ترجمہ و تفسیر — سورۃ النور (24) — آیت 31

وَ قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنٰتِ یَغۡضُضۡنَ مِنۡ اَبۡصَارِہِنَّ وَ یَحۡفَظۡنَ فُرُوۡجَہُنَّ وَ لَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ لۡیَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوۡبِہِنَّ ۪ وَ لَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا لِبُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اٰبَآئِہِنَّ اَوۡ اٰبَآءِ بُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اَبۡنَآئِہِنَّ اَوۡ اَبۡنَآءِ بُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اِخۡوَانِہِنَّ اَوۡ بَنِیۡۤ اِخۡوَانِہِنَّ اَوۡ بَنِیۡۤ اَخَوٰتِہِنَّ اَوۡ نِسَآئِہِنَّ اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُنَّ اَوِ التّٰبِعِیۡنَ غَیۡرِ اُولِی الۡاِرۡبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفۡلِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یَظۡہَرُوۡا عَلٰی عَوۡرٰتِ النِّسَآءِ ۪ وَ لَا یَضۡرِبۡنَ بِاَرۡجُلِہِنَّ لِیُعۡلَمَ مَا یُخۡفِیۡنَ مِنۡ زِیۡنَتِہِنَّ ؕ وَ تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ جَمِیۡعًا اَیُّہَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۳۱﴾
اور مومن عورتوں سے کہہ دے اپنی کچھ نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو اس میں سے ظاہر ہو جائے اور اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں کے لیے، یا اپنے باپوں، یا اپنے خاوندوں کے باپوں، یا اپنے بیٹوں، یا اپنے خاوندوں کے بیٹوں، یا اپنے بھائیوں، یا اپنے بھتیجوں، یا اپنے بھانجوں، یا اپنی عورتوں (کے لیے)، یا (ان کے لیے) جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ بنے ہیں، یا تابع رہنے والے مردوں کے لیے جو شہوت والے نہیں، یا ان لڑکوں کے لیے جو عورتوں کی پردے کی باتوں سے واقف نہیں ہوئے اور اپنے پائوں (زمین پر) نہ ماریں، تاکہ ان کی وہ زینت معلوم ہو جو وہ چھپاتی ہیں اور تم سب اللہ کی طرف توبہ کرو اے مومنو! تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔ En
اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش (یعنی زیور کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں مگر جو ان میں سے کھلا رہتا ہو۔ اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں اور اپنے خاوند اور باپ اور خسر اور بیٹیوں اور خاوند کے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجیوں اور بھانجوں اور اپنی (ہی قسم کی) عورتوں اور لونڈی غلاموں کے سوا نیز ان خدام کے جو عورتوں کی خواہش نہ رکھیں یا ایسے لڑکوں کے جو عورتوں کے پردے کی چیزوں سے واقف نہ ہوں (غرض ان لوگوں کے سوا) کسی پر اپنی زینت (اور سنگار کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیں۔ اور اپنے پاؤں (ایسے طور سے زمین پر) نہ ماریں (کہ جھنکار کانوں میں پہنچے اور) ان کا پوشیدہ زیور معلوم ہوجائے۔ اور مومنو! سب خدا کے آگے توبہ کرو تاکہ فلاح پاؤ
En
مسلمان عورتوں سے کہو کہ وه بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ﻇاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو ﻇاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں، اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ﻇاہر نہ کریں، سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں۔ اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیده زینت معلوم ہوجائے، اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 31) ➊ { وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ …:} عورتوں کو بھی اسی طرح اپنی کچھ نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے کا حکم فرمایا جیسے مردوں کو یہ حکم دیا، مگر عورتوں پر مردوں کو نہ دیکھنے کی اتنی سختی نہیں جتنی مردوں پر عورتوں کے دیکھنے کے بارے میں ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنی چادر کے ساتھ مجھے پردے میں لیے ہو ئے تھے اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی، وہ (برچھوں کے ساتھ) کھیل رہے تھے، یہاں تک کہ میں ہی اکتا جاتی، تو ایک نو عمر لڑکی کا اندازہ کر لو جو کھیل دیکھنے کی شوقین ہو۔ [بخاري، النکاح، باب نظر المرأۃ إلی الحبش…: ۵۲۳۶] یعنی اندازہ لگا لو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے کتنی دیر کھڑے رہے ہوں گے۔ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنھا کو ان کے خاوند نے تیسری طلاق دے دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا: ام شریک کے گھر رہ کر عدت گزارو۔ پھر فرمایا: اس عورت کے پاس میرے صحابہ کثرت سے آتے ہیں (کیونکہ وہ مال دار اور بہت مہمان نواز خاتون تھی)، اس لیے تم ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزارو، کیونکہ وہ نابینا آدمی ہے، تم اپنے کپڑے بھی نیچے رکھ سکو گی۔ [مسلم، الطلاق، باب المطلقۃ البائن لا نفقۃ لھا: 1480/38] ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اگر شہوانی خیال نہ ہو تو عورتیں مردوں کو دیکھ سکتی ہیں۔ پردے کا حکم عورتوں کو ہے، تاکہ مرد انھیں نہ دیکھیں، مردوں کو نہیں کہ عورتیں انھیں نہ دیکھیں۔ البتہ اگر شہوت کے ساتھ ہو تو عورتوں کو بھی مردوں کی طرف دیکھنا حرام ہے، جیسا کہ آیت سے ظاہر ہے۔
➋ سنن ابی داؤد اور بعض دوسری کتب احادیث میں ام سلمہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میمونہ رضی اللہ عنھا بھی تھیں تو ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے اور یہ واقعہ ہمیں حجاب کا حکم ہونے کے بعد کا ہے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے حجاب کرو۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ! کیا یہ نابینا نہیں کہ نہ ہمیں دیکھتا ہے، نہ ہمیں پہچانتا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَ فَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا؟ أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ!] [أبوداوٗد، اللباس، باب في قولہ عزوجل: «و قل للمؤمنات …» ‏‏‏‏: ۴۱۱۲] تو کیا تم بھی اندھی ہو؟ کیا تم اسے نہیں دیکھتیں! اس حدیث سے عورتوں کا آنکھوں والے مردوں کو ہی نہیں نابینا مردوں کو دیکھنا بھی منع ثابت ہوتا ہے، مگر امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اس کی توجیہ یہ فرمائی ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کی خصوصیت ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنھا کو ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر عدت گزارنے کا حکم دیا تھا۔ ہمارے ایک شیخ اس کی یہ توجیہ فرماتے تھے کہ نابینا آدمی اپنے ستر کا خیال نہیں رکھ سکتا، نہ اسے اپنا ستر کھلنے کا پتا چل سکتا ہے، اس لیے اس سے حجاب کا حکم دیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ روایت ثابت ہی نہیں، چنانچہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے ضعیف کہا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اس میں ایک راوی نبہان مولیٰ ام سلمہ ہے، اسے تقریب میں مقبول کہا گیا ہے اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تقریب کے مقدمہ میں خود فرمایا ہے کہ جس راوی کے متعلق وہ مقبول کہیں، اگر کسی حدیث میں اس کی متابعت ہو تو وہ مقبول ہے، ورنہ لین الحدیث ہے۔ اس لیے یہ روایت ضعیف ہے۔ [ہدایۃ المستنیر بتخریج ابن کثیر]
➌ { وَ لَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا:} چونکہ مردوں کے لیے عورتوں سے بڑا فتنہ کوئی نہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا تَرَكْتُ بَعْدِيْ فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَی الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ] [بخاري، النکاح، باب ما یتقي من شؤم المرأۃ…: ۵۰۹۶، عن أسامۃ بن زید رضی اللہ عنھما] میں نے اپنے بعد مردوں پر کوئی فتنہ عورتوں سے زیادہ نقصان پہنچانے والا نہیں چھوڑا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کے علاوہ اپنی زینت چھپانے کا بھی حکم دیا، چنانچہ فرمایا کہ مومن عورتوں سے کہہ دے کہ (ان کے ایمان کا تقاضا ہے کہ) اپنی کچھ نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو اس میں سے ظاہر ہو جائے۔ زینت کا معنی جمال اور حسن ہے۔ یہ دو قسم کی ہے، ایک فطری حسن و جمال اور دوسری جو بناؤ سنگار، زیبائش و آرائش اور زیور وغیرہ سے حاصل ہوتی ہے۔ لباس بھی زینت ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ خُذُوْا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ [الأعراف: ۳۱] ہر نماز کے وقت اپنی زینت لے لو۔ اس میں زینت کا معنی لباس ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ عورتیں اپنی کوئی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو خود ظاہر ہو جائے، یعنی انھیں اپنے بدن اور اس کے بناؤ سنگار میں سے کوئی چیز ظاہر کرنا جائز نہیں مگر وہ کپڑے جنھیں چھپایا جا ہی نہیں سکتا، یا وہ زینت جو کسی کام یا حرکت کی وجہ سے بے اختیار ظاہر ہو جائے۔ {الصحيح المسبور من التفسير بالمأثور} میں ہے: طبری نے صحیح اسانید کے ساتھ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: { «‏‏‏‏وَ لَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا» قَالَ هِيَ الثِّيَابُ} یعنی اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے کہ وہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو اس میں سے ظاہر ہو جائے اس سے مراد کپڑے ہیں۔ حاکم نے اسے روایت کیا اور اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ (مستدرک حاکم: ۲؍۳۹۷، ح: ۳۴۹۹) اور طبرانی (۹۱۱۶) نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ ہیثمی نے مجمع الزوائد (۷؍۸۲) میں فرمایا: طبرانی نے اسے کئی اسانید کے ساتھ مطول اور مختصر روایت کیا ہے، جن میں سے ایک سند کے راوی صحیحین (بخاری و مسلم) کے راوی ہیں۔
بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ { اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا } سے مراد چہرہ اور ہتھیلیاں ہیں، بلکہ انھوں نے اس کے ساتھ بالیاں، کنگن، انگوٹھی، سرمہ اور منہدی بھی شامل کر دی ہے اور یہ کہا ہے کہ عورتوں کا چہرہ اور ہتھیلیاں مع زیور و آرائش وہ زینت ہے جو عورتوں کے لیے اپنوں اور بیگانوں سب کے سامنے ظاہر کرنا جائز ہے۔ یہ لوگ دلیل کے طور پر ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول پیش کرتے ہیں کہ { اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا } سے مراد چہرہ اور ہتھیلیاں ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ یہ لوگ نہ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول پورا پیش کرتے ہیں اور نہ پردے کے متعلق ان کے دوسرے اقوال پیش نظر رکھتے ہیں۔ چہرے کے پردے کے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنھما کا موقف طبری نے مشہور حسن سند (علی بن ابی طلحہ عن ابن عباس) کے ساتھ بیان کیا ہے، لطف یہ ہے کہ { اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا } کی تفسیر جو چہرے کے پردے کے منکر ابن عباس رضی اللہ عنھما سے نا مکمل بیان کرتے ہیں، وہ بھی اسی سند کے ساتھ مروی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «{ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِيْنَ يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ۠ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ يُّعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا [الأحزاب: ۵۹] (اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے آپ پر لٹکا لیا کریں۔ یہ زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انھیں تکلیف نہ پہنچائی جائے اور اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: [أَمَرَ اللّٰهُ نِسَاءَ الْمُؤْمِنِيْنَ إِذَا خَرَجْنَ مِنْ بُيُوْتِهِنَّ فِيْ حَاجَةٍ أَنْ يُّغَطِّيْنَ وُجُوْهَهُنَّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِنَّ بِالْجَلَابِيْبِ وَ يُبْدِيْنَ عَيْنًا وَاحِدَةً] [طبري:۲۸۸۸۰]اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی کام کے لیے گھروں سے باہر نکلیں تو اپنے چہروں کو اپنے سروں کے اوپر سے بڑی چادروں کے ساتھ ڈھانپ لیں اور ایک آنکھ کھلی رکھیں۔ ایسا شخص جو گھر سے باہر نکلتے ہوئے مومن عورتوں کے لیے صرف ایک آنکھ کھلی رکھنے کو اللہ کا حکم قرار دیتا ہے وہ عورتوں کے لیے چہرے اور ہاتھوں کو اپنوں اور بیگانوں کے سامنے کھلا رکھنے کی اجازت کیسے دے سکتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ ابن مسعود اور ابن عباس رضی اللہ عنھم کے موقف میں کوئی اختلاف نہیں۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے { اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا } کی تفسیر اجنبیوں کے اعتبار سے فرمائی ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنھما نے{ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا } کی تفسیر اپنے لوگوں کے اعتبار سے فرمائی ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ ہے کہ اجنبیوں کے سامنے ظاہری کپڑوں کے سوا کوئی زینت ظاہر نہ کریں اور ابن عباس رضی اللہ عنھما کا مطلب یہ ہے کہ زینت ظاہرہ (چہرہ اور ہاتھ) خاوند کے علاوہ اپنے محرموں کے سامنے بھی ظاہر کر سکتی ہیں، جس میں سرمہ، منہدی، بالیاں، کنگن، ہار سب کچھ شامل ہے۔ ان محرموں کا بیان آگے فرما دیا: «{ وَ لَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوْبِهِنَّ وَ لَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآىِٕهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآىِٕهِنَّ۠ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِيْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِيْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآىِٕهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُنَّ [النور: ۳۱] البتہ زینت باطنہ (پیٹ، سینہ، ران اور مخفی حصے) صرف خاوند کے سامنے ظاہر کر سکتی ہیں۔ اب آپ ابن عباس رضی اللہ عنھما کی اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا کی مکمل تفسیر پڑھیں، جس کا صرف شروع کا حصہ بیان کیا جاتا ہے۔ طبری نے (علی بن ابی طلحہ عن ابن عباس سے) حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ آیت: «{ وَ لَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا کے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: [وَالزِّيْنَةُ الظَّاهِرَةُ: الْوَجْهُ وَ كُحْلُ الْعَيْنِ وَ خِضَابُ الْكَفِّ وَ الْخَاتَمُ، فَهٰذِهِ تَظْهَرُ فِيْ بَيْتِهَا لِمَنْ دَخَلَ مِنَ النَّاسِ عَلَيْهَا] [طبري: ۲۶۱۷۰]زینت ظاہرہ سے مراد چہرہ، آنکھ کا سرمہ، ہتھیلی کی منہدی اور انگوٹھی ہے، چنانچہ وہ یہ چیزیں اپنے گھر میں ان لوگوں کے سامنے ظاہر کر سکتی ہے جو اس کے پاس اندر آتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما پر اس سے بڑا ظلم کیا ہو گا کہ وہ یہ زینت گھر کے اندر اپنے لوگوں کے سامنے ظاہر کرنے کی بات کر رہے ہیں اور یہ حضرات سرمہ و منہدی، گلے کے ہار اور کنگن اور انگوٹھی سمیت چہرے اور ہتھیلیوں کو اپنوں اور بیگانوں سب کے سامنے کھلا رکھنے کو ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول قرار دے رہے ہیں۔ [فَیَا لِلْعَجَبِ وَلِضَیْعَۃِ الْأَدَبِ]
➍ اب قرآن مجید اور احادیث و آثار سے چہرے کے پردے کے چند دلائل بیان کیے جاتے ہیں:
(1) سب سے پہلے زیر تفسیر آیت ہی کو دیکھیں، اس میں { وَ لَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا } کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «{ وَ لْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوْبِهِنَّ اور اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں گریبان پر پہلے ہی قمیص کا کپڑا موجود ہوتا ہے، اس کے باوجود اس پر اوڑھنی کا حکم دیا ہے، اب چہرے کے پردے کے منکر خود ہی غور فرمائیں کہ عورت کے حسن و جمال کے اصل مرکز چہرے کو مع سرمہ و زیور تو کھلا رکھنے کی اجازت دے دی گئی جو مرد کے لیے سراسر فتنہ ہے اور سینہ جس پر قمیص بھی تھی اسے مزید اوڑھنی کے ساتھ ڈھانکنے کا حکم دیا گیا۔
(2) طبری نے اپنی حسن سند کے ساتھ علی بن ابی طلحہ کے طریق سے ابن عباس رضی اللہ عنھما کا ایک قول نقل کیا ہے جو اللہ کے فرمان { اَوِ التّٰبِعِيْنَ غَيْرِ اُولِي الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ } کے متعلق ہے، ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں: [فَهٰذَا الرَّجُلُ يَتْبَعُ الْقَوْمَ وَهُوَ مُغَفَّلٌ فِيْ عَقْلِهِ لَا يَكْتَرِثُ لِلنِّسَاءِ وَلَا يَشْتَهِيْهِنَّ فَالزِّيْنَةُ الَّتِيْ تُبْدِيْهَا لِهٰؤُلَاءِ قُرْطَاهَا وَ قِلَادَتُهَا وَ سِوَارُهَا وَ أَمَّا خَلْخَالُهَا وَ مِعْضَدَاهَا وَ نَحْرُهَا وَ شَعْرُهَا فَإِنَّهَا لَا تُبْدِيْهِ إِلَّا لِزَوْجِهَا] [طبري: ۲۶۱۹۴] تو یہ وہ آدمی ہے جو کچھ لوگوں کے ساتھ رہتا ہے اور وہ عقل کا بدھو ہے، نہ اسے عورتوں کی پروا ہے نہ ان سے کوئی جنسی حاجت، تو وہ زینت جو ان لوگوں کے سامنے کھول سکتی ہے وہ اس کی بالیاں، ہار اور کنگن ہیں، رہی اس کی پازیب، بازو، سینہ اور بال تو وہ صرف خاوند کے سامنے کھول سکتی ہے۔
(3) { وَ لَا يَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِيْنَ مِنْ زِيْنَتِهِنَّ } میں پاؤں کو زور سے زمین پر مارنے سے منع کیا کہ مردوں کو ان کے زیور کی آواز سے شہوانی خیال پیدا نہ ہو۔ اب ایک عورت جو معلوم نہیں جوان ہے یا بوڑھی، خوبصورت ہے یا بدصورت، اس کی پازیب کی آواز دلوں میں خرابی پیدا کرتی ہے اور اسے چھپائے رکھنے کا حکم ہے، تو چہرہ جس پر کسی عورت کے خوبصورت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ ہوتا ہے، وہ کھلا رکھنا کیسے جائز ہو گیا؟
(4) «{ ٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِيْنَ يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ يُّعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا [الأحزاب: ۵۹] اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے آپ پر لٹکا لیا کریں۔ یہ زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انھیں تکلیف نہ پہنچائی جائے۔ اس آیت کی تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنھما سے اوپر گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب کسی کام کے لیے گھروں سے باہر نکلیں تو اپنے چہروں کو اپنے سروں کے اوپر سے بڑی چادروں کے ساتھ ڈھانپ لیں اور ایک آنکھ کھلی رکھیں (اگر راستہ وغیرہ دیکھنے کی ضرورت ہو، ورنہ وہ بھی نہیں)۔ اس آیت سے استدلال کی مزید تفصیل کے لیے سورۂ احزاب ملاحظہ فرمائیں۔
(5) «{ وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِيْ لَا يَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ يَّضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِيْنَةٍ وَ اَنْ يَّسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَّهُنَّ وَ اللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ ‏‏‏‏ [النور: ۶۰] اور عورتوں میں سے بیٹھ رہنے والیاں، جو نکاح کی امید نہیں رکھتیں، سو ان پر کوئی گناہ نہیں کہ اپنے کپڑے اتار دیں، جب کہ وہ کسی قسم کی زینت ظاہر کرنے والی نہ ہوں اور یہ بات کہ (اس سے بھی) بچیں ان کے لیے زیادہ اچھی ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ استدلال کی تفصیل کے لیے اس آیت کی تفسیر دیکھیے۔
(6) «{ لَا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ فِيْۤ اٰبَآىِٕهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآىِٕهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآىِٕهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُنَّ وَ اتَّقِيْنَ اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدًا [الأحزاب:۵۵] ان (عورتوں) پر کوئی گناہ نہیں اپنے باپوں (کے سامنے آنے) میں اور نہ اپنے بیٹوں کے اور نہ اپنے بھائیوں کے اور نہ اپنے بھتیجوں کے اور نہ اپنے بھانجوں کے اور نہ اپنی عورتوں کے اور نہ ان (کے سامنے آنے) میں جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ ہیں اور (اے عورتو!) اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح شاہد ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو اجنبیوں سے حجاب کا حکم دیا تو وضاحت فرما دی کہ ان اقارب سے حجاب نہیں، جیسا کہ سورۂ نور کی آیت (۳۱): «‏‏‏‏وَ لَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوْبِهِنَّ وَ لَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآىِٕهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآىِٕهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِيْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِيْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآىِٕهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِيْنَ غَيْرِ اُولِي الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِيْنَ لَمْ يَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ» ‏‏‏‏ میں وضاحت فرمائی ہے، جب ان اقارب سے پردہ نہ کرنے میں گناہ نہیں تو معلوم ہوا کہ اجنبیوں سے پردہ نہ کرنے میں گناہ ہے۔
(7) احادیث سے بھی عورتوں کے لیے پردے کا حکم ثابت ہے، یہاں چند احادیث درج کی جاتی ہیں، اس سے پہلے صحیح بخاری میں سے عائشہ رضی اللہ عنھا کی لمبی حدیث بیان ہو چکی ہے، جس میں وہ فرماتی ہیں کہ صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ لشکر کے پیچھے تھے، وہ صبح کے وقت جب اس جگہ پہنچے جہاں میں لیٹی ہوئی تھی، تو اس نے ایک سویا ہوا انسان دیکھا، پھر جب وہ میرے پاس آئے، تو اس نے مجھے پہچان لیا، کیونکہ وہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے مجھے دیکھ چکے تھے، تو میں نے اپنی بڑی چادر کے ساتھ اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔ [بخاري: ۲۶۶۱] یہ حدیث صاف دلیل ہے کہ اگر حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے انھوں نے ام المومنین کو نہ دیکھا ہوتا تو وہ کبھی نہ پہچان سکتے، کیونکہ حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد انھیں دیکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
(8) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عورتوں کو عید کے لیے نکلنے کا حکم دیا تو انھوں نے کہا: [يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِحْدَانَا لَيْسَ لَهَا جِلْبَابٌ، قَالَ لِتُلْبِسْهَا صَاحِبَتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا] [بخاري، الصلاۃ، باب وجوب الصلاۃ في الثیاب: ۳۵۱] یا رسول اللہ! ہم میں سے کسی کے پاس بڑی چادر نہیں ہوتی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی بہن اسے پہننے کے لیے کوئی اپنی بڑی چادر دے دے۔ اگر پردہ فرض نہ ہوتا تو ان کے سوال کا جواب تھا کہ دوپٹا ہی کافی ہے، بڑی چادر کی ضرورت نہیں۔
(9) عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: اونٹوں کے سوار ہمارے پاس سے گزرتے، جب کہ ہم احرام کی حالت میں ہوتیں، تو جب وہ ہمارے برابر آتے تو ہم میں سے ہر ایک اپنی بڑی چادر سر سے چہرے پر لٹکا لیتی، جب گزر جاتے تو ہم اسے ہٹا دیتیں۔ [أبوداوٗد، المناسک، باب في المحرمۃ تغطي وجھھا: ۱۸۳۳] عبد المحسن العباد نے ابوداؤد کی شرح میں فرمایا: اس حدیث میں ایک راوی پر کلام کیا گیا ہے، اسی لیے البانی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف ابی داؤد میں ذکر کیا ہے، لیکن انھوں نے مشکوٰۃ میں اسے حسن کہا ہے اور حجاب المرأۃ المسلمۃ میں بھی حسن کہا ہے اور اسماء رضی اللہ عنھا سے ایک صحیح سند کے ساتھ اس کا شاہد بھی ہے، چنانچہ یہ حدیث اپنے شواہد کی وجہ سے صحیح ہے۔ تو احرام کی حالت میں، جب نقاب پہننا منع ہے، اگر پردہ واجب نہ ہوتا تو وہ چہرے پر چادریں کیوں لٹکاتیں؟
➎ اب ان لوگوں کے دلائل ملاحظہ فرمائیں جو چہرے اور ہتھیلیوں کے پردے کو واجب نہیں مانتے، ان کی سب سے بڑی دلیل قرآن مجید کے الفاظ { اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا } کی ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی تفسیر ہے کہ اس سے مراد چہرہ اور ہتھیلیاں ہیں اور صحابی کی تفسیر حجت ہے۔ابن عباس رضی اللہ عنھما کا پورا قول اور اس کی وضاحت اوپر گزر چکی ہے، ابن عباس رضی اللہ عنھما نے محرم رشتہ داروں کے سامنے چہرہ اور ہاتھ کھولنے کی بات فرمائی ہے نہ کہ اجنبیوں کے سامنے اور اگر کسی کو اصرار ہو کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سب لوگوں کے سامنے عورت کا چہرہ اور ہتھیلیاں کھلی رکھنے کے قائل ہیں، تو یاد رہے کہ کسی صحابی کی تفسیر اسی وقت حجت ہوگی جب دوسرے کسی صحابی نے اس کے خلاف تفسیر نہ کی ہو۔ یہاں ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اجنبیوں کے سامنے صرف کپڑوں کا ظاہر ہو جانا جائز رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ کا حکم ہے: «‏‏‏‏فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ» [النساء: ۵۹] پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ۔ یعنی تنازع کے وقت کسی کی بات بھی حجت نہیں رہتی، اس وقت صرف اللہ اور اس کے رسول کی بات حجت ہوتی ہے اور قرآن و سنت کی رو سے غیر محرم مردوں سے چہرے اور ہاتھوں کا پردہ واجب ہے، جیسا کہ آپ اس سے پہلے پڑھ چکے ہیں۔
ان حضرات کی دوسری دلیل عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی سنن ابی داؤد کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سالی اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنھما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور انھوں نے باریک کپڑے پہنے ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے رخ پھیر لیا اور فرمایا: [يَا أَسْمَاءُ! إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا بَلَغَتِ الْمَحِيْضَ لَمْ يَصْلُحْ لَهَا أَنْ يُّرَی مِنْهَا إِلَّا هٰذَا وَ هٰذَا] [أبوداوٗد، اللباس، باب فیما تبدی المرأۃ من زینتھا: ۴۱۰۴] اسماء! عورت جب بلوغت کو پہنچ جائے تو (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ) اس کے سوا اور اس کے سوا اس کی کوئی چیز نظر آنا درست نہیں۔ اس حدیث سے عورت کا غیر محرم کے سامنے چہرہ اور ہتھیلیاں ظاہر کرنا جائز ثابت ہوا۔ اس دلیل کے متعلق عبد المحسن العباد نے ابوداؤد کی شرح میں فرمایا ہے: یہ حدیث صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس میں انقطاع ہے (خود امام ابوداؤد نے فرمایا ہے کہ خالد بن دریک نے عائشہ رضی اللہ عنھا سے نہیں سنا) اور اس میں سعید بن بشیر ضعیف ہے، پھر اس میں ولید کی تدلیس ہے اور اس کے متن میں بھی نکارت ہے، کیونکہ یہ بات بہت بعید ہے کہ اسماء بڑی عمر میں باریک کپڑوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئیں، کیونکہ ہجرت کے وقت ان کی عمر ستائیس برس تھی۔ محمد بن صالح بن عثیمین نے بھی رسالۃ الحجاب میں انھی وجوہ سے حدیث کو ضعیف کہا ہے۔ اگر اس حدیث کو صحیح بھی مانا جائے تو اس میں یہ احتمال موجود ہے کہ یہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے اور یہ مسلّمہ قاعدہ ہے کہ احتمال کے ہوتے ہوئے استدلال ممکن نہیں ہوتا۔ اردو تفسیر کے ایک مصنف نے اس حدیث سے یہ دلیل اخذ کی ہے کہ اجنبیوں کے سامنے تو نہیں البتہ عورت محرم رشتہ داروں کے علاوہ ان رشتہ داروں کے سامنے بھی چہرہ اور ہتھیلیاں کھول سکتی ہے جو محرم نہ ہوں، مگر جب روایت ہی ثابت نہیں تو اس سے استدلال کیسے ہو سکتا ہے۔ انھی بزرگوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چچا زاد بہن ام ہانی رضی اللہ عنھا آخر وقت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آتی رہیں اور کم از کم منہ اور چہرے کا پردہ انھوں نے آپ سے کبھی نہیں کیا۔ اس کی دلیل کے طور پر انھوں نے ابوداؤد سے ایک روایت کا حوالہ دیا ہے، جس میں ہے کہ ام ہانی رضی اللہ عنھا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچا ہوا پانی پیا، اس میں چہرہ کھلا ہونے کا ذکر ہی نہیں۔ تعجب ہوتا ہے کہ کئی بزرگ کس طرح اپنے پاس سے بات بنا کر اسے کتب احادیث کے ذمے لگا دیتے ہیں اور کسی دلیل کے بغیر یہ دعویٰ کر دیتے ہیں کہ فلاں عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چہرے کا پردہ کبھی نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بات بالکل بے دلیل ہے کہ غیر محرم رشتہ داروں کے سامنے عورت کے لیے چہرہ اور ہاتھ کھولنے جائز ہیں اور یہ بات فتنے کا بہت بڑا دروازہ کھولنے کا باعث ہے۔
تیسری دلیل ان حضرات کی صحیح بخاری میں مروی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کی روایت ہے کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنھما سواری پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، تو خثعم قبیلے کی ایک عورت آئی تو فضل اس کی طرف دیکھنے لگے اور وہ فضل کی طرف دیکھنے لگی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فضل کا منہ دوسری طرف پھیرنے لگے۔ [بخاري، الحج، باب وجوب الحج…: ۱۵۱۳] اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں پردہ نہیں کیا، اگر پردہ ضروری ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پردے کا حکم دیتے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ اس میں یہ ذکر نہیں کہ وہ عورت بے پردہ تھی، اگر فرض کیا جائے کہ وہ بے پردہ تھی تو اس میں یہ ذکر نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پردے کا حکم نہیں دیا۔ پردے کا حکم جب اس سے پہلے آیات و احادیث کے ذریعے امت تک پہنچ چکا تھا تو اگر کسی موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی تاکید نقل نہ بھی ہوئی ہو تو کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔
➏ {وَ لْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوْبِهِنَّ: خُمُرٌ خِمَارٌ} کی جمع ہے اوڑھنی۔ {جُيُوْبٌ جَيْبٌ} کی جمع ہے گریبان۔ یعنی عورتوں کو چاہیے کہ اپنی اوڑھنیاں سر سے لا کر گریبان پر ڈالیں، تاکہ سینہ اور گلے کا زیور چھپا رہے۔ اسلام سے پہلے کی جاہلیت میں عورتیں اپنے سینوں پر کچھ نہیں ڈالتی تھیں، بلکہ وہ دوپٹے کے دونوں کنارے پیچھے کی طرف لٹکا لیتیں، جس سے بسا اوقات ان کی گردن، بال، چوٹی، زیور اور چھاتی صاف نظر آتی تھیں، موجودہ زمانے کی جاہلیت کا حال اس سے بھی بدتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا۔ سورۂ احزاب کی آیت (۵۸) میں بھی عورتوں کو بڑی چادریں نیچے لٹکا کر رکھنے کا حکم دیا۔ عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا: [يَرْحَمُ اللّٰهُ نِسَاءَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلَ لَمَّا أَنْزَلَ اللّٰهُ: «‏‏‏‏وَ لْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوْبِهِنَّ» شَقَقْنَ أَكْنَفَ مُرُوْطِهِنَّ فَاخْتَمَرْنَ بِهَا] [أبو داوٗد، اللباس، باب في قول اللہ تعالٰی: «‏‏‏‏و لیضربن بخمرھن علی جیوبھن» ‏‏‏‏: ۴۱۰۲]اللہ تعالیٰ پہلی مہاجر عورتوں پر رحم فرمائے، جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: «وَ لْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوْبِهِنَّ» ‏‏‏‏ تو انھوں نے اپنی سب سے موٹی چادریں پھاڑیں اور انھیں اوڑھ لیا۔
➐ {لَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ …:} یعنی بے اختیار ظاہر ہونے والی زینت یعنی لباس تو خود ہی ظاہر ہو جاتا ہے، گھر کے اندر یا گھر سے باہر کسی جگہ لباس کے ظاہر ہونے میں کوئی گناہ نہیں، البتہ اس کے علاوہ زینت ظاہرہ یعنی چہرہ اور ہاتھ صرف ان لوگوں کے سامنے ظاہر کر سکتی ہیں جن کا اس آیت میں ذکر ہے، یہ کل بارہ (۱۲) ہیں۔ ان کے ساتھ وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کا ذکر حدیث میں ہے۔ ان میں سب سے پہلے خاوند ہے، اس کے سامنے تو عورت اپنی ظاہر و باطن ہر زینت ظاہر کر سکتی ہے، کیونکہ اس کی ساری زینت خاوند ہی کی امانت ہے۔ البتہ اس کے بعد جن لوگوں کا ذکر ہے ان کے سامنے صرف چہرہ اور ہاتھ کھول سکتی ہیں۔
{ اَوْ اٰبَآىِٕهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ } آباء میں دادا و پڑدادا اور نانا و پڑنانا بھی شامل ہیں۔ رضاعی باپ دادا کا بھی یہی حکم ہے۔ آیت میں چچا اور ماموں کا ذکر نہیں۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ان کا ذکر اس لیے نہیں فرمایا کہ اگر وہ اپنی بھتیجی یا بھانجی کو دیکھیں گے تو ممکن ہے کہ اپنے بیٹوں کے سامنے ان کے حسن و جمال کا ذکر کریں، اس لیے ان کے بقول چچا اور ماموں سے بھی پردہ ہے، مگر یہ بات غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ چچا اور ماموں بھی باپ کے حکم میں ہیں، انھیں بھی مجازاً باپ کہہ دیا جاتا ہے، جیسا کہ یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں نے کہا تھا: «‏‏‏‏نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآىِٕكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِيْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۱۳۳] ہم تیرے معبود اور تیرے باپ داد ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی پیروی کریں گے جو ایک ہی معبود ہے۔ اس میں اسماعیل علیہ السلام کو یعقوب علیہ السلام کا باپ کہا ہے، حالانکہ وہ ان کے چچا تھے۔ رضاعی چچا اور رضاعی ماموں سے بھی پردہ نہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میرا رضاعی چچا آیا اور اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے بغیر اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور میں نے اس کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّهُ عَمُّكِ فَأْذَنِيْ لَهُ، قَالَتْ، فَقُْلْتُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَتْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ إِنَّهُ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ قَالَتْ عَائِشَةُ وَ ذٰلِكَ بَعْدَ أَنْ ضُرِبَ عَلَيْنَا الْحِجَابُ، قَالَتْ عَائِشَةُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ] [بخاري، النکاح، ما یحل من الدخول…: ۵۲۳۹]وہ تمھارا چچا ہے، اسے اندر آنے دو۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے دودھ عورت نے پلایا ہے، مرد نے نہیں۔ کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تمھارا چچا ہے، اسے اندر آنے دو۔ عائشہ رضی اللہ عنھا کہتی ہیں: اور یہ حجاب فرض ہونے کے بعد کا واقعہ ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا: رضاعت سے وہ سب رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو ولادت سے حرام ہوتے ہیں۔
{ اَوْ اَبْنَآىِٕهِنَّ۠ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ } بیٹوں میں ساری اولاد شامل ہے، بیٹے، پوتے، نواسے اور ان سے بھی نیچے تک سب بیٹے ہیں۔ { اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِيْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِيْۤ اَخَوٰتِهِنَّ } بھائیوں اور بہنوں میں عینی بھی شامل ہیں، جو ماں باپ دونوں کی طرف سے ہوں، علاتی بھی، جو صرف باپ کی طرف سے ہوں اور اخیافی بھی، جو صرف ماں کی طرف سے بھائی بہن ہوں۔ ایسے بھائی، بھتیجے، بھانجے اور ان کے بیٹے، پوتے اور نواسے نیچے تک کسی سے بھی پردہ نہیں، بلکہ وہ تمام مرد جن سے نکاح حرام ہے کسی سے بھی پردہ نہیں، مثلاً داماد اور ساس وغیرہ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ مَسِيْرَةَ يَوْمٍ وَ لَيْلَةٍ لَيْسَ مَعَهَا حُرْمَةٌ] [بخاري، التقصیر، باب في کم یقصر الصلاۃ؟: ۱۰۸۸] کسی عورت کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں کہ وہ ایک دن رات کا سفر محرم کے بغیر کرے۔ { اَوْ نِسَآىِٕهِنَّ } اپنی عورتوں سے پردہ نہ ہونے سے ظاہر ہے کہ جو اپنی نہ ہوں ان سے پردہ ہے۔ عبد الرحمان کیلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اپنی عورتوں سے مراد آپس میں میل ملاقات رکھنے والی مسلمان عورتیں ہیں، جو ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتی پہچانتی اور ایک دوسرے پر اعتبار رکھتی ہوں۔ رہی دوسری غیر مسلم، مشتبہ اور اَن جانی عورتیں تو ایسی عورتوں سے اپنی زیب و زینت چھپانے اور حجاب کا ایسا ہی حکم ہے جیسے غیر مردوں سے ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وہ عورتیں ہی ہوتی ہیں جو قحبہ گری کی دلالی بھی کرتی ہیں، نو خیز اور نوجوان لڑکیوں کو اپنے دام تزویر میں پھنسا کر غلط راہوں پر ڈال دیتی ہیں اور شیطان کی پوری نمائندگی کرتی ہیں۔ ایک گھر کے بھید کی باتیں دوسرے گھر میں بیان کرکے فحاشی پھیلاتی اور اس کی راہ ہموار کرتی ہیں۔ ایسی بدمعاش قسم کی عورتوں سے پرہیز کی سخت ضرورت ہے۔ لہٰذا تمام اَن جانی اور غیر مسلم عورتوں یا غیر عورتوں سے بھی حجاب کا حکم دیا گیا، بلکہ ایسی عورتوں کو گھروں میں داخلہ پر بھی ایسے ہی پابندی لگانا ضروری ہے جیسے غیر مردوں کے لیے ضروری ہے۔ (تیسیر القرآن)
{ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُنَّ } عورت اپنے غلام کے سامنے بھی اپنی وہ زینت ظاہر کر سکتی ہے جو دوسرے محرموں کے سامنے ظاہر کرتی ہے۔ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک غلام لے کر فاطمہ رضی اللہ عنھا کے پاس آئے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ہبہ کیا تھا، فاطمہ رضی اللہ عنھا پر ایک کپڑا تھا، وہ اس کے ساتھ سر ڈھانپتیں تو پاؤں تک نہ پہنچتا اور جب اس کے ساتھ پاؤں ڈھانپتیں تو سر پر نہ پہنچتا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مشکل دیکھی تو فرمایا: [إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكِ بَأْسٌ إِنَّمَا هُوَ أَبُوْكِ وَ غُلَامُكِ] [أبوداوٗد، اللباس، باب فی العبد ینظر إلی شعر مولاتہ: ۴۱۰۶، قال الألباني صحیح]تم پر کوئی حرج نہیں، یہاں صرف تمھارا باپ ہے اور تمھارا غلام ہے۔ اس حدیث سے اجنبیوں کے سامنے سر اور پاؤں چھپانے کا حکم بھی ثابت ہوا۔ { اَوِ التّٰبِعِيْنَ غَيْرِ اُولِي الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ } اس کی تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنھما سے زیر تفسیر آیت کے فائدہ نمبر(۴) کے تحت دیکھیے۔
{ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِيْنَ لَمْ يَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ } سے مراد وہ بچے ہیں جو نابالغ ہوں اور انھیں میاں بیوی کے معاملے کی خبر نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان نابالغ بچوں سے پردہ کرنا چاہیے جنھیں ایسے معاملات کی خبر ہو اور وہ عورت کی خوبصورتی اور بدصورتی کا ادراک رکھتے ہوں، اس اندازے کے لیے اس حدیث میں اشارہ ملتا ہے جو عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَ هُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِيْنَ وَاضْرِبُوْهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرِ سِنِيْنَ وَ فَرِّقُوْا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ] [أبوداوٗد، الصلاۃ، باب متی یؤمر الغلام بالصلاۃ: ۴۹۵، قال الألباني حسن صحیح] اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو جب وہ سات برس کے ہوں اور انھیں اس کی وجہ سے مارو جب وہ دس برس کے ہوں اور انھیں بستروں میں ایک دوسرے سے الگ کر دو۔
{ وَ لَا يَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ} طبری نے حسن سند کے ساتھ (عن علی بن ابی طلحہ عن ابن عباس رضی اللہ عنھما) بیان کیا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ عورت مردوں کی موجودگی میں ایک پازیب کو دوسری کے ساتھ کھڑکائے۔ اس کے پاؤں میں پازیبیں ہوں، جنھیں وہ مردوں کے پاس حرکت دے تو اللہ سبحانہ نے اس سے منع کر دیا، کیونکہ یہ شیطان کا عمل ہے۔ [طبري: ۲۶۲۱۷] یہاں چہرے کے پردے کو واجب نہ ماننے والے حضرات کو غور کرنا چاہیے کہ جب عورتوں کو زور سے پاؤں مار کر پازیبوں کی آواز نکالنا منع ہے کہ کہیں مردوں کو ان کی مخفی زینت معلوم نہ ہو جائے، جس سے ان کے دلوں میں کوئی غلط خیال پیدا ہو، تو یہ آواز مردوں کے دلوں میں زیادہ کشش اور فتنے کا باعث ہے، یا چہرہ جو عورت کے حسن و جمال کا آئینہ ہے؟ فیصلہ کرتے وقت انصاف شرط ہے۔
➑ اس آیت سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر اس دروازے کو بند کرنا چاہتے ہیں جس سے فحاشی کے در آنے کا امکان ہو۔ اس لیے جس طرح پاؤں مار کر زینت کا اظہار منع ہے اسی طرح کوئی بھی ایسی حرکت جس سے پوشیدہ زینت کا اظہار ہو، منع ہے۔ چنانچہ عورت کو خوشبو لگا کر گھر سے نکلنا منع ہے، اسے راستے کے درمیان چلنے سے منع کیا گیا ہے اور راستے کے کنارے پر چلنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تفصیل ابن کثیر میں ملاحظہ فرمائیں۔ زینت کے اظہار کے علاوہ اسے غیر مردوں کے ساتھ نرم اور لوچدار لہجے میں بات کرنا منع ہے، جس سے ان کے دل میں طمع پیدا ہو۔ [دیکھیے الأحزاب: ۳۲] حتیٰ کہ اسے نماز میں سبحان اللہ کہنے کے بجائے ہاتھ پر ہاتھ مار کر امام کو اس کی خطا پر متنبہ کرنے کا حکم ہے۔ (دیکھیے بخاری: ۱۲۰۳) البتہ جب کسی قسم کا غلط خیال پیدا ہونے کا خطرہ نہ ہو تو عورت پردے میں رہ کر مردوں کو نصیحت کر سکتی ہے، انھیں علم پڑھا سکتی ہے، جیسا کہ امہات المومنین اور قرون خیر کی عورتیں مردوں کو احادیث بیان کیا کرتی تھیں۔
عورت کو محرم یا خاوند کے بغیر سفر کرنا منع ہے، کسی غیر محرم کے ساتھ خلوت منع ہے، حتیٰ کہ خاوند کے بھائی کے ساتھ بھی تنہائی میں بیٹھنا منع ہے، بلکہ دیور اور جیٹھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت قرار دیا۔ (دیکھیے بخاری: ۵۲۳۲) اگرچہ اسے مسجد میں نماز اور جمعہ کے لیے جانے کی اجازت ہے، مگر گھر میں اس کی نماز کو افضل قرار دیا گیا ہے مگر چونکہ مسجد میں قرآن کی تلاوت اور خطبہ وغیرہ سن کر علم حاصل ہوتا ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِذَا اسْتَأْذَنَتْ أَحَدَكُمُ امْرَأَتُهُ إِلَي الْمَسْجِدِ فَلَا يَمْنَعْهَا] [مسلم، الصلاۃ، باب خروج النساء إلی المساجد…: ۴۴۲۔ بخاري: ۸۷۳] جب تم میں سے کسی کی بیوی اس سے مسجد میں جانے کی اجازت مانگے تو وہ اسے منع نہ کرے۔
عورتوں کو خاوندوں کے لیے زیبائش و آرائش کی اجازت ہے، بلکہ اس کا حکم ہے، مگر اس میں جعل سازی کی اجازت نہیں، جس سے اس کی فطری شکل و صورت تبدیل ہو جائے۔ عورتیں عموماً ایسے کام غیر مردوں کو مائل کرنے کے لیے اختیار کرتی ہیں، مثلاً ابروؤں کو باریک کرنا، چہرے کے بال اکھاڑنا، سر کے بالوں میں بال ملانا، اللہ کی پیدائش کو بدلنا، ان سب پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔ (دیکھیے بخاری: ۴۸۸۶)
اسی طرح اونچی ایڑی کے ساتھ قد لمبا کرکے دکھانا بنی اسرائیل کے فساد کے زمانے میں ان کی عورتوں کا شیوہ تھا۔ افسوس! اب مسلم عورتوں نے کفار کی تقلید میں ہر وہ طریقہ اختیار کر لیا ہے جس سے وہ غیروں کی نظر میں خوش نما معلوم ہوں اور ان کے مردوں کی غیرت و حمیت بھی ایسی ختم ہوئی ہے کہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے برداشت کرتے ہیں، بلکہ حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
➒ {وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِيْعًا:} سورت کی ابتدا سے لے کر یہاں تک جو احکام بیان ہوئے ہیں، چونکہ ان کی پابندی میں کچھ نہ کچھ کوتاہی ہو ہی جاتی ہے، بلکہ ہر کام ہی میں خطا ہو جاتی ہے، اس لیے اے مومنو! کہہ کر اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹنے اور گناہوں سے توبہ کرنے کا حکم دیا، یعنی تمھارے مومن ہونے کا تقاضا ہے کہ جو گناہ تم کر چکے یا آئندہ تم سے سرزد ہوں گے ان سے اللہ کی طرف توبہ کرو اور آئندہ بھی کرتے رہو۔ { جَمِيْعًا } کہہ کر مردوں اور عورتوں سب کو توبہ کا حکم دیا اور توبہ کے نتیجے میں فلاح و کامیابی کی بشارت دی۔
توبہ کے تین فرائض ہیں: (1) اس بات پر ندامت کہ میں نے اس گناہ کے ساتھ اللہ ذوالجلال والاکرام کی نافرمانی کی، اس پر نہیں کہ اس سے مجھے جسمانی یا مالی نقصان ہوا۔ (2)کسی تاخیر کے بغیر جتنی جلدی ممکن ہو اس گناہ سے باز آ جانا۔ (3) اس بات کا عزم کہ آئندہ کبھی یہ گناہ نہیں کروں گا۔ اگر نفس کی شامت سے پھر گناہ ہو جائے تو پھر توبہ کرے۔
توبہ کے تین آداب ہیں: (1) گناہ کا نہایت عاجزی کے ساتھ اعتراف۔ (2) زیادہ سے زیادہ گڑ گڑا کر بخشش کی دعا کرنا۔ (3)گزشتہ گناہوں کو مٹانے کے لیے زیادہ سے زیادہ نیکی کرنا۔ (التسہیل)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

31-1یہاں پردے کے احکام میں توبہ کا حکم دینے میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ان احکام کی خلاف ورزی بھیتم کرتے رہے ہو، وہ چونکہ اسلام سے قبل کی باتیں ہیں، اس لئے اگر تم نے سچے دل سے توبہ کرلی اور ان احکام مذکورہ کے مطابق پردے کا صحیح اہتمام کرلیا تو لازمی کامیابی اور دنیا اور آخرت کی سعادت تمہارا مقدر ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

31۔ اور مومن عورتوں سے بھی کہئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو از خود ظاہر ہو [41] جائے۔ اور اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈال لیا کریں اور اپنے بناؤ سنگھار کو ظاہر [42] نہ کریں مگر ان لوگوں کے سامنے: خاوند، باپ، خاوند کے باپ (سسر) بیٹے، اپنے شوہروں کے بیٹے (سوتیلے بیٹے) بھائی، بھتیجے، بھانجے [43]، اپنے میل جول [44] والی عورتیں، کنیزیں جن کی وہ مالک ہوں [45]۔ اپنے خادم مرد [46] جو عورتوں کی حاجت نہ رکھتے ہوں اور ایسے لڑکے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے [47] ابھی واقف نہ ہوئے ہوں۔ اور اپنے پاؤں زمین پر مارتے ہوئے [48] نہ چلیں کہ جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہے اس کا لوگوں کو علم ہو جائے اور اے ایمان والو! تم سب مل کر اللہ کے حضور [49] توبہ کرو توقع ہے کہ تم کامیاب ہو جاؤ گے۔
[41] بعض علماء نے قرآن کریم کے الفاظ: ﴿اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا سے یہ مراد لی ہے کہ حجاب سے چہرہ اور ہاتھ مستثنیٰ ہیں۔ یعنی عورتوں کو غیر مردوں سے بھی چہرہ اور ہاتھ چھپانے کی ضرورت نہیں۔ یہ توجیہ درج ذیل وجوہ کی بنا پر غلط ہے:
ہاتھوں اور چہرہ کو ڈھانپنا:۔
اس آیت میں احکام حجاب کی رخصتوں کا ذکر ہے نہ کہ احکام حجاب کی پابندیوں کی۔ یعنی ذکر تو یہ چل رہا ہے کہ فلاں فلاں ابدی محرم رشتہ داروں سے بھی حجاب کی ضرورت نہیں، اپنی عورتوں سے بھی لونڈیوں سے بھی، خدام اور نابالغ بچوں سے بھی اظہار زینت اور حجاب پر کوئی پابندی نہیں۔ اب دیکھئے اس آیت میں کہیں عام لوگوں یا غیر مردوں کا ذکر آیا ہے کہ ان سے بھی اظہار زینت پر کوئی پابندی نہیں؟ لہٰذا اگر ان حضرات کے مصداق ماظہر مہہا سے مراد چہرہ اور ہاتھ ہی لے لئے جائیں تو بھی چنداں فرق نہیں پڑتا کیونکہ اس آیت میں مذکور اشخاص کے سامنے ہاتھ اور چہرہ کھلا رکھنے کی اجازت ہی کا تو ذکر ہے۔
2۔ اس بات کے باوجود بھی یہ توجیہ غلط ہے کیونکہ ﴿ماظَهَرَ مِنْهَا میں ھا کی ضمیر ﴿زِيْنَتَهُنَّ کی طرف راجع ہے جو کہ قریب ہی مذکور ہے، نہ کہ اعضائے بدن کی طرف جن کا یہاں ذکر ہی موجود نہیں۔ اور اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ ”عورتیں اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو اس زینت سے از خود ظاہر ہو جائے۔“ گویا اللہ تعالیٰ عورتوں کو تکلیف مالا بطاق نہیں دینا چاہتے۔ یعنی اگر جلباب یا بڑی چادر یا برقع کسی وقت ہوا سے اٹھ جائے یا غفلت یا کسی دوسرے اتفاق کی بنا پر عورت کا زیور یا زینت یا اس کا کچھ حصہ ظاہر ہو جائے تو اس میں کچھ مضائقہ نہیں۔ اکثر صحابہ اور تابعین نے ماظَھَرَ مِنْھَا سے یہی مفہوم مراد لیا ہے۔
3۔ پیچھے واقعہ افک میں ایک طویل حدیث، جو حضرت عائشہؓ سے مروی ہے، گزر چکی ہے۔ اس میں وہ خود فرماتی ہیں کہ میں نے صفوان بن معطل سلمی کو جب بیدار ہو کر اپنے پاس کھڑا دیکھ تو میں نے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔ کیونکہ اس سے پہلے (سورہ احزاب میں) پردہ کا حکم نازل ہو چکا تھا۔ پھر بعد میں کیا یہ حکم منسوخ ہو گیا تھا؟ کیا کچھ شواہد و آثار ایسے ملتے ہیں جن سے یہ ثابت ہو سکے کہ یہ حکم منسوخ ہو گیا تھا؟ اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہو اور یقیناً نفی میں ہے تو پھر اس جملہ کا یہ مطلب کیسے لیا جا سکتا ہے کہ چہرہ اور ہاتھ پردہ کے حکم سے مستثنیٰ ہیں۔
4۔ تمام بدن میں چہرہ ہی ایسا عضو ہے جس میں غیروں کے لئے دلکشی کا سب سے زیادہ سامان ہوتا ہے۔ پھر اگر اسے ہی پردہ سے مستثنیٰ قرار دے دیا جائے تو باقی احکام حجاب کی کیا اہمیت باقی رہ جاتی ہے؟ اب اس مسئلہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ تمام تر صحابہ کرام میں سے حضرت ابن عباسؓ نے، پھر ان کے شاگردوں نے، پھر بعض فقہائے حنفیہ نے: ﴿اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا سے یہ مراد لیا ہے کہ ہاتھ اور چہرہ حکم حجاب سے خارج ہیں اور یہی وہ اصل بنیاد ہے جس پر منکرین حجاب اپنی عمارت کھڑی کرتے ہیں۔ حالانکہ ان اصحاب کا یہ موقف بھی منکرین حجاب کے کام کی چیز نہیں وجہ یہ ہے کہ ابن عباسؓ: ﴿يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ کا مفہوم یوں بیان فرماتے ہیں۔ ابن عباس اور ابو عبیدہ نے فرمایا ”مومنوں کی عورتوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ چادروں سے اپنے سر اور چہروں کو ڈھانپ کر رکھیں مگر ایک آنکھ کھلی رکھ سکتی ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ آزاد عورتیں ہیں۔“ [معالم التنزيل بحواله تفهيم القرآن ج 3 ص 129]
اسی طرح کی ایک دوسری روایت یہ ہے کہ علی بن ابی طلحہ ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ: ”اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ اپنے گھروں سے کسی ضرورت کے تحت نکلیں تو چادروں سے اپنے سروں کے اوپر سے چہروں کو ڈھانپ لیں اور (صرف) ایک آنکھ ظاہر کریں۔“ [تفسیر ابن کثیر ج 3 ص 318، جامع البیان للطبری ص 33 مطبوعہ مصر]
اور یہ تو ظاہر ہے کہ جلباب کا تعلق گھر کے باہر کی دنیا سے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابن عباس گھر سے باہر مکمل پردہ (یعنی چہرہ سمیت کے قائل تھے) ان کے موقف میں اگر کچھ لچک ہے تو وہ گھر کے اندر کی دنیا سے ہے یعنی اگر گھر کے اندر ایسے رشتہ دار آجائیں جو محرم نہیں تو ان سے ہاتھ اور چہرہ چھپانے کی ضرورت نہیں لہٰذا آج کے مذہب اور پردہ کے مخالف طبقہ کے لئے ابن عباسؓ کا یہ موقف بھی کچھ زیادہ سود مند نہیں۔
[42] دوپٹہ اوڑھنے کا مقصد:۔
بدن کی قدرتی زیبائش میں سب سے زیادہ نمایاں چیز عورت کے سینہ کا ابھار یا اس کے پستان ہیں۔ جو مرد کے لئے خاصی کشش رکھتے ہیں۔ لہٰذا سینہ کو ڈھانپنے کی بطور خاص تاکید فرمائی۔ اور جاہلیت کی رسم کو ختم کرنے کی صورت بھی بتا دی۔ جاہلیت میں عورتیں اپنے خمار (دوپٹے) سر پر ڈال کر اس کے دونوں پلے پشت پر لٹا لیتی تھیں۔ اس طرح سینہ پر کوئی چیز نہ ہوتی تھی اور یہ بھی گویا حسن کا مظاہرہ یا نمائش تھی۔ اور آج کی مہذب سوسائٹی میں اول تو ہماری یہ مذہب عورتیں دوپٹہ لینا گوارا ہی نہیں کرتیں اور اگر لیں تو دوپٹہ کو گلے میں ڈال کر اس کے پہلو پیچھے پشت پر ڈال دیتی ہیں۔ اس طرح سر اور سینہ دونوں ننگے رہتے ہیں۔ التبہ دوپٹہ کا نام ضرور بدنام کیا جاتا ہے۔ اور مقصود اس سے بھی سینہ کے ابھار کی نمائش اور مردوں کے لئے پر کشش بنے رہنا ہوتا ہے۔ گویا آج اس نئی روشنی اور ترقی میں پرانے دور جاہلیت سے بھی زیادہ جاہلیت کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ قرآن کریم نے یہ طریقہ بتایا کہ دوپٹہ کو سر پر سے لا کر گریبان پر ڈالنا چاہئے اس طرح سر، کان، گردن، سینہ سب اعضاء چھپے رہتے ہیں۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ”جب یہ آیت نازل ہوئی تو مدینہ کی عورتوں نے اپنے تہبند (یعنی موٹا کپڑا) پھاڑ کر اس کی اوڑھنیاں بنا لیں۔“ [بخاري۔ كتاب التفسير]
گویا اس حکم پر انہوں نے فوراً سر تسلیم خم کر دیا۔
[43] ابدی محرم رشتہ دار:۔
قرآن کریم میں اس مقام اور بعض دوسرے مقامات پر بارہ قسم کے لوگوں یا رشتہ داروں کا ذکر آیا ہے۔ جن سے حجاب کی ضرورت نہیں۔ البتہ ستر کے احکام بدستور برقرار رہیں گے۔ بالفاظ دیگر ان مذکورہ بارہ قسم کے لوگوں یا رشتہ داروں کے سامنے عورتیں اپنی زیب و زینت کا اظہار کر سکتی ہیں۔ ان میں آٹھ یہاں مذکور ہیں۔ اور یہ رشتہ دار ایسے ہیں جو ابدی طور پر محرم ہیں ہیں یعنی خاوند، باپ، سسر، حقیقی بیٹے، سوتیلے بیٹے، بھائی، بھتیجے اور بھانجے۔ پھر ان میں وہ رشتہ دار بھی شامل ہو جاتے ہیں جو رضاعت کی بنا پر حرام ہوں مثلاً رضاعی باپ، رضاعی بھائی یا رضاعی بیٹے اور چچے وغیرہ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ نساء کی آیت نمبر 23 سے استشہاد کر کے نسب اور رضاعت کو ایک ہی سطح پر رکھ کر فرمایا کہ ”جو رشتے نسب کے لحاظ سے حرام ہیں وہی رضاعت کے لحاظ سے بھی حرام ہیں۔“ [بخاری۔ کتاب الشہادات۔ باب الشہادۃ علی الانساب والرضاع]
[44] غیر عورتوں اور ہیجڑوں سے بھی حجاب کا حکم :۔
قرآن کریم کے الفاظ میں ﴿اَوْنِسَا ئِهِنَّ (یا اپنی عورتوں سے بھی اظہار زیب و زینت میں بھی کوئی حرج نہیں) یہ نویں قسم ہوئی اور اپنی عورتوں سے مراد آپس میں میل ملاقات رکھنے والی مسلمان عورتیں ہیں جو ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتی پہچانتی اور ایک دوسرے پر اعتبار رکھتی ہوں۔ وہی دوسری غیر مسلم، مشتبہ اور ان جالی عورتیں تو ایسی عورتوں سے اپنی زیب و زینت چھپانے اور حجاب کا ایسا ہی حکم ہے۔ جیسے غیر مردوں سے ہے۔ وجہ یہ ہے کہ عورتیں ہی ہوتی ہیں جو قحبہ گری کی دلالی بھی کرتی ہیں۔ نوخیز اور نوجوان لڑکیوں کو اپنے دام تیز ویر میں پھنسا کر غلط راہوں پر ڈال کر شیطان کی پوری نمائندگی کرتی ہیں۔ اور ایک گھر کے بھید کی باتیں دوسرے گھر میں بیان کر کے فحاشی پھیلاتی اور اس کی راہیں ہموار کرتی ہیں۔ ایسی بدمعاش قسم کی عورتوں سے پرہیز کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا تمام ان جانی اور غیر مسلم عورتوں یا غیر عورتوں سے بھی حجاب کا حکم دیا گیا۔ بلکہ ایسی عورتوں کو گھروں میں داخلہ پر بھی ایسے ہی پابندی لگانا ضروری ہے جیسے غیر مردوں کے لئے ضروری ہے۔ علاوہ ازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہیجڑوں، مخنث، یا زنانہ وضع قطع رکھنے والے مردوں سے بھی حجاب کا حکم دیا ہے۔ دور نبوی کا ایک واقعہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلمہؓ کے ہاں تشریف فرما تھے۔ گھر میں ایک ہیجڑا تھا۔ وہ حضرت سلمہ کے بھائی عبد اللہ بن ابی ربیعہ سے کہنے لگا: اگر اللہ نے کل طائف فتح کرا دیا تو میں تمہیں غیلان کی بیٹی کی نشاندہی کروں گا وہ اگر سامنے آتی ہے تو چار سلوٹ لے کر اور پیٹھ موڑتی ہے تو آٹھ سلوٹیں لے کر (یعنی اس کا بدن خوب گتھا ہوا ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن لی تو فرمایا:”یہ ہیجڑا آئندہ کبھی تمہارے ہاں نہ آیا کرے۔“ [بخاری۔ کتاب النکاح۔ باب ماینھی من دخول المشتبھین بالنساء علی المرأۃ]
یہ مخنث (خسرا ہیجڑا یا زنانہ) چونکہ عورتوں کے امور سے دلچسپی رکھتا تھا۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے حجاب کا حکم دیا اور داخلہ پر پابندی لگا دی۔
[45] دسویں قسم جن میں اپنی زیب و زینت چھپانے میں کوئی حرج نہیں وہ عورتوں کی اپنی کنیزیں ہیں۔ جن کی وہ خود یا ان کے خاوند مالک ہوں۔
[46] اپنے خادموں سے بے حجاب ہونے کی مشروط اجازت :۔
تابعین سے مراد مطیع و منقاد۔ نوکر چا کر اور شاگرد قسم کے لوگ ہیں۔ یہ گیارہویں قسم ہوئی۔ مگر ایسے لوگوں سے زیب و زینت کے اظہار کی رخصت صرف اس صورت میں ہے۔ کہ انھیں ہمبستری کی خواہش ہی نہ ہو۔ اور خواہش کا نہ ہونا یا شہوانی جذبات کا بیدار نہ ہونا بچپن کا وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ زیادہ بڑھاپے کی وجہ سے بھی۔ بیماری یا نامردی کی وجہ سے بھی اور مالک کی عزت اور وقار کی وجہ سے بھی یعنی یہ خدام اپنی مالکہ سے ایسی بات کا تصور تک بھی نہ کر سکتے ہوں اور اپنے کام سے ہی غرض رکھیں اور اگر یہ خطرہ ہو کہ ایسے لوگوں کے شہوانی جذبات کسی وقت بھی بیدار ہو سکتے ہیں تو پھر ان سے یہ رخصت ختم ہو جاتی ہے۔ ان پر حجاب کے احکام لاگو ہو جاتے ہیں اور ان کے سامنے اظہار زیب و زینت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ لہٰذا ایسے جوان ڈرائیور، خانسامے، اور بیرے وغیرہ سے حجاب کی رخصت کی کوئی گنجائش نہیں، بالخصوص اس صورت میں کہ ان کی شادی بھی ابھی نہ ہوئی ہو۔
[47] بچوں اور لڑکوں سے یہ رخصت اس وقت تک ہے جب تک وہ بالغ نہ ہوئے ہوں دس گیارہ سال تک کے بچوں کے سامنے تو عورت بے حجاب رہ سکتی ہے بعد میں نہیں۔ پس یہ بارہویں قسم ہوئی۔
[48] چال پر پابندی :۔
یعنی عورتیں اس انداز سے اپنے پاؤں زمین پر نہ ماریں یا رکھ کر نہ چلیں کہ ان کے زیوروں کی جھنکار سنائی دینے لگے اور یہ معلوم ہو جائے کہ اس نے کیا کچھ زیور پہن رکھے ہیں۔ اگر وہ ایسے ہی چھن چھن کرتے ہوئے چلے گی تو کیا معلوم اس کا پاؤں زمین پر پڑنے کے ساتھ ساتھ کسی عاشق مزاج کے دل پر بھی جا پڑے۔ اس قسم کی آواز بسا اوقات صورت دیکھنے سے بھی زیادہ شہوانی جذبات کو بھڑکانے کا سبب بن جاتی ہے۔
[49] یعنی دور جاہلیت میں اور بالخصوص ان کے مشہور میلوں کے موقع پر جس قدر فحش حرکات تم سے سرزد ہو چکی ہیں۔ ان سے اللہ کے حضور توبہ کرو۔ مرد ہوں یا عورتیں سب کے سب لوگوں کو سابقہ اطوار چھوڑ کر آئندہ ان باتوں اور ایسی حرکتوں سے کلی اجتناب کرنا چاہئے اسی طرح تمہارا معاشرہ فواحش سے پاک ہو سکتا ہے اور تمہاری دین و دنیا میں کامیابی کا انحصار ان باتوں پر پوری طرح عمل پیرا ہو جانے پر ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مومنہ عورتوں کو تاکید ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ مومنہ عورتوں کو چند حکم دیتا ہے تاکہ ان کے باغیرت مردوں کو تسکین ہو اور جاہلیت کی بری رسمیں نکل جائیں۔ مروی ہے کہ اسماء بنت مرثد رضی اللہ عنہا کا مکان بنوحارثہ کے محلے میں تھا، ان کے پاس عورتیں آتی تھیں اور دستور کے مطابق اپنے پیروں کے زیور، سینے اور بال کھولے آیا کرتی تھیں۔ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا یہ کیسی بری بات ہے؟ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
پس حکم ہوتا ہے کہ ’ مسلمان عورتوں کو بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھنی چاہئیں۔ سوا اپنے خاوند کے کسی کو بہ نظر شہوت نہ دیکھنا چاہیئے ‘۔ اجنبی مردوں کی طرف تو دیکھنا ہی حرام ہے خواہ شہوت سے ہو خواہ بغیر شہوت کے۔
ابوداؤد اور ترمذی میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیٹھی تھیں کہ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، یہ واقعہ پردے کی آیتیں اترنے کے بعد کا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ { پردہ کرلو }۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! وہ تو نابینا ہیں، نہ ہمیں دیکھیں گے، نہ پہچانیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم تو نابینا نہیں ہو کہ اس کو نہ دیکھو؟ } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4112،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
ہاں بعض علماء نے بے شہوت نظر کرنا حرام نہیں کہا۔ ان کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ { عید والے دن حبشی لوگوں نے مسجد میں ہتھیاروں کے کرتب شروع کئے اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا آپ رضی اللہ عنہا دیکھ ہی رہی تھیں یہاں تک کہ جی بھر گیا اور تھک کر چلی گئیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:455]‏‏‏‏
عورتوں کو بھی اپنی عصمت کا بچاؤ چاہیئے، بدکاری سے دور رہیں، اپنا آپ کسی کو نا دکھائیں۔ اجنبی غیر مردوں کے سامنے اپنی زینت کی کسی چیز کو ظاہر نہ کریں ہاں جس کاچھپانا ممکن ہی نہ ہو، اس کی اور بات ہے جیسے چادر اور اوپر کا کپڑا وغیرہ جنکا پوشیدہ رکھنا عورتوں کے لیے ناممکنات سے ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد چہرہ، پہنچوں تک کے ہاتھ اور انگوٹھی ہے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ یہی زینت کے وہ محل ہیں، جن کے ظاہر کرنے سے شریعت نے ممانعت کر دی ہے۔
جب کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں یعنی بالیاں ہار پاؤں کا زیور وغیرہ۔‏‏‏‏ فرماتے ہیں زینت دو طرح کی ہے ایک تو وہ جسے خاوند ہی دیکھے جیسے انگوٹھی اور کنگن اور دوسری زینت وہ جسے غیر بھی دیکھیں جیسے اوپر کا کپڑا۔‏‏‏‏
زہری رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اسی آیت میں جن رشتہ داروں کا ذکر ہے ان کے سامنے تو کنگن دوپٹہ بالیاں کھل جائیں تو حرج نہیں لیکن اور لوگوں کے سامنے صرف انگوٹھیاں ظاہر ہو جائیں تو پکڑ نہیں، اور روایت میں انگوٹھیوں کے ساتھ ہی پیر کے خلخال کا بھی ذکر ہے۔ ہوسکتا ہے کہ «مَا ظَهَرَ مِنْهَا» کی تفیسر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے منہ اور پہنچوں سے کی ہو۔
جیسے ابوداؤد میں ہے کہ { اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں کپڑے باریک پہنے ہوئے تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیر لیا اور فرمایا: { جب عورت بلوغت کو پہنچ جائے تو سوا اس کے اور اس کے یعنی چہرہ کے اور پہنچوں کے اس کا کوئی عضو دکھانا ٹھیک نہیں } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4104،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ لیکن یہ مرسل ہے۔ خالد بن دریک رحمۃاللہ علیہ اسے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں اور ان کا ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے ملاقات کرنا ثابت نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
عورتوں کو چاہیئے کہ اپنے دوپٹوں سے یا اور کپڑے سے بکل مار لیں تاکہ سینہ اور گلے کا زیور چھپا رہے۔ جاہلیت میں اس کا بھی رواج نہ تھا۔ عورتیں اپنے سینوں پر کچھ نہیں ڈالتیں تھیں بسا اوقات گردن اور بال چوٹی بالیاں وغیرہ صاف نظر آتی تھیں۔
ایک اور آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:59]‏‏‏‏ ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے، اپنی بیٹیوں سے اور مسلمان عورتوں سے کہہ دیجئیے کہ اپنی چادریں اپنے اوپر لٹکا لیا کریں تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں ‘۔
«خُمُرُ» «خِمَارٍ» کی جمع ہے «خِمَارٍ» کہتے ہیں ہر اس چیز کو جو ڈھانپ لے۔ چونکہ دوپٹہ سر کو ڈھانپ لیتا ہے اس لیے اسے بھی «خِمَارٍ» کہتے ہیں۔ پس عورتوں کو چاہے کہ اپنی اوڑھنی سے یا کسی اور کپڑے سے اپنا گلا اور سینہ بھی چھپائے رکھیں۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اللہ تعالیٰ ان عورتوں پر رحم فرمائے جنہوں نے شروع شروع ہجرت کی تھی کہ جب یہ آیت اتری انہوں نے اپنی چادروں کو پھاڑ کر دوپٹے بنائے۔ بعض نے اپنے تہمد کے کنارے کاٹ کر ان سے سر ڈھک لیا۔‏‏‏‏ ۱؎ [صحیح بخاری:4858]‏‏‏‏
ایک مرتبہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس عورتوں نے قریش عورتوں کی فضیلت بیان کرنی شروع کی تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ان کی فضیلت کی قائل میں بھی ہوں لیکن واللہ میں نے انصار کی عورتوں سے افضل عورتیں نہیں دیکھیں، ان کے دلوں میں جو کتاب اللہ کی تصدیق اور اس پر کامل ایمان ہے، وہ بیشک قابل قدر ہے۔‏‏‏‏
سورۃ النور کی آیت «وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ» ۱؎ [24-النور:31]‏‏‏‏ إلخ، جب نازل ہوئی اور ان کے مردوں نے گھر میں جا کر یہ آیت انہیں سنائی، اسی وقت ان عورتوں نے اس پر عمل کر لیا اور صبح کی نماز میں وہ آئیں تو سب کے سروں پر دوپٹے موجود تھے۔ گویا ڈول رکھے ہوئے ہیں۔
اس کے بعد ان مردوں کا بیان فرمایا جن کے سامنے عورت ہوسکتی ہے اور بغیر بناؤ سنگھار کے ان کے سامنے شرم وحیاء کے ساتھ آ جا سکتی ہے گو بعض ظاہری زینت کی چیزوں پر بھی ان کی نظر پڑ جائے۔ سوائے خاوند کے کہ اس کے سامنے تو عورت اپنا پورا سنگھار زیب زینت کرے۔ گو چچا اور ماموں بھی ذی محرم ہیں لیکن ان کا نام یہاں اس لیے نہیں لیا گیا کہ ممکن ہے وہ اپنے بیٹوں کے سامنے ان کے محاسن بیان کریں۔ اس لیے ان کے سامنے بغیر دوپٹے کے نہ آنا چاہیئے۔
پھر فرمایا تمہاری عورتیں یعنی مسلمان عورتوں کے سامنے بھی اس زینت کے اظہار میں کوئی حرج نہیں۔ اہل ذمہ کی عورتوں کے سامنے اس لیے رخصت نہیں دی گئی کہ بہت ممکن ہے وہ اپنے مردوں میں ان کی خوبصورتی اور زینت کا ذکر کریں۔ گو مومن عورتوں سے بھی یہ خوف ہے مگر شریعت نے چونکہ اسے حرام قرار دیا ہے اس لیے مسلمان عورتیں تو ایسا نہ کریں گی لیکن ذمی کافروں کی عورتوں کو اس سے کون سی چیز روک سکتی ہے؟
بخاری مسلم میں ہے کہ { کسی عورت کو جائز نہیں کہ دوسری عورت سے مل کر اس کے اوصاف اپنے خاوند کے سامنے اس طرح بیان کرے کہ گویا وہ اسے دیکھ رہا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5240]‏‏‏‏
امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض مسلمان عورتیں حمام میں جاتی ہیں، ان کے ساتھ مشرکہ عورتیں بھی ہوتی ہیں۔ سنو کسی مسلمان عورت کو حلال نہیں کہ وہ اپنا جسم کسی غیر مسلمہ عورت کو دکھائے۔‏‏‏‏
مجاہد رحمہ اللہ بھی آیت «أَوْ نِسَائِهِنَّ» ۱؎ [سورۃ النور:31]‏‏‏‏ کی تفسیر میں فرماتے ہیں مراد اس سے مسلمان عورتیں ہیں تو ان کے سامنے وہ زینت ظاہر کر سکتی ہے جو اپنے ذی محرم رشتے داروں کے سامنے ظاہر کر سکتی ہے۔ یعنی گلا بالیاں اور ہار۔ پس مسلمان عورت کو ننگے سر کسی مشرکہ عورت کے سامنے ہونا جائز نہیں۔
ایک روایت میں ہے کہ جب صحابہ بیت المقدس پہنچے تو ان کی بیویوں کے لیے دایہ یہودیہ اور نصرانیہ عورتیں ہی تھیں۔ پس اگر یہ ثابت ہو جائے تو محمول ہو گا ضرورت پر یا ان عورتوں کی ذلت پر۔ پھر اس میں غیر ضروری جسم کا کھلنا بھی نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ہاں مشرکہ عورتوں میں جو لونڈیاں باندیاں ہوں وہ اس حکم سے خارج ہیں۔ بعض کہتے ہیں غلاموں کا بھی یہی حکم ہے۔
ابوداؤد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس انہیں دینے کے لیے ایک غلام لے کر آئے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اسے دیکھ کر اپنے آپ کو اپنے دوپٹے میں چھپانے لگیں۔ لیکن چونکہ کپڑا چھوٹا تھا، سر ڈھانپتی تھیں تو پیر کھل جاتے تھے اور پیر ڈھانپتی تھیں تو سرکھل جاتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا: { بیٹی کیوں تکلیف کرتی ہو میں تو تمہارا والد ہوں اور یہ تمہارا غلام ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4106،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
ابن عساکر کی روایت میں ہے کہ اس غلام کا نام عبداللہ بن مسعدہ تھا۔ یہ فزاری تھے۔ سخت سیاہ فام۔ سیدہ فاطمۃالزھرا رضی اللہ عنہا نے انہیں پرورش کرکے آزاد کر دیا تھا۔ صفین کی جنگ میں یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بہت مخالف تھے۔
مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا: { تم میں سے جس کسی کا مکاتب غلام ہو جس سے یہ شرط ہوگئی ہو کہ اتنا روپیہ دیدے تو تو آزاد، پھر اس کے پاس اتنی رقم بھی جمع ہوگئی ہو تو چاہیئے کہ اس سے پردہ کرے }}۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3928،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
پھر بیان فرمایا کہ نوکر چاکر کام کاج کرنے والے ان مردوں کے سامنے جو مردانگی نہیں رکھتے عورتوں کی خواہش جنہیں نہیں۔ اس مطلب کے ہی وہ نہیں، ان کا حکم بھی ذی محرم مردوں کا ہے یعنی ان کے سامنے بھی اپنی زینت کے اظہار میں مضائقہ نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سست ہو گئے ہیں عورتوں کے کام کے ہی نہیں۔ لیکن وہ مخنث اور ہیجڑے جو بدزبان اور برائی کے پھیلانے والے ہوتے ہیں ان کا یہ حکم نہیں۔
جیسے کہ بخاری مسلم وغیرہ میں ہے کہ { ایک ایسا ہی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آیا تھا چونکہ اسے اسی آیت کے ماتحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے سمجھا اسے منع نہ کیا تھا۔ اتفاق سے اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے، اس وقت وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا بھائی عبداللہ سے کہہ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ جب طائف کو فتح کرائے گا تو میں تجھے غیلان کی لڑائی دکھاؤں گا کہ آتے ہوئے اس کے پیٹ پر چار شکنیں پڑتی ہیں اور واپس جاتے ہوئے آٹھ نظر آتی ہیں۔ اسے سنتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { خبردار ایسے لوگوں کو ہرگز نہ آنے دیا کرو۔ اس سے پردہ کر لو }}۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4324]‏‏‏‏ چنانچہ اسے مدینے سے نکال دیا گیا۔ بیداء میں یہ رہنے لگا وہاں سے جمعہ کے روز آ جاتا اور لوگوں سے کھانے پینے کو کچھ لے جاتا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4107،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
چھوٹے بچوں کے سامنے ہونے کی اجازت ہے جو اب تک عورتوں کے مخصوص اوصاف سے واقف نہ ہوں۔ عورتوں پر ان کی للچائی ہوئی نظریں نہ پڑتی ہوں۔ ہاں جب وہ اس عمر کو پہنچ جائیں کہ ان میں تمیز آ جائے۔ عورتوں کی خوبیاں ان کی نگاہوں میں جچنے لگیں، خوبصورت بدصورت کا فرق معلوم کر لیں۔ پھر ان سے بھی پردہ ہے گو وہ پورے جوان نہ بھی ہوئے ہوں۔
بخاری و مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { لوگو! عورتوں کے پاس جانے سے بچو } پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ دیور جیٹھ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { وہ تو موت ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5232]‏‏‏‏
پھر فرمایا کہ ’ عورتیں اپنے پیروں کو زمین پر زور زور سے مار مار کر نہ چلیں ‘ جاہلیت میں اکثر ایسا ہوتا تھا کہ وہ زور سے پاؤں زمین پر رکھ کر چلتی تھیں تاکہ پیر کا زیور بجے۔ اسلام نے اس سے منع فرما دیا۔ پس عورت کو ہر ایک ایسی حرکت منع ہے جس سے اس کا کوئی چھپا ہوا سنگھار کھل سکے۔ پس اسے گھر سے عطر اور خوشبو لگا کر باہر نکلنا بھی ممنوع ہے۔
ترمذی میں ہے کہ { ہر آنکھ زانیہ ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2786،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
ابوداؤد میں ہے کہ { سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو ایک عورت خوشبو سے مہکتی ہوئی ملی۔ آپ نے اس سے پوچھا کیا تو مسجد سے آ رہی ہے؟ اس نے کہا ہاں فرمایا کیا تم نے خوشبو لگائی ہے؟ اس نے کہا ہاں! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے اپنے حبیب ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ { جو عورت اس مسجد میں آنے کے لیے خوشبو لگائے، اس کی نماز نا مقبول ہے جب کہ وہ لوٹ کر جنابت کی طرح غسل نہ کر لے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4174،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]‏‏‏‏
ترمذی میں ہے کہ { اپنی زینت کو غیر جگہ ظاہر کرنے والی عورت کی مثال قیامت کے اس اندھیرے جیسی ہے جس میں نور نہ ہو }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1167،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
ابوداؤد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں عورتوں کو راستے میں ملے جلے چلتے ہوئے دیکھ کر فرمایا: { عورتو! تم ادھر ادھر ہو جاؤ، تمہیں بیچ راہ میں نہ چلنا چاہیئے }۔ یہ سن کر عورتیں دیوار سے لگ کر چلنے لگیں یہاں تک کہ ان کے کپڑے دیواروں سے رگڑتے تھے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5272،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے کہ ’ اے مومنو! میری بات پر عمل کرو، ان نیک صفتوں کو لے لو، جاہلیت کی بدخصلتوں سے رک جاؤ۔ پوری فلاح اور نجات اور کامیابی اسی کے لیے ہے جو اللہ کا فرمانبردار ہو، اس کے منع کردہ کاموں سے رک جاتا ہو، اللہ ہی سے ہم مدد چاہتے ہیں ‘۔