(آیت 168) {قَالَاِنِّيْلِعَمَلِكُمْمِّنَالْقَالِيْنَ: ”الْقَالِيْنَ“”اَلْقَالِيْ“} کی جمع ہے جو {”قَلٰييَقْلِيْ“} سے اسم فاعل ہے، جس کا معنی شدید نفرت اور دشمنی بھی ہے اور گوشت بھوننا بھی۔ لوط علیہ السلام نے فرمایا کہ میں تمھیں منع کرنے سے کیسے باز آ سکتا ہوں، جب کہ میں تمھارے اس کام سے شدید دشمنی رکھنے والوں میں سے ہوں، اتنی شدید کہ اس سے میرا دل جلتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
168-1یعنی میں اسے پسند نہیں کرتا اور اس سے سخت بیزار ہوں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
168۔ اس نے کہا: میں تمہارے اس کام سے سخت بیزار ہوں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔