فَکَذَّبُوۡہُ فَاَہۡلَکۡنٰہُمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ؕ وَ مَا کَانَ اَکۡثَرُہُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳۹﴾
پس انھوں نے اسے جھٹلا دیا تو ہم نے انھیں ہلاک کر دیا، بے شک اس میں یقینا عظیم نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔
En
تو انہوں نے ہود کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔ بےشک اس میں نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے
En
چونکہ عادیوں نے حضرت ہود کو جھٹلایا، اس لیے ہم نے انہیں تباه کردیا یقیناً اس میں نشانی ہے اور ان میں سے اکثر بے ایمان تھے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 139) ➊ {فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْ:} اللہ تعالیٰ نے بہت سی قوموں کو پانی کے ذریعے سے عذاب دیا اور جن لوگوں کو اپنی قوت و طاقت کا بہت زعم تھا، اللہ تعالیٰ نے انھیں ہوا کے ذریعے سے عذاب دیا جو پانی سے کہیں بڑھ کر قوت و طاقت رکھتی ہے، یہ عذاب آندھی کی صورت میں تھا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل ان پر چلی اور اس نے ان کی ہر چیز کو تباہ کر ڈالا۔ دیکھیے سورۂ حٰم السجدہ (۱۶)، احقاف (۲۴، ۲۵) اور حاقہ (۶، ۷)۔
➋ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً …:} بے شک ان لوگوں کے قصے میں مشرکین مکہ کے لیے ایک عظیم درس عبرت ہے، مگر نہ ان کے اکثر لوگ ایمان لائے، نہ ان کے اکثر ایمان لانے والے ہیں۔
➋ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً …:} بے شک ان لوگوں کے قصے میں مشرکین مکہ کے لیے ایک عظیم درس عبرت ہے، مگر نہ ان کے اکثر لوگ ایمان لائے، نہ ان کے اکثر ایمان لانے والے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
139-1قوم عاد، دنیا کی مضبوط ترین اور قوی ترین قوم تھی، جس کی بابت اللہ نے فرمایا (الَّتِيْ لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ) 89۔ الفجر:8) ' اس جیسی قوم پیدا ہی نہیں کی گئی ' یعنی جو قوت اور شدت و جبروت میں اس جیسی ہو۔ اس لئے یہ کہا کرتی تھی (مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً) 41۔ فصلت:15) ' کون قوت میں ہم سے زیادہ ہے ' لیکن جب اس قوم نے بھی کفر کا راستہ چھوڑ کر ایمان وتقویٰ اختیار نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے سخت ہوا کی صورت میں ان پر عذاب فرمایا جو مکمل سات راتیں اور آٹھ دن ان پر مسلط رہا۔ باد تند آتی اور آدمی کو اٹھا کر فضا میں بلند کرتی اور پھر زور سے سر کے بل زمین پر پٹخ دیتی۔ جس سے اس کا دماغ پھٹ اور ٹوٹ جاتا اور بغیر سر کے ان کے لاشے اس طرح زمین پر پڑے ہوتے گویا وہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہیں۔ انہوں نے پہاڑوں، کھوؤں اور غاروں میں بڑی بڑی مضبوط عمارتیں بنا رکھی تھیں۔ پینے کے لئے گہرے کنوئیں کھود رکھے تھے، باغات کی کثرت تھی۔ لیکن جب اللہ کا عذاب آیا تو کوئی چیز ان کے کام نہ آئی اور انھیں صفحہ ہستی سے مٹا کر رکھ دیا گیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
139۔ چنانچہ انہوں نے ہود کو جھٹلا دیا تو ہم نے انھیں ہلاک کر ڈالا [87]۔ اس واقعہ میں بھی ایک نشانی [88] ہے لیکن ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں۔
[87] قوم عاد پر عذاب کی کیفیت:۔
جب ان لوگوں نے حضرت ہودؑ کو اور وعدہ عذاب کو جھٹلانے میں حد کر دی اور ان پر حجت تمام ہو گئی تو ان پر اللہ کا عذاب آگیا۔ یہ عذاب قہر الٰہی بن کر نازل ہوا۔ تند و تیز آندھی چلی جو آٹھ دن اور سات راتیں مسلسل چلتی رہی۔ آندھی اتنی تیز تھی کہ کھڑے آدمیوں کو ان کے پاؤں سے اکھاڑ اکھاڑ کر ایک دوسرے پر پھینک رہی تھی۔ یہ آندھی ان کے مضبوط اور عالی شان گھروں میں گھس گھس کر ان کے ایک ایک فرد کو تباہ کر رہی تھی۔ اس عذاب کے وقت ان کے یہ مضبوط اور عالی شان مکان کسی بھی کام نہ آسکے۔ اور یہ سرکش اور متکبر قوم پوری کی پوری تباہ و برباد کر دی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس عذاب سے پہلے ہی ہودؑ کو وحی کر دی تھی۔ چنانچہ وہ عذاب سے پہلے اپنے پیروکاروں کو ساتھ لے کر وہاں سے ہجرت کر کے نکل گئے۔
[88] اس قوم کے انجام سے بھی یہی نتیجہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ معاندین حق کو اتمام حجت کے بعد نیست و نابود کر دیتا ہے اور اپنے فرمانبرداروں کی نجات کی صورت خود ہی پیدا کر دیتا ہے۔ کاش! کوئی اس عبرت ناک انجام سے سبق حاصل کر سکے۔ مگر ایسے لوگ کم ہی ہوا کرتے ہیں۔
[88] اس قوم کے انجام سے بھی یہی نتیجہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ معاندین حق کو اتمام حجت کے بعد نیست و نابود کر دیتا ہے اور اپنے فرمانبرداروں کی نجات کی صورت خود ہی پیدا کر دیتا ہے۔ کاش! کوئی اس عبرت ناک انجام سے سبق حاصل کر سکے۔ مگر ایسے لوگ کم ہی ہوا کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿فَكَذَّبُوْهُ﴾ ”پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔“ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهْلَكْنٰهُمْ ﴾ ”تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔“ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَیْهِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍ١ۙ حُسُوْمًا١ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِیْهَا صَرْعٰى١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍ﴾ (الحاقہ:69؍6،7) ”اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔“ ﴿اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہود علیہ السلام، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْ٘عَزِیْزُ﴾ ”اور تمھارا رب تو غالب ہے۔“ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہود علیہ السلام کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِیْمُ ﴾ ”نہایت رحم کرنے والا ہے۔“ یعنی وہ اپنے نبی ہود علیہ السلام پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہود علیہ السلام اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فكذَّبوه}؛ أي: صار التكذيب سجيَّةً لهم وخُلُقاً لا يردعُهم عنه رادعٌ؛ {فأهْلَكْناهم}: {بريح صرصرٍ عاتيةٍ. سخَّرَها عليهم سبع ليال وثمانيةَ أيَّام حسوماً فترى القومَ فيها صَرْعى كأنَّهم أعجازُ نخل خاوية}. {إنَّ في ذلك لآيةً}: على صِدْق نبيِّنا هودٍ عليه السلام، وصحَّة ما جاء به، وبطلانِ ما عليه قومُه من الشرك والجبروت. {وما كان أكثرُهُم مؤمنينَ}: مع وجود الآياتِ المقتضيةِ للإيمان، {وإنَّ ربَّك لهو العزيزُ}: الذي أهلكَ بقوتِهِ قومَ هودٍ على قوَّتِهِم وبطشِهِم. {الرحيم}: بنبيِّه هودٍ حيث نجَّاه ومَنْ معه من المؤمنين.