ترجمہ و تفسیر — سورۃ النور (24) — آیت 4

وَ الَّذِیۡنَ یَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ ثُمَّ لَمۡ یَاۡتُوۡا بِاَرۡبَعَۃِ شُہَدَآءَ فَاجۡلِدُوۡہُمۡ ثَمٰنِیۡنَ جَلۡدَۃً وَّ لَا تَقۡبَلُوۡا لَہُمۡ شَہَادَۃً اَبَدًا ۚ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ۙ﴿۴﴾
اور وہ لوگ جو پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں، پھر چار گواہ نہ لائیں تو انھیں اسی (۸۰) کوڑے مارو اور ان کی کوئی گواہی کبھی قبول نہ کرو اور وہی نافرمان لوگ ہیں۔ En
اور جو لوگ پرہیزگار عورتوں کو بدکاری کا عیب لگائیں اور اس پر چار گواہ نہ لائیں تو ان کو اسی درے مارو اور کبھی ان کی شہادت قبول نہ کرو۔ اور یہی بدکردار ہیں
En
جو لوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں پھر چار گواه نہ پیش کرسکیں تو انہیں اسی کوڑے لگاؤ اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو۔ یہ فاسق لوگ ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4) ➊ { وَ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ: الْمُحْصَنٰتِ } سے مراد پاک دامن عورتیں ہیں، کنواری ہوں یا شادی شدہ۔ ان پر تہمت لگانے سے مراد زنا کی تہمت ہے، کیونکہ پاک دامن عورتوں کا لفظ قرینہ ہے کہ ان پر تہمت پاک دامن نہ ہونے ہی کی ہے۔اس کے علاوہ چار گواہوں کی شہادت بھی دلیل ہے کہ مراد زنا کی تہمت ہے، اگر کوئی شخص کسی پر چوری یا شراب نوشی یا کفر وغیرہ کی تہمت لگائے تو اس پر حد قذف نافذ نہیں کی جائے گی، بلکہ حاکم کی صواب دید کے مطابق تعزیر ہو گی۔ اگرچہ یہاں ذکر پاک دامن عورتوں کا ہے مگر اس میں پاک دامن مرد بھی شامل ہیں، ان پر بہتان لگانے والوں پر بھی یہی حد لاگو ہو گی، کیونکہ جس علت کی بنا پر پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی حد مقرر کی گئی ہے وہی علت پاک دامن مردوں پر تہمت لگانے میں بھی موجود ہے۔ اس لیے پوری امت کا اجماع ہے کہ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی حد پاک دامن مرد پر تہمت لگانے والے پر بھی نافذ کی جائے گی۔ یہاں عورتوں کا ذکر اس لیے ہے کہ ان پر تہمت زیادہ تکلیف دہ اور باعث عار ہوتی ہے اور اس لیے بھی کہ آگے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا پر تہمت کا ذکر آ رہا ہے۔
➋ جو شخص کسی پاک دامن عورت پر زنا کی تہمت لگائے اس سے مطالبہ کیا جائے گا کہ اپنے دعوے کے ثبوت کے لیے چار مسلمان عادل مرد گواہ پیش کرے۔ (دیکھیے نساء: ۱۵) دوسرے کسی جرم کے ثبوت کے لیے چار گواہ مقرر نہیں کیے گئے۔ اگر کسی شخص نے کسی کو زنا کرتے ہوئے اپنی آنکھوں سے بھی دیکھا ہے تو اگر اس کے پاس مزید تین گواہ نہیں تو اسے اجازت نہیں کہ اس کا ذکر کرے، بلکہ اسے خاموش رہنے کا حکم ہے، تاکہ وہ گندگی جہاں ہے وہیں تک محدود رہے، معاشرے میں لوگوں کے ناجائز تعلقات کے چرچے نہ ہوں، کیونکہ اس سے بے شمار برائیاں پھیلتی ہیں، ماحول میں زنا کا تذکرہ اسے پھیلانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ کوئی شخص اگر چھپ کر زنا کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا اتنا نقصان نہیں جتنا زنا کی اشاعت (بے حیائی کی بات پھیلانے) سے معاشرے کا نقصان ہوتا ہے۔ ہاں، اگر کوئی شخص اتنی دیدہ دلیری سے زنا کرتا ہے کہ چار مرد اسے عین حالت زنا میں دیکھتے ہیں تو انھیں اجازت ہے کہ اسے حاکم کے پاس لے جائیں، تاکہ وہ اس پر حد نافذ کرکے اس خبیث فعل کی روک تھام کرے۔ ایک طرف زنا کی سخت ترین حد مقرر فرمائی، دوسری طرف لوگوں کی عزتوں کی حفاظت اور ان کی کمزوریوں پر پردے کے لیے حکم دیا کہ جو شخص کسی پاک دامن پر زنا کا الزام لگائے، پھر چار گواہ پیش نہ کرے تو اسے بہتان کی حد لگاؤ۔ بہتان لگانے والا مرد ہو یا عورت، جیسا کہ حسان بن ثابت اور مسطح بن اثاثہ(رضی اللہ عنھما) کے ساتھ حمنہ بنت جحش(رضی اللہ عنھا) پر بھی حد قذف لگائی گئی تھی۔
➌ جو شخص کسی پاک دامن مسلم مرد یا عورت پر زنا کا الزام لگائے، پھر چار گواہ نہ لا سکے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق تین حکم دیے ہیں، پہلا یہ کہ اسے اسّی (۸۰) کوڑے مارو، دوسرا یہ کہ اس کی کوئی شہادت کبھی قبول نہ کرو اور تیسرا یہ کہ یہی لوگ فاسق (نافرمان) ہیں ({اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ} میں قصرِ قلب ہے)، نہ کہ وہ لوگ جنھیں یہ فاسق ثابت کرنا چاہتے تھے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

4-1اس میں (بہتان تراشی) کی سزا بیان کی گئی ہے کہ جو شخص کسی پاک دامن عورت یا مرد پر زنا کی تہمت لگائے اس طرح جو عورت کسی پاک دامن مرد یا عورت پر زنا کی تہمت لگائے اور بطور ثبوت چار گواہ پیش نہ کرسکے تو اس کے لئے تین حکم بیان کئے گئے ہیں -1 انھیں اسی کوڑے لگائے جائیں -2 ان کی شہادت قبول نہ کی جائے -3 وہ عند اللہ و عندالناس فاسق ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ اور جو لوگ پاکدامن عورتوں [7] پر تہمت لگائیں پھر چار گواہ پیش نہ کر سکیں انھیں اسی کوڑے لگاؤ اور آئندہ کبھی ان شہادت قبول نہ کرو۔ اور یہی لوگ بد کردار [8] ہیں۔
[7] کسی پر تہمت لگانا بہت بڑا گناہ ہے:۔
یہاں محصن کا لفظ صرف پاکباز یا بے قصور کے معنوں میں آیا ہے۔ خواہ وہ عورت کنواری ہو یا شادی شدہ ہو۔ حتیٰ کہ بعض علماء کے نزدیک پاکباز لونڈی پر تہمت زنا لگانا بھی اس شامل ہے۔ اور یہ حکم صرف مردوں کے لئے نہیں بلکہ عورتوں کے لئے بھی ہے کہ وہ پاکباز مردوں پر ایسی تہمت نہ لگائیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گناہ کو ان سات بڑے بڑے گناہوں میں شمار کیا ہے جو انسان کو ہلاک کر دینے والے ہیں۔ [بخاری۔ کجتاب الوصایا۔ باب قول اللہ اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمیٰ۔۔۔ الأیة]
تہمت کے اثبات کے لیے چار شہادتیں کیوں؟
زنا کی شہادت سے مراد تو ایسی شہادت ہے جس میں وضاحت کے ساتھ فعل زنا کی شہادت ہو اور تہمت زنا کی شہادت سے مراد ایسے قرائن کی شہادت ہے جیسے کوئی یہ گواہی دے کہ میں نے فلاں اجنبی مرد اور عورت کو خلوت میں دیکھا ہے۔ یا بوس و کنار کرتے دیکھا ہے یا کوئی کسی کو ولد الزنا یا ولد الحرام کہے۔ ایسے مدعی کے لئے چار شہادتوں کا پیش کرنا ضروری ہے۔ اور ظاہر ہے کہ ایسی چار شہادتیں میسر آنا نہایت مشکل ہے۔ لہٰذا شہادتوں کے اس سخت نصاب اور پھر سخت سزا سے اصل مقصود یہی معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص کوئی برائی دیکھ بھی لے تو اس کے لئے دو ہی راستے ہیں۔ یا تو وہ پردہ پوشی کرے اور مطلقاً اس کی تشہیر نہ کرے۔ یا پھر چار شہادتیں مہیا کر کے صرف حکومت کو مطلع کرے تاکہ حکومت ملزموں کا جرم ثابت ہو جانے پر انھیں سزا دے کر اس گندگی کا سد باب کرے۔ تیسری راہ اختیار کرنا یعنی عام لوگوں میں ایسی باتیں پھیلانا معاشرہ کے حق میں اور خود اس کے حق میں انتہائی خطرناک ہے۔ دوسری بات محصنٰت کے لفظ سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ جو مرد یا عورت پہلے ہی بدنام مشہور ہو چکے ہوں یا پہلے ہی سزا یافتہ ہوں ان پر الزام لگانے سے نہ حد پڑے گی اور نہ ہی وہ غیر مقبول الشہادت قرار پائیں گے تاہم انھیں ایسے کام سے پرہیز کرنا چاہئے۔
[8] پردہ پوشی کس لحاظ سے بہتر ہے؟
خواہ ایسے لوگ اپنی بات یا دعویٰ میں حقیقتاً سچ ہوں مگر مکمل ثبوت فراہم نہ ہونے کے باعث جھوٹے قرار پا گئے ہوں تب بھی ایسے لوگ بد کردار ہیں۔ اللہ کے ہاں بھی اور لوگوں کے ہاں بھی۔ اور ان کی بد کرداری یہ ہے کہ ایسی فحاشی کی بات کو معاشرے میں پھیلانا شروع کر دیا۔ جسے وہ ثابت نہیں کر سکے۔ لہٰذا مسلمانوں کے لئے راہ نجات پردہ پوشی میں ہی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

تہمت لگانے والے مجرم ٭٭
جو لوگ کسی عورت پر یا کسی مرد پر زناکاری کی تہمت لگائیں اور ثبوت نہ دے سکیں، تو انہیں اسی کوڑے لگائے جائیں گے، ہاں اگر شہادت پیش کر دیں تو حد سے بچ جائیں گے اور جن پر جرم ثابت ہوا ہے ان پر حد جاری کی جائے گی۔ اگر شہادت نہ پیش کر سکے تو اسی کوڑے بھی لگیں گے اور آئندہ کیلئے ہمیشہ ان کی شہادت غیر مقبول رہے گی اور وہ عادل نہیں بلکہ فاسق سمجھے جائیں گے۔
اس آیت میں جن لوگوں کو مخصوص اور مستثنیٰ کر دیا ہے تو بعض تو کہتے ہیں کہ یہ استثنا صرف فاسق ہونے سے ہے یعنی بعد از توبہ وہ فاسق نہیں رہیں گے، بعض کہتے ہیں نہ فاسق رہیں گے نہ مردود الشہادۃ بلکہ پھر ان کی شہادت بھی لی جائے گی۔ ہاں حد جو ہے وہ توبہ سے کسی طرح ہٹ نہیں سکتی۔ امام مالک، احمد اور شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب تو یہ ہے کہ توبہ سے شہادت کا مردود ہونا اور فسق ہٹ جائے گا۔ سید التابعین سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ اور سلف کی ایک جماعت کا یہی مذہب ہے، لیکن امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں صرف فسق دور ہو جائے گا لیکن شہادت قبول نہیں ہوسکتی۔ بعض اور لوگ بھی یہی کہتے ہیں۔ شعبی اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہ اگر اس نے اس بات کا اقرار کر لیا کہ اسے بہتان باندھا تھا اور پھر توبہ بھی پوری کی تو اس کی شہادت اس کے بعد مقبول ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔