ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفرقان (25) — آیت 73

وَ الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِّرُوۡا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمۡ لَمۡ یَخِرُّوۡا عَلَیۡہَا صُمًّا وَّ عُمۡیَانًا ﴿۷۳﴾
اور وہ کہ جب انھیں ان کے رب کی آیات کے ساتھ نصیحت کی جائے تو ان پر بہرے اور اندھے ہوکر نہیں گرتے۔ En
اور وہ کہ جب ان کو پروردگار کی باتیں سمجھائی جاتی ہیں تو اُن پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے (بلکہ غور سے سنتے ہیں)
En
اور جب انہیں ان کے رب کے کلام کی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وه اندھے بہرے ہو کر ان پر نہیں گرتے۔ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 73) {وَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ …:} بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گرتے بلکہ وہ انھیں نہایت غور و فکر سے سنتے اور ان کا گہرا اثر قبول کرتے ہیں۔ اس میں کفار پر چوٹ ہے کہ وہ اپنے رب کی آیات سن کر ذرہ بھر متاثر نہیں ہوتے، بلکہ اپنے کفر پر سختی سے جمے رہتے ہیں۔ نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کے کفار کا یہی نقشہ کھینچا ہے، فرمایا: «{ وَ اِنِّيْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِيْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا [نوح: ۷] اور بے شک میں نے جب بھی انھیں دعوت دی، تاکہ تو انھیں معاف کردے، انھوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے اور اَڑ گئے اور تکبر کیا، بڑا تکبر کرنا۔ کفار کی اس حالت کے بیان کے لیے دیکھیے سورۂ حم السجدہ (۵، ۲۶)۔ زمخشری نے فرمایا کہ اس کا معنی یہ نہیں کہ رحمان کے بندے آیات کے ساتھ نصیحت سن کر گرتے نہیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اندھے بہرے ہو کر نہیں گرتے بلکہ سنتے اور دیکھتے ہوئے گر جاتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّمَا يُؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ۠ [السجدۃ: ۱۵] ہماری آیات پر تو وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب انھیں ان کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ کرتے ہوئے گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ اور فرمایا: «{ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْاسُجَّدًا وَّ بُكِيًّا [مریم: ۵۸] جب ان پر رحمان کی آیات پڑھی جاتی تھیں وہ سجدہ کرتے اور روتے ہوئے گر جاتے تھے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

73-1یعنی وہ ان سے اعراض و غفلت نہیں برتتے جیسے وہ بہرے ہوں کہ سنیں ہی نہیں یا اندھے ہوں کہ دیکھیں ہی نہیں۔ بلکہ وہ غور اور توجہ سے سنتے اور انھیں آویزہ گوش اور حرز جان بناتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

73۔ اور جب انھیں اپنے رب کی آیات سے نصیحت کی جاتی ہے تو ان پر اندھے اور بہرے [90] ہو کر نہیں گرتے (بلکہ ان کا گہرا اثر [91] قبول کرتے ہیں)
[90] وحی کو عقل کے تابع رکھنے والے حضرات کا قرآن کی اس آیت سے استدلال :۔
یعنی جب اللہ کے بندوں کو آیات الہٰی سے نصیحت اور یاددہانی کرائی جاتی ہے تو اس نصیحت سے ان کے دل پوری طرح اثر قبول کرتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں وہ اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتے ہیں۔ بعض عقل پرست حضرات اس آیت کا مفہوم یہ لیتے ہیں کہ اللہ کے بندوں کو جب آیات سنائی جاتی ہیں تو وہ بلا سوچے سمجھے ان پر نہیں گرے پڑتے بلکہ اگر وہ آیات عقل کے مطابق ہوں تو تب انہیں قبول کرتے ہیں اور اس سے مزید نتیجہ یہ نکالتے ہیں کہ قرآن کا کوئی حکم ایسا نہیں جو عقل انسانی کے مطابق نہ ہو۔ اس طرح وہ وحی الہٰی کو عقل کے تابع بنا دیتے ہیں۔ یہ سلوک تو ان کا قرآن سے ہے اور جو سلوک ان کا احادیث نبویہ سے ہو سکتا ہے اس کا آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ حالانکہ دین میں جتنے بھی تعبدی امور ہیں وہ سب ایسے ہیں جن تک عقل کی رسائی ممکن نہیں۔ مثلاً یہ کہ حدث یا ہوا نکلنے سے وضو کیوں ٹوٹ جاتا ہے اور صاف ستھرے اجزائے بدن کو از سر نو کیوں دھونا پڑتا ہے۔ یا مثلاً یہ کہ اگر ذبح کرتے وقت جانور پر اللہ کا نام نہ لیا جائے تو وہ حرام کیوں ہو جاتا ہے اور اس کے گوشت میں کیا تبدیلی واقع ہوتی ہے کہ اس کا کھانا حرام قرار دیا گیا ہے۔ اور ایسی مثالیں بے شمار ہیں۔ گویا اصل مفہوم کے لحاظ سے اس آیت کا مقصد اللہ کی آیات میں غور و فکر اور اثر پذیری ہے لیکن عقل پرستوں کے نزدیک اس آیت کا مقصد اللہ کے احکام کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنا ہے۔ اگر وہ پوری اترے تو اسے قبول کر لیا جائے ورنہ اس کی تاویل کر ڈالی جائے۔
[91] اہل خانہ کو دیندار بنانے کی کوشش کے ساتھ ساتھ دعا بھی ضروری ہے :۔
مکی دور میں مسلمانوں کی زندگی کچھ اس طرح گزر رہی تھی کہ اگر باپ مسلمان ہے تو اولاد کافر ہے اور اولاد مسلمان ہے تو والدین کافر ہیں۔ شوہر مسلمان ہے تو بیوی کافر ہے اور بیوی مسلمان ہے تو شوہر کافر ہے۔ یہ صورت حال بھی مسلمانوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کا باعث بنی ہوئی تھی۔ لہٰذا اللہ کے بندوں کی صفات میں سے ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی کہ وہ یہ بھی دعا کرتے رہتے ہیں کہ ہمارے ازواج اور ہماری اولاد کو بھی ایمان کی دولت نصیب فرما تاکہ ہمارے اس قلق و الم کا تدارک ہو سکے۔ واضح رہے کہ جس طرح ہر عورت کے لئے اس کا خاوند زوج ہے اسی طرح ہر مرد کے لئے اس کی بیوی اس کا زوج ہے اور اولاد دونوں کی ہوتی ہے اس لحاظ سے یہ دعا ہر مسلمان مرد اور عورت سب کے لئے یکساں ہے۔ پھر یہ دعا صرف اس دور کے مسلمانوں سے ہی مخصوص نہیں ہر دور میں اس کی ضرورت برقرار ہے۔ بیوی اور اولاد ایسے چیزیں ہیں جن سے انسان کو فطرتاً محبت ہوتی ہے اور اس کے لئے آزمائش کا سبب بن جاتی ہے لہٰذا ہر مسلمان کو جس طرح اپنے حق میں دعائے خیر کرنا ضروری ہے۔ ویسے ہی ان کے حق میں بھی ضروری ہے کہ وہ اللہ کے نافرمان اور دین سے بیگانہ رہ کر اس کے لئے پریشانیوں کا سبب نہ بن جائیں۔ بلکہ اللہ کے فرمانبردار اور دین کے خادم بن کر اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک ثابت ہوں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

عباد الرحمن کے اوصاف ٭٭
عباد الرحمان کے اور نیک اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے یعنی شرک نہیں کرتے، بت پرستی سے بچتے ہیں، جھوٹ نہیں بولتے، فسق و فجور نہیں کرتے، کفر سے الگ رہتے ہیں، لغو اور باطل کاموں سے پرہیز کرتے ہیں، گانا نہیں سنتے، مشرکوں کی عیدیں نہیں مناتے، خیانت نہیں کرتے، بری مجلسوں میں نشست نہیں رکھتے، شرابیں نہیں پیتے، شراب خانوں میں نہیں جاتے، اس کی رغبت نہیں کرتے۔
حدیث میں بھی ہے کہ { سچے مومن کو چاہئے کہ اس دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر دور شراب چل رہا ہو اور یہ مطلب ہے کہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ } ۱؎ [مسند احمد:20/1:حسن]‏‏‏‏
بخاری و مسلم میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ بتا دوں؟ تین دفعہ یہی فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔ اس وقت تک آپ تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے تھے، اب اس سے الگ ہو کر فرمانے لگے: سنو اور جھوٹی بات کہنا، سنو اور جھوٹی گواہی دینا، اسے باربار فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم اپنے دل میں کہنے لگے کہ کاش! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب خاموش ہو جاتے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2654]‏‏‏‏
زیادہ ظاہر لفظوں سے تو یہ ہے کہ وہ جھوٹ کے پاس نہیں جاتے۔
اللہ کے ان بزرگ بندوں کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ قرآن کی آیتیں سن کر ان کے دل دہل جاتے ہیں، ان کے ایمان اور توکل بڑھ جاتے ہیں بخلاف کفار کے کہ ان پر کلام الٰہی کا اثر نہیں ہوتا، وہ اپنی بداعمالیوں سے باز نہیں رہتے۔ نہ اپنا کفر چھوڑتے ہیں نہ سرکشی، طغیانی اور جہالت و ضلالت سے باز آتے ہیں۔
ایمان والوں کے ایمان بڑھ جاتے ہیں اور بیمار دل والوں کی گندگی ابھر آتی ہے۔ پس کافر اللہ کی آیتوں سے بہرے اور اندھے ہو جاتے ہیں۔ ان مومنوں کی حالت ان کے برعکس ہے، نہ یہ حق سے بہرے ہیں، نہ حق سے اندھے ہیں۔ سنتے ہیں، سمجھتے ہیں، نفع حاصل کرتے ہیں، اپنی اصلاح کرتے ہیں۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو پڑھتے تو ہیں لیکن اندھا پن، بہرا پن نہیں چھوڑتے۔
شعبی رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص آتا ہے اور وہ دوسروں کو سجدے میں پاتا ہے لیکن اسے نہیں معلوم کہ کس آیت کو پڑھ کر سجدہ کیا ہے؟ تو کیا وہ بھی ان کے ساتھ سجدہ کر لے؟ تو آپ نے یہی آیت پڑھی یعنی سجدہ نہ کرے۔ اس لیے کہ اس نے سجدے کی آیت پڑھی، نہ سنی، نہ سوچی تو مومن کا کوئی کام اندھا دھند نہ کرنا چاہیے جب تک اس کے سامنے کسی چیز کی حقیقت نہ ہو، اسے شامل نہ ہونا چائیے۔
پھر ان بزرگ بندوں کی ایک دعا بیان ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے طلب کرتے ہیں کہ ان کی اولادیں بھی ان کی طرح رب کی فرمانبردار، عبادت گزار، موحد اور غیر مشرک ہوں تاکہ دنیا میں بھی اس نیک اولاد سے ان کا دل ٹھنڈا رہے اور آخرت میں بھی۔ یہ انہیں اچھی حالت میں دیکھ کر خوش ہوں۔
اس دعا سے ان کی غرض خوبصورتی اور جمال نہیں بلکہ نیکی اور خوش خلقی کی ہے۔ مسلمان کی سچی خوشی اسی میں ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کو، دوست احباب کو اللہ کا فرماں بردار دیکھے۔ وہ ظالم نہ ہوں، بدکار نہ ہوں۔ سچے مسلمان ہوں۔
{ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر ایک صاحب فرمانے لگے: ان کی آنکھوں کو مبارک باد ہو جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے۔ کاش کہ ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے اور تمہاری طرح فیض صحبت حاصل کرتے۔ اس پر سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے تو نفیر کہتے ہیں: مجھے تعجب معلوم ہوا کہ اس بات میں کوئی برائی نہیں، پھر یہ کیوں خفا ہو رہے ہیں؟ اتنے میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ کہ اس چیز کی آرزو کرتے ہیں کہ جو قدرت نے انہیں نہیں دی۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ اگر اس وقت ہوتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ واللہ وہ لوگ بھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے جنہوں نے نہ آپ کی تصدیق کی، نہ تابعداری کی اور اوندھے منہ جہنم میں گئے۔ تم اللہ کا یہ احسان نہیں مانتے کہ اللہ نے تمہیں اسلام میں اور مسلمان گھروں میں پیدا کیا؟ پیدا ہوتے ہی تمہارے کانوں میں اللہ کی توحید اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پڑی اور ان بلاؤں سے تم بچالئے گئے جو تم سے اگلے لوگوں پر آئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ایسے زمانے میں مبعوث ہوئے تھے جس وقت دنیا کی اندھیر نگری اپنی انتہا پر تھی۔ اس وقت دنیا والوں کے نزدیک بت پرستی سے بہتر کوئی مذہب نہ تھا۔ آپ فرقان لے کر آئے، حق و باطل میں تمیز کی۔ باپ بیٹے جدا ہو گئے۔ مسلمان اپنے باپ دادوں، بیٹوں، پوتوں، دوست احباب کو کفر پر دیکھتے، ان سے انہیں کوئی محبت پیار نہیں ہوتا تھا بلکہ کڑہتے تھے کہ یہ جہنمی ہیں اسی لیے ان کی دعائیں ہوتی تھیں کہ ہمیں ہماری اولاد اور بیویوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما کیونکہ کفار کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہوتی تھیں۔ } ۱؎ [مسند احمد:3/6:صحیح]‏‏‏‏
اس دعا کا آخر یہ ہے کہ ہمیں لوگوں کا رہبر بنا دے کہ ہم انہیں نیکی کی تعلیم دیں، لوگ بھلائی میں ہماری اقتداء کریں۔ ہماری اولاد ہماری راہ چلے تاکہ ثواب بڑھ جائے اور ان کی نیکیوں کا باعث بھی ہم بن جائیں۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { انسان کے مرتے ہی اس کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں مگر تین چیزیں ؛ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے یا علم جس سے اس کے بعد نفع اٹھایا جائے یا صدقہ جاریہ۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:3084]‏‏‏‏