تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ اللہ تعالیٰ نے برائیوں کو نیکیوں میں بدلنے کے لیے تین شرطیں رکھی ہیں، پہلی توبہ، یعنی گناہ سے باز آ جانا، گزشتہ گناہوں پر ندامت اور آئندہ کے لیے گناہ نہ کرنے کا عزم۔ دوسری شرط ایمان ہے، کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی عمل قبول ہی نہیں اور تیسری شرط عمل صالح ہے، یعنی اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق عمل کرنا۔ {” عَمَلًا صَالِحًا “} نکرہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ کیا ہے ”اورعمل کیا، کچھ نیک عمل۔“ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے ترجمہ کیا ہے ”اور کیا کچھ نیک کام۔“ اس میں بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں توبہ اور ایمان کے ساتھ تھوڑے عمل صالح کی بھی بہت قدر ہے۔
➌ { فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ:} اس کی دو تفسیریں ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں انھیں گناہوں کی جگہ نیکیوں کی توفیق دے گا، کفر اور شرک کی جگہ وہ ایمان اور توحید پر قائم ہوں گے، مومنوں کو قتل کرنے کے بجائے میدان جنگ میں کفار کو قتل کریں گے۔ زنا کی جگہ پاک دامنی پر، جھوٹ کی جگہ صدق پر اور نافرمانی کی جگہ فرماں برداری پر قائم ہوں گے۔ (و علی ہذا القیاس) یہ تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنھما سے معتبر سند کے ساتھ طبری نے نقل فرمائی ہے۔
دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کے تمام گناہوں کو نیکیوں میں بدل دے گا، یہ تفسیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے۔ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنِّيْ لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُوْلًا الْجَنَّةَ، وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوْجًا مِنْهَا، رَجُلٌ يُؤْتٰی بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ اعْرِضُوْا عَلَيْهِ صِغَارَ ذُنُوْبِهِ وَارْفَعُوْا عَنْهُ كِبَارَهَا، فَتُعْرَضُ عَلَيْهِ صِغَارُ ذُنُوْبِهِ، فَيُقَالُ عَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَ كَذَا، كَذَا وَ كَذَا، وَ عَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَ كَذَا، كَذَا وَ كَذَا، فَيَقُوْلُ نَعَمْ، لَا يَسْتَطِيْعُ أَنْ يُّنْكِرَ، وَهُوَ مُشْفِقٌ مِنْ كِبَارِ ذُنُوْبِهِ أَنْ تُّعْرَضَ عَلَيْهِ، فَيُقَالُ لَهُ فَإِنَّ لَكَ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً، فَيَقُوْلُ رَبِّ! قَدْ عَمِلْتُ أَشْيَاءَ لَا أَرَاهَا هٰهُنَا، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ ضَحِكَ حَتّٰی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ] [مسلم، الإیمان، باب أدنٰی أہل الجنۃ منزلۃ فیھا: ۱۹۰] ”میں اس شخص کو جانتا ہوں جو جنت میں داخل ہونے والوں میں سب سے آخری اور جہنم سے نکلنے والوں میں سب سے آخری ہو گا، وہ ایسا آدمی ہو گا جسے قیامت کے دن لایا جائے گا اور کہا جائے گا: ”اس کے سامنے اس کے چھوٹے گناہ پیش کرو اور اس کے بڑے گناہ بچائے رکھو۔“ تو اس کے سامنے اس کے چھوٹے گناہ پیش کیے جائیں گے اور کہا جائے گا: ”تو نے فلاں فلاں دن یہ یہ عمل کیے تھے اور فلاں فلاں دن یہ یہ عمل کیے تھے؟“ وہ کہے گا: ”ہاں!“ انکار نہیں کر سکے گا اور وہ اپنے بڑے گناہوں کے پیش کیے جانے سے ڈر رہا ہو گا، تو اس سے کہا جائے گا: ”تمھارے لیے ہر برائی کی جگہ ایک نیکی ہے۔“ تو وہ کہے گا: ”اے میرے رب! میں نے کئی کام کیے ہیں جو مجھے یہاں دکھائی نہیں دے رہے۔“ (ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں): ”تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ہنسے یہاں تک کہ آپ کی ڈاڑھیں ظاہر ہو گئیں۔“
➍ اہلِ علم نے گناہوں کو نیکیوں میں بدلنے کی توجیہ یہ بیان فرمائی ہے کہ گناہ جتنی بار یاد آتے ہیں ان پر ندامت اور استغفار مسلسل نیکی ہے، اسی طرح توبہ کے بعد یہ عزم کہ آئندہ اگر موقع ملا تو میں ہمیشہ برائی کے بجائے نیکی کروں گا، یہ عزم ایسی نیکی ہے جو انسان کو جنت کا ابدی وارث بنا دیتی ہے۔ گزشتہ پر ندامت یا آئندہ کا عزم اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم گناہوں کو نیکیوں میں بدلنے کا باعث بن جائے گا۔ (بقاعی) ایک اور توجیہ یہ ہے کہ وہ شخص جس نے گناہ کیا ہی نہیں، مثلاً زنا یا چوری کی ہی نہیں، اسے گناہ سے بچنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی، بخلاف اس شخص کے جو زنا کا مرتکب رہا ہے، اسے زنا چھوڑنے میں جس قدر دشواری پیش آتی ہے اسے برداشت کرنا اور گناہ نہ کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔
➎ { وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا:} بظاہر گناہوں کو نیکیوں میں بدلنا بعید معلوم ہوتا ہے، اس کا جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے گناہوں پر پردہ ڈالنے والا اور بے حد رحم کرنے والا ہے، اس سے یہ کرم کچھ بھی بعید نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: یا رسول اللہ! ہم نے جو گناہ جاہلیت کے زمانہ میں کئے ہیں کیا ہم سے ان کا مواخذہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اسلام لایا پھر نیک عمل کرتا رہا اس سے جاہلیت کے گناہوں کا مواخذہ نہیں ہو گا۔“ [بخاري۔ كتاب استتابة المرتدين]
2۔ حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ ایک شخص (دوران جہاد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ وہ اپنا چہرہ لوہے کے ہتھیاروں سے چھپائے ہوئے تھا۔ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں پہلے کافروں سے لڑائی کرو یا اسلام لاؤں؟ آپ نے فرمایا: ”پہلے اسلام لاؤ، پھر لڑائی کرو“ تو وہ مسلمان ہو گیا پھر لڑنے لگا حتیٰ کہ شہید ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو اس نے عمل تو تھوڑا کیا مگر ثواب بہت زیادہ پایا۔“ [بخاری۔ کتاب الجہاد۔ باب عمل صالح قبل القتال]
3۔ حضرت حکیم بن حزام کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ”میں نے جاہلیت کے زمانہ میں جو اچھے کام کئے تھے مثلاً قرابت داروں سے حسن سلوک، غلام کو آزاد کرنا یا صدقہ و خیرات دینا۔ کیا مجھے ان کا اجر ملے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں۔ تم جو اسلام لائے ہو تو سابقہ نیکیوں کو برقرار رکھتے ہوئے اسلام لائے ہو۔“ [بخاری۔ کتاب البیوع۔ باب شراء المملوک من الحربی]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إلاَّ مَن تابَ}: عن هذه المعاصي وغيرِها بأنْ أقْلَعَ عنها في الحال، وندم على ما مضى له من فعلها، وعزم عزماً جازماً أنْ لا يعود، {وآمنَ} بالله إيماناً صحيحاً يقتضي تركَ المعاصي وفعل الطاعات، {وعمل صالحاً}: مما أمر به الشارعُ إذا قَصَدَ به وجه الله؛ {فأولئك يبدِّلُ الله سيئاتِهِم حسناتٍ}؛ أي: تتبدَّل أفعالُهم وأقوالُهم التي كانت مستعدِّة لعمل السيئات، تتبدَّلُ حسناتٍ، فيتبدَّل شِرْكُهم إيماناً، ومعصيتُهم طاعةً، وتتبدَّلُ نفس السيئات التي عملوها ثم أحدثوا عن كل ذنبٍ منها توبةً وإنابةً وطاعةً، تبدَّلُ حسناتٍ كما هو ظاهر الآية، وورد في ذلك حديث الرجل الذي حاسبه الله ببعض ذنوبه، فعدَّدها عليه، ثم أبدل مكان كلِّ سيئةٍ حسنةً، فقال: يا ربِّ! إنَّ لي سيئاتٍ لا أراها هاهنا. والله أعلم. {وكان الله غفوراً}: لمن تاب يغفر الذُّنوب العظيمة. {رحيماً}: بعبادِهِ؛ حيثُ دعاهم إلى التوبة بعد مبارزتِهِ بالعظائم، ثم وَفَّقَهم لها، ثم قَبِلَها منهم.