وَ لَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَ مَوۡعِظَۃً لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿٪۳۴﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تمھاری طرف کھول کر بیان کرنے والی آیات اور ان لوگوں کا کچھ حال جو تم سے پہلے گزرے اور متقی لوگوں کے لیے عظیم نصیحت نازل کی ہے۔
En
اور ہم نے تمہاری طرف روشن آیتیں نازل کی ہیں اور جو لوگ تم سے پہلے گزر چکے ہیں ان کی خبریں اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت
En
ہم نے تمہاری طرف کھلی اور روشن آیتیں اتار دی ہیں اور ان لوگوں کی کہاوتیں جو تم سے پہلے گزرچکے ہیں اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 34) ➊ {وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍ: ” مُبَيِّنٰتٍ “} باب تفعیل سے اسم فاعل {”مُبَيِّنَةٌ“} کی جمع ہے، یہ باب لازم و متعدی دونوں میں آتا ہے، یہاں دونوں معنی اکٹھے بھی مراد ہو سکتے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات واضح اور آسانی سے سمجھ میں آنے والی بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احکام و فرامین کو خوب واضح کرنے والی بھی ہیں۔ ان آیات سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی تمام آیات ہیں، اگرچہ سب سے پہلے اس سورت میں مذکور آیات و احکام مراد ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا وَ اَنْزَلْنَا فِيْهَاۤ اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ }» [النور: ۱] ”(یہ) ایک عظیم سورت ہے، ہم نے اسے نازل کیا اور ہم نے اسے فرض کیا اور ہم نے اس میں واضح آیات اتاری ہیں، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔“
➋ { وَ مَثَلًا مِّنَ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ: ”أَيْ وَ أَنْزَلْنَا مَثَلًا مِنَ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ۔“ ” مَثَلًا “} کا معنی ہے ضرب المثل، وہ چیز جو دوسری چیز کے مشابہ ہو، کسی کا حال جو دوسرے کے حال سے ملتا جلتا ہو، کسی چیز کی صفت اور قصہ عجیبہ، یعنی ہم نے تمھاری طرف کھول کر بیان کرنے والی آیات نازل کی ہیں اور پہلے لوگوں کے کچھ احوال نازل کیے ہیں جو تمھارے احوال سے ملتے جلتے ہیں۔ اس میں وہ احکام و حدود بھی شامل ہیں جو امت مسلمہ کی طرح پہلی امتوں پر فرض کیے گئے تھے، مثلاً زنا کی حد، قصاص، فحاشی کی اشاعت کی روک تھام وغیرہ اور پہلی امتوں کے وہ حالات و واقعات جو اس امت کے احوال سے ملتے جلتے ہیں، مثلاً عائشہ رضی اللہ عنھا پر بہتان کا واقعہ اور مریم علیھا السلام پر یہودیوں کے بہتان اور یوسف علیہ السلام پر عزیزِ مصر کی بیوی کے بہتان کا واقعہ ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ تینوں واقعات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کی پاک دامنی قیامت تک کے لیے قرآن میں ثبت فرما دی اور بہتان لگانے والوں کا جھوٹ ہمیشہ کے لیے واضح کر دیا۔
➌ { وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ۠: ” أَيْ وَ أَنْزَلْنَا مَوْعِظَةً “} یعنی ہم نے ڈرنے والوں اور نافرمانی سے بچنے والوں کے لیے عظیم نصیحت نازل فرمائی، کیونکہ جسے اللہ کا خوف نہیں اسے ان آیات سے کچھ حاصل نہیں۔
➋ { وَ مَثَلًا مِّنَ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ: ”أَيْ وَ أَنْزَلْنَا مَثَلًا مِنَ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ۔“ ” مَثَلًا “} کا معنی ہے ضرب المثل، وہ چیز جو دوسری چیز کے مشابہ ہو، کسی کا حال جو دوسرے کے حال سے ملتا جلتا ہو، کسی چیز کی صفت اور قصہ عجیبہ، یعنی ہم نے تمھاری طرف کھول کر بیان کرنے والی آیات نازل کی ہیں اور پہلے لوگوں کے کچھ احوال نازل کیے ہیں جو تمھارے احوال سے ملتے جلتے ہیں۔ اس میں وہ احکام و حدود بھی شامل ہیں جو امت مسلمہ کی طرح پہلی امتوں پر فرض کیے گئے تھے، مثلاً زنا کی حد، قصاص، فحاشی کی اشاعت کی روک تھام وغیرہ اور پہلی امتوں کے وہ حالات و واقعات جو اس امت کے احوال سے ملتے جلتے ہیں، مثلاً عائشہ رضی اللہ عنھا پر بہتان کا واقعہ اور مریم علیھا السلام پر یہودیوں کے بہتان اور یوسف علیہ السلام پر عزیزِ مصر کی بیوی کے بہتان کا واقعہ ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ تینوں واقعات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کی پاک دامنی قیامت تک کے لیے قرآن میں ثبت فرما دی اور بہتان لگانے والوں کا جھوٹ ہمیشہ کے لیے واضح کر دیا۔
➌ { وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ۠: ” أَيْ وَ أَنْزَلْنَا مَوْعِظَةً “} یعنی ہم نے ڈرنے والوں اور نافرمانی سے بچنے والوں کے لیے عظیم نصیحت نازل فرمائی، کیونکہ جسے اللہ کا خوف نہیں اسے ان آیات سے کچھ حاصل نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
34۔ ہم نے تمہاری طرف واضح احکام بتلانے والی آیات بھی نازل کی ہیں اور ان لوگوں کی مثالیں [58] بھی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحتیں بھی نازل کر دی ہیں۔
[58] واضح احکام سے مراد وہ تمام احکام ہیں جو ابتدائے سورۃ نور سے بیان ہو رہے ہیں یعنی زنا اور قذف کی حد۔ لعان کا طریقہ۔ معاشرہ کو فحاشی سے پاک رکھنے کے لئے احکام و ہدایات وغیرہ۔ اور پہلے لوگوں کی مثالیں بیان کرنے سے مراد یہ ہے کہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ تم سے پہلے جن جن لوگوں نے اللہ کے احکامات سے سرتابی کی تو ایسی قوموں کا کیا حشر ہوا۔ اور ان کا یہ حشر بھی پہلے متعدد مقامات پر مذکور ہو چکا ہے۔ لہٰذا اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے ان سابقہ نظائر میں بہت سے نصیحت آموز اسباب موجود ہیں۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ ان آیات کریمہ کی قدرومنزلت اور تعظیم ہے جن کی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر تلاوت فرمائی تاکہ وہ ان کی قدروقیمت کو پہچان لیں اور ان کے حقوق کو قائم کریں، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ ﴾ ”اور ہم نے نازل کیں تمھاری طرف آیات واضح کرنے والی۔“ یعنی وہ اصولی اور فروعی ہر معاملے میں، جن کے تم محتاج ہو، اس طرح واضح طور پر دلالت کرتی ہیں کہ کوئی اشکال اور شبہ باقی نہیں رہتا۔ ﴿ وَ ﴾ ”اور“ اس طرح نازل کیں ہم نے ﴿مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ ﴾ ”ان لوگوں کی کہاوتیں جو تم سے پہلے گزرے۔“ یعنی ہم نے تمھاری طرف تم سے پہلے گزرے ہوئے اچھے برے لوگوں، ان کے اعمال اور ان کے ساتھ جو کچھ ہوا… کی خبریں نازل کیں، جن کو مثال بنا کر تم عبرت حاصل کر سکتے ہو، یعنی جو کوئی ان جیسے افعال کا ارتکاب کرے گا اس کو وہی جزا دی جائے گی جو ان لوگوں کو دی گئی۔
﴿ وَمَوْعِظَةً لِّلْ٘مُتَّقِیْنَ۠ ﴾ یعنی اور ہم نے تمھاری طرف اہل تقویٰ کے لیے نصیحت نازل کی ہے جو وعد و وعید اور ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہے۔ اہل تقویٰ اس سے نصیحت پکڑتے ہیں اور ان امور سے رک جاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے اور ایسے امور اختیار کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا تعظيمٌ وتفخيمٌ لهذه الآيات التي تلاها على عبادِهِ؛ ليعرفوا قَدْرَها ويقوموا بحقِّها، فقال: {ولقد أنْزَلْنا إليكم آياتٍ مُبَيِّناتٍ}؛ أي: واضحاتِ الدّلالةِ على كلِّ أمر تحتاجون إليه من الأصول والفُروع؛ بحيث لا يبقى فيها إشكالٌ ولا شبهةٌ. {و}: أنزلنا إليكم أيضاً {مَثَلاً من الذين خَلَوْا من قَبْلِكُم}: من أخبار الأوَّلين؛ الصالح منهم والطَّالح، وصفة أعمالهم، وما جرى لهم وجرى عليهم؛ تعتبِرونَه مثالاً ومعتَبَراً لمن فَعَلَ مثل أعمالهم أنْ يُجازى مثل ما جُوزوا. {وموعظةً للمتَّقين}؛ أي: وأنزلنا إليكم موعظةً للمتَّقين؛ من الوعدِ والوعيدِ والترغيبِ والترهيبِ؛ يتَّعِظُ بها المتَّقون، فيكفُّون عما يكره الله إلى ما يحبُّه الله.