تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ نگاہیں نیچی رکھنے اور شرم گاہوں کی حفاظت کرنے کے حکم کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ جنسی جبلت کو معطل کر دو اور ترک دنیا کرکے راہب اور جوگی بن جاؤ، کیونکہ یہ فطرت کا مقابلہ ہے اور جو شخص فطرت کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرے گا پادریوں اور ننوں (راہبات) کی طرح بری طرح شکست کھائے گا، بلکہ حکم دیا کہ اپنے مجرد مردوں اور عورتوں کا نکاح کرو اور حلال طریقے سے اپنی خواہش اور لذت کی تکمیل کرو، یہ تمھاری پاک دامنی اور نگاہ نیچی رکھنے کا ذریعہ ہے اور امت مسلمہ کی تعداد بڑھانے کا بھی۔
➌ { ” الْاَيَامٰى مِنْكُمْ “} سے مراد مسلم آزاد مجرد مرد اور عورتیں ہیں، کیونکہ غلاموں کا ذکر بعد میں آ رہا ہے اور غیر مسلم {” مِنْكُمْ “} نہیں بلکہ {”مِنْ غَيْرِكُمْ “} ہیں۔ رہی یہ بات کہ یہ حکم کس کو ہے؟ تو عورت کا نکاح اس کے اولیاء کی ذمہ داری ہے، ان کی اجازت کے بغیر عورت کو نکاح کی اجازت نہیں۔ اگر کسی عورت کا ولی نہ ہو یا وہ ولایت کا اہل نہ رہے کہ اس کا نکاح کرنے کے بجائے نکاح کی راہ میں کسی معقول وجہ کے بغیر رکاوٹ بنا رہے تو حاکم وقت اس کا ولی ہے اور اسے حکم ہے کہ اس کا نکاح کرے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيْهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَالْمَهْرُ لَهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا فَإِنْ تَشَاجَرُوْا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ] [أبوداوٗد، النکاح، باب في الولي: ۲۰۸۳] ”جو عورت اپنے اولیاء کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے۔“ تین دفعہ فرمایا، پھر فرمایا: ”اگر شوہر اس عورت سے صحبت کر لے تو اسے مہر دینا پڑے گا، اس سے فائدہ حاصل کرنے کی وجہ سے اور اگر وہ اولیاء آپس میں جھگڑ پڑیں تو جس کا کوئی ولی نہ ہو سلطان اس کا ولی ہے۔“
رہے مرد تو ان کا نکاح کسی ولی کی اجازت پر موقوف نہیں، مگر ظاہر ہے کہ بچے کے جوان ہونے پر اس کے والدین یا رشتہ دار جو اس کی کفالت کر رہے ہیں، اگر اس کے نکاح کی کوشش اور اس میں تعاون نہ کریں تو اس کے لیے نکاح بہت مشکل ہے، اس لیے انھیں حکم ہے کہ اپنے بچوں کا جوان ہونے پر جتنی جلدی ممکن ہو نکاح کر دیں۔ {” اَنْكِحُوْا “} (نکاح کر دو) کا لفظ عام ہونے کی وجہ سے اس کے مخاطب حکومت و عوام تمام مسلمان بھی ہیں کہ مردوں اور عورتوں کے نکاح میں وہ جس قدر بھی تعاون کر سکتے ہوں ان کا نکاح کروا دیں۔ جب دوسروں کا نکاح کروانے کا حکم ہے تو خود اپنا نکاح کروانا تو بدرجہ اولیٰ ضروری ہو گا۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے، جوان تھے اور کوئی چیز نہ پاتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: [يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ! مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَائَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ] [بخاري، النکاح، باب من لم یستطع البائۃ فلیصم: ۵۰۶۶، ۵۰۶۵] ”اے جوانو کی جماعت! تم میں سے جو نکاح کر سکتا ہو وہ نکاح کرلے، کیونکہ وہ نظر کو بہت نیچا کرنے والا اور شرم گاہ کو بہت محفوظ رکھنے والا ہے اور جو نکاح کا سامان نہ پائے وہ روزے کو لازم پکڑے، کیونکہ وہ اس کے لیے (شہوت) کچلنے کا باعث ہے۔“
➍ { وَ الصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآىِٕكُمْ:” الصّٰلِحِيْنَ “} سے مراد دین کی صلاحیت (نیکی) بھی ہو سکتی ہے، اس صورت میں غلام یا لونڈی میں سے صالح وہ ہو گا جو فاجر اور زانی نہ ہو۔ اس کے مالک کو اس کی نیکی کے انعام اور مزید نیکی کی ترغیب دلانے کے لیے اس کا نکاح کر دینا چاہیے۔ رہا زانی تو وہ کیونکہ صالح نہیں فاسد ہے، اس لیے اس کا نکاح جائز نہیں، جب تک توبہ کرکے صالح نہ بن جائے۔ گویا یہ سورت کے آغاز میں مذکور حکم {” اَلزَّانِيْ لَا يَنْكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوْ مُشْرِكَةً وَّ الزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ “} کی تائید ہے۔ غلاموں میں خاص طور پر یہ شرط لگانے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اکثر یہ بیماری اس طبقے میں ہوتی ہے، کیونکہ وہ اس شرف سے محروم ہوتے ہیں جو معاشرے میں کسی آزاد مرد یا عورت کو اپنی عزت کی حفاظت پر مجبور کرتا ہے۔ (سعدی) اس لیے اہل علم نے یوسف علیہ السلام کے زنا سے بچنے کو عفت کا کمال قرار دیا ہے، کیونکہ دنیاوی لحاظ سے انھیں زنا سے روکنے والی کوئی چیز موجود نہیں تھی، حتیٰ کہ ان کے پاس حرّیت بھی نہیں تھی۔ (تفصیل سورۂ یوسف میں ملاحظہ فرمائیں) {” الصّٰلِحِيْنَ “} سے مراد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ لونڈی یا غلام جو نکاح کی صلاحیت رکھتے ہوں اور انھیں اس کی ضرورت ہو۔ اس کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ اگر غلام یا لونڈی کو نکاح کی حاجت نہ ہو تو مالک کو اس کے نکاح کا حکم نہیں اور {” الصّٰلِحِيْنَ “} کے دونوں معنی مراد لیے جائیں تو کچھ بعید نہیں۔ (سعدی)
➎ { اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ:} عام طور پر غربت کو مرد کے نکاح کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جاتا ہے کہ جب اس کے پاس کچھ ہے ہی نہیں تو بیوی کو کہاں سے کھلائے گا، اس لیے غریب کو کوئی رشتہ نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس خیال کی تردید کی اور فرمایا کہ تم مجرد لوگوں کا نکاح کر دو، اگر وہ فقیر ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں غنی کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ کے پاس غیب سے غنی کر دینے کا اختیار ہے اور اسباب کے لحاظ سے بھی بیوی آنے کے بعد وہ کمائی کے لیے زیادہ جدو جہد کرے گا۔ کھانا تو پہلے وہ خود بھی کھاتا ہے، اگر مزید کمائی نہ بھی کرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ایک کا کھانا دو کے لیے کافی ہوتا ہے۔ [دیکھیے، بخاری: ۵۳۹۲] پہلے یہ اکیلا کمائی کرتا تھا، بیوی آنے کے بعد اس کی کمائی کی استعداد دو گنا ہی نہیں بلکہ مشہور عام قول کے مطابق گیارہ گنا ہو جائے گی۔ بیوی اس کا ہاتھ بٹائے گی، ہو سکتا ہے کہ بیوی کو اللہ تعالیٰ نے کوئی ہنر عطا کر رکھا ہو، یا وہ بہتر مشورے دے کر خاوند کی بہترین مشیر ثابت ہو، یا بیوی کے رشتہ داروں کے تعاون سے حالت بدل جائے۔ علاوہ ازیں اولاد ہونے کے بعد عین ممکن ہے کہ وہ اتنی کمائی کریں کہ پورا کنبہ ہی اغنیاء میں شامل ہو جائے۔ اس کے برعکس کسی غنی کو لڑکی دے تو ہو سکتا ہے کسی آزمائش میں وہ فقیر ہو جائے۔ اللہ نے فرمایا: «{ قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (26) تُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ وَ تُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ}» [آل عمران: ۲۶، ۲۷] ”کہہ دے اے اللہ! بادشاہی کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دیتا ہے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لیتا ہے اور جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کر دیتا ہے، تیرے ہی ہاتھ میں ہر بھلائی ہے، بے شک تو ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ تو رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور تو دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور تو زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور تو مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور تو جسے چاہے کسی حساب کے بغیر رزق دیتا ہے۔“ یہ سب کچھ عام مشاہدے میں آتا رہتا ہے۔ دولت دھوپ چھاؤں کی طرح آج یہاں ہے تو کل وہاں، بلکہ دولت کا معنی ہی گھومنا ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی کا نکاح بھی کر دیا تھا جس کے پاس ایک چادر کے سوا کچھ نہیں تھا، حتیٰ کہ لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں تھی۔ (دیکھیے بخاری: ۵۰۲۹) یہ خیال ہی نہیں فرمایا کہ یہ بیوی کو کہاں سے کھلائے گا۔ اس لیے اہل علم نے دولت مند بننے کے اسباب میں سے نکاح کو بھی ایک سبب قرار دیا ہے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”بعض لوگ ایک روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فقیری میں بھی نکاح کیا کرو، اللہ تمھیں غنی کر دے گا۔“ میری نگاہ سے تو یہ روایت نہیں گزری، نہ کسی قوی سند سے، نہ ضعیف سند سے اور نہ ہمیں اس مضمون کے لیے ایسی بے اصل روایت کی کوئی ضرورت ہے، کیونکہ قرآن کی یہ آیت اور (لوہے کی انگوٹھی تک نہ رکھنے والے سے نکاح والی) حدیث اس کے لیے کافی ہے۔ (وللہ الحمد)“ (ابن کثیر)
ایسی ہی ایک روایت عام مشہور ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فقر کی شکایت لے کر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نکاح کر لو۔“ اس نے نکاح کر لیا مگر غربت بدستور مسلط رہی، وہ پھر شکایت لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر نکاح کا حکم دیا۔ اس نے دوسرا نکاح کر لیا، پھر بھی وہی حال رہا تو وہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر نکاح کا حکم دیا۔ تیسرے نکاح پر بھی غربت دور نہ ہوئی تو اس نے پھر آ کر شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوتھے نکاح کا حکم دیا، اس نے اس پر عمل کیا تو اس کی غربت دور ہو گئی۔ میں نے یہ روایت بہت تلاش کی مگر کسی معتبر کتاب میں نہیں ملی اور نہ یہ روایت نقل کرنے والے کسی صاحب نے اس کا حوالہ دیا ہے۔ ایسی باتوں کا بے سروپا ہونا خود اس کے مضمون سے ظاہر ہوتا ہے۔ ایسے فقیر کو یکے بعد دیگرے چار بیویاں ملتے چلے جانے کی کوئی مثال مشکل ہی سے ملے گی۔
➏ { وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ:} واؤ عطف سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا عطف پہلے جملے پر ہے جو {” يُغْنِيَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ “} سے خود بخود سمجھ میں آنے کی وجہ سے حذف کر دیا گیا ہے اور یہ اختصار قرآن کی بلاغت کا اعجاز ہے۔ گویا محذوف جملے کو ظاہر کیا جائے تو عبارت یوں ہو گی: {” أَنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهِ فَاللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِيْمٍ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ“} یہاں {” وَاسِعٌ “ } اور {”عَلِيْمٌ“} صفات لانے کی مناسبت یہ ہے کہ اللہ وسعت والا ہے، اس کے ہاں کوئی کمی نہیں، وہ جسے چاہے، خواہ وہ کتنا کنگال کیوں نہ ہو، اسے غنی کر دیتا ہے اور وہ سب کچھ جاننے والا ہے، اسے معلوم ہے کہ کسے غنی کرنا ہے اور کس طرح اور کن اسباب کے ذریعے سے غنی کرنا ہے۔ (بقاعی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
لہٰذا اولیاء کو یہی حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ مجرد لوگوں کے نکاح کریں۔ اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں امر کا صیغہ وجوب کے لئے نہیں ہے یعنی معاشرہ یا اسلامی حکومت یا اولیاء پر یہ واجب نہیں کہ معاشرہ کا جو فرد بھی مجرد ہو اس کو پکڑ کر اس کا نکاح کرا دے۔ بلکہ یہ امر استحباب کے لئے ہے۔ کیونکہ نکاح میں کچھ رکاوٹیں بھی ہو سکتی ہیں مثلاً جوڑ کا رشتہ نہ ملنا یا تنگدستی وغیرہ۔ البتہ معاشرہ کے افراد کے لئے بہتر بات یہی ہے کہ وہ مجرد لوگوں کے نکاح کے سلسلہ میں حتی الامکان تعاون کریں۔ اور جن لوگوں کے حالات نکاح کے لئے سازگار نہ ہوں انھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے رکھنے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ہم کچھ جوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہتے تھے اور (نکاح کے لئے) ہمارے پاس کچھ نہ تھا۔ تو آپ نے ہمیں ارشاد فرمایا کہ اے نوجوانو! تم میں سے جو کچھ خانہ آبادی کی استطاعت رکھتا ہے اس چاہئے کہ نکاح کر لے کیونکہ نکاح نگاہ نیچی رکھنے اور شرمگاہ کی حفاظت کے لئے خوب چیز ہے اور جو اس کی طاعت نہ رکھتا ہو وہ روزے رکھا کرے۔ روزے اس کی شہوت کو ٹھنڈا کرنے کے لئے ڈھال کا کام دیں گے۔ [بخاری۔ کتاب النکاح۔ باب من لم یستطع الباءۃ فلیصم]
نیز سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعونؓ کو تبتل (مجرد یا عورت سے الگ تھلگ رہنے) کی اجازت نہ دی۔ اگر آپ اسے اجازت دے دیتے تو ہم خصی ہو جاتے۔ [بخاری۔ کتاب النکاح۔باب مایکرہ من التبتل والخصاء]
[51] لونڈی اور غلاموں کے ذکر میں صالحین کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جو یہاں دو مطلب ادا کر رہا ہے۔ ایک یہ کہ ان میں ازدواجی زندگی کو نباہنے کی صلاحیت موجود ہو۔ ایسا نہ ہو کہ نکاح کے بعد وہ ڈھیلے پڑ جائیں اور ان کا سارا بوجھ مالک پر پڑ جائے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ نیک ہوں اور پاک سیرت رہنا چاہتے ہوں اور فحاشی اور بدکاری سے بچنا چاہتے ہوں۔ جو بھی صورت ہو ان کے مالکوں کو چاہئے کہ ان کے نکاح کے لئے ممکن حد تک کوشش کریں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سنن میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { زیادہ اولاد جن سے ہونے کی امید ہو ان سے نکاح کرو تاکہ نسل بڑھے میں تمہارے ساتھ اور امتوں میں فخر کرنے والا ہوں } }۔ ایک روایت میں ہے { یہاں تک کہ کچے گرے ہوئے بچے کی گنتی کے ساتھ بھی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2050، قال الشيخ الألباني:صحیح]
«أَيَامَى» جمع ہے «أَيِّمٍ» کی۔ جوہری رحمہ اللہ کہتے ہیں اہل لغت کے نزدیک بے بیوی کا مرد اور بے خاوند کی عورت کو «أَيِّمٍ» کہتے ہیں، خواہ وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ہو۔
پھر مزید رغبت دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’ اگر وہ مسکین بھی ہوں گے تو اللہ انہیں اپنے فضل و کرم سے مالدار بنا دے گا۔ خواہ وہ آزاد ہوں خواہ غلام ہوں ‘۔
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا قول ہے ”تم نکاح کے بارے میں اللہ کا حکم مانو، وہ تم سے اپناوعدہ پورا کرے گا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”امیری کو نکاح میں طلب کرو۔“
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { تین قسم کے لوگوں کی مدد کا اللہ کے ذمے حق ہے۔ نکاح کرنے والا جو حرام کاری سے بچنے کی نیت سے نکاح کرے۔ وہ لکھت لکھ دینے والا غلام جس کا ارادہ ادائیگی کا ہو، وہ غازی جو اللہ کی راہ میں نکلا ہو } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1655،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایک حدیث اکثر لوگ وارد کیا کرتے ہیں کہ فقیری میں بھی نکاح کیا کرو اللہ تمہیں غنی کر دے گا میری نگاہ سے تو یہ حدیث نہیں گزری۔ نہ کسی قوی سند سے نہ ضعیف سند سے۔ اور نہ ہمیں ایسی لاپتہ روایت کے اس مضمون میں کوئی ضرورت ہے کیونکہ قرآن کی اس آیت اور ان احادیث میں یہ چیز موجود ہے، «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
پھر حکم دیا کہ ’ جنہیں نکاح کا مقدور نہیں وہ حرام کاری سے بچیں ‘۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اے جوان لوگو! تم میں سے جو نکاح کی وسعت رکھتے ہوں، وہ نکاح کر لیں یہ نگاہ نیچی کرنے والا، شرمگاہ کو بچانے والا ہے اور جسے اس کی طاقت نہ ہو وہ اپنے ذمے روزوں کا رکھنا ضروری کر لے یہی اس کے لیے خصی ہونا ہے } }۔
یہ آیت مطلق ہے اور سورۃ نساء کی آیت اس سے خاص ہے یعنی یہ فرمان آیت «وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلًا أَن يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ» ۱؎ [4-النساء:25] پس لونڈیوں سے نکاح کرنے سے صبر کرنا بہتر ہے۔ اس لیے کہ اس صورت میں اولاد پر غلامی کا حرف آتا ہے۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جو مرد کسی عورت کو دیکھے اور اس کے دل میں خواہش پیدا ہو اسے چاہیئے کہ اگر اس کی بیوی موجود ہو تو اس کے پاس چلا جائے ورنہ اللہ کی مخلوق میں نظریں ڈالے اور صبر کرے یہاں تک کہ اللہ اسے غنی کر دے۔“
اکثر علماء فرماتے ہیں یہ حکم ضروری نہیں فرض و واجب نہیں بلکہ بطور استحباب کے اور خیر خواہی کے ہے۔ آقا کو اختیار ہے کہ غلام جب کوئی ہنر جانتا ہو اور وہ کہے کہ مجھ سے اسی قدر روپیہ لے لو اور مجھے آزاد کر دو تو اسے اختیار ہے خواہ اس قسم کا غلام اس سے اپنی آزادگی کی بابت تحریر چاہے وہ اس کی بات کو قبول کر لے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں، انس رضی اللہ عنہ کا غلام سیرین نے جو مالدار تھا ان سے درخواست کی کہ مجھ سے میری آزادی کی کتابت کرلو۔ انس رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا، دربار فاروقی رضی اللہ عنہ میں مقدمہ گیا، آپ رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور ان کے نہ ماننے پر کوڑے لگوائے اور یہی آیت تلاوت فرمائی یہاں تک کہ انہوں نے تحریر لکھوا دی۔ [بخاری]
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ واجب نہیں۔ میں نے نہیں سنا کہ کسی امام نے کسی آقا کو مجبور کیا ہو کہ وہ اپنے غلام کی آزادگی کی تحریر کر دے، اللہ کا یہ حکم بطور اجازت کے ہے نہ کہ بطور وجوب کے۔ یہی قول امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ وغیرہ کا ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ کے نزدیک مختار قول وجوب کا ہے۔ خیر سے مراد امانت داری، سچائی، مال اور مال کے حاصل کرنے پر قدرت وغیرہ ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اگر تم اپنے غلاموں میں جو تم سے مکاتب کرنا چاہیں، مال کے کمانے کی صلاحیت دیکھو تو ان کی اس خواہش کو پوری کرو ورنہ نہیں کیونکہ اس صورت میں وہ لوگوں پر اپنا بوجھ ڈالیں گے } }۔ ۱؎ [المراسیل لابی داود:162:مرسل و ضعیف] یعنی ان سے سوال کریں گے اور رقم پوری کرنا چاہیں گے۔
اس کے بعد فرمایا ہے کہ ’ انہیں اپنے مال میں سے کچھ دو ‘۔ یعنی جو رقم ٹھہر چکی ہے، اس میں سے کچھ معاف کر دو، چوتھائی یا تہائی یا آدھا یا کچھ حصہ۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ شروع شروع میں آپ رضی اللہ عنہ نہ کچھ دیتے تھے نہ معاف فرماتے تھے کیونکہ خیال ہوتا تھا کہ ایسا نہ ہو آخر میں یہ رقم پوری نہ کرسکے تو میرا دیا ہوا مجھے ہی واپس آ جائے۔ ہاں آخری قسطیں ہوتیں تو جو چاہتے اپنی طرف سے معاف کر دیتے۔ ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ { چوتھائی چھوڑ دو }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:397/2:موقوف] لیکن صحیح یہی ہے کہ وہ علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔
مروی ہے کہ بدر کا ایک قریشی قیدی عبداللہ بن ابی کے پاس تھا وہ چاہتا تھا کہ اس کی لونڈی سے ملے، لونڈی بوجہ اسلام کے حرام کاری سے بچتی تھی۔ عبداللہ کی خواہش تھی کہ یہ اس قریشی سے ملے، اس لیے اسے مجبور کرتا تھا اور مارتا پیٹتا تھا، پس یہ آیت اتری۔
ایک روایت میں ہے کہ مسیکہ اور معاذ دو لونڈیاں دو شخصوں کی تھیں، جو ان سے بدکاری کراتے تھے۔ اسلام کے بعد مسیکہ اور اس کی ماں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی، اس پر یہ آیت اتری۔ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ ’ اگر وہ لونڈیاں پاک دامنی کا ارادہ کریں ‘ اس سے یہ مطلب نہ لیا جائے کہ اگر ان کا ارادہ یہ نہ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں کیونکہ اس وقت واقعہ یہی تھا اس لیے یوں فرمایا گیا۔ پس اکثریت اور غلبہ کے طور پر یہ فرمایا گیا ہے کوئی قید اور شرط نہیں ہے۔ اس سے غرض ان کی یہ تھی کہ مال حاصل ہو، اولادیں ہوں جو لونڈیاں غلام بنیں۔
حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگانے کی اجرت، بدکاری کی اجرت، کاہن کی اجرت سے منع فرما دیا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1568] ایک اور روایت میں ہے { زنا کی خرچی اور پچھنے لگانے والی کی قیمت اور کتے کی قیمت خبیث ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1568]
مرفوع حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے میری امت کی خطا سے، بھول سے اور جن کاموں پر وہ مجبور کر دئیے جائیں، ان پر زبردستی کی جائے ان سے درگزر فرما لیا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:2043،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ان احکام کو تفصیل وار بیان کرنے کے بعد بیان ہوتا ہے کہ ’ ہم نے اپنے کلام قرآن کریم کی یہ روشن و واضح آیات تمہارے سامنے بیان فرما دیں۔ اگلے لوگوں کے واقعات بھی تمہارے سامنے آچکے کہ ان کی مخالفت حق کا انجام کیا اور کیسا ہوا؟ وہ ایک افسانہ بنا دئے گئے اور آنے والوں کے لیے عبرتناک واقعہ بنا دیئے گئے کہ متقی ان سے عبرت حاصل کریں اور اللہ کی نافرمانیوں سے بچیں ‘۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے، ”قرآن میں تمہارے اختلاف کے فیصلے موجود ہیں، تم سے پہلے زمانہ کے لوگوں کی خبریں موجود ہیں، بعد میں ہونے والے امور کے احوال کا بیان ہے۔ یہ مفصل ہے بکواس نہیں اسے جو بھی بے پرواہی سے چھوڑے گا، اسے اللہ برباد کر دے گا اور جو اس کے سوا دوسری کتاب میں ہدایت تلاش کرے گا اسے اللہ گمراہ کر دے گا۔“ ۱؎ [سنن ترمذي:2906،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يأمر تعالى الأولياء والأسيادَ بإنكاح مَنْ تحتَ ولايَتِهِم من الأيامى، وهم مَنْ لا أزواجَ لهم من رجالٍ ونساءٍ ثِيْبٍ وأبكارٍ، فيجب على القريب وولي اليتيم أن يزوِّجَ مَنْ يحتاجُ للزواج ممَّن تجبُ نفقته عليه، وإذا كانوا مأمورين بإنكاح مَنْ تحتَ أيديهم؛ كان أمرُهم بالنِّكاح بأنفسهم من باب أولى. {والصالحين من عبادِكُم وإمائِكُم}: يُحتمل أنَّ المرادَ بالصالحين صلاحُ الدين، وأنَّ الصالح من العبيد والإماءِ ـ وهو الذي لا يكون فاجراً زانياً ـ مأمورٌ سيِّده بإنكاحه جزاءً له على صلاحِهِ وترغيباً له فيه، ولأنَّ الفاسد بالزِّنا منهيٌّ عن تزوُّجه، فيكون مؤيِّداً للمذكور في أول السورة أنَّ نِكاح الزاني والزانية محرمٌ حتى يتوبَ، ويكون التخصيصُ بالصلاح في العبيد والإماء دونَ الأحرارِ؛ لكثرة وجود ذلك في العبيد عادة.
ويُحتمل أنَّ المرادَ بالصَّالحين الصَّالحين للتزوُّج المحتاجين إليه من العبيد والإماء، يؤيِّدُ هذا المعنى أنَّ السيِّد غير مأمورٍ بتزويج مملوكِهِ قبل حاجتِهِ إلى الزواج، ولا يبعُدُ إرادةُ المعنييْنِ كليهما. والله أعلم. وقوله: {إن يكونوا فقراءَ}؛ أي: الأزواج والمتزوِّجين، {يُغْنِهِمُ الله من فضلِهِ}: فلا يمنعكم ما تتوهَّمون من أنَّه إذا تزوَّج افتقر بسبب كَثْرَةِ العائلة ونحوه.
وفيه حثٌّ على التزوُّج ووعدٌ للمتزوِّج بالغنى بعد الفقر. {والله واسعٌ}: كثير الخير عظيمُ الفضل. {عليمٌ}: بمن يستحقُّ فضلَه الدينيَّ والدنيويَّ أو أحدَهما ممَّن لا يستحقُّ، فيعطي كلًّا ما علمه، واقتضاه حكمه.