تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
{” خِلْفَةً “} کا ایک معنی ”مختلف“ بھی ہے، قاموس میں ہے: {” اَلْخِلْفُ وَالْخِلْفَةُ بِالْكَسْرِ الْمُخْتَلِفُ“} اس کے مطابق معنی یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کو روشنی اور اندھیرے میں، گرمی اور سردی میں، کام اور آرام میں ایک دوسرے سے مختلف بنایا ہے۔
➋ { لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا:} یعنی کہ اگر کوئی کفر یا فسق کی وجہ سے غفلت میں مبتلا ہے اور چاہتا ہے کہ اسے کسی طرح نصیحت ہو تو دن رات کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے میں اس کے لیے بہت بڑی نصیحت ہے کہ اتنی بڑی تبدیلی وہی کر سکتا ہے جو لا محدود قدرت والا اور ہر طرح صاحب اختیار ہے، اوراگر کوئی مومن اور صالح ہے اور اللہ کا شکر ادا کرنا چاہتا ہے تو دن رات کی یہ تبدیلی بہت بڑی نعمت ہے، جس پر اسے شکر ادا کرنا لازم ہے۔ رات دن کے سلسلے میں ایک نصیحت ابن العربی نے ذکر فرمائی ہے کہ ایک آدمی جس کی عمر ساٹھ (۶۰) برس ہے، وہ رات سو کر گزار دیتا ہے، تو اس کی آدھی عمر بے کار گئی، پھر دن کا تقریباً چھٹا حصہ آرام میں گزر جاتا ہے، یوں کل دو تہائی چلا گیا۔ اس کے پاس ساٹھ (۶۰) سال کی عمر میں سے بیس (۲۰) برس رہ گئے۔ کتنی بڑی جہالت اور بے وقوفی ہے کہ آدمی اپنی عمر کا دو تہائی حصہ فانی لذت میں گزار دے اور عمر عزیز کو اس دائمی لذت کے حصول کے لیے خرچ نہ کرے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس اس کے لیے تیار کر رکھی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور آیت میں ہے: آسمان دنیا کو ہم نے ستاروں کے ساتھ مزین بنایا۔ سراج سے مراد سورج ہے، جو چمکتا رہتا ہے اور مثل چراغ کے ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا» ۱؎ [78-النبأ:13] ’ اور ہم نے روشن چراغ یعنی سورج بنایا۔ ‘
اور چاند بنایا جو منور اور روشن ہے، دوسرے نور سے جو سورج کے سوا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ اس نے سورج کو روشن بنایا اور چاند کو نور بنایا۔ ‘ ۱؎ [10-يونس:5]
نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا: «اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا» ۱؎ [71-نوح:15-16] ’ کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے سات آسمان پیدا کیے اور ان میں چاند کو نور بنایا اور سورج کو چراغ بنایا۔ ‘
دن رات کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں اس کی قدرت کا نظام ہے۔ یہ جاتا ہے، وہ آتا ہے۔ اس کا جانا اس کا آنا ہے۔ جیسے فرمان ہے: اس نے تمہارے لیے سورج، چاند پے در پے آنے جانے والے بنائے ہیں۔
اور جگہ ہے: رات دن کو ڈھانپ لیتی ہے اور جلدی جلدی اسے طلب کرتی آتی ہے۔ نہ سورج چاند سے آگے بڑھ سکے، نہ رات دن سے سبقت لے سکے۔ اسی سے اس کے بندوں کو اس کی عبادتوں کے وقت معلوم ہوتے ہیں۔ رات کا فوت شدہ عمل دن میں پورا کر لیں، دن کا رہ گیا ہوا عمل رات کو ادا کر لیں۔
صحیح حدیث شریف میں ہے: { اللہ تعالیٰ رات کو اپنے ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کا گنہگار توبہ کر لے اور دن کو ہاتھ پھیلاتا ہے کہ رات کا گنہگار توبہ کر لے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2759]
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک دن ضحیٰ کی نماز میں بڑی دیر لگا دی۔ سوال پر فرمایا کہ رات کا کچھ میرا وظیفہ باقی رہ گیا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے پورا کر لوں یا قضاء کر لوں۔ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ «خِلْفَةً» کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ مختلف یعنی دن روشن، رات تاریک۔ اس میں اجالا، اس میں اندھیرا۔ یہ نورانی اور وہ ظلماتی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وهو الذي جَعَلَ الليلَ والنَّهار خِلْفَةً}؛ أي: يذهبُ أحدُهما؛ فيخلُفُه الآخر، هكذا أبداً لا يجتمعان ولا يرتفعان، {لِمَنْ أرادَ أن يَذَّكَّرَ أو أرادَ شُكوراً}؛ أي: لمن أراد أن يتذكَّر بهما ويعتبر ويستدلَّ بهما على كثيرٍ من المطالب الإلهيَّة ويشكر الله على ذلك، ولمن أراد أن يَذْكُرَ الله ويشكُرَهُ، وله وردٌ من الليل أو النهار؛ فَمَنْ فاتَه وردُه من أحدهما؛ أدركه في الآخر، وأيضاً؛ فإنَّ القلوب تتقلَّب وتنتقل في ساعات الليل والنهار، فيحدث لها النشاط والكسل والذِّكْر والغفلة والقبض والبسط والإقبال والإعراض، فجعلَ اللهُ الليل والنهار يتوالى على العباد ويتكرران؛ ليحدثَ لهما الذِّكْرُ والنشاط والشكر لله في وقت آخر، ولأنَّ أوقات العبادات تتكرَّر بتكرُّر الليل والنهار؛ فكلَّما تكرَّرت الأوقات؛ أحدث للعبد همَّةً غير هِمَّته التي كسلت في الوقت المتقدم، فزاد في تذكرها وشكرها، فوظائفُ الطاعاتِ بمنزلة سقي الإيمان الذي يمدُّه؛ فلولا ذلك؛ لذوى غرسُ الإيمان ويبس، فلله أتمُّ حمدٍ وأكملُهُ على ذلك.