ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفرقان (25) — آیت 20

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَکَ مِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ اِلَّاۤ اِنَّہُمۡ لَیَاۡکُلُوۡنَ الطَّعَامَ وَ یَمۡشُوۡنَ فِی الۡاَسۡوَاقِ ؕ وَ جَعَلۡنَا بَعۡضَکُمۡ لِبَعۡضٍ فِتۡنَۃً ؕ اَتَصۡبِرُوۡنَ ۚ وَ کَانَ رَبُّکَ بَصِیۡرًا ﴿٪۲۰﴾
اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجے مگر بلاشبہ وہ یقینا کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے اور ہم نے تمھارے بعض کو بعض کے لیے ایک آزمائش بنایا ہے۔ کیا تم صبر کرو گے؟ اور تیرا رب ہمیشہ سے سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ En
اور ہم نے تم سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے ہیں سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ اور ہم نے تمہیں ایک دوسرے کے لئے آزمائش بنایا ہے۔ کیا تم صبر کرو گے۔ اور تمہارا پروردگار تو دیکھنے والا ہے
En
ہم نے آپ سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب کے سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے اور ہم نے تم میں سے ہر ایک کو دوسرے کی آزمائش کا ذریعہ بنا دیا۔ کیا تم صبر کرو گے؟ تیرا رب سب کچھ دیکھنے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 20) ➊ { وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ …:} یہ اس اعتراض کا جواب ہے کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھاتا پیتا ہے اور بازاروںمیں چلتا پھرتا ہے؟ فرمایا، پہلے تمام رسول بھی کھاتے پیتے تھے اور روزی کمانے کے لیے اور ضرورت کی چیزیں خریدنے کے لیے بازاروں میں جاتے تھے، بشر تھے فرشتے نہ تھے۔ (دیکھیے یوسف: ۱۰۹۔ انبیاء: ۷، ۸) اگر کھانے پینے اور بازاروں میں چلنے پھرنے کے باوجود تم انھیں رسول مانتے ہو، جیسا کہ تم ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام کی اولاد ہونے اور ان کی ملت ہونے پر فخر کرتے ہو، نوح، موسیٰ اور عیسیٰ علیھم السلام کو پیغمبر مانتے ہو، تو اس رسول پر ایمان کیوں نہیں لاتے؟
➋ { وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً اَتَصْبِرُوْنَ:} یہ اس سوال کا جواب ہے کہ پیغمبر کو سونے چاندی کے خزانے اور باغات و محلات کیوں عطا نہیں کیے گئے؟ فرمایا: ہم نے تمھارے بعض کو بعض کے لیے آزمائش بنایا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عموماً انبیاء کو دنیاوی لحاظ سے معمولی حالت میں رکھتا ہے، ورنہ اگر وہ انھیں دنیا کثرت کے ساتھ دیتا تو بہت سے لوگ مال کے لالچ میں ان کے ساتھ ہو جاتے، سچے جھوٹے مل جل جاتے اور امتحان کا مقصد فوت ہو جاتا۔ عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: [إِنَّمَا بَعَثْتُكَ لِأَبْتَلِيَكَ وَ أَبْتَلِيَ بِكَ وَ أَنْزَلْتُ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ تَقْرَأُهُ نَائِمًا وَ يَقْظَانَ] [مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمھا و أھلھا، باب الصفات التي یعرف بہا …: ۲۸۶۵] میں نے تجھے صرف اس لیے بھیجا ہے کہ تیری آزمائش کروں اور تیرے ساتھ (لوگوں کی) آزمائش کروں اور میں نے تجھ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جسے پانی نہیں دھو سکتا، تو اسے سوتے جاگتے پڑھے گا۔
الغرض! اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کو ان کے مختلف حالات کی وجہ سے ایک دوسرے کے لیے آزمائش بنایا ہے، چنانچہ رسول اور اہل ایمان منکرین کے لیے آزمائش ہیں اور منکرین کے لیے رسول اور اہل ایمان آزمائش ہیں۔ غنی فقیر کے لیے آزمائش ہیں، تندرست بیمار کے لیے آزمائش ہیں کہ وہ اپنے سے برتر کو دیکھ کر اپنی حالت پر صبر کرتے ہیں یا نہیں۔ فقیر اور بیمار غنی اور تندرست کے لیے آزمائش ہیں کہ وہ اپنے سے کم تر کو دیکھ کر شکر کرتے ہیں یا نہیں۔ حقیقت ہے کہ شکر کی بنیاد بھی صبر ہے، جو اپنی حالت پر صابر نہیں وہ کبھی شاکر نہیں ہو سکتا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا: «{ اَتَصْبِرُوْنَ کیا تم صبر کرتے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ صبر کرو۔
➌ { وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِيْرًا:} اس کے دو معنی ہیں اور دونوں ہی یہاں مناسبت رکھتے ہیں، ایک یہ کہ تمھارا رب جو کچھ کر رہا ہے دیکھ کر ہی کر رہا ہے، اس کے ہر کام میں حکمت ہے۔ دوسرا یہ کہ تم جس صدق اور خلوص کے ساتھ کفار کی مخالفت برداشت کرو گے وہ اسے دیکھ رہا ہے اور وہ کبھی تمھاری محنت کی بے قدری نہیں کرے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

20-1یعنی وہ انسان تھے اور غذا کے محتاج۔ 20-2یعنی رزق حلال کی فراہمی کے لئے کسب و تجارت بھی کرتے تھے۔ مطلب اس سے یہ ہے کہ یہ چیزیں منصب نبوت کے منافی نہیں، جس طرح کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں۔ 20-3یعنی ہم نے انبیاء کو اور ان کے ذریعے سے ان پر ایمان لانے والوں کی بھی آزمائش کی، تاکہ کھرے کھوٹے کی تمیز ہوجائے، جنہوں نے آزمائش میں صبر کا دامن پکڑے رکھ، وہ کامیاب اور دوسرے ناکام رہے؛ اسی لئے آگے فرمایا، کیا تم صبر کرو گے؟،

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

20۔ اور (اے نبی)! ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے وہ سب [25] کھانا کھاتے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ اور ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کے لئے آزمائش [26] کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ تو کیا (اے مسلمانو)! تم کفار کے [27] (طعن و تشنیع پر) صبر کرو گے؟ اور آپ کا پروردگار سب کچھ دیکھ رہا ہے [28]۔
[25] یہ کافروں کے اس اعتراض کا جواب ہے۔ جس کا ذکر اسی سورہ کی آیت نمبر 7 میں ہوا ہے۔ کفار مکہ کا یہ اعتراض محض کٹ حجتی کے طور پر تھا۔ ورنہ وہ خوب جانتے تھے کہ حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام سب کے سب انسان ہی تھے۔ حوائج بشریہ ان کے ساتھ لگی ہوئی تھیں۔ اور وہ اپنی زندگی کی بقاء کے لئے کھاتے پیتے بھی تھے۔ اور کسب معاش یا خرید و فروخت کی خاطر وہ بازاروں میں چلتے پھرتے بھی تھے۔ ان سب باتوں کے باوجود لوگ انہیں رسول تسلیم کرتے تھے۔ کھانا کھانا یا بازاروں میں چلنا پھرنا بزرگی یا نبوت کے منافی نہیں ہے،پھر آخر اس رسول پر ان کا یہ اعتراض کس لحاظ سے درست ہے۔
[26] نبی کے ذریعہ سب افراد قوم کی آزمائش کیسے ہوتی ہے؟ یعنی اللہ تعالیٰ اپنا رسول بھیج کر سب لوگوں کو آزمائش میں ڈال کر ہر ایک کو خوب جانچتا ہے۔ ایمان لانے والوں کو بھی اور کافروں کو بھی۔ ایمان والوں میں سے سب سے زیادہ سخت آزمائش تو خود رسولوں کی ہوتی ہے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اشد البلاء علی الانبیاء ثم الامثل فالا مثل یعنی سب سے سخت آزمائش نبیوں کی ہوئی ہے پھر اس کے قریبی مومنوں کی پھر اگلے درجہ کے مومنوں کی۔ نبی کی دعوت پر مخالفت کا ایک طوفان اٹھ کھرا ہوتا ہے اور ابتداًء نبی کی دعوت پر ایمان لانے والے عموماً معاشرہ کے ظلم و ستم سے عاجز آئے ہوئے اور ستائے ہوئے کمزور قسم کے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ ان کی اس معرکہ حق و باطل میں خوب آزمائش ہوتی ہے تاآنکہ ہر ایک کو معلوم ہو جاتا ہے کہ فلاں ایماندار اپنے دعویٰ میں کس قدر پختہ ہے۔ اور منافقوں کی بھی چھانٹی ہوتی رہتی ہے اور کافروں کا امتحان اس طرح ہوتا ہے کہ انہی میں سے دنیوی مال و دولت اور جاو و حشم کے لحاظ سے ایک کمتر درجہ کا شخص نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اپنی دعوت پر عقلی اور نقلی دلائل پیش کرتا ہے۔ تو کیا وہ اپنی نخوت اور اپنا انا کو چھوڑ کر حق کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہوتا ہے یا نہیں؟ اگر کوئی رسول کی دعوت کا انکار کرتا ہے تو کس قدر سرکشی اور بغاوت کی راہ اختیار کرتا ہے۔ گویا ایک نبی کی دعوت پر حق و باطل کا معرکہ ایک ایسی بھٹی ہے جو اللہ تعالیٰ کی عین مشیت کے مطابق ہے اور اس میں کئی حکمتیں مضمر ہیں اور اس بھٹی سے قوم کے ایک ایک فرد کی آزمائش ہو جاتی ہے۔
[27] یہ خطاب صرف مسلمانوں کو ہے یعنی تمہاری آزمائش یہ ہے کہ آیا تم لوگ ان کافروں کے ناجائز اعتراضات، ان کے استہزاء اور ان کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں پر صبر کرتے ہو جبکہ اس میں تمہارے لئے کئی قسم کی مصلحتیں اور حکمتیں موجود ہیں؟
[28] اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ تمہارے پروردگار نے سب کو جو آزمائش میں ڈالا ہے تو اس کی مصلحتوں کو دیکھ کر ہی ڈالا ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ معرکہ حق و باطل میں جو لوگ حق کا ساتھ دے رہے ہیں انہیں بھی دیکھ رہا ہے اور جو اس کی راہ میں روک بن کر کھڑے ہو گئے ہیں انھیں بھی اور ان کی کارستانیوں کو بھی اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
کافر اس بات پر اعتراض کرتے تھے کہ نبی کو کھانے پینے اور تجارت بیوپار سے کیا مطلب؟ اس کا جواب ہو رہا ہے کہ اگلے سب پیغمبر بھی انسانی ضرورتیں بھی رکھتے تھے، کھانا پینا ان کے ساتھ بھی لگا ہوا تھا۔ بیوپار، تجارت اور کسب معاش وہ بھی کیا کرتے تھے۔ یہ چیزیں نبوت کے خلاف نہیں۔ ہاں اللہ تعالیٰ عزوجل اپنی عنایت خاص سے انہیں وہ پاکیزہ اوصاف، نیک خصائل، عمدہ اقوال، مختار افعال، ظاہر دلیلیں، اعلیٰ معجزے دیتا ہے کہ ہر عقل سلیم والا، ہر دانا بینا مجبور ہو جاتا ہے کہ ان کی نبوت کو تسلیم کر لے اور ان کی سچائی کو مان لے۔
اسی آیت جیسی اور آیت «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» ۱؎ [12-يوسف:109]‏‏‏‏ الخ، ہے۔ ’ یعنی تجھ سے پہلے بھی جتنے نبی آئے، سب شہروں میں رہنے والے انسان ہی تھے۔ ‘
اور آیت میں ہے «وَمَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا يَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوْا خٰلِدِيْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:8]‏‏‏‏ الخ، ’ ہم نے انہیں ایسے جثے نہیں بنائے تھے کہ کھانے پینے سے وہ آزاد ہوں۔ ‘ ہم تو تم میں سے ایک ایک کی آزمائش ایک ایک سے کر لیا کرتے ہیں تاکہ فرمانبردار اور نافرمان ظاہر ہو جائیں۔ صابر اور غیر صابر معلوم ہو جائیں۔ تیرا رب دانا و بینا ہے، خوب جانتا ہے کہ مستحق نبوت کون ہے؟
جیسے فرمایا «اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ سَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعَذَابٌ شَدِيْدٌ بِمَا كَانُوْا يَمْكُرُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:124]‏‏‏‏ ’ منصب رسالت کی اہلیت کس میں ہے؟ اسے اللہ ہی بخوبی جانتا ہے۔ ‘ اسی کو اس کا بھی علم ہے کہ مستحق ہدایت کون ہیں؟ اور کون نہیں؟ چونکہ اللہ کا ارادہ بندوں کا امتحان لینے کا ہے، اس لیے نبیوں کو عموماً معمولی حالت میں رکھتا ہے ورنہ اگر انہیں بکثرت دنیا دیتا تو ان کے مال کے لالچ میں بہت سے ان کے ساتھ ہو جاتے تو پھر سچے جھوٹے مل جاتے۔
صحیح مسلم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں خود تجھے اور تیری وجہ سے اور لوگوں کو آزمانے والا ہوں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2865]‏‏‏‏
مسند میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { اگر میں چاہتا تو میرے ساتھ سونے چاندی کے پہاڑ چلتے رہتے۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:4920:صحیح]‏‏‏‏
اور صحیح حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی اور بادشاہ بننے میں اور نبی اور بندہ بننے میں اختیار دیا گیا تو آپ نے بندہ اور نبی بننا پسند فرمایا۔ } ۱؎ [مسند احمد:231/2:صحیح]‏‏‏‏ «فصلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی الہ واصحابہ اجمعین»