(آیت 9) {وَاِنَّرَبَّكَلَهُوَالْعَزِيْزُالرَّحِيْمُ: ”اِنَّ“} کے اسم {”رَبَّكَ“} اور خبر {”الْعَزِيْزُالرَّحِيْمُ“} دونوں کے معرفہ ہونے سے قصر کا مفہوم پیدا ہو رہا ہے اور درمیان میں {”لَهُوَ“} ضمیر لانے سے قصر میں مزید زور پیدا ہو رہا ہے۔ یعنی تیرا رب ہی ہے جو سب پر غالب ہے، اس کے سوا کوئی غالب نہیں، وہ زبردست قوت والا ہے، جو چاہے کر سکتا ہے، ان کی نافرمانیوں پر انھیں آنکھ جھپکنے میں پکڑ سکتا ہے، مگر وہ ساتھ ہی رحیم بھی ہے، توبہ کرنے پر عمر بھر کی نافرمانیوں کو معاف کر دیتا ہے۔ اس لیے انھیں سنبھلنے کے لیے موقع پر موقع دیے جا رہا ہے اور ان کی سرکشی پر گرفت نہیں کر رہا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
9-1یعنی ہر چیز پر اس کا غلبہ اور انتقام لینے پر وہ ہر طرح قادر ہے لیکن چونکہ وہ رحیم بھی ہے اس لئے فوراً گرفت نہیں فرماتا بلکہ پوری مہلت دیتا ہے اور اس کے بعد مؤاخذہ کرتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
9۔ بلا شبہ آپ کا پروردگار ہر چیز پر غالب [7] ہے اور رحم کرنے والا ہے
[7] یعنی اللہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ ایسے ضدی اور معاند لوگوں کو فوراً صفحہ ہستی سے مٹا دے۔ مگر چونکہ وہ رحیم بھی ہے۔ لہٰذا وہ انہیں فوراً تباہ نہیں کر دیتا بلکہ سمجھنے، سوچنے اور سنبھلنے کے لئے مہلت دیئے جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَاِنَّرَبَّكَلَهُوَالْ٘عَزِیْزُ ﴾”اور آپ کا رب غالب ہے۔“ یعنی جو تمام مخلوق پر غالب ہے اور تمام عالم علوی و سفلی اس کے سامنے سرنگوں ہے ﴿الرَّحِیْمُ ﴾ اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، اس کی نوازشیں ہر زندہ چیز تک پہنچتی ہیں۔ وہ غالب ہے بدبختوں کو مختلف عقوبتوں کے ذریعے سے ہلاک کرتا ہے اور سعادت مندوں پر بہت مہربان ہے انھیں ہر شر اور ہر بلا سے نجات دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وإنَّ ربَّكَ لهو العزيزُ}: الذي قد قَهَرَ كلَّ مخلوقٍ، ودان له العالمُ العلويُّ والسفليُّ. {الرحيمُ}: الذي وسعتْ رحمتُهُ كلَّ شيءٍ، ووصل جودُهُ إلى كلِّ حيٍّ، العزيز الذي أهلك الأشقياء بأنواع العقوبات، الرحيم بالسعداء؛ حيث أنجاهم من كل شرٍّ وبلاءٍ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔