تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اَهٰذَا الَّذِيْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا: ” هٰذَا “} کا اشارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیر کے لیے ہے، یعنی کیا یہی وہ شخص ہے جسے اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ رسول ہو کیسے گیا، جب کہ یہ ہمارے جیسا بشر ہے، جیسا کہ ایک جگہ ان کا قول ہے: «{ اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا }» [بني إسرائیل: ۹۴] ”کیا اللہ نے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیج دیا ہے۔“ پھر دیکھو اگر رسالت کسی بشر کو ملنا ہی تھی تو مکہ اور طائف کے کسی سردار کو ملتی۔ یہ نہ بادشاہ نہ سرمایہ دار، اسے کیسے مل گئی! ان کا قول نقل کرتے ہوئے فرمایا: «{ وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيْمٍ }» [الزخرف: ۳۱] ”اور انھوں نے کہا یہ قرآن ان دو بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا؟“ شیخ عبد الرحمن السعدی نے فرمایا: ”ان کی یہ بات ایسا شخص ہی کر سکتا ہے جو سب سے بڑھ کر جاہل اور گمراہ ہو اور سخت عناد اور دشمنی رکھتا ہو۔ اس کا مقصد اپنے باطل کی ترویج ہو۔“ دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ يَّتَّخِذُوْنَكَ۠ اِلَّا هُزُوًا اَهٰذَا الَّذِيْ يَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ }» [الأنبیاء: ۳۶] ”اور جب تجھے وہ لوگ دیکھتے ہیں جنھوں نے کفر کیا تو تجھے مذاق ہی بناتے ہیں، کیا یہی ہے جو تمھارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے، اور وہ خود رحمان کے ذکر ہی سے منکر ہیں۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے فرمان ہے «وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاق بالَّذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ» ۱؎ [13-الرعد:32] ’ تجھ سے پہلے کے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ ‘
کہنے لگے: وہ تو کہئے کہ ہم جمے رہے ورنہ اس رسول نے ہمیں بہکانے میں کوئی کمی نہ رکھی تھی۔ اچھا عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ہدایت پر یہ کہاں تک تھے؟ عذابوں کو دیکھتے ہی آنکھیں کھل جائیں گی۔
اصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے خواہش پرستی شروع کر رکھی ہے۔ نفس و شیطان جس چیز کو اچھا ظاہر کرتا ہے، یہ بھی اسے اچھی سمجھنے لگتے ہیں۔ بھلا ان کا ذمہ دار تو کیسے ٹھہر سکتا ہے؟
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ جاہلیت میں عرب کی یہ حالت تھی کہ جہاں کسی سفید گول مول پتھر کو دیکھا، اس کے سامنے جھکنے اور سجدے کرنے لگے۔ اس سے اچھا کوئی نظر پڑ گیا تو اس کے سامنے جھک گئے۔ اور اول کو چھوڑ دیا۔
پھر فرماتا ہے: یہ تو چوپایوں سے بھی بدتر ہیں۔ نہ ان کے کان ہیں، نہ دل ہیں۔ چوپائے تو خیر قدرتاً آزاد ہیں لیکن یہ جو عبادت کے لیے پیدا کیے گئے تھے، یہ ان سے بھی زیادہ بہک گئے بلکہ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے۔ اور قیام حجت کے بعد، رسولوں کے پہنچ چکنے کے بعد بھی اللہ کی طرف نہیں جھکتے۔ اس کی توحید اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو نہیں مانتے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {وإذا رَأوْك}: يا محمد؛ هؤلاء المكذِّبون لك، المعاندون لآيات الله، المستكبرون في الأرض؛ استهزؤوا بك، واحتقروك، وقالوا على وجه الاحتقار والاستصغار: {أهذا الذي بَعَثَ الله رسولاً}؛ أي: غير مناسب ولا لائق أن يَبْعَثَ الله هذا الرجل! وهذه من شدَّة ظلمِهِم وعنادِهِم وقلبهم الحقائق؛ فإنَّ كلامَهم هذا يُفْهِمُ أنَّ الرسولَ ـ حاشاه ـ في غاية الخِسَّة والحقارة، وأنَّه لو كانتِ الرسالةُ لغيره؛ لكان أنسب. {وقالوا لولا نُزِّلَ هذا القرآنُ على رجل من القريتينِ عظيم}؛ فهذا الكلام لا يصدُرُ إلاَّ من أجهل الناس وأضلِّهم، أو من أعظمهم عناداً، وهو متجاهلٌ، قصدُه ترويج ما معه من الباطل بالقدح بالحقِّ وبمن جاء به، وإلاَّ؛ فمنْ تدبَّر أحوال محمد بن عبد الله - صلى الله عليه وسلم -؛ وَجَدَه رجل العالم وهمامهم ومقدَّمهم في العقل والعلم واللُّبِّ والرَّزانة ومكارم الأخلاق ومحاسن الشيم والعفة والشجاعة والكرم وكلِّ خُلُق فاضل. وأنَّ المحتقرَ له والشانئ له قد جمع من السَّفَه والجهل والضلال والتَّناقُض والظُّلم والعدوان ما لا يجمعُه غيره. وحسبه جهلاً وضلالاً أن يَقْدَحَ بهذا الرسول العظيم والهُمام الكريم، والقصد من قدحِهِم فيه واستهزائِهِم به؛ تصلُّبهم على باطلهم وغُروراً لِضُعَفَاءِ العقول.