تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ اس سے کفار کا اپنے شرک پر شدت کے ساتھ ڈٹے رہنا ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ اسے چھوڑنے کو گمراہ ہونا قرار دے رہے ہیں اور یہ بھی کہ ان کا یہ کام کسی دلیل کی بنا پر نہ تھا، بلکہ محض آبا و اجداد کی تقلید اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے تھا۔
➌ اس آیت سے ان کا اعتراف ثابت ہو رہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق کی دعوت پیش کرنے، اس کے لیے دلائل و معجزات پیش کرنے اور ہر اعتراض کا جواب دینے میں اتنی محنت سے کام لیا کہ کفار کو حق تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا، پھر انھوں نے حق قبول نہیں کیا تو اس کی وجہ صرف اور صرف ان کی ہٹ دھرمی تھی۔
➍ پچھلی آیت کے ساتھ ملا کر اس آیت کو دیکھیں تو کفار کی عجیب تضاد بیانی سامنے آتی ہے کہ ابھی جس شخص کے متعلق انھوں نے نہایت حقارت سے کہا کہ کیا یہی ہے وہ جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے؟ تو ابھی اس کی شخصیت کی تاثیر اور اس کے دلائل کی قوت کے بے پناہ ہونے کا اپنے منہ سے اعتراف کر رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ اسلام کی دعوت سے کس قدر مرعوب اور بوکھلائے ہوئے تھے کہ مذاق بھی اڑاتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور برتری کا احساس ان پر اس قدر حاوی بھی تھا کہ بلا ارادہ ان کے منہ سے وہ باتیں نکلوا دیتا تھا جو وہ ہر گز کہنا نہیں چاہتے تھے۔
➎ { وَ سَوْفَ يَعْلَمُوْنَ حِيْنَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ …:} یہ ان کے لیے حق کو گمراہی کہنے پر اللہ تعالیٰ کی طر ف سے سخت وعید ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے فرمان ہے «وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاق بالَّذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ» ۱؎ [13-الرعد:32] ’ تجھ سے پہلے کے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ ‘
کہنے لگے: وہ تو کہئے کہ ہم جمے رہے ورنہ اس رسول نے ہمیں بہکانے میں کوئی کمی نہ رکھی تھی۔ اچھا عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ہدایت پر یہ کہاں تک تھے؟ عذابوں کو دیکھتے ہی آنکھیں کھل جائیں گی۔
اصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے خواہش پرستی شروع کر رکھی ہے۔ نفس و شیطان جس چیز کو اچھا ظاہر کرتا ہے، یہ بھی اسے اچھی سمجھنے لگتے ہیں۔ بھلا ان کا ذمہ دار تو کیسے ٹھہر سکتا ہے؟
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ جاہلیت میں عرب کی یہ حالت تھی کہ جہاں کسی سفید گول مول پتھر کو دیکھا، اس کے سامنے جھکنے اور سجدے کرنے لگے۔ اس سے اچھا کوئی نظر پڑ گیا تو اس کے سامنے جھک گئے۔ اور اول کو چھوڑ دیا۔
پھر فرماتا ہے: یہ تو چوپایوں سے بھی بدتر ہیں۔ نہ ان کے کان ہیں، نہ دل ہیں۔ چوپائے تو خیر قدرتاً آزاد ہیں لیکن یہ جو عبادت کے لیے پیدا کیے گئے تھے، یہ ان سے بھی زیادہ بہک گئے بلکہ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے۔ اور قیام حجت کے بعد، رسولوں کے پہنچ چکنے کے بعد بھی اللہ کی طرف نہیں جھکتے۔ اس کی توحید اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو نہیں مانتے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا قالوا: {إن كاد لَيُضِلُّنا عن آلهتنا} [هذا الرجل]: بأن يجعل الآلهة إلهاً واحداً، {لولا أن صَبَرْنا عليها}: لأضلَّنا. زعموا قبَّحهم الله أنَّ الضَّلال هو التوحيد، وأنَّ الهُدى ما هم عليه من الشرك؛ فلهذا تواصَوْا بالصبر عليه، {وانَطَلَقَ الملأُ منهم أنِ امْشوا واصبِروا على آلهتكم}، وهنا قالوا: {لولا أن صَبَرْنا عليها}: والصبر يُحمد في المواضع كلِّها؛ إلاَّ في هذا الموضع؛ فإنه صبرٌ على أسباب الغضب، وعلى الاستكثار من حطب جهنَّم، وأما المؤمنون؛ فهم كما قال الله عنهم: {وتواصَوْا بالحقِّ وتواصَوْا بالصبرِ}، ولما كان هذا حكماً منهم بأنَّهم المهتدون والرسول ضالٌّ، وقد تقرَّر أنَّهم لا حيلة فيهم توعَّدهم بالعذاب، وأخبر أنهم في ذلك الوقت، {حين يَرَوْنَ العذاب}: يعلمون علماً حقيقيًّا، {مَنْ} هو {أضَلُّ سبيلاً}. {ويوم يَعَضُّ الظالم على يديهِ يقولُ يا ليتني اتَّخَذْتُ مع الرسول سبيلاً ... } الآيات.