(آیت 7) {اَوَلَمْيَرَوْااِلَىالْاَرْضِ …: } اصل میں واؤ عطف پہلے ہے اور ہمزہ بعد میں ہے، چونکہ ہمزہ استفہام کلام کے شروع میں ہوتا ہے، اس لیے واؤ عطف کو بعد میں کر دیا۔ واؤ عطف سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے جملہ محذوف ہے جو خود بخود سمجھ میں آ رہا ہے، یعنی {”أَلَمْيَرَوْاإِلَیالسَّمَاءِوَأَلَمْيَرَوْاإِلَيالْأَرْضِ“} ”کیا انھوں نے آسمان کی طرف نہیں دیکھا اور کیا انھوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا۔“ یہ اختصار کلام اللہ کا اعجاز ہے۔ (بقاعی) یعنی اگر وہ رسول پر اترنے والی آیات کو جھٹلائیں اور ان کا مذاق اڑائیں تو اس میں کون سا تعجب ہے، کیا انھوں نے اس سے پہلے آسمان، زمین اور اس میں پائی جانے والی ہر قسم کی بے شمار عمدہ ترین چیزیں نہیں دیکھیں؟ اگر انھوں نے اپنے خالق و مالک پر اور اس کی توحید پر ایمان لانا ہوتا تو یہ سب کچھ بطور دلیل کیا کم تھا، جب انھیں اس سے عبرت نہیں ہوئی تو آپ پر نازل ہونے والی آیات سے انھیں کیا عبرت ہو گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
62-1حضرت موسیٰ ؑ نے تسلی دی کہ تمہارا اندیشہ صحیح نہیں، اب دوبارہ تم فرعون کی گرفت میں نہیں جاؤ گے۔ میرا رب یقینا نجات کے راستے کی نشاندہی فرمائے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
7۔ کیا انہوں نے زمین کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اس میں کتنی کثیر مقدار میں ہر طرح کی عمدہ نباتات پیدا کی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ نے غوروفکر کی، جو انسان کو فائدہ دیتا ہے، ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَوَلَمْیَرَوْااِلَىالْاَرْضِكَمْاَنْۢبَتْنَافِیْهَامِنْكُ٘لِّزَوْجٍكَرِیْمٍ ﴾”کیا انھوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا، کہ ہم نے اس میں ہر قسم کی کتنی نفیس چیزیں اگائی ہیں۔“ یعنی ہم نے نباتات کی تمام اصناف اگائیں جو بہت خوبصورت نظر آتی ہیں جو بہت فوائد کی حامل ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
قال الله منبهاً على التفكُّر الذي ينفع صاحبَه: {أوَلَم يَرَوْا إلى الأرض كم أنبَتْنا فيها من كلِّ زوج كريم}: من جميع أصناف النباتات، حسنة المنظر، كريمة في نفعها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔