(آیت 8) { اِنَّفِيْذٰلِكَلَاٰيَةًوَمَاكَانَاَكْثَرُهُمْمُّؤْمِنِيْنَ:} یعنی آسمان و زمین اور اس میں پائی جانے والی بے شمار نفیس ترین چیزوں میں اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید کی بہت بڑی نشانی ہے، مگر ان کے اکثر شروع ہی سے ایمان لانے والے نہ تھے۔ دوسری جگہ فرمایا: «{ وَفِيالْاَرْضِاٰيٰتٌلِّلْمُوْقِنِيْنَ (20) وَفِيْۤاَنْفُسِكُمْاَفَلَاتُبْصِرُوْنَ }»[الذاریات: ۲۰، ۲۱]”اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے کئی نشانیاں ہیں اور تمھارے نفسوں میں بھی، تو کیا تم نہیں دیکھتے؟“ مزید دیکھیے سورۂ یوسف (۱۰۵)، حٰم السجدہ (۹، ۱۰) اور لقمان (۱۰، ۱۱)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
8-1یعنی جب اللہ تعالیٰ مردہ زمین سے یہ چیزیں پیدا کرسکتا ہے، تو کیا انسانوں کو دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا۔ 8-2یعنی اس کی یہ عظیم قدرت دیکھنے کے باوجود اکثر لوگ اللہ اور رسول کی تکذیب ہی کرتے ہیں، ایمان نہیں لاتے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
8۔ یقیناً اس میں ایک نشانی [6] ہے لیکن ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں
[6] نباتات میں اللہ کی نشانیاں :۔
اگر کسی معجزہ کی بات ہے تو یہ کیا کم معجزہ ہے کہ ایک ہی زمین میں، ایک ہی جیسا آسمان سے پانی برستا ہے۔ ایک ہی سورج سے نباتات کی نشو و نما ہوتی ہے۔ لیکن نباتات ساری ایک جیسی نہیں ہوتی۔ ہزارہا قسم کی نباتات ہوتی ہے۔ کہیں رنگ برنگ کے پھول کھل رہے ہیں، کہیں لہلہاتی کھیتیاں ہیں۔ ان کی خوشبوؤں سے زمین مہک اٹھتی ہے۔ پھر اس نباتات اور وہاں کے باشندوں کی ضروریات میں ایک خاص مناسبت ہے۔ نباتات کی بے شمار انواع و اقسام کے باوجود یہ بھی اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ قوانین کے تحت ہی اگتی، بڑھتی اور پھلتی پھولتی ہیں اور اس میں ایک خاص نظم و ضبط پایا جاتا ہے۔ غرضیکہ نباتات میں غور و فکر کا اتنا وسیع میدان موجود ہے کہ یہ علم کی ایک شاخ بن چکا ہے۔ اور غور و فکر کرنے والوں کے لئے قدرت کے نئے سے نئے عجائبات پیش کرتا رہتا ہے۔ اب اگر کوئی شخص ان عجائبات کی طرف توجہ ہی نہ کرے تو اسے اللہ کی کوئی نشانی نظر بھی کیسے آسکتی ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔