تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ:} یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے ظاہر اور پوشیدہ اعمال جانتا ہے، اسے خوب معلوم ہے کہ کسی جگہ جانے میں تمھاری نیت کیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[38] یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے لا محدود علم کی بنا پر اور تمام امور کی رعایت محفوظ رکھ کر یہ احکام دیئے ہیں جو تمہارے تمام ظاہری اور باطنی اعمال و افعال سے خوب واقف ہے۔ اور ان سے مقصود فحاشی اور فتنہ و فساد کے راستوں کو بند کرنا ہے۔ لہٰذا ہر شخص کو چاہئے کہ اسی غرض کو مد نظر رکھ کر ان پر عمل پیرا ہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
انصار نے کہا یہ مسئلہ تو عام ہے بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ہم سب نے سنا ہے ہم اپنے سب سے نوعمر لڑکے کو تیرے ساتھ کر دیتے ہیں، یہی گواہی دے آئیں گے۔ چنانچہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ گئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے جا کر کہا کہ میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سنا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ اس وقت افسوس کرنے لگے کہ بازاروں کے لین دین نے مجھے اس مسئلہ سے غافل رکھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2026]
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں کھانا تناول فرمایا جب واپس جانے کا ارادہ کیا تو سعد رضی اللہ عنہا اپنے گدھے پر پالان کس لائے۔ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے لیے پیش کیا اور اپنے لڑکے قیس رضی اللہ عنہ سے کہا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جاؤ۔ یہ ساتھ چلے مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: { قیس آؤ تم بھی سوار ہو جاؤ }۔ انہوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے تو یہ نہ ہو سکے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { دو باتوں میں سے ایک تمہیں ضرور کرنی ہوگی یا تو میرے ساتھ اس جانور پر سوار ہو جاؤ یا واپس چلے جاؤ }، قیس رضی اللہ عنہ نے واپس جانا منظور کر لیا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5185،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان کے دروازے کے سامنے ہی کھڑے ہو کر ایک شخص نے اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تعلیم دی کہ { نظر نہ پڑے اسی لیے تو اجازت مقرر کی گئی ہے۔ پھر دروازے کے سامنے کھڑے ہو کر آواز دینے کے کیا معنی؟ یا تو ذرا سا ادھر ہو جاؤ یا ادھر } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5174،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایک اور حدیث میں ہے کہ { اگر کوئی تیرے گھر میں تیری اجازت کے بغیر جھانکنے لگے اور تو اسے کنکر مارے جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تجھے کوئی گناہ نہ ہوگا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6902]
کیونکہ ”میں“ کہنے سے یہ تو معلوم نہیں ہوسکتا کون ہے جب تک کے نام یا مشہور کنیت نہ بتائی جائے ”میں“ تو ہر شخص اپنے لیے کہہ سکتا ہے۔ پس اجازت طلبی کا اصلی مقصود حاصل نہیں ہو سکتا۔ «الِاسْتِئْذَانُ» ، «الِاسْتِئْنَاسُ» ایک ہی بات ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے «تَسْتَأْنِسُوا» کاتبوں کی غلطی ہے۔ «تَسْتَأْذِنُوا» لکھنا چاہیئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ہی قرأت تھی اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی بھی۔ لیکن یہ بہت غریب ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اپنے مصحف میں «حَتَّى تُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا وَتَسْتَأْذِنُوا» ہے۔
صفوان بن امیہ جب مسلمان ہوگئے تو ایک مرتبہ کلدہ بن حنبل کو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ آپ اس وقت وادی کے اونچے حصے میں تھے یہ سلام کئے بغیر اور اجازت لیے بغیر ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { لوٹ جاؤ، اور کہو السلام علیکم کیا میں آؤں؟ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5176،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے { قبیلہ بنو عامر کا ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آیا اور کہنے لگا میں اندر آ جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے غلام سے فرمایا: { جاؤ اور اسے اجازت مانگنے کا طریقہ سکھاؤ کہ پہلے تو سلام کرے پھر دریافت کرے }۔ اس شخص نے یہ سن لیا اور اسی طرح سلام کر کے اجازت چاہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی اور وہ اندر گئے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5177،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایک اور حدیث میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خادمہ سے فرمایا تھا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:25917:مرسل]
اور حدیث میں ہے { کلام سے پہلے سلام ہونا چاہیئے }۔ یہ حدیث ضعیف ہے، ترمذی میں موجود ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2699،قال الشيخ الألباني:حسن]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ قضائے حاجت سے فارغ ہو کر آ رہے تھے لیکن دھوپ کی تاب نہ لا سکے تو ایک قریشی کی جھونپڑی کے پاس پہنچ کر فرمایا السلام علیکم کیا میں اندر آ جاؤں اس نے کہا سلامتی سے آ جاؤ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر یہی کہا اس نے پھر یہی جواب دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے پاؤں جل رہے تھے کبھی اس قدم پر سہارا لیتے، کبھی اس قدم پر، فرمایا یوں کہو کہ آ جاؤ، اب آپ رضی اللہ عنہ اندر تشریف لے گئے۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چار عورتیں گئیں، اجازت چاہی کہ کیا ہم آ جائیں؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”نہیں! تم میں جو اجازت کا طریقہ جانتی ہو اسے کہو کہ وہ اجازت لے۔“ تو ایک عورت نے پہلے سلام کیا، پھر اجازت مانگی، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجازت دے دی، پھر یہی آیت پڑھ کر سنائی۔
{ انصار کی ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں بعض دفعہ گھر میں اس حالت میں ہوتی ہوں کہ اس وقت اگر میرے باپ بھی آجائیں یا میرا اپنا لڑکا بھی اس وقت آ جائے تو مجھے برا معلوم ہوتا ہے کیونکہ وہ حالت ایسی نہیں ہوتی کہ اس وقت کسی کی بھی نگاہ مجھ پر پڑے تو میں ناخوش نہ ہوؤں۔ اور گھر والوں میں سے کوئی آہی جاتا ہے اس وقت یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:25921:ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”تین آیتیں ہیں کہ لوگوں نے ان پر عمل چھوڑ رکھا ہے ایک تو یہ کہ اللہ فرماتا ہے ’ تم میں سے سب سے زیادہ بزرگی والا وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ کا خوف رکھتا ہو ‘۔ اور لوگوں کا خیال یہ ہے کہ سب سے بڑا وہ ہے جو سب سے زیادہ امیر ہو، اور ادب کی آیتیں بھی لوگ چھوڑ بیٹھتے ہیں۔“ عطار حمۃ اللہ علیہ نے پوچھا۔ میرے گھر میں میری یتیم بہنیں ہیں جو ایک ہی گھر میں رہتی ہیں اور میں ہی انہیں پالتا ہوں کیا ان کے پاس جانے کے لیے بھی مجھے اجازت کی ضرورت ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں ضرور اجازت طلب کیا کرو“، میں نے دوبارہ یہی سوال کیا کہ شاید کوئی رخصت کا پہلو نکل آئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”کیا تم انہیں ننگا دیکھنا پسند کرو گے؟“ میں نے کہا نہیں فرمایا ”پھر ضرور اجازت مانگا کرو۔“ میں نے یہی سوال دوہرایا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”کیا تو اللہ کا حکم مانے گا یا نہیں؟“ میں نے کہا ہاں مانوں گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”پھر بغیر اطلاع ہرگز ان کے پاس بھی نہ جاؤ۔“
طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں محرمات ابدیہ پر ان کی عریانی کی حالت میں نظر پڑ جائے اس سے زیادہ برائی میرے نزدیک اور کوئی نہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ اپنی ماں کے پاس بھی گھر میں بغیر اطلاع کے نہ جاؤ۔ عطا رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ بیوی کے پاس بھی بغیر اجازت کے نہ جائے؟ فرمایا ”یہاں اجازت کی ضرورت نہیں۔“ یہ قول بھی محمول ہے اس پر کہ اس سے اجازت مانگنے کی ضرورت نہیں لیکن تاہم اطلاع ضرور ہونی چاہیئے ممکن ہے وہ اس وقت ایسی حالت میں ہو کہ وہ نہیں چاہتی کہ خاوند بھی اس حالت میں اسے دیکھے۔
ایک حدیث میں ہے کہ { سفر سے رات کے وقت بغیر اطلاع گھر آجانے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ کیونکہ اس سے گویا گھر والوں کی خیانت کا پوشیدہ طور پر ٹٹولنا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1801]
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک سفر سے صبح کے وقت آئے تو حکم دیا کہ { بستی کے پاس لوگ اتریں تاکہ مدینے میں خبر مشہور ہو جائے، شام کو اپنے گھروں میں جانا، اس لیے کہ اس اثناء میں عورتیں اپنی صفائی ستھرائی کر لیں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5245]
اور حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا سلام تو ہم جانتے ہیں لیکن «اسْتِئْنَاسُ» کا طریقہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { «سُبْحَانَ اللَّهِ» یا «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» یا «اﷲ اَکْبَر» بلند آواز سے کہہ دینا یا کھنکار دینا جس سے گھر والے معلوم کر لیں کہ فلاں آ رہا ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3707،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”تین بار کی اجازت اس لیے مقرر ہے کی ہے کہ پہلی دفعہ میں تو گھر والے معلوم کر لیں کہ فلاں ہے۔ دوسری دفعہ میں وہ سنبھل جائیں اور ہوشیار ہو جائیں۔ تیسری مرتبہ میں اگر وہ چاہیں اجازت دیں چاہیں منع کردیں۔ جب اجازت نہ ملے پھر دروازے پر ٹھہرا رہنا برا ہے، لوگوں کو اپنے کام اور اشغال ایسے ضروری ہوتے ہیں کہ وہ اس وقت اجازت نہیں دے سکتے۔“
مقاتل میں حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے میں دستور نہ تھا، ایک دوسرے سے ملتے تھے لیکن سلام نہ کرتے تھے۔ کسی کے ہاں جاتے تھے تو اجازت نہیں لیتے تھے یونہی جا دھمکے پھر کہہ دیا کہ میں آ گیا ہوں۔ تو بسا اوقات یہ گھر والے پر گراں گزرتا۔ ایسا بھی ہوتا کہ وہ اپنے گھر میں کبھی ایسے حال میں ہوتا ہے کہ اس میں اس کا آنا بہت برا لگتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ تمام برے دستور اچھے آداب سکھا کر بدل دئیے۔
اسی لیے فرمایا کہ ’ یہی طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ اس میں مکان والے کو آنے والے کو دونوں کو راحت ہے۔ یہ چیزیں تمہاری نصیحت اور خیر خواہی کی ہیں۔ اگر وہاں کسی کو نہ پاؤ تو بے اجازت اندر نہ جاؤ۔ کیونکہ یہ دوسرے کی ملک میں تصرف کرنا ہے جو ناجائز ہے۔ مالک مکان کو حق ہے اگر وہ چاہے اجازت دے، چاہے روک دے۔ اگر تمہیں کہا جائے، لوٹ جاؤ تو تمہیں واپس چلا جانا چاہے۔ اس میں برا ماننے کی بات نہیں بلکہ یہ تو بڑا ہی پیارا طریقہ ہے ‘۔
بعض مہاجرین رضی اللہ عنہم اجمعین افسوس کیا کرتے تھے کہ ہمیں اپنی پوری عمر میں اس وقت آیت پر عمل کرنے کا موقعہ نہیں ملا کہ کوئی ہم سے کہتا لوٹ جاؤ اور ہم اس آیت کے ماتحت وہاں سے واپس ہو جاتے، اجازت نہ ملنے پر دروازے پر ٹھہرے رہنا بھی منع فرما دیا۔ اللہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے۔ یہ آیت اگلی آیت سے مخصوص ہے اس میں ان گھروں میں بلا اجازت جانے کی رخصت ہے جہاں کوئی نہ ہو اور وہاں اس کا کوئی سامان وغیرہ ہو۔ جیسے کہ مہمان خانہ وغیرہ۔ یہاں جب پہلی مربتہ اجازت مل گئی پھر ہربار کی اجازت ضروری نہیں۔ تو گویا یہ آیت پہلی آیت سے استثنا ہے۔ اسی طرح کی ایسے تاجروں کے گودام مسافر خانے وغیرہ۔ اور اول بات زیادہ ظاہر ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ زید کہتے ہیں مراد اس سے بیت الشعر ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا الحكم في البيوت المسكونة سواء كان فيها متاعٌ للإنسان أم لا، وفي البيوت غير المسكونة التي لا متاع فيها للإنسان، وأما البيوتُ التي ليس فيها أهلُها، وفيها متاعُ الإنسان المحتاج للدخول إليه، وليس فيها أحدٌ يتمكَّن من استئذانه، وذلك كبيوت الكراء وغيرها؛ فقد ذكرها بقوله: {ليس عليكم جُناحٌ}؛ أي: حرجٌ وإثمٌ؛ دلَّ على أنَّ الدُّخول من غير استئذان في البيوت السابقة أنه محرَّم وفيه حرج {أن تدخُلوا بيوتاً غير مسكونةٍ فيها متاعٌ لكم}: وهذا من احترازاتِ القرآن العجيبةِ؛ فإنَّ قولَه: {لا تدخُلوا بيوتاً غير بيوتكم}: لفظٌ عامٌّ في كل بيت ليس ملكاً للإنسان، أخرج منه تعالى البيوتَ التي ليست ملكَه وفيها متاعُهُ وليس فيها ساكنٌ، فأسقط الحرج في الدُّخول إليها. {والله يعلم ما تُبدونَ وما تكتُمون}: أحوالَكم الظاهرةَ والخفيَّة، وعلم مصالِحَكُم؛ فلذلك شَرَعَ لكم ما تحتاجون إليه وتضطرُّون من الأحكام الشرعيَّة.