(آیت 71) {وَمَنْتَابَوَعَمِلَصَالِحًافَاِنَّهٗيَتُوْبُ …:} یہاں ایک سوال یہ ہے کہ پچھلی آیت میں توبہ کے ذکر کے بعد دوبارہ توبہ کے ذکر میں کیا حکمت ہے؟ اور ایک یہ کہ یہ کہنا کہ ”جو شخص توبہ کرے تو وہ توبہ کرتا ہے…“ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے {”مَنْقَامَفَإِنَّهُيَقُوْمُ“} یعنی جو کھڑا ہو تو وہ کھڑا ہوتا ہے، تو اس سے کیا فائدہ حاصل ہوا؟ اس کا جواب کئی طرح سے دیا گیا ہے، ایک یہ کہ اس میں توبہ کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ جو شخص توبہ کرے اور عمل صالح کرے، تو اسے جان لینا چاہیے کہ وہ اس توبہ کے ساتھ کسی معمولی ہستی کی طرف پلٹ کر نہیں جا رہا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹ کر جا رہا ہے، جو بندے کی توبہ سے بہت محبت کرتا ہے اور اس کی توبہ معمولی نہیں بلکہ بڑی شان والی اور سچی توبہ ہے۔ دوسرا یہ کہ اگرچہ پچھلی آیت میں بھی عملِ صالح کا ذکر تھا مگر اس کی اہمیت کے پیشِ نظر اللہ تعالیٰ نے اسے پھر دہرایا اور فرمایا کہ صرف زبانی توبہ اللہ کے ہاں معتبر نہیں، اس کے مطابق عمل بھی ضروری ہے، چنانچہ جو شخص توبہ کرے اور نیک اعمال کرے وہ اللہ کی طرف سچی اور حقیقی توبہ کرتا ہے اور جو قدرت کے باوجود عمل نہ کرے اس کا توبہ کا دعویٰ قبول نہیں اور اس کی توبہ سچی اور حقیقی نہیں، بلکہ جھوٹی اور بے کار ہے۔ تیسرا یہ کہ پچھلی آیت میں کفر کے زمانے میں کیے ہوئے گناہوں سے توبہ کا ذکر تھا، اس آیت میں مسلمان ہونے کے بعد کیے ہوئے گناہوں سے توبہ کا ذکر ہے کہ مسلمان ہونے کے بعد بھی کوئی شخص کسی بھی گناہ سے توبہ کرے تو اس کی توبہ بھی سچی اور مقبول توبہ ہو گی۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما مسلمان قاتل کی توبہ قبول ہونے کے قائل نہیں، اس آیت سے اس کی توبہ کا قبول ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نساء کی آیت (۹۳): «{ وَمَنْيَّقْتُلْمُؤْمِنًامُّتَعَمِّدًا }» کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
71-1پہلی توبہ کا تعلق کفر و شرک سے ہے۔ اس توبہ کا تعلق دیگر معاصی اور کوتاہیوں سے ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
71۔ اور جو شخص توبہ کرے اور نیک عمل کرے تو وہ گویا اللہ کی طرف یوں رجوع کرتا ہے جیسا کہ رجوع کرنے [88] کا حق ہے۔
[88] توبہ کا فائدہ اور شرائط :۔
سابقہ آیت میں ان لوگوں کا ذکر تھا جو کفر سے توبہ کرتے اور دائرہ اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔ اس آیت میں ان مسلمانوں کا ذکر ہے جن سے گناہ سرزد ہو جائیں اور وہ توبہ کرتے ہیں۔ توبہ کی قبولیت کی شرائط یہ ہیں کہ وہ فی الواقع اپنے کئے پر نادم ہو۔ پھر اللہ سے استغفار کرے۔ توبہ استغفار کے بعد اپنی اصلاح کرے اور کم از کم اس سے وہ گناہ سرزد نہ ہو جس سے اس نے توبہ کی تھی۔ اب وہ توبہ استغفار کے بعد جس قدر اپنی اصلاح کرتا اور اعمال صالحہ بجا لاتا رہے گا اسی قدر وہ اللہ کے حضور مقرب بنتا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں