ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفرقان (25) — آیت 70

اِلَّا مَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمۡ حَسَنٰتٍ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۷۰﴾
مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لے آیا اور عمل کیا، کچھ نیک عمل تو یہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اللہ نیکیوں میں بدل دے گا اور اللہ ہمیشہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھے کام کئے تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو خدا نیکیوں سے بدل دے گا۔ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے
En
سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان ﻻئیں اور نیک کام کریں، ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے، اللہ بخشنے واﻻ مہربانی کرنے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 70) ➊ { اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا …:} ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: اہلِ شرک میں سے کچھ لوگوں نے قتل کیے اور بہت کیے اور زنا کیے اور بہت کیے، پھر وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: آپ جو بات کہتے ہیں اور جس کی دعوت دیتے ہیں وہ بہت اچھی ہے، اگر آپ ہمیں یہ بتا دیں کہ ہم نے جو کچھ کیا اس کا کوئی کفارہ ہے؟ تو یہ آیت اتری: «{ وَ الَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ … }» [الفرقان: ۶۸] اور یہ آیت اتری: «{ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ [الزمر: ۵۳] اے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی! اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ۔ [مسلم، الإیمان، باب کون الإسلام یھدم ما قبلہ…: ۱۲۲] یہ آیت ان لوگوں کے لیے بشارت ہے جن کی زندگی پہلے طرح طرح کے جرائم سے آلودہ رہی ہو اور اب وہ اپنی اصلاح پر آمادہ ہوں، یہی عام معافی کا دن تھا جس نے اس بگڑے ہوئے معاشرے کے لاکھوں انسانوں کو سہارا دے کر مستقبل کے بگاڑ سے بچا لیا اور انھیں امید کی روشنی دکھا کر اصلاح پر آمادہ کیا۔ اگر ان سے کہا جاتا کہ جو گناہ تم کر چکے ہو ان کی سزا سے اب تم کسی طرح بچ نہیں سکتے تو وہ ہمیشہ کے لیے بدی کے بھنور میں پھنس جاتے۔ توبہ کی اس نعمت نے بگڑے ہوئے لوگوں کو کس طرح سنبھالا، اس کا اندازہ ان بہت سے واقعات سے ہوتا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیش آئے، عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کی محبت میرے دل میں ڈال دی تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے عرض کی: اپنا دایاں ہاتھ آگے کیجیے، تاکہ میں آپ کی بیعت کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ آگے بڑھایا تو میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمرو! تجھے کیا ہوا؟ میں نے کہا: میری ایک شرط ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری کیا شرط ہے؟ میں نے کہا: [أَنْ يُّغْفَرَ لِيْ، قَالَ أَمَا عَلِمْتَ يَا عَمْرُو! أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ؟ وَ أَنَّ الْهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهَا؟ وَأَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قبْلَهُ؟] [مسلم، الإیمان، باب کون الإسلام یھدم ما قبلہ و کذا الھجرۃ والحج: ۱۲۱] (میری شرط یہ ہے) کہ میرے گناہ معاف ہوں (جو اب تک کیے ہیں)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمرو! کیا تو جانتا نہیں کہ اسلام اپنے سے پہلے کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے؟ اور یہ کہ ہجرت اپنے سے پہلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے؟ اور یہ کہ حج اپنے سے پہلے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے؟
➋ اللہ تعالیٰ نے برائیوں کو نیکیوں میں بدلنے کے لیے تین شرطیں رکھی ہیں، پہلی توبہ، یعنی گناہ سے باز آ جانا، گزشتہ گناہوں پر ندامت اور آئندہ کے لیے گناہ نہ کرنے کا عزم۔ دوسری شرط ایمان ہے، کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی عمل قبول ہی نہیں اور تیسری شرط عمل صالح ہے، یعنی اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق عمل کرنا۔ { عَمَلًا صَالِحًا } نکرہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ کیا ہے اورعمل کیا، کچھ نیک عمل۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے ترجمہ کیا ہے اور کیا کچھ نیک کام۔ اس میں بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں توبہ اور ایمان کے ساتھ تھوڑے عمل صالح کی بھی بہت قدر ہے۔
➌ { فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ:} اس کی دو تفسیریں ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں انھیں گناہوں کی جگہ نیکیوں کی توفیق دے گا، کفر اور شرک کی جگہ وہ ایمان اور توحید پر قائم ہوں گے، مومنوں کو قتل کرنے کے بجائے میدان جنگ میں کفار کو قتل کریں گے۔ زنا کی جگہ پاک دامنی پر، جھوٹ کی جگہ صدق پر اور نافرمانی کی جگہ فرماں برداری پر قائم ہوں گے۔ (و علی ہذا القیاس) یہ تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنھما سے معتبر سند کے ساتھ طبری نے نقل فرمائی ہے۔
دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کے تمام گناہوں کو نیکیوں میں بدل دے گا، یہ تفسیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے۔ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنِّيْ لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُوْلًا الْجَنَّةَ، وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوْجًا مِنْهَا، رَجُلٌ يُؤْتٰی بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ اعْرِضُوْا عَلَيْهِ صِغَارَ ذُنُوْبِهِ وَارْفَعُوْا عَنْهُ كِبَارَهَا، فَتُعْرَضُ عَلَيْهِ صِغَارُ ذُنُوْبِهِ، فَيُقَالُ عَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَ كَذَا، كَذَا وَ كَذَا، وَ عَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَ كَذَا، كَذَا وَ كَذَا، فَيَقُوْلُ نَعَمْ، لَا يَسْتَطِيْعُ أَنْ يُّنْكِرَ، وَهُوَ مُشْفِقٌ مِنْ كِبَارِ ذُنُوْبِهِ أَنْ تُّعْرَضَ عَلَيْهِ، فَيُقَالُ لَهُ فَإِنَّ لَكَ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً، فَيَقُوْلُ رَبِّ! قَدْ عَمِلْتُ أَشْيَاءَ لَا أَرَاهَا هٰهُنَا، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ ضَحِكَ حَتّٰی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ] [مسلم، الإیمان، باب أدنٰی أہل الجنۃ منزلۃ فیھا: ۱۹۰] میں اس شخص کو جانتا ہوں جو جنت میں داخل ہونے والوں میں سب سے آخری اور جہنم سے نکلنے والوں میں سب سے آخری ہو گا، وہ ایسا آدمی ہو گا جسے قیامت کے دن لایا جائے گا اور کہا جائے گا: اس کے سامنے اس کے چھوٹے گناہ پیش کرو اور اس کے بڑے گناہ بچائے رکھو۔ تو اس کے سامنے اس کے چھوٹے گناہ پیش کیے جائیں گے اور کہا جائے گا: تو نے فلاں فلاں دن یہ یہ عمل کیے تھے اور فلاں فلاں دن یہ یہ عمل کیے تھے؟ وہ کہے گا: ہاں! انکار نہیں کر سکے گا اور وہ اپنے بڑے گناہوں کے پیش کیے جانے سے ڈر رہا ہو گا، تو اس سے کہا جائے گا: تمھارے لیے ہر برائی کی جگہ ایک نیکی ہے۔ تو وہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے کئی کام کیے ہیں جو مجھے یہاں دکھائی نہیں دے رہے۔ (ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں): تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ہنسے یہاں تک کہ آپ کی ڈاڑھیں ظاہر ہو گئیں۔
اہلِ علم نے گناہوں کو نیکیوں میں بدلنے کی توجیہ یہ بیان فرمائی ہے کہ گناہ جتنی بار یاد آتے ہیں ان پر ندامت اور استغفار مسلسل نیکی ہے، اسی طرح توبہ کے بعد یہ عزم کہ آئندہ اگر موقع ملا تو میں ہمیشہ برائی کے بجائے نیکی کروں گا، یہ عزم ایسی نیکی ہے جو انسان کو جنت کا ابدی وارث بنا دیتی ہے۔ گزشتہ پر ندامت یا آئندہ کا عزم اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم گناہوں کو نیکیوں میں بدلنے کا باعث بن جائے گا۔ (بقاعی) ایک اور توجیہ یہ ہے کہ وہ شخص جس نے گناہ کیا ہی نہیں، مثلاً زنا یا چوری کی ہی نہیں، اسے گناہ سے بچنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی، بخلاف اس شخص کے جو زنا کا مرتکب رہا ہے، اسے زنا چھوڑنے میں جس قدر دشواری پیش آتی ہے اسے برداشت کرنا اور گناہ نہ کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔
➎ { وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا:} بظاہر گناہوں کو نیکیوں میں بدلنا بعید معلوم ہوتا ہے، اس کا جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے گناہوں پر پردہ ڈالنے والا اور بے حد رحم کرنے والا ہے، اس سے یہ کرم کچھ بھی بعید نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

70-1اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں خالص توبہ سے ہر گناہ معاف ہوسکتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی بڑا ہو، اور سورة نساء کی آیت93میں جو مومن کے قتل کی سزا جہنم بتلائی گئی ہے، تو وہ اس صورت پر معمول ہوگی، جب قاتل نے توبہ نہ کی ہو اور بغیر توبہ کئے فوت ہوگیا۔ ورنہ حدیث میں آتا ہے کہ سو آدمی کے قاتل نے بھی خالص توبہ کی تو اللہ نے اسے معاف فرمایا (صحیح مسلم) 70-2اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا حال تبدیل فرما دیتا ہے اسلام قبول کرنے سے پہلے وہ برائیاں کرتا تھا، اب نیکیاں کرتا ہے، پہلے شرک کرتا تھا، اب صرف اللہ واحد کی عبادت کرتا ہے، پہلے کافروں کے ساتھ ملکر مسلمانوں سے لڑتا تھا، اب مسلمانوں کی طرف سے کافروں سے لڑتا ہے وغیرۃ وغیرہ۔ دوسرے معنی یہ ہوئے کہ اس کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیا جاتا ہے اس کی تائید حدیث میں بھی ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' میں اس شخص کو جانتا ہوں، جو سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا ہے اور سب آخر میں جہنم سے نکلنے والا ہوگا۔ یہ وہ آدمی ہوگا کہ قیامت کے دن اس پر اس کے چھوٹے چھوٹے گناہ پیش کئے جائیں گے، بڑے ایک طرف رکھ دیئے جائیں گے۔ اس کو کہا جائیگا کہ تو نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں کام کیا تھا؟ وہ ہاں میں جواب دے گا، انکار کی اسے طاقت نہ ہوگی، علاوہ ازیں وہ اس بات سے بھی ڈر رہا ہوگا کہ ابھی تو بڑے گناہ بھی پیش کئے جائیں گے۔ کہ اتنے میں اس سے کہا جائے گا کہ جا تیرے لئے ہر برائی کے بدلے ایک نیکی ہے۔ اللہ کی مہربانی دیکھ کر کہے گا، کہ ابھی تو میرے بہت سے اعمال ایسے ہیں کہ میں انھیں یہاں نہیں دیکھ رہا، یہ بیان کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے، یہاں تک کہ آپ کے دانت ظاہر ہوگئے (صحیح مسلم)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

70۔ ہاں جو شخص توبہ کر لے اور ایمان [87] لے آئے اور نیک عمل کرے تو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔
[87] اسلام لانے کے فائدے :۔
یعنی ایسے شدید جرم کرنے والے کافروں میں سے بھی جو شخص ایمان لائے گا۔ اللہ اس کے سابقہ گناہوں کو کلیتاً معاف فرما دے گا۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔
1۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: یا رسول اللہ! ہم نے جو گناہ جاہلیت کے زمانہ میں کئے ہیں کیا ہم سے ان کا مواخذہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اسلام لایا پھر نیک عمل کرتا رہا اس سے جاہلیت کے گناہوں کا مواخذہ نہیں ہو گا۔“ [بخاري۔ كتاب استتابة المرتدين]
2۔ حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ ایک شخص (دوران جہاد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ وہ اپنا چہرہ لوہے کے ہتھیاروں سے چھپائے ہوئے تھا۔ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں پہلے کافروں سے لڑائی کرو یا اسلام لاؤں؟ آپ نے فرمایا: ”پہلے اسلام لاؤ، پھر لڑائی کرو“ تو وہ مسلمان ہو گیا پھر لڑنے لگا حتیٰ کہ شہید ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو اس نے عمل تو تھوڑا کیا مگر ثواب بہت زیادہ پایا۔“ [بخاری۔ کتاب الجہاد۔ باب عمل صالح قبل القتال]
3۔ حضرت حکیم بن حزام کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ”میں نے جاہلیت کے زمانہ میں جو اچھے کام کئے تھے مثلاً قرابت داروں سے حسن سلوک، غلام کو آزاد کرنا یا صدقہ و خیرات دینا۔ کیا مجھے ان کا اجر ملے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں۔ تم جو اسلام لائے ہو تو سابقہ نیکیوں کو برقرار رکھتے ہوئے اسلام لائے ہو۔“ [بخاری۔ کتاب البیوع۔ باب شراء المملوک من الحربی]
برائیاں نیکیوں میں کیسے بدلتی ہیں؟:۔
ان احادیث سے نتیجہ نکلا کہ اسلام لانے کے دو بڑے فائدے ہیں۔ ایک یہ کہ سابقہ سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور اسلام لانے والا گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہو جاتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس کے سابقہ نیک اعمال کا اسے اجر بھی ملے گا جبکہ بحالت کفر مرنے پر اسے نیک اعمال کا اسے اجر نہیں مل سکتا تھا۔ ایک تو یہ صورت ہوئی دوسری صورت یہ ہے کہ اسلام لانے والے کے اعمال نامہ میں فی الواقع اس کی برائیوں کی جگہ نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں۔ تیسری صورت یہ ہے کہ جو شخص اعمال صالحہ کا خوگر ہو جائے اس سے برائیوں کی عادت چھوٹ جاتی ہے اور سابقہ برائیاں معاف کر دی جاتی ہے۔ اسی طرح جس معاشرہ میں نیکیاں رواج پا جائیں۔ برائیاں از خود مٹتی چلی جاتی ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اِلَّا مَنْ تَابَ مگر جس نے توبہ کی۔ یعنی جس نے ان گناہوں اور دیگر گناہوں سے توبہ کی، اس نے فی الفور ان گناہوں کو ترک کر دیا، ان گناہوں پر نادم ہوا اور پختہ عزم کر لیا کہ اب وہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا ﴿ وَاٰمَنَ اور ایمان لایا۔ یعنی اللہ تعالیٰ پر صحیح طور پر ایمان لایا جو گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کے اکتساب کا تقاضا کرتا ہے ﴿ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا اور اچھے کام کیے۔ یعنی وہ ایسے نیک کام کرتا ہے جن کا شارع نے حکم دیا ہے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔ یعنی ان کے وہ افعال اور اقوال جو برائی کی راہ میں سرانجام پانے کے لیے تیار تھے، نیکیوں میں بدل جاتے ہیں، چنانچہ ان کا شرک ایمان میں بدل جاتا ہے،ا ن کی نافرمانی اطاعت میں اور وہ برائیاں جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا، بدل جاتی ہیں، پھر ان کا وصف یہ بن جاتا ہے کہ جو بھی گناہ ان سے صادر ہوتا ہے تو وہ اس کے بعد توبہ کرتے اور انابت و اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں، جس سے وہ گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں، جیسا کہ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث وارد ہوئی ہے جو اس شخص کے بارے میں ہے جس کے بعض گناہوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ کرے گا اور ان گناہوں کو اس کے سامنے شمار کرے گا پھر ہر برائی کو نیکی میں بدل دے گا۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا اے میرے رب! میری تو بہت سی برائیاں تھیں جومجھے یہاں دکھائی نہیں دیتیں۔(صحیح مسلم، الایمان، باب ادنیٰ اہل الجنۃ منزلۃ فیہا، ح:190) واللہ اعلم
﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا اور اللہ تو بخشنے والا ہے۔ جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ رَّحِیْمًا وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس نے ان کو ان کے گناہ کرنے کے بعد توبہ کی طرف بلایا ہے، پھر انھیں توبہ کی توفیق عطا کی اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إلاَّ مَن تابَ}: عن هذه المعاصي وغيرِها بأنْ أقْلَعَ عنها في الحال، وندم على ما مضى له من فعلها، وعزم عزماً جازماً أنْ لا يعود، {وآمنَ} بالله إيماناً صحيحاً يقتضي تركَ المعاصي وفعل الطاعات، {وعمل صالحاً}: مما أمر به الشارعُ إذا قَصَدَ به وجه الله؛ {فأولئك يبدِّلُ الله سيئاتِهِم حسناتٍ}؛ أي: تتبدَّل أفعالُهم وأقوالُهم التي كانت مستعدِّة لعمل السيئات، تتبدَّلُ حسناتٍ، فيتبدَّل شِرْكُهم إيماناً، ومعصيتُهم طاعةً، وتتبدَّلُ نفس السيئات التي عملوها ثم أحدثوا عن كل ذنبٍ منها توبةً وإنابةً وطاعةً، تبدَّلُ حسناتٍ كما هو ظاهر الآية، وورد في ذلك حديث الرجل الذي حاسبه الله ببعض ذنوبه، فعدَّدها عليه، ثم أبدل مكان كلِّ سيئةٍ حسنةً، فقال: يا ربِّ! إنَّ لي سيئاتٍ لا أراها هاهنا. والله أعلم. {وكان الله غفوراً}: لمن تاب يغفر الذُّنوب العظيمة. {رحيماً}: بعبادِهِ؛ حيثُ دعاهم إلى التوبة بعد مبارزتِهِ بالعظائم، ثم وَفَّقَهم لها، ثم قَبِلَها منهم.