تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا:} یہ دوسری صفت ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل کی آخری آیت کی تفسیر۔ اس میں یہود و نصاریٰ کا ردّ ہے اور ان جھوٹے مسلمانوں کا بھی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یا علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنھم کو، یا کسی اور کو اللہ کے نور کا ٹکڑا مانتے ہیں۔
➌ { وَ لَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ:} یہ تیسری صفت ہے۔ {” لَمْ يَكُنْ “} میں نفی کا استمرار ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”اور نہ کبھی بادشاہی میں کوئی اس کا شریک رہا ہے۔“ اس میں ہر قسم کے مشرکین کا ردّ ہے، جیسے بت پرست، قبر پرست، دو خدا ماننے والے اور شرک خفی کا ارتکاب کرنے والے وغیرہ۔
➍ { وَ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِيْرًا:} یہ چوتھی صفت ہے کہ ہر چیز اسی نے پیدا کی، پھر اس کے لیے ایک خاص اندازہ مقرر فرما دیا، جس کی بدولت اس سے وہی افعال و اثرات صادر ہوتے ہیں جن کے لیے وہ پیدا کی گئی ہے اور اسے وہی صورت، جسامت اور صلاحیتیں عطا کیں جو اس کی ضرورت کے مطابق ہیں، مثلاً انسان کو فہم و ادراک، غور و فکر، صنعت و حرفت اور مفید کام بجا لانے کی صلاحیت بخشی، اسی طرح ہر حیوان اور پودے اور جماد کو اس مصلحت کے مطابق بنایا جو اس سے مطلوب تھی۔ جب اللہ کے سوا کسی نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا تو کسی اور کی عبادت کیوں؟ دیکھیے سورۂ انعام (۱۰۲)، رعد (۱۶)، فاطر (۳)، زمر (۶۲)، مؤمن (۶۲)، حج (۷۳)، نحل (۲۰) اور اعراف (۱۹۱)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سورۃ الکہف کے شروع میں بھی اپنی حمد اسی اندازے سے بیان کی ہے، یہاں اپنی ذات کا بابرکت ہونا بیان فرمایا اور یہی وصف بیان کیا۔ یہاں لفظ «نَزَّلَ» فرمایا جس سے بار بار بکثرت اترنا ثابت ہوتا ہے۔
جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنزَلَ مِن قَبْلُ» ۱؎ [4-النساء:136] پس پہلی کتابوں کو لفظ «أَنزَلَ» سے اور اس آخر کتاب کو لفظ «نَزَّلَ» سے تعبیر فرمانا۔ اسی لیے ہے کہ پہلی کتابیں ایک ساتھ اترتی رہیں اور قرآن کریم تھوڑا تھوڑا کر کے حسب ضرورت اترتا رہا۔ کبھی کچھ آیتیں، کبھی کچھ سورتیں، کبھی کچھ احکام۔ اس میں ایک بڑی حکمت یہ بھی تھی کہ لوگوں کو اس پر عمل مشکل نہ ہو اور خوب یاد ہو جائے اور مان لینے کے لیے دل کھل جائے۔
جیسے کہ اسی سورت میں فرمایا ہے کہ کافروں کا ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ قرآن کریم اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ساتھ کیوں نہ اترا؟ جواب دیا گیا ہے کہ اس طرح اس لیے اترا کہ اس کے ساتھ تیری دل جمعی رہے اور ہم نے ٹھہرا ٹھہرا کر نازل فرمایا۔ یہ جو بھی بات بنائیں گے ہم اس کا صحیح اور جچاتلا جواب دیں جو خوب تفصیل والا ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اس آیت میں اس کا نام فرقان رکھا۔ اس لیے کہ یہ حق و باطل میں، ہدایت و گمراہی میں فرق کرنے والا ہے۔ اس سے بھلائی برائی میں، حلال حرام میں تمیز ہوتی ہے۔
قرآن کریم کی یہ پاک صفت بیان فرما کر، جس پر قرآن اترا ان کی ایک پاک صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ خاص اس کی عبادت میں لگے رہنے والے ہیں، اس کے مخلص بندے ہیں۔ یہ وصف سب سے اعلیٰ وصف ہے۔
اسی لیے بڑی بڑی نعمتوں کے بیان کے موقعہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی وصف بیان فرمایا گیا ہے۔ جیسے معراج کے موقعہ پر فرمایا «سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ» ۱؎ [17-الإسراء:1]
اور جیسے اپنی خاص عبادت نماز کے موقعہ پر فرمایا «وَّاَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ كَادُوْا يَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِ لِبَدًا» ۱؎ [72-الجن:19] ’ اور جب بندہ اللہ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی عبادت کرنے کھڑے ہوتے ہیں ‘ یہی وصف قرآن کریم کے اترنے اور آپ کے پاس بزرگ فرشتے کے آنے کے اکرام کے بیان کرنے کے موقعہ پر بیان فرمایا۔
آپ اس کی تبلیغ دنیا بھر میں کر دیں، ہر سرخ و سفید کو، ہر دور و نزدیک والے کو اللہ کے عذابوں سے ڈرا دیں، جو بھی آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر ہے اس کی طرف آپ کی رسالت ہے۔
جیسے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: { میں تمام سرخ و سفید انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:521] اور فرمان ہے: { مجھے پانچ باتیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی تھیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہر نبی اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا رہا لیکن میں تمام دنیا کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:335]
خود قرآن میں ہے «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ» ۱؎ [7-الأعراف:158] ’ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اعلان کر دو کہ اے دنیا کے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا پیغمبر ہوں۔ ‘
پھر فرمایا مجھے رسول بنا کر بھیجنے والا، مجھ پر یہ پاک کتاب اتارنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان و زمین کا تنہا مالک ہے، جو جس کام کو کرنا چاہے اسے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتا ہے۔ وہی مارتا اور جلاتا ہے، اس کی کوئی اولاد نہیں، نہ اس کا کوئی شریک ہے۔ ہر چیز اس کی مخلوق اور اس کی زیر پرورش ہے۔ سب کا خالق، مالک، رازق، معبود اور رب وہی ہے۔ ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے والا اور تدبیر کرنے والا وہی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{الذي له مُلْكُ السمواتِ والأرضِ}؛ أي: له التصرُّف فيهما وحدَه، وجميع مَنْ فيهما مماليكُ وعبيدٌ له مذعِنون لعظمتِهِ خاضعون لربوبيَّتِهِ فقراءُ إلى رحمته، الذي {لم يَتَّخِذْ ولداً ولم يكن له شريكٌ في الملكِ}: وكيف يكونُ له ولدٌ أو شريكٌ؛ وهو المالكُ وغيرُه مملوكٌ، وهو القاهرُ وغيرُه مقهورٌ، وهو الغنيُّ بذاتِهِ من جميع الوجوه والمخلوقونَ مفتَقِرون إليه [فقراً ذاتياً] من جميع الوجوه؟! وكيف يكونُ له شريكٌ في الملك ونواصي العبادِ كلِّهم بيديهِ؛ فلا يتحرَّكون أو يسكُنون ولا يتصرَّفون إلاَّ بإذنِهِ؛ فتعالى الله عن ذلك علوًّا قديراً؛ فلم يَقْدِرْهُ حقَّ قَدْرِهِ مَنْ قال فيه ذلك، ولهذا قال: {وخَلَقَ كلَّ شيءٍ}: شمل العالم العلويَّ والعالم السفليَّ من حيواناتِهِ ونباتاتِهِ وجماداتِهِ، {فقدَّره تقديراً}؛ أي: أعطى كلَّ مخلوقٍ منها ما يَليقُ به ويناسبُه من الخلقِ وما تقتضيه حكمتُه من ذلك؛ بحيث صار كلُّ مخلوقٍ لا يَتَصَوَّرُ العقلُ الصحيحُ أن يكونَ بخلاف شكلِهِ وصورتِهِ المشاهَدَة، بل كلُّ جزءٍ وعضوٍ من المخلوق الواحد لا يناسبُه غير محلِّه الذي هو فيه؛ قال تعالى: {سبِّحِ اسمَ ربِّك الأعلى الذي خَلَقَ فسَوَّى. والذي قَدَّرَ فَهَدى}، وقال تعالى: {ربُّنا الذي أعطى كُلَّ شَيءٍ خَلْقَه ثم هَدى}.
ولما بيَّن كمالَه وعظمتَه وكثرةَ إحسانِهِ؛ كان ذلك مقتضياً لأن يكونَ وحدَه المحبوبَ المألوه المعظَّم المفردَ بالإخلاص وحدَه لا شريك له؛ ناسبَ أن يذكُرَ بطلانَ عبادةِ ما سواه، فقال: