ترجمہ و تفسیر — سورۃ النور (24) — آیت 33

وَ لۡیَسۡتَعۡفِفِ الَّذِیۡنَ لَا یَجِدُوۡنَ نِکَاحًا حَتّٰی یُغۡنِیَہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ؕ وَ الَّذِیۡنَ یَبۡتَغُوۡنَ الۡکِتٰبَ مِمَّا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ فَکَاتِبُوۡہُمۡ اِنۡ عَلِمۡتُمۡ فِیۡہِمۡ خَیۡرًا ٭ۖ وَّ اٰتُوۡہُمۡ مِّنۡ مَّالِ اللّٰہِ الَّذِیۡۤ اٰتٰىکُمۡ ؕ وَ لَا تُکۡرِہُوۡا فَتَیٰتِکُمۡ عَلَی الۡبِغَآءِ اِنۡ اَرَدۡنَ تَحَصُّنًا لِّتَبۡتَغُوۡا عَرَضَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ؕ وَ مَنۡ یُّکۡرِہۡہُّنَّ فَاِنَّ اللّٰہَ مِنۡۢ بَعۡدِ اِکۡرَاہِہِنَّ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۳۳﴾
اور حرام سے بہت بچیں وہ لوگ جو نکاح کا کوئی سامان نہیں پاتے، یہاں تک کہ اللہ انھیں اپنے فضل سے غنی کر دے اور وہ لوگ جو مکاتبت ( آزادی کی تحریر) طلب کرتے ہیں، ان میں سے جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ ہیں تو ان سے مکاتبت کر لو، اگر ان میں کچھ بھلائی معلوم کرو اور انھیں اللہ کے مال میں سے دو جو اس نے تمھیں دیا ہے، اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو، اگر وہ پاک دامن رہنا چاہیں، تاکہ تم دنیا کی زندگی کا سامان طلب کرو اور جو انھیں مجبور کرے گا تو یقینا اللہ ان کے مجبور کیے جانے کے بعد بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
اور جن کو بیاہ کا مقدور نہ ہو وہ پاک دامنی کو اختیار کئے رہیں یہاں تک کہ خدا ان کو اپنے فضل سے غنی کردے۔ اور جو غلام تم سے مکاتبت چاہیں اگر تم ان میں (صلاحیت اور) نیکی پاؤ تو ان سے مکاتبت کرلو۔ اور خدا نے جو مال تم کو بخشا ہے اس میں سے ان کو بھی دو۔ اور اپنی لونڈیوں کو اگر وہ پاک دامن رہنا چاہیں تو (بےشرمی سے) دنیاوی زندگی کے فوائد حاصل کرنے کے لئے بدکاری پر مجبور نہ کرنا۔ اور جو ان کو مجبور کرے گا تو ان (بیچاریوں) کے مجبور کئے جانے کے بعد خدا بخشنے والا مہربان ہے
En
اور ان لوگوں کو پاک دامن رہنا چاہیئے جو اپنا نکاح کرنے کا مقدور نہیں رکھتے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے مالدار بنا دے، تمہارے غلاموں میں جو کوئی کچھ تمہیں دے کر آزادی کی تحریر کرانی چاہے تو تم ایسی تحریر انہیں کردیا کرو اگر تم کو ان میں کوئی بھلائی نظر آتی ہو۔ اور اللہ نے جو مال تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے انہیں بھی دو، تمہاری جو لونڈیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیا کی زندگی کے فائدے کی غرض سے بدکاری پر مجبور نہ کرو اور جو انہیں مجبور کردے تو اللہ تعالیٰ ان پر جبر کے بعد بخشش دینے واﻻ اور مہربانی کرنے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 33) ➊ {وَ لْيَسْتَعْفِفِ الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ نِكَاحًا: عَفَّ يَعِفُّ عَفَافًا وَ عِفَّةً} اس چیز سے باز رہنا جو حلال نہ ہو یا جمیل نہ ہو۔ {اِسْتَعَفَّ} اور { تَعَفَّفَ} کا بھی یہی معنی ہے۔ (القاموس) { وَ لْيَسْتَعْفِفِ } میں حروف کے اضافے کی وجہ سے معنی میں اضافہ ہو گیا، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے اور حرام سے بہت بچیں۔ یعنی جو لوگ کسی وجہ سے نکاح نہ کر سکیں، مثلاً رشتہ نہ ملے، یا مہر میسر نہ ہو، یا غلام کو اس کا مالک نکاح کی اجازت نہ دے، یا کسی اور وجہ سے حالات سازگار نہ ہوں تو وہ حرام سے بچنے کی بہت زیادہ کوشش کریں، یعنی زنا، قوم لوط کے عمل اور استمنا بالید وغیرہ سے باز رہیں۔ اس کوشش میں نگاہ نیچی رکھنا، بلااجازت دوسروں کے گھروں میں نہ جانا اور خیالات کو پاکیزہ رکھنا وغیرہ آداب شامل ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کی اس منہ زور قوت یعنی شہوت کی آفات سے محفوظ رہنے کے لیے نکاح کا حکم دیا اور جسے نکاح میسر نہ ہو اسے زیادہ سے زیادہ نفلی روزے رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا: یہ اس کے لیے (شہوت) کچلنے کا باعث ہو گا۔ [دیکھیے بخاري: ۱۹۰۵] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہوت کو روزے کے ساتھ کچلنے کا حکم دیا، کیونکہ اس سے شہوت کمزور ہونے کے علاوہ ضبط نفس کی عادت بھی پڑتی ہے۔ بعض اوقات خیال ہوتا ہے کہ روزے سے تو شہوت قوی ہوئی ہے، یہ خیال فرض روزوں یا کبھی کبھار روزے کی حد تک تو صحیح ہے، کیونکہ جب صحت بہتر ہوتی ہے تو ہر قوت مضبوط ہوتی ہے، مگر مسلسل روزے رکھنے کا نتیجہ وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا اور آپ کے تجویز کر دہ نسخے میں ضبط نفس کی عادت بھی ہے اور کوئی نقصان بھی نہیں، کیونکہ روزے چھوڑنے سے وہ قوت پھر بحال ہو جائے گی جو افزائش نسل اور زمین کی رونق کا ذریعہ ہے۔ اس کے برعکس اگر کوئی شخص مسلسل دھنیا، یا کافور، یا پوٹاشیم برومائید، یا ایسی دوائیں استعمال کرے جن سے شہوت ختم ہو جائے تو اس کا نتیجہ نہایت نقصان دہ نکلتا ہے، کیونکہ دوائیں چھوڑنے کے باوجود بعض اوقات وہ قوت دوبارہ بحال ہی نہیں ہوتی، یہ ایک قسم کا خصی ہونا ہے، جو حرام ہے۔
➋ { حَتّٰى يُغْنِيَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ:} اس میں پاک دامن رہنے والوں کے لیے وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں غنی کرے گا اور ان کے لیے آسانی پیدا فرمائے گا۔ مومن کا اللہ کے وعدے پر یقین اس کے لیے انتظار کی مشقت کو آسان بنا دیتا ہے۔ (سعدی)
عرفی اگر بگریہ میسر شدے وصال
صد سال می تو اں بتمنا گریستن
عرفی! اگر رونے سے وصل کی دولت میسر ہو سکتی تو تمنا میں سو سال بھی رویا جا سکتا ہے۔
➌ {وَ الَّذِيْنَ يَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ …: الْكِتٰبَ } باب مفاعلہ کا مصدر ہے، جیسے {قَاتَلَ يُقَاتِلُ مُقَاتَلَةً وَ قِتَالًا} ہے، یعنی غلام اور اس کے مالک کے درمیان آزادی کی تحریر کہ غلام اتنی رقم قسطوں میں فلاں مدت تک ادا کرے گا تو اسے آزادی مل جائے گی، اسے {اَلْكِتَابُ، اَلْكِتَابَةُ } یا {اَلْمُكَاتَبَةُ } کہتے ہیں۔ پچھلی آیت میں مالکوں کو اپنے صالح غلاموں اور لونڈیوں کا نکاح کرنے کا حکم دیا۔ ان کے نکاح میں دو بڑی رکاوٹیں ہو سکتی تھیں، ایک یہ کہ مالک انھیں نکاح کی اجازت نہ دے، دوسری یہ کہ وہ خود نکاح سے اجتناب کریں، کیونکہ غلام ہوتے ہوئے ان کے جتنے بچے پیدا ہوں گے، وہ ان کی طرح ان کے مالک کے غلام ہوں گے۔ ان دونوں رکاوٹوں کا حل یہ تھا کہ وہ آزادی حاصل کرنے کی کوشش کریں اور اس کے لیے مالک کے ساتھ مکاتبت کر لیں۔ اللہ تعالیٰ نے مالکوں کو مکاتبت کا تقاضا کرنے والے لونڈی اور غلاموں کے ساتھ مکاتبت کرنے کا حکم دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مکاتبت کا تقاضا کرنے والے غلاموں کے ساتھ مکاتبت سے انکار جائز نہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ امر وجوب کے لیے ہوتا ہے، اگر اس کے خلاف کوئی قرینہ نہ ہو۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں یہی آیت: «{ وَ الَّذِيْنَ يَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ …}» درج کرنے کے بعد لکھا ہے کہ ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطاء (تابعی کبیر) سے کہا: کیا مجھ پر واجب ہے کہ میں اپنے غلام سے مکاتبت کروں، جب مجھے معلوم ہو کہ اس کے پاس مال ہے؟ تو انھوں نے فرمایا: میں تو اسے واجب ہی سمجھتا ہوں۔ عمرو بن دینار نے بیان کیا کہ میں نے عطاء سے پوچھا: کیا آپ یہ بات کسی سے نقل کرتے ہیں؟ انھوں نے فرمایا: نہیں پھر انھوں نے مجھے بتایا کہ انھیں موسیٰ بن انس نے بیان کیا کہ (مشہور امام محمد بن سیرین کے والد) سیرین نے انس رضی اللہ عنہ سے مکاتبت کا تقاضا کیا اور وہ بہت مال والا تھا، انس رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا تو سیرین، عمر رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا، انھوں نے فرمایا: اس سے مکاتبت کرو۔ انس رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھتے ہوئے انھیں درّے کے ساتھ مارا: «{ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِيْهِمْ خَيْرًا تو انس رضی اللہ عنہ نے اس سے مکاتبت کر لی۔ [بخاري، المکاتب، باب المکاتب و نجومہ …، قبل ح: ۲۵۶۰] اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی مالک غلام کے ساتھ مکاتبت کرنے سے انکار کر دے تو غلام عدالت میں جا سکتا ہے اور حاکم مالک کو مکاتبت پر مجبور کرے گا، جیسا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے درّے کے ساتھ مارنے سے ثابت ہوتا ہے۔
➍ { اِنْ عَلِمْتُمْ فِيْهِمْ خَيْرًا:} بعض اہل علم نے خیر سے مراد مال لیا ہے، مگر ظاہر ہے کہ اس صورت میں {إِنْ عَلِمْتُمْ لَهُمْ خَيْرًا} ہونا چاہیے تھا، یعنی اگر تم ان کے پاس خیر کا علم رکھتے ہو، جبکہ یہاں الفاظ یہ ہیں کہ اگر تم ان میں خیر کا علم رکھتے ہو۔ اس لیے خیر کا مطلب یہ ہے کہ ان میں اتنی استعداد اور قوت و امانت ہو کہ وہ کمائی کرکے اپنی قیمت ادا کر سکتے ہوں، مکاتبت کو کچھ عرصہ کام سے جان چھڑانے کا بہانہ نہ بنا رہے ہوں اور آزاد ہونے کے بعد چوری یا خیانت کے بغیر اپنی روزی کما سکتے ہوں، تاکہ آزاد ہو کر گدائی نہ کرتے پھریں اور مسلم معاشرے پر بوجھ نہ بنیں۔ خیر میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ نیک اور پاک باز ہوں، تاکہ آزاد ہو کر بدکاری اور چوری ڈاکے کا ارتکاب نہ کرتے پھریں۔
بعض اہلِ علم کا کہنا ہے کہ مالک کے لیے مکاتبت کا تقاضا قبول کرنا مستحب ہے، واجب نہیں، کیونکہ یہ فیصلہ اس نے کرنا ہے کہ اس میں خیر ہے یا نہیں، پھر غلام اس کا مال ہے جو زبردستی اس سے لینا جائز نہیں۔ مگر یہ بات درست نہیں، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے مکاتبت قبول کرنے کا حکم دیا ہے تو اس غلام کا حکم عام مال والا نہیں ہو سکتا اور غلام کو حق حاصل ہے کہ اگر مالک خواہ مخواہ اس میں خیر نہ ہو نے کا بہانہ بنا کر مکاتبت سے انکار کرتا ہے تو وہ اسلامی عدالت میں چلا جائے، جو سارے حالات کا جائزہ لے کر فیصلہ کرے گی کہ مالک کی بات درست ہے یا محض بہانہ ہے، جیسا کہ سیرین رحمہ اللہ کے عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جانے سے ظاہر ہے۔
➎ { وَ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِيْۤ اٰتٰىكُمْ:} یہ حکم مکاتب کے مالک کو بھی ہے کہ وہ طے شدہ رقم کا ایک حصہ اسے چھوڑ دے، یا جو کچھ اس سے لیا ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ واپس کر دے اور عام مسلمانوں کو بھی کہ ایسے غلاموں کو مال دے کر انھیں آزادی حاصل کرنے میں تعاون کریں۔ تعاون کی ترغیب کے لیے ارشاد ہے کہ تم جو مال انھیں دو گے وہ اللہ ہی کا عطا کردہ ہے اور اللہ تعالیٰ تمھیں حکم دے رہا ہے کہ اس کے دیے ہوئے مال میں سے انھیں دو، کیونکہ ایسے غلاموں کی مدد اس نے اپنے آپ پر حق قرار دی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ثَلَاثَةٌ حَقٌّ عَلَی اللّٰهِ عَزَّ وَ جَلَّ عَوْنُهُمُ الْمُكَاتَبُ الَّذِيْ يُرِيْدُ الْأَدَاءَ وَالنَّاكِحُ الَّذِيْ يُرِيْدُ الْعَفَافَ وَالْمُجَاهِدُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ] [نسائي، النکاح، باب معونۃ اللہ الناکح الذي یرید العفاف: ۳۲۲۰۔ ترمذي: ۱۶۵۵، قال الترمذي والألباني حسن] تین آدمیوں کی مدد اللہ پر حق ہے، وہ مکاتب جو ادائیگی کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ نکاح کرنے والا جو حرام سے بچنے کا ارادہ رکھتا ہے اور مجاہد فی سبیل اللہ۔ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے مصارف میں غلاموں کی آزادی کو باقاعدہ ایک مصرف مقرر فرمایا ہے، فرمایا: «{ وَ فِی الرِّقَابِ [التوبۃ: ۶۰] یعنی گردنوں کو غلامی سے آزاد کرانے میں زکوٰۃ خرچ کی جائے۔ اس لیے اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بیت المال میں سے مکاتب غلاموں کی رہائی کے لیے رقم خرچ کرے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک { فَكُّ رَقَبَةٍ } (گردن چھڑانا) عمل صالح کی دشوار گھاٹی کو عبور کرنے کا حصہ ہے۔ دیکھیے سورۂ بلد (۱۳)۔
مکاتب اپنی رہائی کے لیے لوگوں اور حکومت سے مالی امداد کی درخواست کر سکتا ہے، جیسا کہ بریرہ رضی اللہ عنھا نے اپنی مکاتبت میں امداد کے لیے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا سے درخواست کی اور انھوں نے پوری رقم یک مشت ادا کرکے انھیں خرید لیا اور آزاد کر دیا۔ [دیکھیے بخاري: ۲۱۶۸]
➏ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ عہد نبوی میں غلام تین قسم کے تھے، ایک وہ جو اصل میں آزاد تھے، لیکن کسی نے اغوا کر کے یا زبردستی غلام بنا لیا، دوسرے وہ جو نسل در نسل غلام چلے آتے تھے اور تیسرے وہ جو جنگ میں گرفتار کرکے لونڈی یا غلام بنائے جاتے تھے۔ ان غلاموں کی خرید و فروخت ہوتی تھی اور مالک ان کی محنت کو اپنی آمدنی کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ جس کے پاس جتنے زیادہ غلام ہوتے وہ اتنا ہی صاحب حیثیت سمجھا جاتا۔ اسلام نے جو غلام موجود تھے ان کی آزادی کے لیے ہر ممکن صورت اختیار فرمائی، مگر غلامی کو اس طرح ممنوع قرار نہیں دیا جس طرح شراب یا سود کو ممنوع قرار دیا اور نہ تمام غلام آزاد کرنے کا جبری حکم صادر فرمایا، بلکہ غلام آزاد کرنے کی ترغیب دی، اس کا ثواب بیان فرمایا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: [مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَعْتَقَ اللّٰهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنَ النَّارِ حَتّٰی يُعْتِقَ فَرْجَهُ بِفَرْجِهِ] [ترمذي، النذور و الأیمان، باب ما جاء في ثواب من أعتق رقبۃ: ۱۵۴۱، قال الترمذي حسن صحیح وقال الألباني صحیح] جو شخص کوئی مومن گردن آزاد کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اس کا ایک عضو آزاد کرے گا، یہاں تک کہ اس کی شرم گاہ کے بدلے اس کی شرم گاہ کو آزاد کرے گا۔ کئی کاموں کا کفارہ گردن آزاد کرنا مقرر فرمایا، مثلاً قسم، ظہار، قتلِ خطا اور فرض روزے کی حالت میں جماع کے کفارے میں ترجیح غلام آزاد کرنے کو دی۔ اس کے باوجود غلامی کو ممنوع اس لیے قرار نہیں دیا کہ قیامت تک جنگیں ہوتی رہیں گی اور قیدی بنتے رہیں گے۔ ایسے مواقع پر ایک غیر مسلم حکومت کے فوجی مفتوح قوم کی عورتوں پر جس طرح کی دست درازیاں کرتے اور ظلم و ستم ڈھاتے ہیں وہ ڈھکی چھپی بات نہیں۔ گزشتہ دونوں عالمگیر جنگوں میں بے بس قیدی عورتوں میں سے ایک ایک عورت سے جس طرح کئی کئی فوجیوں نے اپنی ہوس پوری کی اور جس درندگی کا ثبوت دیا وہ ان نام نہاد مہذب بھیڑیوں کے ماتھے پر لعنت کا بدترین داغ ہے۔ ان بیچاریوں کی صحت یا عزت یا اولاد کا ذمہ دار بننے کے لیے کوئی تیار نہیں ہوتا، جب کہ ہر ایک اپنی ہوس پوری کرنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرتا ہے۔ اسلام نے ایسی فحاشی اور درندگی کو حرام قرار دیا اور لونڈیاں بنانے کی پاکیزہ راہ کھولی، جس میں اسیر عورت ایک شخص کی لونڈی ہوتی ہے، صرف اس کے لیے اس سے بیوی کی طرح فائدہ اٹھانا جائز ہوتا ہے۔ اس سے پیدا ہونے والی اولاد بیوی سے پیدا ہونے والی اولاد کی طرح باپ کی وارث ہوتی ہے اور بچوں کی ماں بن جانے کی صورت میں وہ مالک کی وفات کے بعد خود بخود آزاد ہو جاتی ہے۔ اس کے وارث اسے آزاد کروانا چاہیں تو کسی حکومت سے معاملہ کرنے کے بجائے اس کے مالک سے لین دین کرکے آسانی کے ساتھ آزاد کروا سکتے ہیں۔ غرض اسلام کا غلامی کی اجازت دینا مردوں اور عورتوں کی پاکیزگی اور عفت کا ضامن ہے۔ کفار نے غلامی کو سر ے سے ممنوع قرار دے کر قیدی بننے والے مردوں اور عورتوں پر کوئی احسان نہیں کیا، بلکہ ظلم و ستم اور بدکاری و درندگی کا دروازہ کھولا ہے اور یہی کفر کا نتیجہ ہے، جب کہ اسلام عدل، رحم، پاکیزگی اور پاک دامنی کا ضامن ہے اور غلاموں اور لونڈیوں کی سہولت اور آسائش کا اہتمام کرتا ہے اور ہر ممکن طریقے سے انھیں آزادی دلانے کے راستے کھولتا ہے۔
➐ {وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَيٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ …: الْبِغَآءِ } کا معنی زنا ہے، مگر یہ لفظ صرف عورت کے زنا پر بولا جاتا ہے، کہا جاتا ہے: {بَغَتْ، تَبْغِيْ بِغَاءً، فَهِيَ بَغِيٌّ وَ لِلْجَمَاعَةِ بَغَايَا۔} {فَتَيَاتٌ فَتَاةٌ } کی جمع ہے، معنی اس کا جوان لڑکی ہے، جیسا کہ {فَتًي} کا معنی جوان لڑکا ہے۔ عام طور پر غلام اور لونڈی پر {عَبْدٌ} اور {أَمَةٌ} کا لفظ بولا جاتا ہے، جیسا کہ پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ اَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآىِٕكُمْ اس لیے غلام اور لونڈی پر {عَبْدٌ} اور {أَمَةٌ} کا لفظ بولنا جائز ہے، مگر بہتر یہ ہے کہ غلام کے لیے {فَتًي} اور لونڈی کے لیے {فَتَاةٌ} کا لفظ بولا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ عَبْدِيْ وَلَا أَمَتِيْ، وَلْيَقُلْ فَتَايَ وَفَتَاتِيْ وَغُلاَمِيْ] [بخاری، العتق، باب کراھیۃ التطاول علی الرقیق: ۲۵۵۲، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ] تم میں سے کوئی شخص {عَبْدِيْ} اور {أَمَتِيْ} نہ کہے، بلکہ {فَتَايَ، فَتَاتِيْ} اور{ غُلَامِيْ } کہے۔ یہاں لونڈیوں کے لیے {إِمَائَكُمْ} کے بجائے { فَتَيٰتِكُمْ } کا لفظ استعمال کرنے میں ان لونڈیوں کی فتوت (جواں مردی) کا بیان مقصود ہے کہ وہ لونڈیاں ہو کر بھی پاک دامن رہنا چاہتی ہیں۔ (بقاعی) یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو، اگر وہ پاک دامن رہنا چاہیں۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ پاک دامن نہ رہنا چاہیں تو انھیں بدکاری پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ اہل علم نے اس کا دو طرح سے جواب دیا ہے، ایک یہ کہ بدکاری پر مجبور اسی کو کیا جاتا ہے جو پاک دامن رہنا چاہے، جو پاک دامن رہنا ہی نہ چاہے اسے بدکاری پر مجبور کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے کہ کہا جائے اسے بدکاری پر مجبور نہ کرو۔ دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ لفظ { اِنْ } (اگر) یہاں شرط کے لیے نہیں بلکہ اس واقعہ کے بیان کے لیے ہے جس پر یہ آیت اتری۔ واقعہ یہ تھا کہ عبدا للہ بن ابی اور اس قسم کے بدقماش اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور کرتے تھے، جب کہ وہ پاک دامن رہنا چاہتی تھیں۔ چنانچہ جابر بن عبدا للہ رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن ابی ابن سلول کی ایک لونڈی کا نام مُسیکہ تھا اور دوسری کا نام امیمہ تھا، وہ انھیں بدکاری پر مجبور کرتا تھا، ان دونوں نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «‏‏‏‏وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَيٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَاوَ مَنْ يُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» ‏‏‏‏ [مسلم، التفسیر، باب في قولہ تعالٰی: «ولا تكرهوا فتياتكم علي البغاء» : 3029/27] اس کی ایک مثال یہ آیت ہے: «{ وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ يَّفْتِنَكُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [النساء: ۱۰۱] اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ نماز کچھ کم کر لو، اگر ڈرو کہ تمھیں وہ لوگ فتنے میں ڈال دیں گے جنھوں نے کفر کیا۔ یہاں خوف کا ذکر شرط کے لیے نہیں بلکہ اس واقعہ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہے جس موقع پر یہ آیت اتری تھی۔ یہ دوسرا جواب پہلے کی بہ نسبت زیادہ صحیح ہے، کیونکہ لونڈیاں پاک دامن نہ بھی رہنا چاہیں تو ضروری نہیں کہ وہ اس شخص سے زنا پر بھی راضی ہوں جس پر ان کا مالک انھیں مجبور کر رہا ہے۔
➑ { لِتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا:} اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر دنیا کا مال طلب کرنا مقصود نہ ہو تو لونڈیوں سے زنا کروایا جا سکتا ہے، بلکہ یہ بھی بیان واقعہ کے لیے ہے کہ یہ کام کرنے والوں کا مقصد دنیا کے سازو سامان کی طلب تھا۔ چنانچہ صحیح مسلم ہی کی ایک روایت میں ہے کہ عبد اللہ بن ابی اپنی ایک لونڈی سے کہا کرتا تھا کہ جاؤ اور ہمارے لیے کچھ تلاش کرکے لاؤ، تو اس پر یہ آیت اتری۔ [دیکھیے مسلم: ۳۰۲۹] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کی بدکاری کی کمائی سے منع فرمایا، ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ کی آمدنی اور کاہن کی شیرینی سے منع فرمایا۔ [بخاري، البیوع، باب ثمن الکلب: ۲۲۳۷] ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَا يَحِلُّ ثَمَنُ الْكَلْبِ وَلَا حُلْوَانُ الْكَاهِنِ وَلَا مَهْرُ الْبَغِيِّ] [نسائي، الصید والذبائح، باب النھي عن ثمن الکلب: ۴۲۹۸] نہ کتے کی قیمت حلال ہے، نہ کاہن کی شیرینی اور نہ زانیہ کی آمدنی۔
➒ { وَ مَنْ يُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ:} زنا ایک ایسا فعل ہے کہ مجبور ہو کر کرنے سے بھی نفس کی لذت کا دخل اس میں ہو ہی جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لونڈیوں کو مجبور کیے جانے کے بعد ان کی گناہ میں شرکت پر کوئی مؤاخذہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے لیے غفور و رحیم ہے، ان کا گناہ مجبور کرنے والوں پر ہے۔ علی بن ابی طلحہ کی روایت سے ابن عباس رضی اللہ عنھما کی تفسیر یہی ہے اور یہی ظاہر بھی ہے اور راجح بھی۔ تفسیر سعدی میں ہے: اس آیت میں لونڈیوں کو زنا پر مجبور کرنے والوں کو توبہ کی دعوت دی گئی ہے کہ وہ بھی اگر توبہ کریں تو اللہ تعالیٰ ان کے مجبور کرنے کے گناہ کے بعد بھی غفور و رحیم ہے، اس لیے انھیں چاہیے کہ اللہ کی جناب میں توبہ کریں اور آئندہ اس جرم سے باز آ جائیں۔ اس آیت کے علاوہ اللہ کی رحمت کی ایک جھلک اس آیت میں بھی دکھائی دیتی ہے: «{ اِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِ [البروج: ۱۰] یقینا وہ لوگ جنھوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو آزمائش میں ڈالا، پھر انھوں نے توبہ نہیں کی تو ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لیے جلنے کا عذاب ہے۔ کوئی حد ہے اللہ تعالیٰ کی صفت مغفرت و رحمت کی کہ اس کے دوستوں کو آگ میں جلا کر تماشا دیکھنے والوں کے لیے بھی جہنم کے عذاب کی وعید تب ہے جب انھوں نے توبہ نہ کی ہو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

33۔ اور جو لوگ نکاح (کا سامان) نہیں پاتے انھیں (زنا وغیرہ) سے بچے رہنا چاہیئے تا آنکہ اللہ انھیں اپنے فضل سے [53] غنی کر دے اور تمہارے غلاموں میں سے جو لوگ مکاتبت [54] کرنا چاہیں تو اگر تم ان میں بھلائی دیکھو تو ان سے مکاتبت کر لو۔ اور اس مال میں سے جو اللہ تمہیں دیا [55] ہے انھیں بھی دے دو۔ اور تمہاری لونڈیاں اگر پاکدامن رہنا چاہیں تو انہیں [56] اپنے دنیوی فائدوں کی خاطر بد کاری پر مجبور نہ کرو۔ اور جو کوئی انھیں مجبور کرے [57] تو ان پر جبر کے بعد اللہ تعالیٰ انھیں بخش دینے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
[53] اس آیت سے پہلی آیت کے حاشیہ میں ذکر ہو چکا ہے کہ جو جوان مرد نکاح اور خانہ داری کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے رکھنے کی تلقین فرمائی اور واضح فرما دیا کہ روزے رکھنا تمہارے عفیف اور پاکیزہ رہنے میں بہت مددگار ثابت ہو گا۔ کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسی ضبط نفس اور عفت کی برکت سے انہیں نکاح کا بہترین موقع مہیا فرما دے اور انھیں غنی بھی کر دے۔ کہ معاشرہ میں بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خود تو غنی ہوتے ہیں۔ لیکن وہ اپنی بیٹیوں کے رشتہ کے سلسلہ میں ایسا جوڑ چاہتے ہیں۔ جو شریف، نیک اور پاکیزہ سیرت انسان ہو۔ اور وہ اپنی بیٹی کی غربت کا خیال اس لئے نہیں کرتے کہ اس جوڑے کی غربت کا علاج ان کے پاس موجود ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں اللہ کے فضل کی بے شمار راہیں ہیں۔ انسان کو بس اس کا فرمانبردار بن کر رہنا چاہئے۔
[54] واضح رہے کہ عہد نبوی میں معاشرہ کا ایک کثیر حصہ غلاموں اور لونڈیوں پر مشتمل تھا۔ اور یہ معاشرہ کا جزو لاینفک بن چکا تھا۔ کسی شخص کی دولت کا معیار ہی یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس کے پاس کتنے غلام ہیں۔ گویا یہ غلام ان آزاد لوگوں کی آمدنی کا ذریعہ بنتے تھے۔ منڈیوں میں غلاموں کا آزادانہ خرید و فروخت ہوتی تھی۔ جیسے ہمارے ہاں بھیڑوں اور گائے بھینسوں کی ہوتی ہے۔ اسلام نے اس اس غلامی کے رواج کو سخت ناپسندیدہ سمجھا۔ غلاموں کی آزادی کے لئے ہر ممکن صورت اختیار کی لیکن شراب اور سود کی طرح اس کا کلی طور پر خاتمہ نہیں کیا۔ وجہ یہ ہے کہ تا قیامت جنگیں ہوتی رہیں گی اور قیدی بنتے رہیں گے۔ ایسے مواقع پر ایک غیر مسلم حکومت کے فوجی مفتوح قوم کی عورتوں پر جس طرح کی دست درازیاں کرتے اور ظلم و ستم ڈھاتے ہیں وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اسلام ایسی فحاشی اور ایسے مظالم کو حرام قرار دیتا ہے اور اس کے بجائے ملک یمین کی حلال راہیں کھولتا ہے۔ اسی اعلیٰ اخلاقی قدر کی بنا پر اسلام نے جنگی قیدیوں اور ملک یمین کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں کیا۔ اسلام نے غلامی کے رواج کی حوصلہ شکنی کے لئے بہت سے گناہوں کا کفارہ غلام کی آزادی قرار دیا۔ زکوٰۃ کے مصارف میں سے ایک مصرف یہ بھی فرمایا۔ مسلمانوں کو بہت بڑے اجر کا وعدہ فرما کر غلاموں کو آزاد کرنے اور کرانے کی ترغیب دی۔ غرض یہ باب بھی بڑا طویل ہے۔ ایسے ہی ذرائع میں سے مکاتبت بھی غلاموں کی آزادی کا ایک ذریعہ ہے۔ مکاتبت کا لغوی معنی تو باہمی تحریر یا لکھا پڑھی ہے۔ اور اصطلاحاً اس سے مراد وہ (تحریری یا زبانی) معاہدہ ہے جو غلاموں کی آزادی کے سلسلہ میں مالک اور غلاموں کے درمیان باہمی رضا مندی سے طے ہو جائے۔ مثلاً یہ کہ غلام یہ وعدہ کرے کہ میں اتنی رقم اتنی مدت کے بعد یا مدت کے اندر یکمشت یا بالاقساط ادا کروں گا اگر کوئی غلام اپنے مالک سے ایسی درخواست کرے تو مالک کو ایسی درخواست قبول کر لینا چاہئے۔ اس معاہدہ پر مزید کسی شرط کے اضافہ کی مالک کے لئے گنجائش نہیں ہوتی جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ظاہر ہے: عمر ہ بنت عبد الرحمٰن کہتی ہیں کہ: بریرہ لونڈی حضرت عائشہؓ کے پاس آئی وہ اپنی کتابت کے سلسلہ میں حضرت عائشہؓ سے مدد چاہتی تھی۔ انہوں نے کہا: ” اگر تو چاہے تو میں تیرے مالکوں کو رقم ادا کر دیتی ہوں مگر ولاء (تیرا ترکہ) میرا ہو گا“ اور اس کے مالکوں نے اسے کہا: اگر تو چاہے کتابت کی بقایا رقم دے دے پھر خواہ وہ مجھے آزاد کر دیں۔ مگر اس کا ترکہ ہم ہی لیں گے۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم بریرہ کو خرید کر آزاد کر دو۔ اور ترکہ تو اسی کا ہوتا ہے جو آزاد کرے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور فرمایا ” لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہیں۔ اور ایسی شرطیں جو اللہ کی کتاب میں نہ ہوں۔ خواہ کوئی سو شرطیں لگائے اسے کچھ بھی نہ ملے گا“ [بخاری۔ کتاب الصلوۃ۔ باب ذکر البیع والشراء فی المسجد]
اگر غلام مالک سے مکاتبت کرنا چاہے تو اسے مان لینا چاہیے :۔
مالک کے لئے یہ امر وجوب کے لئے ہے۔ یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ مالک اگر چاہے تو غلام کی مکاتبت کی درخواست کو قبول کرے اور چاہے تو نہ کرے اور مالک مکاتبت پر رضا مند نہ ہو تو اسے اسلام حکومت کی طرف سے ایسے معاہدہ کے لئے مجبور کیا جائے۔ البتہ ایسی مکاتبت کے لئے ایک شرط اللہ تعالیٰ نے خود ہی بتا دی ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر مالک اپنی دیانتداری کے ساتھ اپنے لالچ کے بغیر یہ سمجھے کہ یہ آزادی فی الواقع غلام یا لونڈی کے حق میں بہتر نہ ہو گی۔ قید غلامی سے رہا ہو کر وہ چوری، بد کاری یا اور طرح طرح کی بد معاشیاں نہ کرتا پھرے گا۔ اگر یہ اطمینان ہو تو اسے ضرور آزاد کر دینا چاہئے۔ کہ وہ آزاد ہو کر معاشرہ میں اپنا مقام پیدا کر سکے اور اگر نکاح کرنا چاہے تو اپنے اختیار سے کر سکے۔ نیز کسی بھی میدان میں غلامی کی وجہ سے اس کے لئے میدان تنگ نہ ہو۔ یا پھر خیر کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ آیا وہ اپنے اس عہد کو نباہ بھی سکتا ہے یا نہیں یعنی اپنے معاوضہ کی رقم ادا کرنے کے قابل ہے یا نہیں۔
[55] مکاتب کی مالی امداد:۔
اس جملہ کے مخاطب عام افراد معاشرہ بھی ہو سکتے ہیں کہ وہ مکاتبت کرنے والے غلام کی رقم کی ادائیگی کے سلسلہ میں اس کی مالی امداد کریں۔ غلاموں کے مالک بھی ہو سکتے ہیں کہ وہ طے شدہ رقم کا کچھ حصہ چھوڑ دیں اور اسلامی حکومت بھی ہو سکتی ہے کہ وہ ایسے شخص سے زکوٰۃ فنڈ میں سے مالی تعاون کرے۔
[56] غلام اور لونڈیوں کو اہل عرب اپنی آمدنی کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ جتنے کسی کے پاس زیادہ غلام ہوتے اتنا ہی وہ زیادہ مالدار ہوتا جاتا تھا۔ اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے آج کل ایک کارخانہ میں دس مزدور کام کرتے ہیں اور دوسرے میں پچاس۔ تو پچاس مزدوروں والے کارخانہ کا مالک یقیناً پہلے سے بہت زیادہ مالدار ہو جائے گا۔ اس سلسلہ میں بعض بد باطن اپنی آمدنی بڑھانے کے لئے اپنی لونڈیوں سے پیشہ بھی کرواتے تھے۔ اور عبد اللہ بن ابی منافق رئیس المنافقین اس سلسلہ میں بہت مشہور تھا۔ اس کی بعض لونڈیاں مسلمان ہو گئیں تو انہوں نے پیشہ کرنے سے انکار کر دیا جس پر وہ ملعون انھیں زد و کوب کرتا تھا۔ یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی۔ [مسلم۔ كتاب التفسير عن جابر]
زنا بذات خود ایک حرام اور مذموم فعل ہے۔ ان دو جملوں نے زنا کی قباحت میں مزید اضافہ کر کے ایسی حرکت کو شدید ترین جرم بنا دیا ہے۔ یعنی اگر لونڈیاں پاک دامن نہ رہنا چاہیں تو بھی زنا حرام اور مذموم ہے اور اگر وہ پاک دامن بھی رہنا چاہتی ہوں پھر جبراً ان سے یہ کام کروایا جائے تو یہ شدید جرم بن جاتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی فرد کسی لالچ کے بغیر زنا کرتا ہے یا کرواتا ہے تو بھی اس کی حرمت اور مذمت بدستور قائم ہے۔ پھر یہ کام جب محض دنیا کے حقیر فائدے کے خاطر کرایا جائے تو اس جرم کی شدت اور شناعت مزید بڑھ جاتی ہے۔
[57] یعنی جس کو بد کاری پر مجبور کر دیا گیا ہو۔ اللہ اسے اس کا یہ گناہ معاف فرمائے گا۔ جبکہ اس کا یہ گناہ جبر کرانے والے کے گناہ میں شامل کر دیا جائے گا۔ اور ترمذی کے حوالہ سے یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ جس عورت سے بالجبر زنا کیا گیا تھا اس سے حد زنا ساقط کر دی گئی تھی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

نکاح اور شرم و حیا کی تعلیم ٭٭
اس میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے احکام بیان فرما دئیے ہیں اولاً نکاح کا۔ علماء کی جماعت کا خیال ہے کہ جو شخص نکاح کی قدرت رکھتا ہو اس پر نکاح کرنا واجب ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ { اے نوجوانو! تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھتا ہو، اسے نکاح کر لینا چاہیئے۔ نکاح نظر کو نیچی رکھنے والا شرمگاہ کو بچانے والا ہے اور جسے طاقت نہ ہو وہ لازمی طور پر روزے رکھے، یہی اس کے لیے خصی ہونا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1905]‏‏‏‏
سنن میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { زیادہ اولاد جن سے ہونے کی امید ہو ان سے نکاح کرو تاکہ نسل بڑھے میں تمہارے ساتھ اور امتوں میں فخر کرنے والا ہوں } }۔ ایک روایت میں ہے { یہاں تک کہ کچے گرے ہوئے بچے کی گنتی کے ساتھ بھی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2050، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
«أَيَامَى» جمع ہے «أَيِّمٍ» کی۔ جوہری رحمہ اللہ کہتے ہیں اہل لغت کے نزدیک بے بیوی کا مرد اور بے خاوند کی عورت کو «أَيِّمٍ» کہتے ہیں، خواہ وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ہو۔
پھر مزید رغبت دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’ اگر وہ مسکین بھی ہوں گے تو اللہ انہیں اپنے فضل و کرم سے مالدار بنا دے گا۔ خواہ وہ آزاد ہوں خواہ غلام ہوں ‘۔
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا قول ہے تم نکاح کے بارے میں اللہ کا حکم مانو، وہ تم سے اپناوعدہ پورا کرے گا۔‏‏‏‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں امیری کو نکاح میں طلب کرو۔‏‏‏‏
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { تین قسم کے لوگوں کی مدد کا اللہ کے ذمے حق ہے۔ نکاح کرنے والا جو حرام کاری سے بچنے کی نیت سے نکاح کرے۔ وہ لکھت لکھ دینے والا غلام جس کا ارادہ ادائیگی کا ہو، وہ غازی جو اللہ کی راہ میں نکلا ہو } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1655،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
اسی کی تایئد میں وہ روایت ہے جس میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کا نکاح ایک عورت سے کرا دیا، جس کے پاس سوائے تہبند کے اور کچھ نہ تھا یہاں تک کہ لوہے کی انگوٹھی بھی اس کے پاس سے نہیں نکلی تھی اس فقیری اور مفلسی کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نکاح کر دیا اور مہر یہ ٹھہرایا کہ جو قرآن اسے یاد ہے، اپنی بیوی کو یاد کرا دے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5057]‏‏‏‏ یہ اسی بنا پر کہ نظریں اللہ کے فضل و کرم پر تھیں کہ وہ مالک انہیں وسعت دے گا اور اتنی روزی پہنچائے گا کہ اسے اور اس کی بیوی کو کفالت ہو۔
ایک حدیث اکثر لوگ وارد کیا کرتے ہیں کہ فقیری میں بھی نکاح کیا کرو اللہ تمہیں غنی کر دے گا میری نگاہ سے تو یہ حدیث نہیں گزری۔ نہ کسی قوی سند سے نہ ضعیف سند سے۔ اور نہ ہمیں ایسی لاپتہ روایت کے اس مضمون میں کوئی ضرورت ہے کیونکہ قرآن کی اس آیت اور ان احادیث میں یہ چیز موجود ہے، «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
پھر حکم دیا کہ ’ جنہیں نکاح کا مقدور نہیں وہ حرام کاری سے بچیں ‘۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اے جوان لوگو! تم میں سے جو نکاح کی وسعت رکھتے ہوں، وہ نکاح کر لیں یہ نگاہ نیچی کرنے والا، شرمگاہ کو بچانے والا ہے اور جسے اس کی طاقت نہ ہو وہ اپنے ذمے روزوں کا رکھنا ضروری کر لے یہی اس کے لیے خصی ہونا ہے } }۔
یہ آیت مطلق ہے اور سورۃ نساء کی آیت اس سے خاص ہے یعنی یہ فرمان آیت «وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلًا أَن يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ» ۱؎ [4-النساء:25]‏‏‏‏ پس لونڈیوں سے نکاح کرنے سے صبر کرنا بہتر ہے۔ اس لیے کہ اس صورت میں اولاد پر غلامی کا حرف آتا ہے۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو مرد کسی عورت کو دیکھے اور اس کے دل میں خواہش پیدا ہو اسے چاہیئے کہ اگر اس کی بیوی موجود ہو تو اس کے پاس چلا جائے ورنہ اللہ کی مخلوق میں نظریں ڈالے اور صبر کرے یہاں تک کہ اللہ اسے غنی کر دے۔‏‏‏‏
اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے فرماتا ہے جو غلاموں کے مالک ہیں کہ ’ اگر ان کے غلام ان سے اپنی آزادگی کی بابت کوئی تحریر کرنی چاہیں تو وہ انکار نہ کریں، غلام اپنی کمائی سے وہ مال جمع کر کے اپنے آقا کو دیدے گا اور آزاد ہو جائے گا ‘۔
اکثر علماء فرماتے ہیں یہ حکم ضروری نہیں فرض و واجب نہیں بلکہ بطور استحباب کے اور خیر خواہی کے ہے۔ آقا کو اختیار ہے کہ غلام جب کوئی ہنر جانتا ہو اور وہ کہے کہ مجھ سے اسی قدر روپیہ لے لو اور مجھے آزاد کر دو تو اسے اختیار ہے خواہ اس قسم کا غلام اس سے اپنی آزادگی کی بابت تحریر چاہے وہ اس کی بات کو قبول کر لے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں، انس رضی اللہ عنہ کا غلام سیرین نے جو مالدار تھا ان سے درخواست کی کہ مجھ سے میری آزادی کی کتابت کرلو۔ انس رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا، دربار فاروقی رضی اللہ عنہ میں مقدمہ گیا، آپ رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور ان کے نہ ماننے پر کوڑے لگوائے اور یہی آیت تلاوت فرمائی یہاں تک کہ انہوں نے تحریر لکھوا دی۔ [بخاری]‏‏‏‏
عطاء رحمہ اللہ سے دونوں قول مروی ہیں۔ امام شافعی رحمۃاللہ علیہ کا قول یہی تھا لیکن نیا قول یہ ہے کہ واجب نہیں۔ کیونکہ حدیث میں ہے { مسلمان کا مال بغیر اس کی دلی خوشی کے حلال نہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:72/5:ضعیف]‏‏‏‏
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ واجب نہیں۔ میں نے نہیں سنا کہ کسی امام نے کسی آقا کو مجبور کیا ہو کہ وہ اپنے غلام کی آزادگی کی تحریر کر دے، اللہ کا یہ حکم بطور اجازت کے ہے نہ کہ بطور وجوب کے۔ یہی قول امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ وغیرہ کا ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ کے نزدیک مختار قول وجوب کا ہے۔ خیر سے مراد امانت داری، سچائی، مال اور مال کے حاصل کرنے پر قدرت وغیرہ ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اگر تم اپنے غلاموں میں جو تم سے مکاتب کرنا چاہیں، مال کے کمانے کی صلاحیت دیکھو تو ان کی اس خواہش کو پوری کرو ورنہ نہیں کیونکہ اس صورت میں وہ لوگوں پر اپنا بوجھ ڈالیں گے } }۔ ۱؎ [المراسیل لابی داود:162:مرسل و ضعیف]‏‏‏‏ یعنی ان سے سوال کریں گے اور رقم پوری کرنا چاہیں گے۔
اس کے بعد فرمایا ہے کہ ’ انہیں اپنے مال میں سے کچھ دو ‘۔ یعنی جو رقم ٹھہر چکی ہے، اس میں سے کچھ معاف کر دو، چوتھائی یا تہائی یا آدھا یا کچھ حصہ۔
یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ مال زکوٰۃ سے ان کی مدد کرو آقا بھی اور دوسرے مسلمان بھی اسے مال زکوٰۃ دیں تاکہ وہ مقرر رقم پوری کر کے آزاد ہو جائے۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ جن تین قسم کے لوگوں کی مدد اللہ پر برحق ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے لیکن پہلا قول زیادہ مشہور ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غلام ابوامیہ نے مکاتبہ کیا تھا جب وہ اپنی رقم کی پہلی قسط لے کر آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جاؤ اپنی اس رقم میں دوسروں سے بھی مدد طلب کرو اس نے جواب دیا کہ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ آپ آخری قسط تک تو مجھے ہی محنت کرنے دیجئیے۔ فرمایا نہیں مجھے ڈر ہے کہ کہیں اللہ کے اس فرمان کو ہم چھوڑ نہ بیٹھیں کہ انہیں اللہ کا وہ مال دو جو اس نے تمہیں دے رکھا ہے۔ پس یہ پہلی قسطیں تھیں جو اسلام میں ادا کی گئیں۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ شروع شروع میں آپ رضی اللہ عنہ نہ کچھ دیتے تھے نہ معاف فرماتے تھے کیونکہ خیال ہوتا تھا کہ ایسا نہ ہو آخر میں یہ رقم پوری نہ کرسکے تو میرا دیا ہوا مجھے ہی واپس آ جائے۔ ہاں آخری قسطیں ہوتیں تو جو چاہتے اپنی طرف سے معاف کر دیتے۔ ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ { چوتھائی چھوڑ دو }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:397/2:موقوف]‏‏‏‏ لیکن صحیح یہی ہے کہ وہ علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ اپنی لونڈیوں سے زبردستی بدکاریاں نہ کراؤ ‘۔ جاہلیت کے بدترین طریقوں میں ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ وہ اپنی لونڈیوں کو مجبور کرتے تھے کہ وہ زناکاری کرائیں اور وہ رقم اپنے مالکوں کو دیں۔ اسلام نے آ کر اس بد رسم کو توڑا۔ منقول ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول منافق کے بارے میں اتری ہے، وہ ایسا ہی کرتا تھا تاکہ روپیہ بھی ملے اور لونڈی زادوں سے شان ریاست بھی بڑھے۔ اس کی لونڈی کا نام معاذہ تھا۔ اور روایت میں ہے اس کا نام مسیکہ تھا۔ اور یہ بدکاری سے انکار کرتی تھی۔ جاہلیت میں تو یہ کام چلتا رہا یہاں تک اسے ناجائز اولاد بھی ہوئی لیکن اسلام لانے کے بعد اس نے انکار کر دیا، اس پر اس منافق نے اسے زدوکوب کیا، پس یہ آیت اتری۔
مروی ہے کہ بدر کا ایک قریشی قیدی عبداللہ بن ابی کے پاس تھا وہ چاہتا تھا کہ اس کی لونڈی سے ملے، لونڈی بوجہ اسلام کے حرام کاری سے بچتی تھی۔ عبداللہ کی خواہش تھی کہ یہ اس قریشی سے ملے، اس لیے اسے مجبور کرتا تھا اور مارتا پیٹتا تھا، پس یہ آیت اتری۔
اور روایت میں ہے کہ یہ سردار منافقین اپنی اس لونڈی کو اپنے مہمانوں کی خاطر تواضع کے لیے بھیج دیا کرتا تھا۔ اسلام کے بعد اس لونڈی سے جب یہ ارادہ کیا گیا تو اس نے انکار کر دیا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے اپنی یہ مصیبت بیان کی۔ صدیق رضی اللہ عنہ نے دربار محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ بات پہنچائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس لونڈی کو اس کے ہاں نہ بھیجو۔ اس نے لوگوں میں غل مچانا شروع کیا کہ دیکھو محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہماری لونڈیوں کو چھین لیتا ہے اس پر یہ آسمانی حکم اترا۔
ایک روایت میں ہے کہ مسیکہ اور معاذ دو لونڈیاں دو شخصوں کی تھیں، جو ان سے بدکاری کراتے تھے۔ اسلام کے بعد مسیکہ اور اس کی ماں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی، اس پر یہ آیت اتری۔ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ ’ اگر وہ لونڈیاں پاک دامنی کا ارادہ کریں ‘ اس سے یہ مطلب نہ لیا جائے کہ اگر ان کا ارادہ یہ نہ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں کیونکہ اس وقت واقعہ یہی تھا اس لیے یوں فرمایا گیا۔ پس اکثریت اور غلبہ کے طور پر یہ فرمایا گیا ہے کوئی قید اور شرط نہیں ہے۔ اس سے غرض ان کی یہ تھی کہ مال حاصل ہو، اولادیں ہوں جو لونڈیاں غلام بنیں۔
حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگانے کی اجرت، بدکاری کی اجرت، کاہن کی اجرت سے منع فرما دیا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1568]‏‏‏‏ ایک اور روایت میں ہے { زنا کی خرچی اور پچھنے لگانے والی کی قیمت اور کتے کی قیمت خبیث ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1568]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے ’ جو شخص ان لونڈیوں پر جبر کرے تو انہیں تو اللہ بوجہ ان کی مجبوری بخش دے گا اور ان مالکوں کو جنہوں نے ان پر دباؤ زور زبردستی ڈالی تھی انہیں پکڑ لے گا، اس صورت میں یہی گنہگار رہیں گے ‘۔ بلکہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «رَحِيمٌ» کے بعد «وَإِثْمُهُنَّ عَلَى مَنْ أَكْرَهَهُنَّ» ہے۔ یعنی ’ اس حالت میں جبر اور زبردستی کرنے والوں پر گناہ ہے ‘۔
مرفوع حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے میری امت کی خطا سے، بھول سے اور جن کاموں پر وہ مجبور کر دئیے جائیں، ان پر زبردستی کی جائے ان سے درگزر فرما لیا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:2043،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
ان احکام کو تفصیل وار بیان کرنے کے بعد بیان ہوتا ہے کہ ’ ہم نے اپنے کلام قرآن کریم کی یہ روشن و واضح آیات تمہارے سامنے بیان فرما دیں۔ اگلے لوگوں کے واقعات بھی تمہارے سامنے آچکے کہ ان کی مخالفت حق کا انجام کیا اور کیسا ہوا؟ وہ ایک افسانہ بنا دئے گئے اور آنے والوں کے لیے عبرتناک واقعہ بنا دیئے گئے کہ متقی ان سے عبرت حاصل کریں اور اللہ کی نافرمانیوں سے بچیں ‘۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے، قرآن میں تمہارے اختلاف کے فیصلے موجود ہیں، تم سے پہلے زمانہ کے لوگوں کی خبریں موجود ہیں، بعد میں ہونے والے امور کے احوال کا بیان ہے۔ یہ مفصل ہے بکواس نہیں اسے جو بھی بے پرواہی سے چھوڑے گا، اسے اللہ برباد کر دے گا اور جو اس کے سوا دوسری کتاب میں ہدایت تلاش کرے گا اسے اللہ گمراہ کر دے گا۔‏‏‏‏ ۱؎ [سنن ترمذي:2906،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏