لَیۡسَ عَلَی الۡاَعۡمٰی حَرَجٌ وَّ لَا عَلَی الۡاَعۡرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَی الۡمَرِیۡضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ اَنۡ تَاۡکُلُوۡا مِنۡۢ بُیُوۡتِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اٰبَآئِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اُمَّہٰتِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اِخۡوَانِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اَخَوٰتِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اَعۡمَامِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ عَمّٰتِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اَخۡوَالِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ خٰلٰتِکُمۡ اَوۡ مَا مَلَکۡتُمۡ مَّفَاتِحَہٗۤ اَوۡ صَدِیۡقِکُمۡ ؕ لَیۡسَ عَلَیۡکُمۡ جُنَاحٌ اَنۡ تَاۡکُلُوۡا جَمِیۡعًا اَوۡ اَشۡتَاتًا ؕ فَاِذَا دَخَلۡتُمۡ بُیُوۡتًا فَسَلِّمُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ تَحِیَّۃً مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ مُبٰرَکَۃً طَیِّبَۃً ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿٪۶۱﴾
نہ اندھے پر کوئی حرج ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج ہے اور نہ بیمار پر کوئی حرج ہے اور نہ خود تم پر کہ تم اپنے گھروں سے کھاؤ، یا اپنے باپوں کے گھروں سے، یا اپنی ماؤں کے گھروں سے، یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے، یا اپنی بہنوں کے گھروں سے، یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے، یا اپنی پھو پھیوں کے گھروں سے، یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے، یا اپنی خالائوں کے گھروں سے، یا (اس گھر سے) جس کی چابیوں کے تم مالک بنے ہو، یا اپنے دوست (کے گھر) سے۔ تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اکٹھے کھائو یا الگ الگ۔ پھر جب تم کسی طرح کے گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں پر سلام کہو، زندہ سلامت رہنے کی دعا جو اللہ کی طرف سے مقرر کی ہوئی بابرکت، پاکیزہ ہے۔ اسی طرح اللہ تمھارے لیے آیات کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم سمجھ جاؤ۔
En
نہ تو اندھے پر کچھ گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر اور نہ بیمار پر اور نہ خود تم پر کہ اپنے گھروں سے کھانا کھاؤ یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا اس گھر سے جس کی کنجیاں تمہارے ہاتھ میں ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے (اور اس کا بھی) تم پر کچھ گناہ نہیں کہ سب مل کر کھانا کھاؤ یا جدا جدا۔ اور جب گھروں میں جایا کرو تو اپنے (گھر والوں کو) سلام کیا کرو۔ (یہ) خدا کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ اس طرح خدا اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو
En
اندھے پر، لنگڑے پر، بیمار پر اور خود تم پر (مطلقاً) کوئی حرج نہیں کہ تم اپنے گھروں سے کھالو یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خاﻻؤں کے گھروں سے یا ان گھروں سے جن کی کنجیوں کے تم مالک ہو یا اپنے دوستوں کے گھروں سے۔ تم پر اس میں بھی کوئی گناه نہیں کہ تم سب ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاؤ یا الگ الگ پس جب تم گھروں میں جانے لگو تو اپنے گھر والوں کو سلام کرلیا کرو دعائے خیر ہے جو بابرکت اور پاکیزه ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شده، یوں ہی اللہ تعالیٰ کھول کھول کر تم سے اپنے احکام بیان فرما رہا ہے تاکہ تم سمجھ لو
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 61) ➊ {لَيْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ …:} بعض مفسرین نے فرمایا، اس آیت کے دو حصے ہیں، ایک شروع سے {” وَ لَا عَلَى الْمَرِيْضِ حَرَجٌ “} تک اور دوسرا {” وَ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ “} سے آخر تک۔ پہلے حصے کا تعلق جہاد سے ہے کہ اندھے، لنگڑے اور بیمار اگر جہاد میں نہ جا سکیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں، کیونکہ وہ معذور ہیں۔ سورۂ فتح کی آیت (۱۷) میں بعینہٖ یہی الفاظ: «{ لَيْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِيْضِ حَرَجٌ }» اسی مفہوم کے لیے آئے ہیں اور سورۂ توبہ کی آیت (۹۱): «{ لَيْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى }» میں بھی یہی بات بیان ہوئی ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ عرب لوگ اندھے، لنگڑے اور مریض کے ساتھ کھانے سے کراہت محسوس کرتے تھے، اس پر فرمایا کہ ان کے ساتھ کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ مگر یہ بات درست نہیں، کیونکہ یہاں یہ نہیں فرمایا کہ تم پر کوئی حرج نہیں کہ اندھے، لنگڑے یا مریض کے ساتھ مل کر کھاؤ، بلکہ یہ فرمایا ہے کہ اندھے پر کوئی حرج نہیں، نہ لنگڑے پر کوئی حرج ہے اور نہ مریض پر کوئی حرج ہے۔
تیسری تفسیر جو اس مقام سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے، یہ ہے کہ یہاں {” لَيْسَ عَلَى الْاَعْمٰى “} سے آیت کے آخر تک ایک ہی مسئلہ بیان ہوا ہے۔ طبری نے اپنی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے بیان کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «{ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ }» [النساء: ۲۹] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے مال آپس میں باطل طریقے سے نہ کھاؤ۔“ تو مسلمانوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپس میں اپنے اموال باطل طریقے سے کھانے سے منع فرمایا ہے اور کھانا ہمارے ان اموال میں سے ہے جو سب سے بہتر ہیں، اس لیے ہم میں سے کسی کو حلال نہیں کہ کسی کے ہاں کھانا کھائے، تو لوگوں نے ایک دوسرے کے ہاں کھانا چھوڑ دیا، اس پر یہ آیت اتری: «{ لَيْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ … اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ }» (طبری: ۲۶۴۲۶) اس تفسیر کے مطابق اندھے، لنگڑے اور بیمار کو اجازت دی گئی ہے کہ معذور ہونے کی وجہ سے ان کا لوگوں پر حق ہے کہ وہ بھوک مٹانے کے لیے ہر جگہ اور ہر گھر سے کھا سکتے ہیں، انھیں خواہ مخواہ کی عزتِ نفس کے یا حرام سے اجتناب کے خیال میں مبتلا ہو کر کسی دوسرے کے کھانے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ مجاہد نے آیت زیر تفسیر کے متعلق فرمایا: ”آدمی کسی اندھے یا لنگڑے یا بیمار کو لے کر اپنے باپ یا بھائی یا بہن یا پھوپھی یا خالہ کے گھر (کچھ کھلانے کے لیے) لے جاتا تو وہ معذور لوگ اس میں گناہ محسوس کرتے کہ یہ لوگ ہمیں دوسروں کے گھروں میں لے جاتے ہیں۔ اس پر یہ آیت ان کے لیے رخصت بیان کرنے کے لیے اتری۔“ [مسند عبد الرزاق و سندہ صحیح]
اس کے بعد عام لوگوں کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنے گھروں سے اور ان لوگوں کے گھروں سے کھا سکتے ہیں جن کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں سے کسی کے ہاں کھانے کے لیے اس طرح کی شرطوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ صاحب خانہ باقاعدہ اجازت دے تو کھائیں، ورنہ خیانت ہو گی۔ آدمی اگر ان میں سے کسی کے گھر جائے اور گھر کا مالک موجود نہ ہو اور اس کے بیوی بچے کھانے کو کچھ پیش کریں تو بلاتکلف کھایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح کھانا سامنے لا کر رکھ دیا جائے تو مزید اجازت کی درخواست محض تکلف ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اپنے گھروں سے تو ہر شخص ہی کھاتا ہے، یہ کہنے میں کیا حکمت ہے کہ تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اپنے گھروں سے کھاؤ؟ جواب یہ ہے کہ اس میں دو حکمتیں معلوم ہوتی ہیں، ایک یہ کہ اپنے گھروں سے کھانے اور مذکورہ رشتہ داروں کے گھروں سے کھانے میں کوئی فرق نہیں، جس طرح اپنے گھروں سے کھا سکتے ہو ایسے ہی ان لوگوں کے گھروں سے بھی کھا سکتے ہو۔ دوسری حکمت یہ ہے کہ ”اپنے گھروں“ کے لفظ میں اپنے گھر کے علاوہ اپنی اولاد کا گھر بھی شامل ہے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ آیت میں کھانے کی اجازت کے سلسلے میں اولاد کا الگ ذکر نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: [أَنْتَ وَ مَالُكَ لِأَبِيْكَ] [سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: 63/6، ح: ۲۵۶۴۔ أبو داوٗد: ۳۵۳۰] ”تو اور تیرا مال تیرے باپ کے لیے ہے۔“
➋ آباء میں باپ دادا اور نانا اوپر تک شامل ہیں، اسی طرح امہات میں دادی اور نانی اوپر تک اور اخوان، اخوات، اعمام، عمات، اخوال اور خالات میں حقیقی، عینی اور علاتی بھائی بہنیں، چچا، ماموں اوپر تک اور ان کی اولادیں بھی شامل ہیں، سب کے گھروں سے کھانے کی اجازت ہے۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ اس آیت سے بعض اہلِ علم نے استدلال فرمایا ہے کہ اقارب میں سے ہر ایک کا نفقہ دوسرے پر واجب ہے، اگر وہ ضرورت مند ہوں۔
➌ { اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ:} طبری نے معتبر سند کے ساتھ علی بن ابی طلحہ سے ابن عباس رضی اللہ عنھما کی تفسیر نقل فرمائی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی کسی شخص کو اپنی جائداد (گھر یا باغ وغیرہ) کا نگران مقرر کر دے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے رخصت عطا فرمائی کہ اپنی زیر حفاظت و نگرانی گھر یا باغ سے کھانا یا پھل وغیرہ کھا لے یا دودھ پی لے۔
➍ { اَوْ صَدِيْقِكُمْ:} یہ {”صَدِيْقٌ“} (دوست) دال کی تشدید کے بغیر ہے اور {”صَدَاقَةٌ“} (دوستی) سے مشتق ہے۔ یہ وزن ({فَعِيْلٌ}) واحد، جمع، مذکر اور مؤنث سب کے لیے ایک ہی ہوتا ہے۔ {”صِدِّيْقٌ“} دال کی تشدید کے ساتھ ہو تو اس کا معنی ہے بہت سچا یا بہت تصدیق کرنے والا۔ {”صَدِيْقِكُمْ “} سے مراد وہ بے تکلف دوست ہیں جن کی عدم موجودگی میں اگر ان کے گھر سے کوئی چیز کھائی جائے تو وہ ناراض ہونے کے بجائے خوش ہوتے ہیں۔
➎ بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ اس آیت میں جن لوگوں کے گھروں سے کھانے کی اجازت دی گئی ہے ان کی طرف سے بھی اجازت ہونی چاہیے، وہ اجازت خواہ عام ہو یا خاص، اگر وہ ناگواری محسوس کریں تو ان کے گھروں سے کھانا درست نہیں، حتیٰ کہ کسی بھائی کی لاٹھی اٹھانا بھی اس کی دلی خوشی کے بغیر جائز نہیں۔ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: [لَا يَأْخُذَنَّ أَحَدُكُمْ مَتَاعَ أَخِيْهِ لَاعِبًا وَلَا جَادًّا وَ مَنْ أَخَذَ عَصَا أَخِيْهِ فَلْيَرُدَّهَا] [أبوداوٗد، الأدب، باب من یأخذ الشيء من مزاح: ۵۰۰۳، قال الألباني حسن] ”تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کا سامان نہ لے، نہ ہنسی مذاق کرتے ہوئے اور نہ سنجیدگی سے اور جس نے اپنے بھائی کی لاٹھی لی ہو وہ اسے واپس کرے۔“ اور بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان گھروں سے کھانے کی اجازت دے دی تو کھانے کے لیے گھر والوں سے اجازت لینا ضروری نہیں، اس میں نہ کھانے والوں کو حجاب کرنا چاہیے، نہ اہلِ خانہ کو دریغ کرنا چاہیے۔
➏ {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِيْعًا اَوْ اَشْتَاتًا:} کھانے کے متعلق جاہلیت میں دو طرح کا غلو پایا جاتا تھا، کچھ لوگ تو وہ تھے جو اکیلے اکیلے کھانا کھاتے تھے اور کسی دوسرے کے ساتھ مل کر کھانے سے نفرت کرتے تھے، جیسا کہ ہندوؤں کا طریقہ ہے، یا جس طرح اب بھی کفار سے متاثر بعض لوگ جراثیم کے ذریعے سے بیماری لگ جانے کے خوف سے کسی دوسرے کے ساتھ مل کر کھانا نہیں کھاتے اور کچھ لوگ وہ تھے جو اکیلا کھانے کو بخل اور کمینگی سمجھتے تھے اور جب تک کوئی دوسرا ساتھی نہ ملتا کھانا نہیں کھاتے تھے، حتیٰ کہ بعض اوقات فاقہ کر جاتے، تو اللہ تعالیٰ نے دونوں پابندیاں ختم کرکے عام اجازت دے دی کہ الگ الگ کھاؤ یا اکٹھے مل کر کھاؤ، دونوں صورتوں میں تم پر گناہ نہیں۔
اگرچہ الگ الگ کھانے کی اجازت ہے مگر مل کر کھانا افضل ہے اور اس میں برکت ہوتی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [طَعَامُ الْاِثْنَيْنِ كَافِي الثَّلَاثَةِ وَ طَعَامُ الثَّلَاثَةِ كَافِي الْأَرْبَعَةِ] [بخاري، الأطعمۃ، باب طعام الواحد یکفي الاثنین: ۵۳۹۲] ”دو آدمیوں کا کھانا تین کو کافی ہوتا ہے اور تین آدمیوں کا کھانا چار کو کافی ہوتا ہے۔“ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الْاِثْنَيْنِ وَطَعَامُ الْاِثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ وَطَعَامُ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ] [مسلم، الأشربۃ، باب فضیلۃ المواساۃ في الطعام القلیل…: ۲۰۵۹] ”ایک آدمی کا کھانا دو کو کافی ہو جاتا ہے اور دو کا کھانا چار کو اور چار کا آٹھ کو کافی ہو جاتا ہے۔“
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ الْأَشْعَرِيِّيْنَ، إِذَا أَرْمَلُوْا فِي الْغَزْوِ، أَوْ قَلَّ طَعَامُ عِيَالِهِمْ بِالْمَدِيْنَةِ، جَمَعُوْا مَا كَانَ عِنْدَهُمْ فِيْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ اقْتَسَمُوْهُ بَيْنَهُمْ فِيْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، بِالسَّوِيَّةِ، فَهُمْ مِنِّيْ وَ أَنَا مِنْهُمْ] [مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل الأشعریین رضي اللہ عنھم: ۲۵۰۰] ”اشعری لوگ جب لڑائی میں (کھانے کے حوالے سے) محتاج ہو جاتے ہیں، یا مدینہ میں ان کے بال بچوں کا کھانا کم ہو جاتا ہے، تو جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے وہ اسے ایک کپڑے میں اکٹھا کرتے ہیں، پھر آپس میں برابر بانٹ لیتے ہیں۔ یہ لوگ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔“
➐ {فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ …:} اس میں گھروں میں داخلے کا ادب بیان فرمایا کہ داخل ہوتے وقت گھر والوں کو سلام کہے۔ {” عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ “} سے مراد اپنے لوگوں کو سلام کہنا ہے، کیونکہ وہ سب ایک جان کی مانند ہیں۔ اگر گھر میں کوئی بھی نہ ہو تو پھر بھی سلام کہے۔ تشہد کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر گھر میں کوئی نہ ہو تو اس وقت سلام اس طرح کہنا چاہیے {”اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَ عَلٰي عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِيْنَ“} امام بخاری رحمہ اللہ نے ”الأدب المفرد“ (۱۰۵۵) میں حسن سند کے ساتھ ابن عمر رضی اللہ عنھما کا قول نقل فرمایا ہے: ”جب تو کسی گھر میں جائے، جس میں کوئی نہ ہو تو یوں کہہ {”اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَ عَلٰي عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِيْنَ۔“} شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے اس آیت کا نہایت عمدہ خلاصہ بیان فرمایا ہے، لکھتے ہیں: ”یعنی اپنایت کے علاقوں میں کھانے کی چیز کو ہر وقت پوچھنا ضروری نہیں، نہ کھانے والا حجاب کرے، نہ گھر والا دریغ کرے، مگر عورت کا گھر اس کے خاوند کا ہو تو اس کی مرضی چاہیے، اور مل کر کھاؤ یا جدا، یعنی اس کا تکرار دل میں نہ رکھیے کہ کس نے کم کھایا کس نے زیادہ، سب نے مل کر پکایا، سب نے مل کر کھایا، اور اگر ایک شخص کی مرضی نہ ہو پھر کسی کی چیز کھانی ہر گز درست نہیں۔ اور سلام کی تاکید فرمائی آپس کی ملاقات میں، اس سے بہتر دعا نہیں، جو لوگ اس کو چھوڑ کر اور لفظ ٹھہراتے ہیں اللہ کی تجویز سے ان کی تجویز بہتر نہیں۔“
➑ { كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ:} یہاں آیات کو کھول کر بیان کرنے کی بات تیسری دفعہ آ رہی ہے، یعنی آیات کو اس طرح کھول کر بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تم غور و فکر کرو اور ان آیات میں ذکر کردہ احکام کو سمجھو۔
تیسری تفسیر جو اس مقام سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے، یہ ہے کہ یہاں {” لَيْسَ عَلَى الْاَعْمٰى “} سے آیت کے آخر تک ایک ہی مسئلہ بیان ہوا ہے۔ طبری نے اپنی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے بیان کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «{ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ }» [النساء: ۲۹] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے مال آپس میں باطل طریقے سے نہ کھاؤ۔“ تو مسلمانوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپس میں اپنے اموال باطل طریقے سے کھانے سے منع فرمایا ہے اور کھانا ہمارے ان اموال میں سے ہے جو سب سے بہتر ہیں، اس لیے ہم میں سے کسی کو حلال نہیں کہ کسی کے ہاں کھانا کھائے، تو لوگوں نے ایک دوسرے کے ہاں کھانا چھوڑ دیا، اس پر یہ آیت اتری: «{ لَيْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ … اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ }» (طبری: ۲۶۴۲۶) اس تفسیر کے مطابق اندھے، لنگڑے اور بیمار کو اجازت دی گئی ہے کہ معذور ہونے کی وجہ سے ان کا لوگوں پر حق ہے کہ وہ بھوک مٹانے کے لیے ہر جگہ اور ہر گھر سے کھا سکتے ہیں، انھیں خواہ مخواہ کی عزتِ نفس کے یا حرام سے اجتناب کے خیال میں مبتلا ہو کر کسی دوسرے کے کھانے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ مجاہد نے آیت زیر تفسیر کے متعلق فرمایا: ”آدمی کسی اندھے یا لنگڑے یا بیمار کو لے کر اپنے باپ یا بھائی یا بہن یا پھوپھی یا خالہ کے گھر (کچھ کھلانے کے لیے) لے جاتا تو وہ معذور لوگ اس میں گناہ محسوس کرتے کہ یہ لوگ ہمیں دوسروں کے گھروں میں لے جاتے ہیں۔ اس پر یہ آیت ان کے لیے رخصت بیان کرنے کے لیے اتری۔“ [مسند عبد الرزاق و سندہ صحیح]
اس کے بعد عام لوگوں کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنے گھروں سے اور ان لوگوں کے گھروں سے کھا سکتے ہیں جن کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں سے کسی کے ہاں کھانے کے لیے اس طرح کی شرطوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ صاحب خانہ باقاعدہ اجازت دے تو کھائیں، ورنہ خیانت ہو گی۔ آدمی اگر ان میں سے کسی کے گھر جائے اور گھر کا مالک موجود نہ ہو اور اس کے بیوی بچے کھانے کو کچھ پیش کریں تو بلاتکلف کھایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح کھانا سامنے لا کر رکھ دیا جائے تو مزید اجازت کی درخواست محض تکلف ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اپنے گھروں سے تو ہر شخص ہی کھاتا ہے، یہ کہنے میں کیا حکمت ہے کہ تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اپنے گھروں سے کھاؤ؟ جواب یہ ہے کہ اس میں دو حکمتیں معلوم ہوتی ہیں، ایک یہ کہ اپنے گھروں سے کھانے اور مذکورہ رشتہ داروں کے گھروں سے کھانے میں کوئی فرق نہیں، جس طرح اپنے گھروں سے کھا سکتے ہو ایسے ہی ان لوگوں کے گھروں سے بھی کھا سکتے ہو۔ دوسری حکمت یہ ہے کہ ”اپنے گھروں“ کے لفظ میں اپنے گھر کے علاوہ اپنی اولاد کا گھر بھی شامل ہے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ آیت میں کھانے کی اجازت کے سلسلے میں اولاد کا الگ ذکر نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: [أَنْتَ وَ مَالُكَ لِأَبِيْكَ] [سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: 63/6، ح: ۲۵۶۴۔ أبو داوٗد: ۳۵۳۰] ”تو اور تیرا مال تیرے باپ کے لیے ہے۔“
➋ آباء میں باپ دادا اور نانا اوپر تک شامل ہیں، اسی طرح امہات میں دادی اور نانی اوپر تک اور اخوان، اخوات، اعمام، عمات، اخوال اور خالات میں حقیقی، عینی اور علاتی بھائی بہنیں، چچا، ماموں اوپر تک اور ان کی اولادیں بھی شامل ہیں، سب کے گھروں سے کھانے کی اجازت ہے۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ اس آیت سے بعض اہلِ علم نے استدلال فرمایا ہے کہ اقارب میں سے ہر ایک کا نفقہ دوسرے پر واجب ہے، اگر وہ ضرورت مند ہوں۔
➌ { اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ:} طبری نے معتبر سند کے ساتھ علی بن ابی طلحہ سے ابن عباس رضی اللہ عنھما کی تفسیر نقل فرمائی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی کسی شخص کو اپنی جائداد (گھر یا باغ وغیرہ) کا نگران مقرر کر دے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے رخصت عطا فرمائی کہ اپنی زیر حفاظت و نگرانی گھر یا باغ سے کھانا یا پھل وغیرہ کھا لے یا دودھ پی لے۔
➍ { اَوْ صَدِيْقِكُمْ:} یہ {”صَدِيْقٌ“} (دوست) دال کی تشدید کے بغیر ہے اور {”صَدَاقَةٌ“} (دوستی) سے مشتق ہے۔ یہ وزن ({فَعِيْلٌ}) واحد، جمع، مذکر اور مؤنث سب کے لیے ایک ہی ہوتا ہے۔ {”صِدِّيْقٌ“} دال کی تشدید کے ساتھ ہو تو اس کا معنی ہے بہت سچا یا بہت تصدیق کرنے والا۔ {”صَدِيْقِكُمْ “} سے مراد وہ بے تکلف دوست ہیں جن کی عدم موجودگی میں اگر ان کے گھر سے کوئی چیز کھائی جائے تو وہ ناراض ہونے کے بجائے خوش ہوتے ہیں۔
➎ بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ اس آیت میں جن لوگوں کے گھروں سے کھانے کی اجازت دی گئی ہے ان کی طرف سے بھی اجازت ہونی چاہیے، وہ اجازت خواہ عام ہو یا خاص، اگر وہ ناگواری محسوس کریں تو ان کے گھروں سے کھانا درست نہیں، حتیٰ کہ کسی بھائی کی لاٹھی اٹھانا بھی اس کی دلی خوشی کے بغیر جائز نہیں۔ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: [لَا يَأْخُذَنَّ أَحَدُكُمْ مَتَاعَ أَخِيْهِ لَاعِبًا وَلَا جَادًّا وَ مَنْ أَخَذَ عَصَا أَخِيْهِ فَلْيَرُدَّهَا] [أبوداوٗد، الأدب، باب من یأخذ الشيء من مزاح: ۵۰۰۳، قال الألباني حسن] ”تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کا سامان نہ لے، نہ ہنسی مذاق کرتے ہوئے اور نہ سنجیدگی سے اور جس نے اپنے بھائی کی لاٹھی لی ہو وہ اسے واپس کرے۔“ اور بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان گھروں سے کھانے کی اجازت دے دی تو کھانے کے لیے گھر والوں سے اجازت لینا ضروری نہیں، اس میں نہ کھانے والوں کو حجاب کرنا چاہیے، نہ اہلِ خانہ کو دریغ کرنا چاہیے۔
➏ {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِيْعًا اَوْ اَشْتَاتًا:} کھانے کے متعلق جاہلیت میں دو طرح کا غلو پایا جاتا تھا، کچھ لوگ تو وہ تھے جو اکیلے اکیلے کھانا کھاتے تھے اور کسی دوسرے کے ساتھ مل کر کھانے سے نفرت کرتے تھے، جیسا کہ ہندوؤں کا طریقہ ہے، یا جس طرح اب بھی کفار سے متاثر بعض لوگ جراثیم کے ذریعے سے بیماری لگ جانے کے خوف سے کسی دوسرے کے ساتھ مل کر کھانا نہیں کھاتے اور کچھ لوگ وہ تھے جو اکیلا کھانے کو بخل اور کمینگی سمجھتے تھے اور جب تک کوئی دوسرا ساتھی نہ ملتا کھانا نہیں کھاتے تھے، حتیٰ کہ بعض اوقات فاقہ کر جاتے، تو اللہ تعالیٰ نے دونوں پابندیاں ختم کرکے عام اجازت دے دی کہ الگ الگ کھاؤ یا اکٹھے مل کر کھاؤ، دونوں صورتوں میں تم پر گناہ نہیں۔
اگرچہ الگ الگ کھانے کی اجازت ہے مگر مل کر کھانا افضل ہے اور اس میں برکت ہوتی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [طَعَامُ الْاِثْنَيْنِ كَافِي الثَّلَاثَةِ وَ طَعَامُ الثَّلَاثَةِ كَافِي الْأَرْبَعَةِ] [بخاري، الأطعمۃ، باب طعام الواحد یکفي الاثنین: ۵۳۹۲] ”دو آدمیوں کا کھانا تین کو کافی ہوتا ہے اور تین آدمیوں کا کھانا چار کو کافی ہوتا ہے۔“ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الْاِثْنَيْنِ وَطَعَامُ الْاِثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ وَطَعَامُ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ] [مسلم، الأشربۃ، باب فضیلۃ المواساۃ في الطعام القلیل…: ۲۰۵۹] ”ایک آدمی کا کھانا دو کو کافی ہو جاتا ہے اور دو کا کھانا چار کو اور چار کا آٹھ کو کافی ہو جاتا ہے۔“
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ الْأَشْعَرِيِّيْنَ، إِذَا أَرْمَلُوْا فِي الْغَزْوِ، أَوْ قَلَّ طَعَامُ عِيَالِهِمْ بِالْمَدِيْنَةِ، جَمَعُوْا مَا كَانَ عِنْدَهُمْ فِيْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ اقْتَسَمُوْهُ بَيْنَهُمْ فِيْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، بِالسَّوِيَّةِ، فَهُمْ مِنِّيْ وَ أَنَا مِنْهُمْ] [مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل الأشعریین رضي اللہ عنھم: ۲۵۰۰] ”اشعری لوگ جب لڑائی میں (کھانے کے حوالے سے) محتاج ہو جاتے ہیں، یا مدینہ میں ان کے بال بچوں کا کھانا کم ہو جاتا ہے، تو جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے وہ اسے ایک کپڑے میں اکٹھا کرتے ہیں، پھر آپس میں برابر بانٹ لیتے ہیں۔ یہ لوگ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔“
➐ {فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ …:} اس میں گھروں میں داخلے کا ادب بیان فرمایا کہ داخل ہوتے وقت گھر والوں کو سلام کہے۔ {” عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ “} سے مراد اپنے لوگوں کو سلام کہنا ہے، کیونکہ وہ سب ایک جان کی مانند ہیں۔ اگر گھر میں کوئی بھی نہ ہو تو پھر بھی سلام کہے۔ تشہد کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر گھر میں کوئی نہ ہو تو اس وقت سلام اس طرح کہنا چاہیے {”اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَ عَلٰي عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِيْنَ“} امام بخاری رحمہ اللہ نے ”الأدب المفرد“ (۱۰۵۵) میں حسن سند کے ساتھ ابن عمر رضی اللہ عنھما کا قول نقل فرمایا ہے: ”جب تو کسی گھر میں جائے، جس میں کوئی نہ ہو تو یوں کہہ {”اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَ عَلٰي عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِيْنَ۔“} شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے اس آیت کا نہایت عمدہ خلاصہ بیان فرمایا ہے، لکھتے ہیں: ”یعنی اپنایت کے علاقوں میں کھانے کی چیز کو ہر وقت پوچھنا ضروری نہیں، نہ کھانے والا حجاب کرے، نہ گھر والا دریغ کرے، مگر عورت کا گھر اس کے خاوند کا ہو تو اس کی مرضی چاہیے، اور مل کر کھاؤ یا جدا، یعنی اس کا تکرار دل میں نہ رکھیے کہ کس نے کم کھایا کس نے زیادہ، سب نے مل کر پکایا، سب نے مل کر کھایا، اور اگر ایک شخص کی مرضی نہ ہو پھر کسی کی چیز کھانی ہر گز درست نہیں۔ اور سلام کی تاکید فرمائی آپس کی ملاقات میں، اس سے بہتر دعا نہیں، جو لوگ اس کو چھوڑ کر اور لفظ ٹھہراتے ہیں اللہ کی تجویز سے ان کی تجویز بہتر نہیں۔“
➑ { كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ:} یہاں آیات کو کھول کر بیان کرنے کی بات تیسری دفعہ آ رہی ہے، یعنی آیات کو اس طرح کھول کر بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تم غور و فکر کرو اور ان آیات میں ذکر کردہ احکام کو سمجھو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
61۔ اس بات میں نہ اندھے پر، نہ لنگڑے پر، نہ مریض [93] اور نہ خود تمہارے لیے کوئی حرج ہے کہ تم اپنے گھروں سے [94] کھانا کھاؤ، اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماں (اور نانی) کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں، بہنوں، چچاؤں، پھوپھیوں، ماموؤں یا خالاؤں کے گھروں سے کھاؤ یا ان کے گھروں سے جن کے تم سرپرست [95] ہو یا اپنے دوست [96] کے ہاں سے کھالو۔ نہ ہی اس بات میں کوئی گناہ ہے کہ تم سب مل کر کھاؤ یا علیحدہ علیحدہ [97]۔ البتہ جب تم گھروں میں [98] داخل ہوا کرو تو اپنے لوگوں (گھر والوں) کو سلام کہا کرو۔ یہ اللہ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی آیات تمہارے لئے کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم سمجھ سے کام لو۔
[93] کھانا کھانے، کھلانے کے آداب:۔
اس آیت میں معاشرہ کے مختلف قسم کے لوگوں کے ایک دوسرے کے ہاں کھانا کھانے کے آداب اور احکام بیان ہوئے ہیں۔ آیات کا ابتدائی حصہ معذور لوگوں سے تعلق رکھتا ہے یعنی لنگڑے اور مریض قسم کے لوگ۔ ان کے متعلق ارشاد ہوا کہ وہ چونکہ خود کما نہیں سکتے اس لئے وہ ہر گھر سے کھانا کھا سکتے ہیں۔ انھیں اس میں عار محسوس نہ کرنا چاہئے اور معاشرہ کے لوگوں پر چونکہ ان کا حق ہے۔ لہٰذا انھیں بھی چاہئے کہ انھیں کھانا کھلانے کے سلسلہ میں فراخدلی سے کام لیں۔ اس کی دوسری توجیہ یہ ہے کہ دور جاہلیت میں اس قسم کے معذور لوگ خود آسودہ حال اور تندرست لوگوں کے ساتھ مل کر کھانا کھانے میں جھجک محسوس کرتے تھے انھیں یہ خیال آتا تھا کہ شاید دوسروں کو ہمارے ساتھ کھانا کھانے سے نفرت ہو اور وہ اسے ناگوار محسوس کریں۔ اور فی الواقع بعض لوگوں کو ایسی نفرت و وحشت ہوتی بھی تھی۔ لہٰذا عام لوگوں کو ہدایت دی گئی کہ ایسے لوگ تو تمہاری ہمدردی کے محتاج ہیں چہ جائے کہ ان سے نفرت کی جائے۔ تیسری توجیہ یہ ہے کہ بعض متقی قسم کے لوگوں کو یہ خیال آتا تھا کہ شاید ایسے لوگوں کے ساتھ مل کر کھانے سے کہیں ان معذور لوگوں کی حق تلفی نہ ہوتی ہو۔ مثلاً اندھے کو سب کھانے نظر نہیں آتے۔ لنگڑے ممکن ہے دیر سے پہنچیں اور مریض تو کھانا کھاتے وقت اپنی تکلیف اور پرہیز ہی کو ملحوظ رکھتے ہیں لہٰذا یہ لوگ علیحدہ ہی کھانا کھائیں تو بہتر ہے۔ اس جملہ سے ان سب لوگوں کے نظریات کا ازالہ کر دیا گیا۔
[94] جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بالْبَاطِلِ﴾ [29:4] تو بعض مسلمان اس سلسلہ میں ضرورت سے زیادہ محتاط ہو گئے تھے اور وہ صاحب خانہ کی دعوت یا اس کی اجازت کے بغیر اپنے کسی قریبی رشتہ دار کے ہاں سے بھی کھانا کھانا تقویٰ کے خلاف سمجھنے لگے تھے۔ اس فقرہ کی رو سے ان کی ضرورت سے زیادہ احتیاط کے نظریہ کا ازالہ کیا گیا اور سب سے پہلے اپنے ہی گھروں سے کھانا کھانے سے ابتدا کی گئی۔ حالانکہ اپنے گھر سے کھانا کھانے کے لئے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس آغاز سے ذہن نشین یہ کرایا گیا ہے کہ جس طرح تمہیں اپنے گھر سے کھانا کھانے کے لئے کسی اجازت اور تکلف کی ضرورت نہیں ہوتی اسی طرح تم اپنے باپ، اپنی ماں، اپنے بھائیوں، اپنی بہنوں، اپنے چچاؤں، اپنی پھوپھیوں، اپنے ماموں اور اپنی خالاؤں کے ہاں سے کھا سکتے ہو۔ اس مقام پر آٹھ بڑے قریبی رشتہ داروں کا ذکر کیا گیا ہے کہ ان گھروں سے تم بلا اجازت اور بے تکلف کھانا کھا سکتے ہو۔ خواہ صاحب خانہ موجود ہو یا نہ ہو۔ اس آیت میں اپنے بیٹوں، بیٹیوں کے گھروں کا ذکر اس لئے نہیں کیا گیا۔ یہ گھر بھی دراصل ہر شخص کے اپنے ہی گھر ہوتے ہیں۔
[95] ﴿اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗٓ﴾ کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ تمہارے کارندے اس چیز سے کھا سکتے ہیں جس پر تم نے انھیں نگران یا کارندہ بنایا ہے۔ اس لحاظ سے تمہارے باغ کا مالی باغ کے پھل تمہاری اجازت کے بغیر کھا سکتا ہے۔ تمہارا گڈریا تمہاری اجازت کے بغیر بکریوں کا دودھ پی سکتا ہے۔ تمہارا نان بائی تمہارے ہوٹل سے تمہاری اجازت کے بغیر کھانا کھا سکتا ہے اور اس کی بے شمار مثالیں ہو سکتی ہیں اور دوسرا یہ کہ اگر تم ایسے لوگوں کے ہاں سے کچھ کھالو تو اس میں بھی کچھ حرج نہیں۔ کیونکہ ان کے کفیل تو تم خود ہو۔
[96] یہاں دوست سے مراد ایسا ولی اور ہمدرد دوست مراد ہے جو اگر تمہارے پاس آئے تو تمہیں حقیقی مسرت حاصل ہو اور اگر وہ تمہاری غیر حاضری میں تمہارے گھر سے کچھ کھا لے تو تمہیں یہ بات ناگوار گذرنے کے بجائے خوشی ہو۔
[94] جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بالْبَاطِلِ﴾ [29:4] تو بعض مسلمان اس سلسلہ میں ضرورت سے زیادہ محتاط ہو گئے تھے اور وہ صاحب خانہ کی دعوت یا اس کی اجازت کے بغیر اپنے کسی قریبی رشتہ دار کے ہاں سے بھی کھانا کھانا تقویٰ کے خلاف سمجھنے لگے تھے۔ اس فقرہ کی رو سے ان کی ضرورت سے زیادہ احتیاط کے نظریہ کا ازالہ کیا گیا اور سب سے پہلے اپنے ہی گھروں سے کھانا کھانے سے ابتدا کی گئی۔ حالانکہ اپنے گھر سے کھانا کھانے کے لئے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس آغاز سے ذہن نشین یہ کرایا گیا ہے کہ جس طرح تمہیں اپنے گھر سے کھانا کھانے کے لئے کسی اجازت اور تکلف کی ضرورت نہیں ہوتی اسی طرح تم اپنے باپ، اپنی ماں، اپنے بھائیوں، اپنی بہنوں، اپنے چچاؤں، اپنی پھوپھیوں، اپنے ماموں اور اپنی خالاؤں کے ہاں سے کھا سکتے ہو۔ اس مقام پر آٹھ بڑے قریبی رشتہ داروں کا ذکر کیا گیا ہے کہ ان گھروں سے تم بلا اجازت اور بے تکلف کھانا کھا سکتے ہو۔ خواہ صاحب خانہ موجود ہو یا نہ ہو۔ اس آیت میں اپنے بیٹوں، بیٹیوں کے گھروں کا ذکر اس لئے نہیں کیا گیا۔ یہ گھر بھی دراصل ہر شخص کے اپنے ہی گھر ہوتے ہیں۔
[95] ﴿اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗٓ﴾ کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ تمہارے کارندے اس چیز سے کھا سکتے ہیں جس پر تم نے انھیں نگران یا کارندہ بنایا ہے۔ اس لحاظ سے تمہارے باغ کا مالی باغ کے پھل تمہاری اجازت کے بغیر کھا سکتا ہے۔ تمہارا گڈریا تمہاری اجازت کے بغیر بکریوں کا دودھ پی سکتا ہے۔ تمہارا نان بائی تمہارے ہوٹل سے تمہاری اجازت کے بغیر کھانا کھا سکتا ہے اور اس کی بے شمار مثالیں ہو سکتی ہیں اور دوسرا یہ کہ اگر تم ایسے لوگوں کے ہاں سے کچھ کھالو تو اس میں بھی کچھ حرج نہیں۔ کیونکہ ان کے کفیل تو تم خود ہو۔
[96] یہاں دوست سے مراد ایسا ولی اور ہمدرد دوست مراد ہے جو اگر تمہارے پاس آئے تو تمہیں حقیقی مسرت حاصل ہو اور اگر وہ تمہاری غیر حاضری میں تمہارے گھر سے کچھ کھا لے تو تمہیں یہ بات ناگوار گذرنے کے بجائے خوشی ہو۔
[97] اکیلے اکیلے کھانا بہتر ہے یا اکھٹے مل کر:۔
اہل عرب کے بعض قبیلوں کی یہ تہذیب تھی کہ وہ اکیلا اکیلا کھانا کھانے کو بہتر سمجھتے تھے اور اکٹھے مل کر کھانے کو معیوب سمجھتے تھے۔ ہندوؤں میں آج کل بھی یہی تہذیب ہے۔ اور مسلمانوں میں سے بھی کچھ لوگ اسی بات کو بہتر سمجھتے ہیں بالخصوص وہ لوگ جو جراثیم کے نظریہ کے ضرورت سے زیادہ قائل ہوتے ہیں۔ دوسری طرف کچھ ایسے لوگ تھے جو اکیلے یا اکیلے اکیلے کھانے کو معیوب سمجھتے تھے۔ بعض تو اس حد تک متشدد تھے کہ اس وقت تک کھانا نہ کھاتے تھے بلکہ فاقہ سے رہتے تھے جب تک کوئی دوسرا آدمی یا مہمان ان کے ساتھ کھانے میں شامل نہ ہو اور بعض کی تہذیب ہی یہ تھی کہ اکیلے اکیلے کھانا بری بات ہے اور مل کر کھانا ہی بہتر ہے۔ یہ آیت اس طرح کی پابندیوں کو ختم کرنے کے لئے نازل کی گئی اس آیت کی رو سے اگرچہ عام اجازت دی گئی کہ جس طرح کوئی چاہے کھا سکتا ہے۔ تاہم اسلام نے اکٹھے مل کر کھانے کو ہی ترجیح دی ہے اور اس کی دلیل درج ذیل احادیث ہیں:
1۔ عمرو بن ابی سلمہؓ، جو ام المومنین ام سلمہؓ کے (ابو سلمہ سے) بیٹے تھے، کہتے ہیں کہ ایک دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھایا۔ میں رکابی کے سب اطراف میں ہاتھ بڑھانے لگا تو آپ نے مجھے فرمایا:”اپنے سامنے سے کھاؤ“ [بخاری۔ کتاب الاطعمہ۔ باب الاکل ممایلیہ]
2۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اشعری لوگ جب لڑائی میں محتاج ہو جاتے ہیں یا مدینہ میں ان کے بال بچوں کا کھانا کم ہو جاتا ہے تو جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے اس کو ایک کپڑے میں اکٹھا کرتے ہیں۔ پھر آپس میں برابر برابر بانٹ لیتے ہیں۔ یہ لوگ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔“ [مسلم۔ کتاب الفضائل۔ باب من فضائل الاشعریین]
[98] اس جملہ کا تعلق صرف کھانے کی دعوت سے نہیں بلکہ عام ہے۔ یعنی جب بھی تم اپنے یا کسی دوسرے کے گھر میں یا مسجد وغیرہ میں داخل ہوا کرو تو وہاں موجود لوگوں پر سلام (سلامتی کی دعا السلام علیکم) ضرور کہا کرو۔ بلکہ اگر گھر میں بھی کوئی شخص نظر نہ آئے، تب بھی السلام علیکم ضرور کہنا چاہئے اور فرشتوں کی موجودگی کا خیال کر لینا چاہئے۔ اور یہ کلمہ پاکیزہ اور مبارک اس لحاظ سے ہے کہ جواب میں تمہیں بھی سلامتی کی دعا حاصل ہو گی۔ اس طرح پورے معاشرہ میں ایک دوسرے کے لئے ہمدردی اور سلامتی چاہنے کی فضا بن جائے گی۔
1۔ عمرو بن ابی سلمہؓ، جو ام المومنین ام سلمہؓ کے (ابو سلمہ سے) بیٹے تھے، کہتے ہیں کہ ایک دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھایا۔ میں رکابی کے سب اطراف میں ہاتھ بڑھانے لگا تو آپ نے مجھے فرمایا:”اپنے سامنے سے کھاؤ“ [بخاری۔ کتاب الاطعمہ۔ باب الاکل ممایلیہ]
2۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اشعری لوگ جب لڑائی میں محتاج ہو جاتے ہیں یا مدینہ میں ان کے بال بچوں کا کھانا کم ہو جاتا ہے تو جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے اس کو ایک کپڑے میں اکٹھا کرتے ہیں۔ پھر آپس میں برابر برابر بانٹ لیتے ہیں۔ یہ لوگ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔“ [مسلم۔ کتاب الفضائل۔ باب من فضائل الاشعریین]
[98] اس جملہ کا تعلق صرف کھانے کی دعوت سے نہیں بلکہ عام ہے۔ یعنی جب بھی تم اپنے یا کسی دوسرے کے گھر میں یا مسجد وغیرہ میں داخل ہوا کرو تو وہاں موجود لوگوں پر سلام (سلامتی کی دعا السلام علیکم) ضرور کہا کرو۔ بلکہ اگر گھر میں بھی کوئی شخص نظر نہ آئے، تب بھی السلام علیکم ضرور کہنا چاہئے اور فرشتوں کی موجودگی کا خیال کر لینا چاہئے۔ اور یہ کلمہ پاکیزہ اور مبارک اس لحاظ سے ہے کہ جواب میں تمہیں بھی سلامتی کی دعا حاصل ہو گی۔ اس طرح پورے معاشرہ میں ایک دوسرے کے لئے ہمدردی اور سلامتی چاہنے کی فضا بن جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جہاد میں شمولیت کی شرائط ٭٭
اس آیت میں جس حرج کے نہ ہونے کا ذکر ہے اس کی بابت عطاء رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں ”مراد اس سے اندھے لولے لنگڑے کا جہاد میں نہ آنا ہے۔“ جیسے کہ سورۃ الفتح میں ہے ’ تو یہ لوگ اگر جہاد میں شامل نہ ہوں تو ان پر بوجہ ان کے معقول شرعی عذر کے کوئی حرج نہیں ‘۔
سورۃ براۃ میں ہے آیت «لَيْسَ عَلَي الضُّعَفَاءِ وَلَا عَلَي الْمَرْضٰى وَلَا عَلَي الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ مَا يُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ مَا عَلَي الْمُحْسِنِيْنَ مِنْ سَبِيْلٍ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوا وَّأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُوا مَا يُنفِقُونَ» ۱؎ [9-التوبة:91-92]، ’ بوڑھے بڑوں پر اور بیماروں پر اور مفلسوں پر جب کہ وہ تہ دل سے دین حق کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیرخواہ ہوں کوئی حرج نہیں، بھلے لوگوں پر کوئی حرج نہیں ہے۔ بھلے لوگوں پر کوئی سرزنش نہیں، اللہ غفور ورحیم ہے۔ ان پر بھی اسی طرح کوئی حرج نہیں جو سواری نہیں پاتے اور تیرے پاس آتے ہیں تو تیرے پاس سے بھی انہیں سواری نہیں مل سکتی ‘۔
سعید رحمۃاللہ علیہ وغیرہ فرماتے ہیں لوگ اندھوں، لولوں، لنگڑوں اور بیماروں کے ساتھ کھانا کھانے میں حرج جانتے تھے کہ ایسا نہ ہو وہ کھا نہ سکیں اور ہم زیادہ کھالیں یا اچھا اچھا کھالیں تو اس آیت میں انہیں اجازت ملی کہ اس میں تم پر کوئی حرج نہیں۔ بعض لوگ کراہت کرکے بھی ان کے ساتھ کھانے کو نہیں بیٹھتے تھے، یہ جاہلانہ عادتیں شریعت نے اٹھا دیں۔“
سورۃ براۃ میں ہے آیت «لَيْسَ عَلَي الضُّعَفَاءِ وَلَا عَلَي الْمَرْضٰى وَلَا عَلَي الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ مَا يُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ مَا عَلَي الْمُحْسِنِيْنَ مِنْ سَبِيْلٍ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوا وَّأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُوا مَا يُنفِقُونَ» ۱؎ [9-التوبة:91-92]، ’ بوڑھے بڑوں پر اور بیماروں پر اور مفلسوں پر جب کہ وہ تہ دل سے دین حق کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیرخواہ ہوں کوئی حرج نہیں، بھلے لوگوں پر کوئی حرج نہیں ہے۔ بھلے لوگوں پر کوئی سرزنش نہیں، اللہ غفور ورحیم ہے۔ ان پر بھی اسی طرح کوئی حرج نہیں جو سواری نہیں پاتے اور تیرے پاس آتے ہیں تو تیرے پاس سے بھی انہیں سواری نہیں مل سکتی ‘۔
سعید رحمۃاللہ علیہ وغیرہ فرماتے ہیں لوگ اندھوں، لولوں، لنگڑوں اور بیماروں کے ساتھ کھانا کھانے میں حرج جانتے تھے کہ ایسا نہ ہو وہ کھا نہ سکیں اور ہم زیادہ کھالیں یا اچھا اچھا کھالیں تو اس آیت میں انہیں اجازت ملی کہ اس میں تم پر کوئی حرج نہیں۔ بعض لوگ کراہت کرکے بھی ان کے ساتھ کھانے کو نہیں بیٹھتے تھے، یہ جاہلانہ عادتیں شریعت نے اٹھا دیں۔“
مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ”لوگ ایسے لوگوں کو اپنے باپ بھائی بہن وغیرہ قریب رشتہ داروں کے ہاں پہنچا آتے تھے کہ وہ وہاں کھالیں یہ لوگ اس عار سے کرتے کہ ہمیں اوروں کے گھر لے جاتے ہیں اس پر یہ آیت اتری۔“
سدی رحمۃ اللہ کا قول ہے کہ ”انسان جب اپنے بہن بھائی وغیرہ کے گھر جاتا ہے وہ نہ ہوتے اور عورتیں کوئی کھانا انہیں پیش کرتیں تو یہ اسے نہیں کھاتے تھے کہ مرد تو ہیں نہیں نہ ان کی اجازت ہے۔ تو جناب باری تعالیٰ نے اس کے کھا لینے کی رخصت عطا فرمائی۔“
یہ جو فرمایا کہ ’ خود تم پر بھی حرج نہیں ‘ یہ تو ظاہر ہی تھا۔ اس کا بیان اس لیے کیا گیا کہ اور چیز کا اس پر عطف ہو اور اس کے بعد کا بیان اس حکم میں برابر ہو۔ بیٹوں کے گھروں کا بھی یہی حکم ہے گو لفظوں میں بیان نہیں آیا لیکن ضمناً ہے۔ بلکہ اسی آیت کے استدلال کر کے بعض نے کہا ہے کہ بیٹے کا مال بمنزلہ باپ کے مال کے ہے۔
سدی رحمۃ اللہ کا قول ہے کہ ”انسان جب اپنے بہن بھائی وغیرہ کے گھر جاتا ہے وہ نہ ہوتے اور عورتیں کوئی کھانا انہیں پیش کرتیں تو یہ اسے نہیں کھاتے تھے کہ مرد تو ہیں نہیں نہ ان کی اجازت ہے۔ تو جناب باری تعالیٰ نے اس کے کھا لینے کی رخصت عطا فرمائی۔“
یہ جو فرمایا کہ ’ خود تم پر بھی حرج نہیں ‘ یہ تو ظاہر ہی تھا۔ اس کا بیان اس لیے کیا گیا کہ اور چیز کا اس پر عطف ہو اور اس کے بعد کا بیان اس حکم میں برابر ہو۔ بیٹوں کے گھروں کا بھی یہی حکم ہے گو لفظوں میں بیان نہیں آیا لیکن ضمناً ہے۔ بلکہ اسی آیت کے استدلال کر کے بعض نے کہا ہے کہ بیٹے کا مال بمنزلہ باپ کے مال کے ہے۔
مسند اور سنن میں کئی سندوں سے حدیث ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3530، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]
اور جن لوگوں کے نام آئے ان سے استدلال کر کے بعض نے کہا ہے کہ قرابت داروں کا نان و نفقہ بعض کا بعض پر واجب ہے جیسے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا اور امام احمد رحمہ اللہ کے مذہب کا مشہور مقولہ ہے ”جس کی کنجیاں تمہاری ملکیت میں ہیں اس سے مراد غلام اور داروغے ہیں کہ وہ اپنے آقا کے مال سے حسب ضرورت و دستور کھا پی سکتے ہیں۔“
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ { جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ میں جاتے تو ہر ایک کی چاہت یہی ہوتی کہ ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جائیں، جاتے ہوئے اپنے خاص دوستوں کو اپنی کنجیاں دے جاتے اور ان سے کہہ دیتے کہ جس چیز کے کھانے کی تمہیں ضرورت ہو ہم تمہیں رخصت دیتے ہیں لیکن تاہم یہ لوگ اپنے آپ کو امین سمجھ کر اور اس خیال سے کہ مبادا ان لوگوں نے بادل ناخواستہ اجازت دی ہو، کسی کھانے پینے کی چیز کو نہ چھوتے اس پر یہ حکم نازل ہوا }۔
اور جن لوگوں کے نام آئے ان سے استدلال کر کے بعض نے کہا ہے کہ قرابت داروں کا نان و نفقہ بعض کا بعض پر واجب ہے جیسے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا اور امام احمد رحمہ اللہ کے مذہب کا مشہور مقولہ ہے ”جس کی کنجیاں تمہاری ملکیت میں ہیں اس سے مراد غلام اور داروغے ہیں کہ وہ اپنے آقا کے مال سے حسب ضرورت و دستور کھا پی سکتے ہیں۔“
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ { جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ میں جاتے تو ہر ایک کی چاہت یہی ہوتی کہ ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جائیں، جاتے ہوئے اپنے خاص دوستوں کو اپنی کنجیاں دے جاتے اور ان سے کہہ دیتے کہ جس چیز کے کھانے کی تمہیں ضرورت ہو ہم تمہیں رخصت دیتے ہیں لیکن تاہم یہ لوگ اپنے آپ کو امین سمجھ کر اور اس خیال سے کہ مبادا ان لوگوں نے بادل ناخواستہ اجازت دی ہو، کسی کھانے پینے کی چیز کو نہ چھوتے اس پر یہ حکم نازل ہوا }۔
پھر فرمایا کہ ’ تمہارے دوستوں کے گھروں سے بھی کھا لینے میں تم پر کوئی پکڑ نہیں جب کہ تمہیں علم ہو کہ وہ اس سے برا نہ مانے گا اور ان پر یہ شاق نہ گزرے گا ‘۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”تو جب اپنے دوست کے ہاں جائے تو بلا اجازت اس کے کھانے کو کھا لینے کی رخصت ہے۔“
پھر فرمایا ’ تم پر ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے میں اور جدا جدا ہو کر کھانے میں بھی کوئی گناہ نہیں ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جب آیت «يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ» ۱؎ [4-النساء:29] اتری یعنی ’ ایمان والو ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ ‘ چنانچہ وہ اس سے بھی رک گئے اس پر یہ آیت اتری اسی طرح سے تنہاخوری سے بھی کراہت کرتے تھے جب تک کوئی ساتھی نہ ہو کھاتے نہیں تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس حکم میں دونوں باتوں کی اجازت دی یعنی دوسروں کے ساتھ کھانے کی اور تنہا کھانے کی۔“
قبیلہ بنو کنانہ کے لوگ خصوصیت سے اس مرض میں مبتلا تھے بھوکے ہوتے تھے لیکن جب تک ساتھ کھانے والا کوئی نہ ہو کھاتے نہ تھے سواری پر سوار ہو کر ساتھ کھانے والے کی تلاش میں نکلتے تھے پس اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تنہا کھانے کر رخصت نازل فرما کر جاہلیت کی اس سخت رسم کو مٹا دیا۔ اس آیت میں گو تنہا کھانے کی رخصت ہے لیکن یہ یاد رہے کہ لوگوں کے ساتھ مل کر کھانا افضل ہے اور زیادہ برکت بھی اسی میں ہے۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”تو جب اپنے دوست کے ہاں جائے تو بلا اجازت اس کے کھانے کو کھا لینے کی رخصت ہے۔“
پھر فرمایا ’ تم پر ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے میں اور جدا جدا ہو کر کھانے میں بھی کوئی گناہ نہیں ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جب آیت «يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ» ۱؎ [4-النساء:29] اتری یعنی ’ ایمان والو ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ ‘ چنانچہ وہ اس سے بھی رک گئے اس پر یہ آیت اتری اسی طرح سے تنہاخوری سے بھی کراہت کرتے تھے جب تک کوئی ساتھی نہ ہو کھاتے نہیں تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس حکم میں دونوں باتوں کی اجازت دی یعنی دوسروں کے ساتھ کھانے کی اور تنہا کھانے کی۔“
قبیلہ بنو کنانہ کے لوگ خصوصیت سے اس مرض میں مبتلا تھے بھوکے ہوتے تھے لیکن جب تک ساتھ کھانے والا کوئی نہ ہو کھاتے نہ تھے سواری پر سوار ہو کر ساتھ کھانے والے کی تلاش میں نکلتے تھے پس اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تنہا کھانے کر رخصت نازل فرما کر جاہلیت کی اس سخت رسم کو مٹا دیا۔ اس آیت میں گو تنہا کھانے کی رخصت ہے لیکن یہ یاد رہے کہ لوگوں کے ساتھ مل کر کھانا افضل ہے اور زیادہ برکت بھی اسی میں ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ { ایک شخص نے آ کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھاتے تو ہیں لیکن آسودگی حاصل نہیں ہوتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { شاید تم الگ الگ کھاتے ہو گے؟ جمع ہو کر ایک ساتھ بیٹھ کر اللہ کا نام لے کر کھاؤ تو تمہیں برکت دی جائے گی } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3764،قال الشيخ الألباني:حسن]
ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مل کر کھاؤ، تنہا نہ کھاؤ، برکت مل بیٹھنے میں ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3287،قال الشيخ الألباني:ضعیف جدا]
پھر تعلیم ہوئی کہ گھروں میں سلام کر کے جایا کرو۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”جب تم گھر میں جاؤ تو اللہ کا سکھایا ہوا بابرکت بھلا سلام کہا کرو۔ میں نے تو آزمایا ہے کہ یہ سراسر برکت ہے۔“
ابن طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”تم میں سے جو گھر میں داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کہے۔“ عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ کیا یہ واجب ہے؟ فرمایا ”مجھے تو یاد نہیں کہ اس کے وجوب کا قائل کوئی ہو لیکن ہاں مجھے تو یہ بہت ہی پسند ہے کہ جب بھی گھر میں جاؤ سلام کر کے جاؤ۔ میں تو اسے کبھی نہیں چھوڑتا ہاں یہ اور بات ہے کہ میں بھول جاؤں۔“
مجاہد رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں ”جب مسجد میں جاؤ تو کہو «السَّلَام عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَاد اللَّه الصَّالِحِينَ» “ یہ بھی مروی ہے کہ یوں کہو «بِسْمِ اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ السَّلَام عَلَيْنَا مِنْ رَبّنَا السَّلَام عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَاد اللَّه الصَّالِحِينَ» یہی حکم دیا جا رہا ہے ایسے وقتوں میں تمہارے سلام کا جواب اللہ کے فرشتے دیتے ہیں۔“
ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مل کر کھاؤ، تنہا نہ کھاؤ، برکت مل بیٹھنے میں ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3287،قال الشيخ الألباني:ضعیف جدا]
پھر تعلیم ہوئی کہ گھروں میں سلام کر کے جایا کرو۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”جب تم گھر میں جاؤ تو اللہ کا سکھایا ہوا بابرکت بھلا سلام کہا کرو۔ میں نے تو آزمایا ہے کہ یہ سراسر برکت ہے۔“
ابن طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”تم میں سے جو گھر میں داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کہے۔“ عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ کیا یہ واجب ہے؟ فرمایا ”مجھے تو یاد نہیں کہ اس کے وجوب کا قائل کوئی ہو لیکن ہاں مجھے تو یہ بہت ہی پسند ہے کہ جب بھی گھر میں جاؤ سلام کر کے جاؤ۔ میں تو اسے کبھی نہیں چھوڑتا ہاں یہ اور بات ہے کہ میں بھول جاؤں۔“
مجاہد رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں ”جب مسجد میں جاؤ تو کہو «السَّلَام عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَاد اللَّه الصَّالِحِينَ» “ یہ بھی مروی ہے کہ یوں کہو «بِسْمِ اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ السَّلَام عَلَيْنَا مِنْ رَبّنَا السَّلَام عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَاد اللَّه الصَّالِحِينَ» یہی حکم دیا جا رہا ہے ایسے وقتوں میں تمہارے سلام کا جواب اللہ کے فرشتے دیتے ہیں۔“
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ باتوں کی وصیت کی ہے فرمایا ہے { اے انس! کامل وضو کرو تمہاری عمر بڑھے گی۔ جو میرا امتی ملے سلام کرو نیکیاں بڑھیں گی، گھر میں سلام کر کے جایا کرو گھر کی خیریت بڑھے گی۔ ضحٰی کی نماز پڑھتے رہو تم سے اگلے لوگ جو اللہ والے بن گئے تھے ان کا یہی طریقہ تھا۔ اے انس! چھوٹوں پر رحم کر بڑوں کی عزت و توقیر کر تو قیامت کے دن میرا ساتھی ہوگا } }۔ ۱؎ [ابن عدی فی الکامل:382/5:ضعیف]
پھر فرماتا ہے ’ یہ دعائے خیر ہے جو اللہ کی طرف سے تمہیں تعلیم کی گئی ہے برکت والی اور عمدہ ہے ‘۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے تو التحیات قرآن سے ہی سیکھی ہے نماز کی التحیات یوں ہے «التَّحِيَّات الْمُبَارَكَات الصَّلَوَات الطَّيِّبَات لِلَّهِ أَشْهَد أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَأَشْهَد أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْده وَرَسُوله السَّلَام عَلَيْك أَيّهَا النَّبِيّ وَرَحْمَة اللَّه وَبَرَكَاته السَّلَام عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَاد اللَّه الصَّالِحِينَ» اسے پڑھ کر نمازی کو اپنے لیے دعا کرنی چاہیئے پھر سلام پھیر دے۔“
انہی ابن عباس رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً صحیح مسلم شریف میں اس کے سوا بھی مروی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ۱؎ [صحیح مسلم:403]
اس سورۃ کے احکام کا ذکر کرکے پھر فرمایا کہ ’ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے سامنے اپنے واضح احکام مفید فرمان کھول کھول کر اسی طرح بیان فرمایا کرتا ہے تاکہ وہ غور وفکر کریں، سوچیں سمجھیں اور عقلمندی حاصل کریں ‘۔
پھر فرماتا ہے ’ یہ دعائے خیر ہے جو اللہ کی طرف سے تمہیں تعلیم کی گئی ہے برکت والی اور عمدہ ہے ‘۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے تو التحیات قرآن سے ہی سیکھی ہے نماز کی التحیات یوں ہے «التَّحِيَّات الْمُبَارَكَات الصَّلَوَات الطَّيِّبَات لِلَّهِ أَشْهَد أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَأَشْهَد أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْده وَرَسُوله السَّلَام عَلَيْك أَيّهَا النَّبِيّ وَرَحْمَة اللَّه وَبَرَكَاته السَّلَام عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَاد اللَّه الصَّالِحِينَ» اسے پڑھ کر نمازی کو اپنے لیے دعا کرنی چاہیئے پھر سلام پھیر دے۔“
انہی ابن عباس رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً صحیح مسلم شریف میں اس کے سوا بھی مروی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ۱؎ [صحیح مسلم:403]
اس سورۃ کے احکام کا ذکر کرکے پھر فرمایا کہ ’ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے سامنے اپنے واضح احکام مفید فرمان کھول کھول کر اسی طرح بیان فرمایا کرتا ہے تاکہ وہ غور وفکر کریں، سوچیں سمجھیں اور عقلمندی حاصل کریں ‘۔