تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(4) معبود برحق ہونے کا ایک معیار یہ ہے کہ وہ ہستی کسی زندہ کو مار سکتی ہو اور مردہ کو زندہ کر سکتی ہو اور زندہ کرکے قبروں سے اٹھا سکتی ہو، اللہ کی یہ شان ہے کہ وہ ہر وقت زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ چیزیں پیدا کر رہا ہے، قیامت کو وہ سب کو زندہ کرکے سامنے لا کھڑا کرے گا، دوسری کسی ہستی کے اختیار میں کسی کو زندہ کرنا ہے نہ مارنا اور نہ قیامت برپا کرنا۔ اس مقام پر معبود برحق ہونے کے یہ معیار بیان ہوئے ہیں، جب کہ دوسرے مقامات پر اور بھی کئی معیار مذکور ہیں، مثلاً جو خود محتاج ہو وہ الٰہ نہیں ہو سکتا، جو بے جان ہو وہ الٰہ نہیں ہو سکتا، جو کھانا کھاتا ہو وہ الٰہ نہیں ہو سکتا، جسے نیند یا موت آتی ہے وہ الٰہ نہیں ہو سکتا، جو ہر چیز کا علم نہ رکھتا ہو وہ الٰہ نہیں ہو سکتا، جو نہ سن سکتا ہو، نہ دیکھ سکتا ہو، نہ بول سکتا ہو، نہ جواب دے سکتا ہو وہ الٰہ نہیں ہو سکتا وغیرہ۔ (تیسیر القرآن کیلانی بتصرف)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
(1) جو ہستی کوئی چیز پیدا نہ کر سکے یا کسی بھی چیز کی خالق نہ ہو۔ وہ معبود نہیں ہو سکتی۔
(2) جو چیز خود پیدا شدہ ہو یا مخلوق ہو وہ الٰہ نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ جو چیز پیدا ہوئی ہے وہ فنا بھی ضرور ہو گی۔ اور فنا ہونے والی چیز الٰہ نہیں ہو سکتی۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ مشرکوں کے معبود خواہ وہ بت ہوں جنہیں انہوں نے خود ہی گھڑ رکھا ہے یا فرشتے ہوں یا کوئی اور چیز مثلاً: سورج، چاند، تارے، شجر، حجر ہوں۔ یہ سب چیزیں اللہ کی مخلوق ہیں۔ لہٰذا ان میں کوئی چیز بھی الوہیت کے معیار پر پوری نہیں اترتی۔
(3) جو ہستی کسی دوسرے کو فائدہ یا نقصان نہ پہنچا سکتی ہو بالفاظ دیگر وہ حاجت روا یا مشکل کشا نہ ہو وہ الٰہ نہیں ہو سکتی۔ یہی وہ صفات ہیں جنہیں مشرکین اللہ کے سوا بعض دوسری ہستیوں میں(خواہ وہ جاندار ہو یا بے جان، زندہ ہوں یا مر چکی ہوں) تسلیم کرتے ہیں اور شرک کی یہی قسم سب سے زیادہ عام ہے۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ:
(4)
(5) الوہیت کا پانچواں معیار یہ ہے کہ وہ ہستی کسی زندہ چیز کو مار بھی سکتی ہو اور مردہ چیز کو زندہ بھی کر سکتی ہو۔ اللہ کی یہ شان ہے کہ وہ ہر وقت زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ چیزیں پیدا کر رہا ہے۔ اور دوسرے معبودوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے چیلنج کے طور پر فرمایا کہ وہ ایک حقیر سی مخلوق مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے جبکہ ان کی عاجزی کا یہ عالم ہے کہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ سب مل کر اس سے اپنے سلب شدہ چیز چھڑا بھی نہیں سکتے اور مردوں کو زندہ کر کے اٹھا کھڑا کرنا تو اور بھی بڑی بات ہے۔ اس مقام پر الوہیت کے یہی معیار بیان کئے گئے ہیں جبکہ بعض دوسرے مقامات پر اور بھی کئی معیار مذکور ہیں: مثلاً جو خود محتاج ہو وہ الٰہ نہیں ہو سکتا۔ جو بے جان ہوں الٰہ نہیں ہو سکتا، جو کھانا کھاتا ہو وہ الٰہ نہیں ہو سکتا، جو نہ سن سکتا ہو نہ دیکھ سکتا ہو یا جواب نہ دے سکتا ہو وہ الٰہ نہیں ہو سکتا۔ وغیرہ وغیرہ
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بات یہی ہے کہ ان تمام کاموں کا مالک اللہ ہی ہے، وہی جلاتا اور مارتا ہے، وہی اپنی تمام مخلوق کو قیامت کے دن نئے سرے سے پیدا کرے گا۔ اس پر یہ کام مشکل نہیں، ایک کا پیدا کرنا اور سب کو پیدا کرنا، ایک کو موت کے بعد زندہ کرنا اور سب کو کرنا، اس پر یکساں اور برابر ہے۔
ایک آنکھ جھپکانے میں اس کا پورا ہو جاتا ہے۔ صرف ایک آواز کے ساتھ تمام مری ہوئی مخلوق زندہ ہو کر اس کے سامنے ایک چٹیل میدان میں کھڑی ہو جائے گی۔
اور آیت میں فرمایا ہے صرف ایک دفعہ کی ایک آواز ہو گی کہ ساری مخلوق ہمارے سامنے حاضر ہو جائے گی، وہی معبود برحق ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی رب ہے، نہ لائق عبادت ہے۔
اس کا چاہا ہوتا ہے، اس کے چاہے بغیر کچھ بھی نہیں ہوتا۔ وہ ماں باپ سے، لڑکی لڑکوں سے، عدیل و بدیل سے، وزیر و نظیر سے، شریک وسہیم سب سے پاک ہے۔ وہ «أَحَدٌ» ہے، «الصَّمَدُ» ہے، «لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ» ہے، اس کا کفو کوئی نہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: من أعجب العجائب وأدلِّ الدليل على سَفَههم ونقص عقولهم، بل أدلُّ على ظلمهم وجراءتهم على ربِّهم: أنِ اتَّخَذوا آلهةً بهذه الصفة، في غاية العجز أنَّها لا تَقْدِرُ على خلق شيء، بل هم مخلوقون، بل بعضهم مما عملته أيديهم، {ولا يملِكون لأنفُسِهِم ضرًّا ولا نفعاً}؛ أي: لا قليلاً ولا كثيراً؛ لأنه نكرةٌ في سياق النفي. {ولا يملِكون موتاً ولا حياةً ولا نشوراً}؛ أي: بعثاً بعد الموت.
فأعظمُ أحكام العقل بطلانُ إلهيتها وفسادُها وفسادُ عقل من اتّخذها آلهةً وشركاءَ للخالق لسائرِ المخلوقات من غير مشاركةٍ له في ذلك، الذي بيده النفع والضرُّ والعطاء والمنع، الذي يُحيي ويميتُ ويبعثُ مَنْ في القبور ويجمعُهُم يومَ النشور، وقد جَعَلَ لهم دارين: دار الشقاءِ والخزي والنَّكال لمن اتَّخذ معه آلهةً أخرى، ودار الفوز والسعادة والنعيم المقيم لمن اتَّخذه وحدَه معبوداً.
ولما قرَّر بالدليل القاطع الواضح صحَّة التوحيد وبطلان ضدِّه؛ قرَّر صحَّة الرسالة وبطلان قول من عارَضَها واعترضَها، فقال: