ترجمہ و تفسیر — سورۃ النمل (27) — آیت 19

فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًا مِّنۡ قَوۡلِہَا وَ قَالَ رَبِّ اَوۡزِعۡنِیۡۤ اَنۡ اَشۡکُرَ نِعۡمَتَکَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وَالِدَیَّ وَ اَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىہُ وَ اَدۡخِلۡنِیۡ بِرَحۡمَتِکَ فِیۡ عِبَادِکَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۹﴾
تو وہ اس کی بات سے ہنستا ہوا مسکرایا اور اس نے کہا اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری نعمت کا شکر کروں، جو تونے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کی ہے اور یہ کہ میں نیک عمل کروں، جسے تو پسند کرے اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما۔ En
تو وہ اس کی بات سن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ اے پروردگار! مجھے توفیق عطا فرما کہ جو احسان تونے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کئے ہیں ان کا شکر کروں اور ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہوجائے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما
En
اس کی اس بات سے حضرت سلیمان مسکرا کر ہنس دیئے اور دعا کرنے لگے کہ اے پروردگار! تو مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر بجا ﻻؤں جو تو نے مجھ پر انعام کی ہیں اور میرے ماں باپ پر اور میں ایسے نیک اعمال کرتا رہوں جن سے تو خوش رہے مجھے اپنی رحمت سے نیک بندوں میں شامل کر لے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 19) ➊ { فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا:} تبسم بعض اوقات غصے اور ناراضی کی وجہ سے بھی ہوتا ہے، جیسا کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیثِ توبہ میں ہے: [تَبَسَّمَ تَبَسُّمَ الْمُغْضَبِ] [بخاري: ۴۴۱۸] کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ کر مسکرائے، غصے والے کی طرح مسکرانا۔ تبسم کے بعد { ضَاحِكًا } اس لیے فرمایا کہ یہ مسکراہٹ ہنسنے کا پیش خیمہ تھی، جو خوشی کا اظہار ہوتا ہے۔ مسکرانے اور ہنسنے کی وجہ ایک تو چیونٹی کی دانش مندی اور اپنی قوم کی خیر خواہی پر تعجب تھا، دوسری وجہ اپنی نیک شہرت پر خوشی تھی کہ چیونٹیاں تک جانتی ہیں کہ سلیمان دانستہ کسی پر زیادتی نہیں کرتا۔
➋ { وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِيْۤ …:} چیونٹی کی آواز سن لینا، پھر اس کی بات سمجھ لینا، پھر اپنی نیک شہرت، یہ سب ایسی چیزیں تھیں کہ سلیمان علیہ السلام کا دل فخر و غرور کے بجائے شکر کے جذبات سے لبریز ہو گیا۔ مگر یہ سوچ کر کہ میں اس نعمت کا اور ان تمام نعمتوں کا شکر ادا کر ہی نہیں سکتا جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اور میرے والدین پر کی ہیں، انھوں نے اللہ تعالیٰ سے شکر کی توفیق عطا کرنے کی دعا کی۔ والدین پر نعمت بھی آدمی کے حق میں نعمت ہوتی ہے۔
➌ { وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ:} عمل صالح وہ ہے جو خالص اللہ کے لیے ہو اور اس کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہو۔ سلیمان علیہ السلام کو علم عطا ہونے پر عمل کی فکر دامن گیر ہوئی، کیونکہ عمل کے بغیر علم انسان کے خلاف حجت ہوتا ہے۔
➍ { وَ اَدْخِلْنِيْ بِرَحْمَتِكَ فِيْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِيْنَ:} اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے صالح بندوں میں شمولیت اور جنّت کا حصول اللہ کی رحمت کے بغیر ممکن نہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: [لَنْ يُّدْخِلَ أَحَدًا عَمَلُهُ الْجَنَّةَ، قَالُوْا وَلَا أَنْتَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِقَالَ لَا، وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَّتَغَمَّدَنِيَ اللّٰهُ بِفَضْلٍ وَ رَحْمَةٍ] [بخاري، المرضٰی، باب تمني المریض الموت: ۵۶۷۳] کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا: نہیں! میں بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل اور رحمت کے ساتھ ڈھانپ لے۔
➎ سلیمان علیہ السلام نے نبی ہو کر صالحین میں داخل ہونے کی دعا کیوں کی؟ دیکھیے سورۂ یوسف (۱۰۱)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

19-1چیونٹی جیسی حقیر مخلوق کی گفتگو سن کر سمجھ لینے سے حضرت سلیمان ؑ کے دل میں شکر گزاری کا احساس پیدا ہوا کہ اللہ نے مجھ پر کتنا انعام فرمایا ہے۔ 19-2اس سے معلوم ہوا کہ جنت مومنوں ہی کا گھر ہے اس میں کوئی بھی اللہ کی رحمت کے بغیر داخل نہیں ہو سکے گا اسی لیے حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سیدھے سیدھے اور حق کے قریب رہو اور یہ بات جان لو کہ کوئی شخص بھی صرف اپنے عمل سے جنت میں نہیں جائے گا صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ بھی؟ آپ نے فرمایا ہاں میں بھی اس وقت تک جنت میں نہیں جاؤں گا جب تک اللہ کی رحمت مجھے اپنے دامن میں نہیں ڈھانک لے گی۔ صحیح بخاری۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

19۔ سلیمان چیونٹی کی اس بات پر مسکرا دیئے [21] اور دعا کی: ”اے میرے پروردگار مجھے توفیق [22] دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کر سکوں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا کی ہے اور اس بات کی بھی کہ میں ایسے اچھے عمل کروں جو تجھے پسند ہوں اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے صالح بندوں میں داخل کر“
[21] چیونٹی کی فریاد اور سیدنا سلیمانؑ کی دعائے استسقاء :۔
آپ چیونٹی کی یہ بات سمجھ کر، فرط سرور و انبساط سے، ہنس دیئے اور اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کیا۔ پھر دست بدعا ہو کر فرمایا: پروردگار! مجھے ان نعمتوں کے شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرما تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیں۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ایک دفعہ حضرت سلیمانؑ لوگوں کے ہمراہ نماز استسقاء کے لئے ایک میدان کی طرف نکلے۔ وہاں ایک چیونٹی کو دیکھا جو چت لیٹ کر اور اپنے پاؤں اوپر اٹھائے ہوئے اللہ سے دعا کر رہا تھی کہ یا اللہ! میں بھی تیری مخلوق ہوں اگر تو کھانے پینے کو نہ دے گا تو میں کیسے زندہ رہ سکتی ہوں یا ہمیں کھانے کو دے یا مار ڈال۔ حضرت سلیمانؑ نے چیونٹی کی یہ دعا سن کر لوگوں سے فرمایا: اب اپنے اپنے گھروں میں لوٹ جاؤ۔ ایک چیونٹی نے تمہارا کام پورا کر دیا۔ اب ان شاء اللہ بارش ہو گی۔ [دارقطنی بحوالہ مشکوۃ۔ کتاب الصلوٰۃ۔ باب الاستسقاء فصل ثالث]
[22] ﴿وَزَعَ﴾ کا لغوی مفہوم :۔
یہاں ﴿أَوْزِعْنِي کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اور ﴿وَزَعَ کا لغوی معنی روکتا یا روکے رکھتا ہے۔ اور ﴿وزع﴾الجیش یعنی فوج کو ترتیب وار صفوں میں رکھنا ہے۔ حضرت سلیمانؑ دعا یہ فرما رہے ہیں کہ جس قدر تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر انعامات کی بارش کی ہے۔ اس پر کہیں میرا نفس بے قابو اور بے لگام ہو کر سرکشی کی راہ نہ اختیار کر لے۔ جیسا کہ عموماً اللہ کی طرف سے انعامات کی فراوانی اکثر لوگوں کے ذہنوں کو بگاڑ دیتی ہے۔ مجھے ایسے لوگوں اور ایسی ذہنیت سے روکے رکھنا اور اس بات کی توفیق عطا فرما کہ میں ان نعمتوں پر تیرا شکر گزار بندہ بنوں اور وہی کام کروں جو تجھے پسند ہیں۔
چیونٹی کی بات کرنے کی تاویل؟
عقل پرستوں نے اس وادی نمل کے قصہ میں بھی اپنی عقل کی جولانیاں دکھائی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وادی نمل فلاں مقام پر ایک بستی کا نام ہے اور نمل ایک قبیلہ کا نام تھا۔ اس کے افراد بھی نمل کہلاتے تھے۔ سلیمانؑ کا لاؤ لشکر دیکھ کر ایک نملہ نے دوسرے نملہ سے یہ بات کہی تھی کہ اس تاویل یا تحریف میں جتنا وزن ہو سکتا ہے۔ وہ ان آیات کے سیاق و سباق میں رکھ کر دیکھ لیجئے کہ آیا اس تاویل میں کچھ معقولیت نظر آتی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔