ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفرقان (25) — آیت 41

وَ اِذَا رَاَوۡکَ اِنۡ یَّتَّخِذُوۡنَکَ اِلَّا ہُزُوًا ؕ اَہٰذَا الَّذِیۡ بَعَثَ اللّٰہُ رَسُوۡلًا ﴿۴۱﴾
اور جب وہ تجھے دیکھتے ہیں تو تجھے نہیں بناتے مگر مذاق ، کیا یہی ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے؟ En
اور یہ لوگ جب تم کو دیکھتے ہیں تو تمہاری ہنسی اُڑاتے ہیں۔ کہ کیا یہی شخص ہے جس کو خدا نے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے
En
اور تمہیں جب کبھی دیکھتے ہیں تو تم سے مسخرا پن کرنے لگتے ہیں۔ کہ کیا یہی وه شخص ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر بھیجا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 41) ➊ { وَ اِذَا رَاَوْكَ اِنْ يَّتَّخِذُوْنَكَ۠ اِلَّا هُزُوًا:} مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا جس طرح شدت کے ساتھ انکار کرتے اور آپ کی نبوت اور قرآن پر متعدد اعتراضات کرتے رہتے تھے، اس کے ذکر کے بعد ان کی ایک خاص ایذا کا ذکر فرمایا کہ وہ جب تجھے دیکھتے ہیں تو اپنے مذاق کا نشانہ بنا لیتے ہیں۔
➋ { اَهٰذَا الَّذِيْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا: هٰذَا } کا اشارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیر کے لیے ہے، یعنی کیا یہی وہ شخص ہے جسے اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ رسول ہو کیسے گیا، جب کہ یہ ہمارے جیسا بشر ہے، جیسا کہ ایک جگہ ان کا قول ہے: «{ اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا [بني إسرائیل: ۹۴] کیا اللہ نے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیج دیا ہے۔ پھر دیکھو اگر رسالت کسی بشر کو ملنا ہی تھی تو مکہ اور طائف کے کسی سردار کو ملتی۔ یہ نہ بادشاہ نہ سرمایہ دار، اسے کیسے مل گئی! ان کا قول نقل کرتے ہوئے فرمایا: «{ وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيْمٍ [الزخرف: ۳۱] اور انھوں نے کہا یہ قرآن ان دو بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا؟ شیخ عبد الرحمن السعدی نے فرمایا: ان کی یہ بات ایسا شخص ہی کر سکتا ہے جو سب سے بڑھ کر جاہل اور گمراہ ہو اور سخت عناد اور دشمنی رکھتا ہو۔ اس کا مقصد اپنے باطل کی ترویج ہو۔ دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ يَّتَّخِذُوْنَكَ۠ اِلَّا هُزُوًا اَهٰذَا الَّذِيْ يَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ [الأنبیاء: ۳۶] اور جب تجھے وہ لوگ دیکھتے ہیں جنھوں نے کفر کیا تو تجھے مذاق ہی بناتے ہیں، کیا یہی ہے جو تمھارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے، اور وہ خود رحمان کے ذکر ہی سے منکر ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

41-1دوسرے مقام پر اس طرح فرمایا (اَھٰذَا الَّذِيْ يَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ) 21۔ الانبیاء:36) کیا یہ وہ شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے؟ یعنی ان کی بابت کہتا ہے کہ وہ کچھ اختیار نہیں رکھتے۔ اس حقیقت کا اظہار ہی مشرکین کے نزدیک ان کے معبودوں کی توہین تھی۔ جیسے آج بھی قبر پرستوں کو کہا جائے کہ قبروں میں مدفون بزرگ کائنات میں تصرف کرنے کا اختیار نہیں رکھتے تو کہتے ہیں کہ یہ اولیاء اللہ کی شان میں گستاخی کر رہے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

41۔ اور جب یہ لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ سے مذاق سے سوا انھیں کچھ سوجھتا ہی نہیں (کہتے ہیں) کیا یہی وہ شخص ہے [53] جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے؟
[53] یہ کفار مکہ کیسے ہدایت حاصل کر سکتے ہیں جبکہ ان کا محبوب مشغلہ ہی یہ ہے کہ وہ آپ کو دیکھتے ہیں تو ایک دوسرے کو کہتے ہیں۔ اجی یہ ہیں وہ صاحب جو اپنے آپ کو اللہ کا رسول ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ کیا یہی شخص اللہ تعالیٰ کو اپنی ساری مخلوق میں سے رسالت کے لئے پسند آیا تھا؟ اس کی حیثیت کو دیکھو اور اس کے بلند بانگ دعویٰ کو دیکھو۔ کیا ہم اتنے ہی عقل کے اندھے ہیں کہ اس کے اس دعویٰ کو درست تسلیم کر لیں؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

انبیاء کا مذاق ٭٭
کافر لوگ اللہ کے برتر و بہتر پیغمبر احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر ہنسی مذاق اڑاتے تھے، عیب جوئی کرتے تھے اور آپ میں نقصان بتاتے تھے۔ یہی حالت ہر زمانے کے کفار کی اپنے نبیوں کے ساتھ رہی۔
جیسے فرمان ہے «وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاق بالَّذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ» ۱؎ [13-الرعد:32]‏‏‏‏ ’ تجھ سے پہلے کے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ ‘
کہنے لگے: وہ تو کہئے کہ ہم جمے رہے ورنہ اس رسول نے ہمیں بہکانے میں کوئی کمی نہ رکھی تھی۔ اچھا عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ہدایت پر یہ کہاں تک تھے؟ عذابوں کو دیکھتے ہی آنکھیں کھل جائیں گی۔
اصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے خواہش پرستی شروع کر رکھی ہے۔ نفس و شیطان جس چیز کو اچھا ظاہر کرتا ہے، یہ بھی اسے اچھی سمجھنے لگتے ہیں۔ بھلا ان کا ذمہ دار تو کیسے ٹھہر سکتا ہے؟
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ جاہلیت میں عرب کی یہ حالت تھی کہ جہاں کسی سفید گول مول پتھر کو دیکھا، اس کے سامنے جھکنے اور سجدے کرنے لگے۔ اس سے اچھا کوئی نظر پڑ گیا تو اس کے سامنے جھک گئے۔ اور اول کو چھوڑ دیا۔
پھر فرماتا ہے: یہ تو چوپایوں سے بھی بدتر ہیں۔ نہ ان کے کان ہیں، نہ دل ہیں۔ چوپائے تو خیر قدرتاً آزاد ہیں لیکن یہ جو عبادت کے لیے پیدا کیے گئے تھے، یہ ان سے بھی زیادہ بہک گئے بلکہ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے۔ اور قیام حجت کے بعد، رسولوں کے پہنچ چکنے کے بعد بھی اللہ کی طرف نہیں جھکتے۔ اس کی توحید اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو نہیں مانتے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی تکذیب کرنے والے، اللہ تعالیٰ کی آیات سے عناد رکھنے والے اور زمین پر تکبر سے چلنے والے جب آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ سے استہزاء کرتے ہیں اور آپ کی تحقیر کرتے ہیں، آپ کو معمولی سمجھتے ہوئے حقارت آمیز لہجے میں کہتے ہیں: ﴿ اَهٰؔذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا کیا یہی وہ شخص ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے؟ یعنی یہ مناسب اور لائق نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسول بناتا۔ یہ سب کچھ ان کے شدت ظلم، ان کے عناد اور حقائق بدلنے کے سبب تھا کیونکہ ان کے اس کلام سے یہ ذہن میں آتا ہے کہ (معاذ اللہ) رسول صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی خسیس اور حقیر شخص تھے اور اگر رسالت کا منصب کسی اور شخص کو عطا کیا گیا ہوتا تو زیادہ مناسب تھا۔ ﴿ وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ هٰؔذَا الْ٘قُ٘رْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْ٘قَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ (الزخرف:43؍31) وہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن دونوں شہروں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ اتارا گیا۔ پس یہ کلام کسی جاہل ترین اور گمراہ ترین شخص ہی سے صادر ہو سکتا ہے یا کسی ایسے شخص سے صادر ہو سکتا ہے جو بڑا عناد پسند اور جانتے بوجھتے جاہل ہو۔ اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ اپنے نظریات کو رائج کرے اور حق اور حق پیش کرنے والے میں جرح و قدح کرے، ورنہ اگر کوئی شخص، رسول مصطفیٰ محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال پر غور کرے تو وہ آپ کو عقل، علم، ذہانت، وقار، مکارم اخلاق، محاسن عادات، عفت، شجاعت اور تمام اخلاق فاضلہ میں دنیا کا سب سے بڑا شخص، ان کا سردار اور ان کا قائد پائے گا۔ آپ کو حقیر جاننے اور آپ کے ساتھ دشمنی رکھنے والے شخص میں حماقت، جہالت، گمراہی، تناقض، ظلم اور تعدی جمع ہیں جو کسی اور شخص میں جمع نہیں۔ اس کی جہالت اور گمراہی کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس عظیم رسول اور بہترین قائد میں جرح و قدح کرتا ہے۔ اس جرح و قدح سے اس کا مقصد آپ کا تمسخر اڑانا، اپنے باطل نظریات پر ڈٹے رہنا اور ضعیف العقل لوگوں کو فریب دینا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {وإذا رَأوْك}: يا محمد؛ هؤلاء المكذِّبون لك، المعاندون لآيات الله، المستكبرون في الأرض؛ استهزؤوا بك، واحتقروك، وقالوا على وجه الاحتقار والاستصغار: {أهذا الذي بَعَثَ الله رسولاً}؛ أي: غير مناسب ولا لائق أن يَبْعَثَ الله هذا الرجل! وهذه من شدَّة ظلمِهِم وعنادِهِم وقلبهم الحقائق؛ فإنَّ كلامَهم هذا يُفْهِمُ أنَّ الرسولَ ـ حاشاه ـ في غاية الخِسَّة والحقارة، وأنَّه لو كانتِ الرسالةُ لغيره؛ لكان أنسب. {وقالوا لولا نُزِّلَ هذا القرآنُ على رجل من القريتينِ عظيم}؛ فهذا الكلام لا يصدُرُ إلاَّ من أجهل الناس وأضلِّهم، أو من أعظمهم عناداً، وهو متجاهلٌ، قصدُه ترويج ما معه من الباطل بالقدح بالحقِّ وبمن جاء به، وإلاَّ؛ فمنْ تدبَّر أحوال محمد بن عبد الله - صلى الله عليه وسلم -؛ وَجَدَه رجل العالم وهمامهم ومقدَّمهم في العقل والعلم واللُّبِّ والرَّزانة ومكارم الأخلاق ومحاسن الشيم والعفة والشجاعة والكرم وكلِّ خُلُق فاضل. وأنَّ المحتقرَ له والشانئ له قد جمع من السَّفَه والجهل والضلال والتَّناقُض والظُّلم والعدوان ما لا يجمعُه غيره. وحسبه جهلاً وضلالاً أن يَقْدَحَ بهذا الرسول العظيم والهُمام الكريم، والقصد من قدحِهِم فيه واستهزائِهِم به؛ تصلُّبهم على باطلهم وغُروراً لِضُعَفَاءِ العقول.