہیں ہو گی جو منکرین حق پر ہو گی۔ یہ غالباً نفخہ ثانی کی بات ہے۔ کیونکہ نفخہ اول کے وقت ایماندار لوگ نہایت قلیل بلکہ نہ ہونے کے برابر ہوں گے۔ کیونکہ احادیث صحیحہ میں یہ وضاحت آ چکی ہے کہ قیامت بد ترین لوگوں پر قائم ہو گی۔ اور نیک لوگ قیام قیامت سے پیشتر اٹھا لئے جائیں گے۔
[94] ﴿دَخَرَ﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿دَخَرَ﴾ کے معنی میں عاجزی، ذلت اور حقارت تین باتیں پائی جاتی ہیں اور داخر بمعنی عقل و ہوش کی کم مائیگی کی بنا پر نکو بن کر ذلت کی اطاعت قبول کر لینے والا ہے۔ یعنی ساری کی ساری مخلوق عاجز اور حقیر بن کر اللہ کے حضور پیش ہو جائے گی۔ اپنے آپ کو قصور وار سمجھتے ہوئے یوں پیش ہوں گے۔ جیسے کوئی قصور وار غلام اپنے آقا کے سامنے پیش ہوتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جب صور پھونکا جائے گا ٭٭
اللہ تعالیٰ قیامت کی گھبراہٹ اور بےچینی کو بیان فرما رہے ہیں۔ صور میں اسرافیل علیہ السلام بحکم الٰہی پھونک ماریں گے۔ اس وقت زمین پر بدترین لوگ ہونگے۔ دیر تک «نفخہ» پھونکتے رہیں گے۔ جس سے سب پریشان حال ہو جائیں گے سوائے شہیدوں کے جو اللہ کے ہاں زندہ ہیں اور روزیاں دئیے جاتے ہیں۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک دن کسی شخص نے دریافت کیا کہ یہ آپ کیا فرمایا کرتے ہیں کہ اتنے اتنے وقت تک قیامت آ جائے گی؟ آپ نے «سبحان اللہ» یا «لا الہ الا اللہ» یا اور کوئی ایسا ہی کلمہ بطور تعجب کہا اور فرمانے لگے سنو! اب تو جی چاہتا ہے کہ کسی سے کوئی حدیث بیان ہی نہ کروں میں نے یہ کہا تھا کہ عنقریب تم بڑی اہم باتیں دیکھو گے۔ بیت اللہ خراب ہو جائے گا اور یہ ہو گا وہ ہو گا وغیرہ۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک دن کسی شخص نے دریافت کیا کہ یہ آپ کیا فرمایا کرتے ہیں کہ اتنے اتنے وقت تک قیامت آ جائے گی؟ آپ نے «سبحان اللہ» یا «لا الہ الا اللہ» یا اور کوئی ایسا ہی کلمہ بطور تعجب کہا اور فرمانے لگے سنو! اب تو جی چاہتا ہے کہ کسی سے کوئی حدیث بیان ہی نہ کروں میں نے یہ کہا تھا کہ عنقریب تم بڑی اہم باتیں دیکھو گے۔ بیت اللہ خراب ہو جائے گا اور یہ ہو گا وہ ہو گا وغیرہ۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ دجال میری امت میں چالیس ٹھہرے گا۔ میں نہیں جانتا کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال۔ پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کو نازل فرمائے گا۔ وہ صورت شکل میں بالکل عروہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ ٰعنہ جیسے ہونگے آپ اسے ڈھونڈ نکالیں گے اور اسے ہلاک کر دیں گے۔
پھر سات سال ایسے گزریں گے کہ دنیا بھر میں دو شخص ایسے نہ ہونگے جن میں آپس میں بغض وعدوات ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک بھینی بھینی ٹھنڈی ہوا چلائے گا جس سے ہر مومن فوت ہو جائے گا۔
ایک ذرے کے برابر بھی جس کے دل میں خیر یا ایمان ہو گا اس کی روح بھی قبض ہو جائے گی۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص کسی پہاڑ کی کھوہ میں گھس گیا ہو گا تو یہ ہوا وہیں جا کر اسے فناکر دے گی۔ اب زمین پر صرف بد لوگ رہ جائیں گے جو پرندوں جیسے ہلکے اور چوپائیوں جیسے بےعقل ہوں گے۔
ان میں سے بھلائی برائی کی تمیز اٹھ جائے گی ان کے پاس شیطان پہنچے گا اور کہے گا تم شرماتے نہیں؟ کہ بتوں کی پرستش چھوڑے بیٹھے ہو؟ یہ بت پرستی شروع کر دیں گے۔ اللہ انہیں روزیاں پہنچاتا رہے گا اور خوش و خرم رکھے گا۔
یہ اسی مستی میں ہونگے جو صور پھونکنے کا حکم مل جائے گا۔ جس کے کان میں آواز پڑی وہیں دائیں بائیں لوٹنے لگے گا سب سے پہلے اسے وہ شخص سنے گا جو اپنے اونٹ کے لیے حوض ٹھیک ٹھاک کر رہا ہو گا سنتے ہی بےہوش ہو جائے گا۔ اور سب لوگ بےہوش ہونا شروع ہو جائیں گے۔
پھر اللہ تعالیٰ مثل شبنم کے بارش برسائے گا جس سے لوگوں کے جسم اٹھنے لگیں گے۔ پھر دوسرا «نفخہ» پھونکا جائے گا جس سے سب اٹھ کھڑے ہونگے۔ وہیں آواز لگے گی کہ لوگو! اپنے رب کے پاس چلو۔ وہاں ٹھہرو تم سے سوال جواب ہو گا پھر فرمایا جائے گا کہ آگ کا حصہ نکالو۔ پوچھا جائے گا کہ کتنوں میں سے کتنے؟ تو فرمایا جائے گا کہ ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ ہو گا وہ دن جو بچوں کو بوڑھا کر دے۔ یہ ہو گا وہ دن جب پنڈلی (تجلی رب) کی زیارت کرائی جائے گی۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2940-116]
پہلا «نفخہ» تو گھبراہٹ کا «نفخہ» ہو گا۔ دوسرا بےہوشی اور موت کا اور تیسرا دوبارہ جی کر رب العلمین کے دربار میں پیش ہونے کا۔ «أتوہ» کی قرائت الف کے مد کے ساتھ بھی مروی ہے۔ ہر ایک ذلیل وخوار ہو کر پست ولاچار ہو کر بےبس اور مجبور ہو کر ماتحت اور محکوم ہو کر اللہ کے سامنے حاضر ہو گا۔
ایک سے بھی بن نہ پڑے گی کہ اس کی حکم عدولی کرے۔ جیسے فرمان ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًاہ» ۱؎ [17-الإسراء:52] ’ جس دن اللہ تمہیں بلائے گا اور تم اس کی حمد بیان کرتے ہوئے اس کی فرمانبرداری کرو گے۔ ‘
اور آیت «وَمِنْ آيَاتِهِ أَن تَقُومَ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ بِأَمْرِهِ ۚ ثُمَّ إِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِّنَ الْأَرْضِ إِذَا أَنتُمْ تَخْرُجُونَ» ۱؎ [30-الروم:25] میں ہے کہ ’ پھر جب وہ تمہیں زمین سے بلائے گا تو تم سب نکل کھڑے ہو گے۔ ‘
پھر سات سال ایسے گزریں گے کہ دنیا بھر میں دو شخص ایسے نہ ہونگے جن میں آپس میں بغض وعدوات ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک بھینی بھینی ٹھنڈی ہوا چلائے گا جس سے ہر مومن فوت ہو جائے گا۔
ایک ذرے کے برابر بھی جس کے دل میں خیر یا ایمان ہو گا اس کی روح بھی قبض ہو جائے گی۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص کسی پہاڑ کی کھوہ میں گھس گیا ہو گا تو یہ ہوا وہیں جا کر اسے فناکر دے گی۔ اب زمین پر صرف بد لوگ رہ جائیں گے جو پرندوں جیسے ہلکے اور چوپائیوں جیسے بےعقل ہوں گے۔
ان میں سے بھلائی برائی کی تمیز اٹھ جائے گی ان کے پاس شیطان پہنچے گا اور کہے گا تم شرماتے نہیں؟ کہ بتوں کی پرستش چھوڑے بیٹھے ہو؟ یہ بت پرستی شروع کر دیں گے۔ اللہ انہیں روزیاں پہنچاتا رہے گا اور خوش و خرم رکھے گا۔
یہ اسی مستی میں ہونگے جو صور پھونکنے کا حکم مل جائے گا۔ جس کے کان میں آواز پڑی وہیں دائیں بائیں لوٹنے لگے گا سب سے پہلے اسے وہ شخص سنے گا جو اپنے اونٹ کے لیے حوض ٹھیک ٹھاک کر رہا ہو گا سنتے ہی بےہوش ہو جائے گا۔ اور سب لوگ بےہوش ہونا شروع ہو جائیں گے۔
پھر اللہ تعالیٰ مثل شبنم کے بارش برسائے گا جس سے لوگوں کے جسم اٹھنے لگیں گے۔ پھر دوسرا «نفخہ» پھونکا جائے گا جس سے سب اٹھ کھڑے ہونگے۔ وہیں آواز لگے گی کہ لوگو! اپنے رب کے پاس چلو۔ وہاں ٹھہرو تم سے سوال جواب ہو گا پھر فرمایا جائے گا کہ آگ کا حصہ نکالو۔ پوچھا جائے گا کہ کتنوں میں سے کتنے؟ تو فرمایا جائے گا کہ ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ ہو گا وہ دن جو بچوں کو بوڑھا کر دے۔ یہ ہو گا وہ دن جب پنڈلی (تجلی رب) کی زیارت کرائی جائے گی۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2940-116]
پہلا «نفخہ» تو گھبراہٹ کا «نفخہ» ہو گا۔ دوسرا بےہوشی اور موت کا اور تیسرا دوبارہ جی کر رب العلمین کے دربار میں پیش ہونے کا۔ «أتوہ» کی قرائت الف کے مد کے ساتھ بھی مروی ہے۔ ہر ایک ذلیل وخوار ہو کر پست ولاچار ہو کر بےبس اور مجبور ہو کر ماتحت اور محکوم ہو کر اللہ کے سامنے حاضر ہو گا۔
ایک سے بھی بن نہ پڑے گی کہ اس کی حکم عدولی کرے۔ جیسے فرمان ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًاہ» ۱؎ [17-الإسراء:52] ’ جس دن اللہ تمہیں بلائے گا اور تم اس کی حمد بیان کرتے ہوئے اس کی فرمانبرداری کرو گے۔ ‘
اور آیت «وَمِنْ آيَاتِهِ أَن تَقُومَ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ بِأَمْرِهِ ۚ ثُمَّ إِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِّنَ الْأَرْضِ إِذَا أَنتُمْ تَخْرُجُونَ» ۱؎ [30-الروم:25] میں ہے کہ ’ پھر جب وہ تمہیں زمین سے بلائے گا تو تم سب نکل کھڑے ہو گے۔ ‘
صور کی حدیث میں ہے کہ تمام روحیں صور کے سوراخ میں رکھی جائیں گی اور جب جسم قبروں سے اٹھ رہے ہونگے۔ صور پھونک دیا جائے گا روحیں اڑنے لگیں گی مومنوں کی روحیں نورانی ہونگی کافروں کی روحیں اندھیرے اور ظلمت والی ہونگی۔
رب العالمین خالق کل فرما دے گا میرے جلال کی میری عزت کی قسم ہے ہر روح اپنے بدن میں چلی جائے۔ جس طرح زہر رگ وپے میں سرایت کرتا ہے اس طرح روحیں اپنے جسموں میں پھیل جائیں گی اور لوگ اپنی اپنی جگہ سے سرجھاڑ اٹھ کھڑے ہوں گے۔
جیسے فرمایا «يَوْمَ يَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ سِرَاعًا كَأَنَّهُمْ إِلَىٰ نُصُبٍ يُوفِضُونَ» ۱؎ [70-المعارج:43] ’ کہ اس دن قبروں سے اس طرح جلدی نکلیں گے جس طرح اپنی عبادت گاہ کی طرف دوڑے بھاگے جاتے تھے۔‘
یہ بلند پہاڑ جنہیں تم گڑا ہوا اور جما ہوا دیکھ رہے ہو یہ اس دن اڑتے بادلوں کی طرح ادھر ادھر پھیلے ہوئے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوئے دکھائی دیں گے۔ ریزہ ریزہ ہو کر یہ چلنے پھرنے لگیں گے اور آخر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہو جائیں گے زمین صاف ہتھیلی جیسی بغیر کسی اونچ نیچ کے ہو جائے گی۔
یہ ہے صفت اس صناع کی جس کی ہرصفت حکمت والی مضبوط پختہ اور اعلی ہوتی ہے۔ جس کی اعلی تر قدرت انسانی سمجھ میں نہیں آ سکتی۔ بندوں کے تمام اعمال خیر وشر سے وہ واقف ہے ہر ایک فعل کی سزا جزا وہ ضرور دے گا۔
اس اختصار کے بعد تفصیل بیان فرمائی کہ نیکی اخلاص توحید لے کر جو آئے گا وہ ایک کے بدلے دس پائے گا اور اس دن کی گھبراہٹ سے نڈر رہے گا اور لوگ گھبراہٹ میں عذاب میں ہونگے۔ یہ امن میں ثواب میں ہو گا بلند و بالا بالاخانوں میں راحت و اطمینان سے ہو گا۔
اور جس کی برائیاں ہی برائیاں ہوں یا جس کی برائیاں بھلائیوں سے زیادہ ہوں اسے ان کا بدلہ ملے گا۔ اپنی اپنی کرنی اپنی اپنی بھرنی۔ اکثر مفسرین سے مروی ہے کہ برائی سے مراد شرک ہے۔
رب العالمین خالق کل فرما دے گا میرے جلال کی میری عزت کی قسم ہے ہر روح اپنے بدن میں چلی جائے۔ جس طرح زہر رگ وپے میں سرایت کرتا ہے اس طرح روحیں اپنے جسموں میں پھیل جائیں گی اور لوگ اپنی اپنی جگہ سے سرجھاڑ اٹھ کھڑے ہوں گے۔
جیسے فرمایا «يَوْمَ يَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ سِرَاعًا كَأَنَّهُمْ إِلَىٰ نُصُبٍ يُوفِضُونَ» ۱؎ [70-المعارج:43] ’ کہ اس دن قبروں سے اس طرح جلدی نکلیں گے جس طرح اپنی عبادت گاہ کی طرف دوڑے بھاگے جاتے تھے۔‘
یہ بلند پہاڑ جنہیں تم گڑا ہوا اور جما ہوا دیکھ رہے ہو یہ اس دن اڑتے بادلوں کی طرح ادھر ادھر پھیلے ہوئے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوئے دکھائی دیں گے۔ ریزہ ریزہ ہو کر یہ چلنے پھرنے لگیں گے اور آخر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہو جائیں گے زمین صاف ہتھیلی جیسی بغیر کسی اونچ نیچ کے ہو جائے گی۔
یہ ہے صفت اس صناع کی جس کی ہرصفت حکمت والی مضبوط پختہ اور اعلی ہوتی ہے۔ جس کی اعلی تر قدرت انسانی سمجھ میں نہیں آ سکتی۔ بندوں کے تمام اعمال خیر وشر سے وہ واقف ہے ہر ایک فعل کی سزا جزا وہ ضرور دے گا۔
اس اختصار کے بعد تفصیل بیان فرمائی کہ نیکی اخلاص توحید لے کر جو آئے گا وہ ایک کے بدلے دس پائے گا اور اس دن کی گھبراہٹ سے نڈر رہے گا اور لوگ گھبراہٹ میں عذاب میں ہونگے۔ یہ امن میں ثواب میں ہو گا بلند و بالا بالاخانوں میں راحت و اطمینان سے ہو گا۔
اور جس کی برائیاں ہی برائیاں ہوں یا جس کی برائیاں بھلائیوں سے زیادہ ہوں اسے ان کا بدلہ ملے گا۔ اپنی اپنی کرنی اپنی اپنی بھرنی۔ اکثر مفسرین سے مروی ہے کہ برائی سے مراد شرک ہے۔