ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفرقان (25) — آیت 62

وَ ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ الَّیۡلَ وَ النَّہَارَ خِلۡفَۃً لِّمَنۡ اَرَادَ اَنۡ یَّذَّکَّرَ اَوۡ اَرَادَ شُکُوۡرًا ﴿۶۲﴾
اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا بنایا، اس کے لیے جو چاہے کہ نصیحت حاصل کرے، یا کچھ شکر کرنا چاہے۔ En
اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بنایا۔ (یہ باتیں) اس شخص کے لئے جو غور کرنا چاہے یا شکرگزاری کا ارادہ کرے (سوچنے اور سمجھنے کی ہیں)
En
اور اسی نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے واﻻ بنایا۔ اس شخص کی نصیحت کے لیے جو نصیحت حاصل کرنے یا شکر گزاری کرنے کا اراده رکھتا ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 62) ➊ { وَ هُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الَّيْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً:} اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی قدرت کا کمال اور نعمتوں کی یاد دہانی تینوں چیزیں موجود ہیں۔ یعنی رات اور دن ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں، رات جاتی ہے تو دن آ جاتا ہے اور دن جاتا ہے تو رات آ جاتی ہے۔ اگر ہمیشہ دن رہتا یا ہمیشہ رات رہتی تو زندگی اور اس کی مصروفیات کا سلسلہ باقی نہ رہ سکتا۔ (دیکھیے قصص: ۷۱ تا ۷۳) دن رات کے اس بدلنے میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ (دیکھیے بقرہ: ۱۶۴۔ آل عمران: ۱۹۰) ایک مطلب اس کا یہ ہے کہ دن اور رات گھٹتے بڑھتے اور ایک دوسرے کی جگہ آتے جاتے رہتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَ يُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ [الحج: ۶۱] یہ اس لیے کہ اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ طبری نے معتبر سند کے ساتھ علی بن ابی طلحہ سے ابن عباس رضی اللہ عنھما کی تفسیر نقل فرمائی ہے: جس کا کوئی کام رات کو رہ جائے تو وہ دن کو پورا کر لیتا ہے اور دن کو رہ جائے تو رات کو پورا کر لیتا ہے۔ (طبری: ۲۶۶۶۰) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ، لِيَتُوْبَ مُسِيْءُ النَّهَارِ، وَيَبْسُطُ يَدَهُ بِالنَّهَارِ، لِيَتُوْبَ مُسِيْءُ اللَّيْلِ، حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا] [مسلم، التوبۃ، باب قبول التوبۃ من الذنوب …: ۲۷۵۹] اللہ تعالیٰ رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے، تاکہ دن کو برائی کرنے والا شخص توبہ کر لے اور دن کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے، تاکہ رات کو برائی کرنے والا توبہ کر لے، یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ نَسِيَ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا، فَكَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا] [مسلم، المساجد، باب قضاء الصلاۃ الفائتۃ…: ۳۱۵ /۶۸۴]جو شخص کسی نماز سے سویا رہ جائے یا بھول جائے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب اسے وہ یاد آئے پڑھ لے۔ امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَقَرَأَهُ فِيْمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَ صَلَاةِ الظُّهْرِ، كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ] [مسلم، صلاۃ المسافرین، باب جامع صلاۃ اللیل: ۷۴۷] جو شخص اپنے مقرر کر دہ وظیفے سے یا اس کے کچھ حصے سے سویا رہ جائے، پھر اسے فجر کی نماز اور ظہر کی نماز کے درمیان پڑھ لے تو گویا اس نے اسے رات ہی میں پڑھا ہے۔
{ خِلْفَةً } کا ایک معنی مختلف بھی ہے، قاموس میں ہے: { اَلْخِلْفُ وَالْخِلْفَةُ بِالْكَسْرِ الْمُخْتَلِفُ} اس کے مطابق معنی یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کو روشنی اور اندھیرے میں، گرمی اور سردی میں، کام اور آرام میں ایک دوسرے سے مختلف بنایا ہے۔
➋ { لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا:} یعنی کہ اگر کوئی کفر یا فسق کی وجہ سے غفلت میں مبتلا ہے اور چاہتا ہے کہ اسے کسی طرح نصیحت ہو تو دن رات کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے میں اس کے لیے بہت بڑی نصیحت ہے کہ اتنی بڑی تبدیلی وہی کر سکتا ہے جو لا محدود قدرت والا اور ہر طرح صاحب اختیار ہے، اوراگر کوئی مومن اور صالح ہے اور اللہ کا شکر ادا کرنا چاہتا ہے تو دن رات کی یہ تبدیلی بہت بڑی نعمت ہے، جس پر اسے شکر ادا کرنا لازم ہے۔ رات دن کے سلسلے میں ایک نصیحت ابن العربی نے ذکر فرمائی ہے کہ ایک آدمی جس کی عمر ساٹھ (۶۰) برس ہے، وہ رات سو کر گزار دیتا ہے، تو اس کی آدھی عمر بے کار گئی، پھر دن کا تقریباً چھٹا حصہ آرام میں گزر جاتا ہے، یوں کل دو تہائی چلا گیا۔ اس کے پاس ساٹھ (۶۰) سال کی عمر میں سے بیس (۲۰) برس رہ گئے۔ کتنی بڑی جہالت اور بے وقوفی ہے کہ آدمی اپنی عمر کا دو تہائی حصہ فانی لذت میں گزار دے اور عمر عزیز کو اس دائمی لذت کے حصول کے لیے خرچ نہ کرے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس اس کے لیے تیار کر رکھی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

62-1یعنی رات جاتی ہے تو دن آجاتا ہے اور دن آتا ہے تو رات چلی جاتی ہے۔ دونوں بیک وقت جمع نہیں ہوتے، اس کے فوائد و مصالح محتاج وضاحت نہیں۔ بعض نے خِلْفَۃً کے معنی ایک دوسرے کے مخالف کے کئے ہیں یعنی رات تاریک ہے تو دن روشن۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

62۔ اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو بار بار ایک دوسرے کے بعد آنے والا [79] بنایا۔ اب جو چاہے اس سے سبق حاصل کرے اور جو چاہے شکرگزار بنے
[79] خلفة کا لغوی مفہوم :۔
خلفہ کے معنی ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے۔ رات کے پیچھے دن آتا ہے اور دن کے پیچھے رات۔ اور یہ بار بار ایک دوسرے کے پیچھے آتے رہتے ہیں۔ موجودہ نظریہ ہیئت کے مطابق دن رات سورج کے سامنے زمین کی محوری یک روزہ گردش کی بنا پر پیدا ہوتے ہیں۔ زمین کا محیط پچیس ہزار میل ہے اور زمین اپنی محوری گردش پورے چوبیس گھنٹہ میں پوری کرتی ہے۔ بالفاظ دیگر ہم نے زمین کی محوری گردش کی مدت کو چوبیس گھنٹہ میں تقسیم کر رکھا ہے۔ اور دن اور رات کے اوقات میں کمی بیشی زمین کی سورج کے گرد سالانہ گردش کی وجہ سے ہوتی ہے اس نظریہ کی رو سے اللہ کی قدرت کے یہ کرشمے اور بھی محیر العقول بن جاتے ہیں۔ جس نے اتنے بڑے بڑے عظیم الجثہ کروں کو بجلی کی تیز رفتاری سے اس طرح محو گردش بنا رکھا ہے کہ ان کے نتائج میں کبھی ایک سیکنڈ کی بھی تقدیم و تاخیر نہیں ہو سکتی۔ نہ ہی ان کروں کا آپس میں کہیں تصادم ہوتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ تعالٰی کی رفعت و عظمت ٭٭
اللہ تعالیٰ کی بڑائی، عظمت، رفعت کو دیکھو کہ اس نے آسمان میں برج بنائے۔ اس سے مراد یا تو بڑے بڑے ستارے ہیں یا چوکیداری کے برج ہیں۔ پہلا قول زیادہ ظاہر ہے اور ہوسکتا ہے کہ بڑے بڑے ستاروں سے مراد بھی یہی برج ہوں۔
اور آیت میں ہے: آسمان دنیا کو ہم نے ستاروں کے ساتھ مزین بنایا۔ سراج سے مراد سورج ہے، جو چمکتا رہتا ہے اور مثل چراغ کے ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا» ۱؎ [78-النبأ:13]‏‏‏‏ ’ اور ہم نے روشن چراغ یعنی سورج بنایا۔ ‘
اور چاند بنایا جو منور اور روشن ہے، دوسرے نور سے جو سورج کے سوا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ اس نے سورج کو روشن بنایا اور چاند کو نور بنایا۔ ‘ ۱؎ [10-يونس:5]‏‏‏‏
نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا: «اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا» ۱؎ [71-نوح:15-16]‏‏‏‏ ’ کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے سات آسمان پیدا کیے اور ان میں چاند کو نور بنایا اور سورج کو چراغ بنایا۔ ‘
دن رات کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں اس کی قدرت کا نظام ہے۔ یہ جاتا ہے، وہ آتا ہے۔ اس کا جانا اس کا آنا ہے۔ جیسے فرمان ہے: اس نے تمہارے لیے سورج، چاند پے در پے آنے جانے والے بنائے ہیں۔
اور جگہ ہے: رات دن کو ڈھانپ لیتی ہے اور جلدی جلدی اسے طلب کرتی آتی ہے۔ نہ سورج چاند سے آگے بڑھ سکے، نہ رات دن سے سبقت لے سکے۔ اسی سے اس کے بندوں کو اس کی عبادتوں کے وقت معلوم ہوتے ہیں۔ رات کا فوت شدہ عمل دن میں پورا کر لیں، دن کا رہ گیا ہوا عمل رات کو ادا کر لیں۔
صحیح حدیث شریف میں ہے: { اللہ تعالیٰ رات کو اپنے ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کا گنہگار توبہ کر لے اور دن کو ہاتھ پھیلاتا ہے کہ رات کا گنہگار توبہ کر لے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2759]‏‏‏‏
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک دن ضحیٰ کی نماز میں بڑی دیر لگا دی۔ سوال پر فرمایا کہ رات کا کچھ میرا وظیفہ باقی رہ گیا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے پورا کر لوں یا قضاء کر لوں۔ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ «خِلْفَةً» کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ مختلف یعنی دن روشن، رات تاریک۔ اس میں اجالا، اس میں اندھیرا۔ یہ نورانی اور وہ ظلماتی۔